وجود

... loading ...

وجود

حیوان انسان کے اندربستا ہے!

جمعرات 15 جنوری 2026 حیوان انسان کے اندربستا ہے!

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

ولیم گولڈنگ کا ناول Lord of the Flies کسی دور افتادہ جزیرے پر پھنسے بچوں کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ہماری اپنی دنیا کی ایک ننگی تصویر ہے ۔ایسی تصویر جسے دیکھ کر انسان چونک اٹھتا ہے، کیونکہ اس میں دکھائی دینے والا چہرہ ہمارا اپنا ہے۔ یہ ناول ہمیں یہ سوچنے پر مجبور نہیں کرتا کہ”وہ بچے کیوں بگڑے” بلکہ یہ سوال ہمارے اندر اتارتا ہے کہ ہم کب تک بہتر رہتے ہیں اور کن حالات میں ہم وہی بن جاتے ہیں جنہیں ہم دوسروں میں کوستے ہیں۔جزیرہ ابتدا میں جنت لگتا ہے۔ نیلا سمندر، ناریل کے درخت، کھلا آسمان، اور آزادی کا وہ نشہ جو ہر قانون، ہر نگرانی اور ہر پابندی سے آزاد ہو۔ بچے ہنستے ہیں، کھیلتے ہیں، اور اپنے لیے ایک چھوٹی سی دنیا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ رالف قیادت کرتا ہے، شنکھ بولنے کا حق دیتا ہے، اور سب کو لگتا ہے کہ تہذیب کہیں بھی زندہ رہ سکتی ہے حتیٰ کہ تنہائی میں بھی مگر گولڈنگ ہمیں زیادہ دیر اس خوش فہمی میں نہیں رہنے دیتا۔کیونکہ تہذیب انسان کی فطرت نہیں، اس کی تربیت ہے۔اور تربیت وہ چیز ہے جو دباؤ میں سب سے پہلے ٹوٹتی ہے۔آہستہ آہستہ خوف جنم لیتا ہے۔ پہلے یہ سرگوشیوں میں آتا ہے، پھر خوابوں میں، پھر ذہنوں میں۔
”حیوان”کوئی حقیقی مخلوق نہیں، بلکہ انسانی دل کے اندھیرے کا نام ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں جیک سامنے آتا ہے ،نظم و ضبط کا بظاہر نمائندہ، مگر اندر سے طاقت کا بھوکا۔ وہ خوف کو نظم میں نہیں ڈھالتا، وہ اسے ہتھیار بنا لیتا ہے۔ اس کے لیے حفاظت دلیل سے نہیں، خون سے آتی ہے۔ اس کے لیے اتحاد بات چیت سے نہیں، شکار سے پیدا ہوتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں جزیرہ جنت سے جہنم بن جاتا ہے۔ جیک کا پینٹ کیا ہوا چہرہ کوئی کھیل نہیں یہ علامت ہے۔یہ اس لمحے کی علامت ہے جب انسان اپنے ضمیر سے نقاب پہن لیتا ہے۔ جب ”میں”کی جگہ”ہم”آ جاتا ہے، اور”ہم”کی آڑ میں سب کچھ جائز ہو جاتا ہے۔ اور پھر سائمن۔خاموش، تنہا، حساس وہ لڑکا جو سمجھ جاتا ہے کہ اصل حیوان جنگل میں نہیں، انسان کے اندر ہے۔”لارڈ آف دی فلائیز”کے ساتھ اس کی خیالی گفتگو دراصل ہماری اپنی روح سے مکالمہ ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ برائی باہر سے نہیں آتی، وہ اندر سے اٹھتی ہے۔ مگر یہ سچ اتنا خطرناک ہے کہ جب سائمن اسے سب کے سامنے رکھنے آتا ہے تو ہجوم اسے مار ڈالتا ہے۔ گویا معاشرہ ہمیشہ اس شخص کو ختم کر دیتا ہے جو اسے آئینہ دکھانے کی جرأت کرے۔اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جس پر ناول کی اصل دہشت کھلتی ہے۔جزیرے کو آگ لگائی جاتی ہے نجات کے لیے نہیں، بلکہ ایک انسان کو مارنے کے لیے۔
یہی آگ بچاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔یعنی تباہی ہی نجات کا سبب بنتی ہے۔جب بحریہ کا افسر آتا ہے تو وہ بچوں کو اخلاقیات کا سبق دیتا ہے۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ”یہ سب کیسے ہو گیا؟”لیکن وہ یہ نہیں دیکھتا کہ پیچھے اس کی اپنی دنیا جنگ میں جل رہی ہے۔گویا گولڈنگ ہمیں یہ کہہ رہا ہوتم بچوں پر ہنستے ہومگر تم خود یہی سب کچھ بڑے پیمانے پر کرتے ہو۔فرق صرف یہ ہے کہ تم بہتر وردی پہنتے ہو۔یہ ناول یہ نہیں پوچھتا کہ برائی موجود ہے یا نہیں۔یہ پوچھتا ہے کہ ہم اسے کب روکتے ہیں۔اور ہم اسے کن اصولوں، کن خوفوں اور کن مفادات کے تحت آزاد چھوڑ دیتے ہیںشاید اسی لیے Lord of the Flies ہمیں چھوڑتا نہیں۔کیونکہ یہ بچوں کی کہانی نہیں یہ ہماری کہانی ہے۔اور یہ ہمیں یہ ڈر دیتا ہے کہ تہذیب ہماری فطرت نہیں، ہماری قید ہے۔اور قید ہٹے تو انسان سامنے آ جاتا ہے۔ یہ انسانی تہذیب کی آخری پرت کا پوسٹ مارٹم ہے۔ ایک جزیرہ جہاں قوانین کتابوں میں نہیں، کردار میں لکھے جاتے ہیں۔ آگ روشنی کی علامت ہے، اور روشنی عقل کی؛ جب آگ بجھتی ہے تو اندھیرا صرف جنگل میں نہیں اترتا، انسان کے اندر بھی اتر آتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی و ریاستی منظرنامے پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں بار بار وہی جزیرہ دکھائی دیتا ہے وہی آگ، وہی سیپی، وہی نیزے، اور وہی سر پر رکھا ہوا خنزیر کا سر۔گولڈنگ کے ہاں”سیپی”قانون اور مکالمے کی علامت ہے۔ جس کے ہاتھ میں سیپی ہو، وہ بولتا ہے؛ باقی سنتے ہیں۔ یہ وہ نازک معاہدہ ہے جو وحشت کو تہذیب میں بدلتا ہے۔ لیکن جب جیک سیپی کو توڑتا ہے، وہ دراصل سماجی معاہدہ توڑتا ہے۔ تھامس ہابز نے کہا تھا”جہاں مشترکہ طاقت نہ ہو، وہاں انسان کی زندگی تنہا، غریب، بدصورت، حیوانی اور مختصر ہوتی ہے”۔ پاکستانی سیاست میں سیپی اکثر ٹوٹتی رہی پارلیمان کا وقار مجروح ہوا، مکالمہ نعرے میں بدلا، اختلاف غداری بنا۔ جب ادارے اپنے اپنے نیزے اٹھا لیں، تو قانون ایک کاغذی پرندہ رہ جاتا ہے۔ناول میں آگ بچاؤ کی امید ہے جہازوں کو اشارہ دینے کی روشنی۔ لیکن بچے شکار کے جوش میں آگ کو بھلا دیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی آگ بارہا بجھی تعلیم کی روشنی بجھی، تحقیق کی شمع مدھم ہوئی، صحت کے چراغ ٹمٹمائے۔ ہم نے فوری طاقت کے شکار میں طویل مدتی بقا کو قربان کیا۔ جان اسٹورٹ مل نے خبردار کیا تھا”طاقت کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ وہ ذہنوں کو خاموش کر دیتی ہے”۔خاموش ذہن وہ جنگل ہے جہاں افواہ سانپ بن کر رینگتی ہے اور خوف قبیلے کا دیوتا۔”خنزیر کا سر”Lord of the Fliesوہ خوف ہے جسے ہم اپنا خدا بنا لیتے ہیں۔ یہ سر کہتا ہے ”وحشت تمہارے اندر ہے”۔ پاکستان میں بھی سیاست نے بارہا خوف کو مقدس بنا کر بیچا بیرونی دشمن، اندرونی غدار، ابدی سازشیںیہ سب وہی سر ہیں جو درختوں پر لٹکے ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم عقل نہیں، نیزہ چنیں۔ حنہ آرینڈٹ نے مطلق العنانیت کے بارے میں لکھا”جب جھوٹ منظم ہو جائے تو سچ بغاوت بن جاتا ہے”۔اور جب سچ بغاوت ہو جائے تو شہری، رعایا بن جاتے ہیں۔رالف قانون کی امید ہے، پگی عقل کی۔ پگی کے چشمے آگ جلانے کا ذریعہ ہیںیعنی علم کے بغیر کوئی روشنی نہیں۔ مگر جیک کے قبیلے میں چشمے چھین لیے جاتے ہیں، علم کو غلام بنا لیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی علم اکثر اقتدار کا اسیر ہے نصاب سے سوال نکال دیے جاتے ہیں، لائبریریاں ویران، جامعات خوف زدہ۔ ایمانوئل کانٹ کی صدا یاد آتی ہے:”جرأت کرو کہ اپنی عقل استعمال کرو”لیکن جب جرأت جرم بن جائے تو سماج اندھا ہو جاتا ہے۔
ناول کا انجام ایک فوجی افسر کی آمد ہے جس کے دیکھتے ہی بچے رونے لگتے ہیں۔ یعنی نظم بیرونِ متن سے آ کر جزیرے کی وحشت کو عارضی طور پر سمیٹ دیتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی”عارضی نظم”بارہا آیالیکن اندرونی اصلاح کے بغیر۔ نتیجہ ہر چند سال بعد وہی جزیرہ، وہی نیزے، وہی آگ۔ جین ژاک روسو نے سماجی معاہدے میں لکھا تھا کہ ریاست شہریوں کی مرضی کی مظہر ہو تو ہی اخلاقی بنتی ہے، ورنہ طاقت کا ڈھانچہ رہ جاتی ہے۔تو راستہ کیا ہے سیپی کو جوڑناپارلیمان کو مکالمے کا گھر بنانا، آگ کو جلانا،تعلیم، صحت، تحقیق کو ترجیح دینا، چشمے بچاناآزادی فکر کی حفاظت، اور سب سے بڑھ کر، خنزیر کے سر کو درخت سے اتارناخوف کی سیاست کو بے نقاب کرنا۔کارل پوپر نے کہا تھا ”کھلا معاشرہ سوال کرنے سے زندہ رہتا ہے”اور سوال وہ روشنی ہے جو جنگل میں راستہ بناتی ہے۔اگر ہم نے یہ نہ کیا تو جزیرہ ہمیں بار بار بلاتا رہے گا۔ اور ہر بار ہم اپنے ہی بچوں کو نیزے تھماتے، اپنی ہی آگ بجھاتے، اور اپنے ہی خوف کو خدا بنا کر پوجتے رہیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ Lord of the Flies کیا کہتا ہے سوال یہ ہے کہ ہم کب اپنی سیپی اٹھائیں گے؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر