وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

جمعرات 15 جنوری 2026 پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔
عبد الرحیم

شاعر اور مضمون نگار حارث خلیق کے مطابق پاکستان میں آئیڈیاز،خیالات،تخلیقی آرٹس وادب پرکڑی نظر اور سخت گرفت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خودملک۔ایسی چیزیں موجود ہیں جنہیں ذی اثر آدمی،فرمانروا،کمانڈر ،جج اور علماء سننا، دیکھنا ،سونگھنا،سمجھنا یا یقین کرنا نہیں چاہیں گے اورجو ان کی خدمت کیلئے حاضر ہیں، وہ اپنے آقائوں کی مرضی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے آلہ کار بنے رہیں گے۔
یہ بات دنیا کے کسی بھی حصے کیلئے صحیح ہے۔تاہم ایسی ریاستیں اور معاشرے موجود ہیں جہاںگزشتہ صدی کے دوران مختلف خیالات کو قبول کرنے اوراختلاف رائے کو برداشت کرنے کی سطح میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔تاہم پاکستان اپنے تمام اداروں مثلاً بیوروکریسی،عدلیہ اور فوج کے ساتھ استعماری ورثہ ہونے کی بناء پر برٹش انڈیا کی استعماری جانشین ریاست رہاہے۔ہم اپنے اداروں، اقتصادی طبقوں اور سماجی طرز عمل کے ساتھ ایک جدید جمہوریہ بننے کیلئے ابھی تک ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ لیکن دراصل ہم ایک کوتاہ بین ریاست ہیں جو ایک ناقابل برداشت معاشرہ بنے ہوئے ہیں۔یہ معاشرہ اس وقت سے زیادہ بے رحم بن گیا ہے جب سے استعماری آقائوں نے برائون صاحبان کو ریاست چلانے کی چھڑی ریاست کے مسلح بازو کے حوالے کی ہے۔
نئی گولی کے استعمال سے انسان150تک زندہ رہ سکتا ہے!
شین زین اسٹارٹ اپ لونوی بائیو سائنسز نے ایک ایسی گولی کا اعلان کیا ہے جو زومبی خلیوں پر اثر انداز ہوگی جس کے نتیجہ میں انسان 150سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔یہ دوا انگوروں کے بیجوں سے تیار کی گئی ہے،اس کے چوہوں پر امیدافزا نتائج بر آمد ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر زندگی کی میعاد میں9.4 فی صد اور علاج کی ابتدا سے64.2 فی صد اضافہ ہوا ہے۔لونوی کے ایگزیکٹوز کا کہنا ہے کہ یہ عمر سے متعلق بیماریوں میں کمی لا سکتی ہے،خلیوں کی صحت کو مضبوط بنا سکتی ہے جس کے نتیجہ میں چین میں طویل العمری کی تحقیق میں اضافہ ہوا ہے۔
ٹرمپ کی خود کو عظیم تر بنانے کی کوشش
صدر ٹرمپ کی اپنے نام سے محبت اور پسندیدگی ان کی دوسری مدت میں عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ڈونلڈ جے ٹرمپ یونائٹیڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈٹرمپ کینیڈی سنٹر بن گیا ہے جو پرفارمنگ آرٹس کی جگہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرآپ اپنے آپ کو پروموٹ نہیں کرتے تو کوئی اور نہیں کرے گا۔خود کو عظیم تر بنانے کی مثال صدارت کی تاریخ میں کبھی نہیں سنی گئی۔اس نے انہیں فاتحین اور آمروں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔
سکندر اعظم نے ایسا کیا۔اس نے اپنی سلطنت میں تقریباً70 شہر اپنے نام پر رکھے۔یہ سلطنت اس نے چوتھی صدی قبل مسیح میںفوجی طاقت اور قتل عام سے قائم کی تھی۔اسی طرح سوویٹ رہنما اسٹالن نےTsaritsyn کا نام اسٹالن گراڈ رکھ دیا،نپولین نےlouvre کا نامMusee Napoleon رکھ دیا۔ جرمنی میں پلازے، ایڈولف ہٹلرپلازے بن گئے۔مائو زے تنگ کی شخصیت کی عقیدت کا اظہار ٹیانن مین اسکوائر میں ان کا بڑا پورٹریٹ ہے اور ان کے اقوال پر مبنی لٹل ریڈ بْک ہے۔
اسرائیل میں یونیورسٹی آف حیفہ میںاسٹریٹس اور دوسرے پبلک مقامات کانام رکھنے کی سیاسی اور تاریخی اہمیت کا مطالعہ کرنے والے ایمیریٹس پروفیسر مائوز ازار یاہو کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد شہرت ہے اور اور ان کے خیال میںشہرت لافانی ہے۔ان ناموں کا کیا حشر ہوا۔Musee Napoleon کا نام دوبارہ louvre رکھ دیا گیا،اسٹالن گراڈ اب وولگو گراڈ بن گیا۔ہٹلر کے پلازے اس کی موت کے ساتھ ہی مرگئے۔
اے آئی کارکنوں کو بے دخل کر دے گی،کیا کیا جائے؟
اے آئی کا خطرہ صرف ملازمتوں کا بحران پیدا نہیں کرتابلکہ تعلیمی چیلنج بھی پیدا کرتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لوگ کام نہیں کر سکتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ایسا نظام قائم نہیں کیا ہے جس سے انہیں سیکھنا جاری رکھنے میں مدد مل سکے اور وہ نئے مواقع سے فائدہ اٹھاسکیں جس طرح کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں لاکھوں افراد کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اہلیت کی اہمیت ہے،نہ کہ انہوں نے کتنے گھنٹے سیکھنے میں گزارے۔ لوگوں کو ہر عمر میں سیکھنے کی ضرورت ہے۔بہت سے افراد ترقی کرتے ہوئے شعبوں میں داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ ان میں بنیادی سائنس،پڑھنے کو سمجھنے اور ریاضی کی مہارت کی کمی ہے جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔یہ اسکلز کارکنوں کونئے کیرئیرز کیلئے تیار ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔لاکھوں ملازمتیں ان کا انتظار کریں گی۔امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹکس کا کہنا ہے کہ آئندہ عشرے کے دوران صحت کی نگہداشت کیلئے تقریباً20 لاکھ جابزہرسال پیدا ہونگیں۔یونیسکو کے مطابق2030 تک4 کروڑ40 لاکھ اساتذہ کی کمی کا اندازا ہے۔تعمیراتی صنعت کو طلب پورا کرنے کیلئے5لاکھ سے زائد سالانہ اضافی کارکنوں کی ضرورت ہوگی ۔الیکٹریشنز اور پلمبرز کیلئے اوسط سے زائد تیزی سے راہیں کْھل رہیں ہیں۔ ہوٹلوں اور بزرگوں کی نگہداشت کی صنعتیں سکڑنے کی بجائے پھیل رہی ہیں۔بامعنی کام کی کمی نہیں،صرف اس میں راہوں کی کمی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر