... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
ولیم گولڈنگ کا ناول Lord of the Flies کسی دور افتادہ جزیرے پر پھنسے بچوں کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ہماری اپنی دنیا کی ایک ننگی تصویر ہے ۔ایسی تصویر جسے دیکھ کر انسان چونک اٹھتا ہے، کیونکہ اس میں دکھائی دینے والا چہرہ ہمارا اپنا ہے۔ یہ ناول ہمیں یہ سوچنے پر مجبور نہیں کرتا کہ”وہ بچے کیوں بگڑے” بلکہ یہ سوال ہمارے اندر اتارتا ہے کہ ہم کب تک بہتر رہتے ہیں اور کن حالات میں ہم وہی بن جاتے ہیں جنہیں ہم دوسروں میں کوستے ہیں۔جزیرہ ابتدا میں جنت لگتا ہے۔ نیلا سمندر، ناریل کے درخت، کھلا آسمان، اور آزادی کا وہ نشہ جو ہر قانون، ہر نگرانی اور ہر پابندی سے آزاد ہو۔ بچے ہنستے ہیں، کھیلتے ہیں، اور اپنے لیے ایک چھوٹی سی دنیا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ رالف قیادت کرتا ہے، شنکھ بولنے کا حق دیتا ہے، اور سب کو لگتا ہے کہ تہذیب کہیں بھی زندہ رہ سکتی ہے حتیٰ کہ تنہائی میں بھی مگر گولڈنگ ہمیں زیادہ دیر اس خوش فہمی میں نہیں رہنے دیتا۔کیونکہ تہذیب انسان کی فطرت نہیں، اس کی تربیت ہے۔اور تربیت وہ چیز ہے جو دباؤ میں سب سے پہلے ٹوٹتی ہے۔آہستہ آہستہ خوف جنم لیتا ہے۔ پہلے یہ سرگوشیوں میں آتا ہے، پھر خوابوں میں، پھر ذہنوں میں۔
”حیوان”کوئی حقیقی مخلوق نہیں، بلکہ انسانی دل کے اندھیرے کا نام ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں جیک سامنے آتا ہے ،نظم و ضبط کا بظاہر نمائندہ، مگر اندر سے طاقت کا بھوکا۔ وہ خوف کو نظم میں نہیں ڈھالتا، وہ اسے ہتھیار بنا لیتا ہے۔ اس کے لیے حفاظت دلیل سے نہیں، خون سے آتی ہے۔ اس کے لیے اتحاد بات چیت سے نہیں، شکار سے پیدا ہوتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں جزیرہ جنت سے جہنم بن جاتا ہے۔ جیک کا پینٹ کیا ہوا چہرہ کوئی کھیل نہیں یہ علامت ہے۔یہ اس لمحے کی علامت ہے جب انسان اپنے ضمیر سے نقاب پہن لیتا ہے۔ جب ”میں”کی جگہ”ہم”آ جاتا ہے، اور”ہم”کی آڑ میں سب کچھ جائز ہو جاتا ہے۔ اور پھر سائمن۔خاموش، تنہا، حساس وہ لڑکا جو سمجھ جاتا ہے کہ اصل حیوان جنگل میں نہیں، انسان کے اندر ہے۔”لارڈ آف دی فلائیز”کے ساتھ اس کی خیالی گفتگو دراصل ہماری اپنی روح سے مکالمہ ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ برائی باہر سے نہیں آتی، وہ اندر سے اٹھتی ہے۔ مگر یہ سچ اتنا خطرناک ہے کہ جب سائمن اسے سب کے سامنے رکھنے آتا ہے تو ہجوم اسے مار ڈالتا ہے۔ گویا معاشرہ ہمیشہ اس شخص کو ختم کر دیتا ہے جو اسے آئینہ دکھانے کی جرأت کرے۔اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جس پر ناول کی اصل دہشت کھلتی ہے۔جزیرے کو آگ لگائی جاتی ہے نجات کے لیے نہیں، بلکہ ایک انسان کو مارنے کے لیے۔
یہی آگ بچاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔یعنی تباہی ہی نجات کا سبب بنتی ہے۔جب بحریہ کا افسر آتا ہے تو وہ بچوں کو اخلاقیات کا سبق دیتا ہے۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ”یہ سب کیسے ہو گیا؟”لیکن وہ یہ نہیں دیکھتا کہ پیچھے اس کی اپنی دنیا جنگ میں جل رہی ہے۔گویا گولڈنگ ہمیں یہ کہہ رہا ہوتم بچوں پر ہنستے ہومگر تم خود یہی سب کچھ بڑے پیمانے پر کرتے ہو۔فرق صرف یہ ہے کہ تم بہتر وردی پہنتے ہو۔یہ ناول یہ نہیں پوچھتا کہ برائی موجود ہے یا نہیں۔یہ پوچھتا ہے کہ ہم اسے کب روکتے ہیں۔اور ہم اسے کن اصولوں، کن خوفوں اور کن مفادات کے تحت آزاد چھوڑ دیتے ہیںشاید اسی لیے Lord of the Flies ہمیں چھوڑتا نہیں۔کیونکہ یہ بچوں کی کہانی نہیں یہ ہماری کہانی ہے۔اور یہ ہمیں یہ ڈر دیتا ہے کہ تہذیب ہماری فطرت نہیں، ہماری قید ہے۔اور قید ہٹے تو انسان سامنے آ جاتا ہے۔ یہ انسانی تہذیب کی آخری پرت کا پوسٹ مارٹم ہے۔ ایک جزیرہ جہاں قوانین کتابوں میں نہیں، کردار میں لکھے جاتے ہیں۔ آگ روشنی کی علامت ہے، اور روشنی عقل کی؛ جب آگ بجھتی ہے تو اندھیرا صرف جنگل میں نہیں اترتا، انسان کے اندر بھی اتر آتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی و ریاستی منظرنامے پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں بار بار وہی جزیرہ دکھائی دیتا ہے وہی آگ، وہی سیپی، وہی نیزے، اور وہی سر پر رکھا ہوا خنزیر کا سر۔گولڈنگ کے ہاں”سیپی”قانون اور مکالمے کی علامت ہے۔ جس کے ہاتھ میں سیپی ہو، وہ بولتا ہے؛ باقی سنتے ہیں۔ یہ وہ نازک معاہدہ ہے جو وحشت کو تہذیب میں بدلتا ہے۔ لیکن جب جیک سیپی کو توڑتا ہے، وہ دراصل سماجی معاہدہ توڑتا ہے۔ تھامس ہابز نے کہا تھا”جہاں مشترکہ طاقت نہ ہو، وہاں انسان کی زندگی تنہا، غریب، بدصورت، حیوانی اور مختصر ہوتی ہے”۔ پاکستانی سیاست میں سیپی اکثر ٹوٹتی رہی پارلیمان کا وقار مجروح ہوا، مکالمہ نعرے میں بدلا، اختلاف غداری بنا۔ جب ادارے اپنے اپنے نیزے اٹھا لیں، تو قانون ایک کاغذی پرندہ رہ جاتا ہے۔ناول میں آگ بچاؤ کی امید ہے جہازوں کو اشارہ دینے کی روشنی۔ لیکن بچے شکار کے جوش میں آگ کو بھلا دیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی آگ بارہا بجھی تعلیم کی روشنی بجھی، تحقیق کی شمع مدھم ہوئی، صحت کے چراغ ٹمٹمائے۔ ہم نے فوری طاقت کے شکار میں طویل مدتی بقا کو قربان کیا۔ جان اسٹورٹ مل نے خبردار کیا تھا”طاقت کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ وہ ذہنوں کو خاموش کر دیتی ہے”۔خاموش ذہن وہ جنگل ہے جہاں افواہ سانپ بن کر رینگتی ہے اور خوف قبیلے کا دیوتا۔”خنزیر کا سر”Lord of the Fliesوہ خوف ہے جسے ہم اپنا خدا بنا لیتے ہیں۔ یہ سر کہتا ہے ”وحشت تمہارے اندر ہے”۔ پاکستان میں بھی سیاست نے بارہا خوف کو مقدس بنا کر بیچا بیرونی دشمن، اندرونی غدار، ابدی سازشیںیہ سب وہی سر ہیں جو درختوں پر لٹکے ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم عقل نہیں، نیزہ چنیں۔ حنہ آرینڈٹ نے مطلق العنانیت کے بارے میں لکھا”جب جھوٹ منظم ہو جائے تو سچ بغاوت بن جاتا ہے”۔اور جب سچ بغاوت ہو جائے تو شہری، رعایا بن جاتے ہیں۔رالف قانون کی امید ہے، پگی عقل کی۔ پگی کے چشمے آگ جلانے کا ذریعہ ہیںیعنی علم کے بغیر کوئی روشنی نہیں۔ مگر جیک کے قبیلے میں چشمے چھین لیے جاتے ہیں، علم کو غلام بنا لیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی علم اکثر اقتدار کا اسیر ہے نصاب سے سوال نکال دیے جاتے ہیں، لائبریریاں ویران، جامعات خوف زدہ۔ ایمانوئل کانٹ کی صدا یاد آتی ہے:”جرأت کرو کہ اپنی عقل استعمال کرو”لیکن جب جرأت جرم بن جائے تو سماج اندھا ہو جاتا ہے۔
ناول کا انجام ایک فوجی افسر کی آمد ہے جس کے دیکھتے ہی بچے رونے لگتے ہیں۔ یعنی نظم بیرونِ متن سے آ کر جزیرے کی وحشت کو عارضی طور پر سمیٹ دیتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی”عارضی نظم”بارہا آیالیکن اندرونی اصلاح کے بغیر۔ نتیجہ ہر چند سال بعد وہی جزیرہ، وہی نیزے، وہی آگ۔ جین ژاک روسو نے سماجی معاہدے میں لکھا تھا کہ ریاست شہریوں کی مرضی کی مظہر ہو تو ہی اخلاقی بنتی ہے، ورنہ طاقت کا ڈھانچہ رہ جاتی ہے۔تو راستہ کیا ہے سیپی کو جوڑناپارلیمان کو مکالمے کا گھر بنانا، آگ کو جلانا،تعلیم، صحت، تحقیق کو ترجیح دینا، چشمے بچاناآزادی فکر کی حفاظت، اور سب سے بڑھ کر، خنزیر کے سر کو درخت سے اتارناخوف کی سیاست کو بے نقاب کرنا۔کارل پوپر نے کہا تھا ”کھلا معاشرہ سوال کرنے سے زندہ رہتا ہے”اور سوال وہ روشنی ہے جو جنگل میں راستہ بناتی ہے۔اگر ہم نے یہ نہ کیا تو جزیرہ ہمیں بار بار بلاتا رہے گا۔ اور ہر بار ہم اپنے ہی بچوں کو نیزے تھماتے، اپنی ہی آگ بجھاتے، اور اپنے ہی خوف کو خدا بنا کر پوجتے رہیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ Lord of the Flies کیا کہتا ہے سوال یہ ہے کہ ہم کب اپنی سیپی اٹھائیں گے؟
٭٭٭