... loading ...
بے نقاب /ایم آر ملک
شہر قائد کراچی کی سڑکوں پر عوام کا جم غفیر پاکستان کی تاریخ میں عوام کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ غیر جانبدار ذرائع کے مطابق لاکھ سے زیادہ لوگ تھے جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت کے مطابق یہ تعداد لاکھوں میں تھی ۔
عوام کا اتنا بڑا اکٹھ چار برس کی فسطائیت ،جبر تشدد ،ناجائز مقدمات میں پابند سلاسل ہونے کے باوجود رجعت اور جمود کے بعد ہوا ہے ۔ جمہوریت کے تجربے کی مایوسی اور عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی کی روایتی لیڈر شپ کا دائیں جانب جھکاؤ اور 26ویں اور 27ویں ترمیم کی تلوار سے آزاد عدلیہ کے قتل اوردوسرے بہت سے عوامل کے باعث پاکستان کے عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔ 26نومبر ، 9مئی کے خودساختہ واقعے اور مرید کے میں بے گناہوں کی لاشیں گرانے کے بعد مقتدر حلقوں نے یہ سمجھ لیا کہ عوام کا سیاسی شعور اور تحریک میں آنے کی خواہش ماند پڑ گئی مگر کراچی کے عوام نے گھروں کی دہلیز پار کرکے سارے اندازوں پر پانی پھیر دیا ۔ عظیم الشان جلسہ کے حوالے سے لفافی میڈیا بتانے سے گریز کر رہاہے۔ جو لوگ کراچی میں نکلے ،وہ اپنے گھر بیٹھ کر اپنے ٹی وی پر سہیل آفریدی کی جھلک بہتر انداز میں دیکھ سکتے تھے ،اپنی فیملی کے ساتھ صعوبتیں اٹھانے، رات کو جاگنے ، اپنی محدو در قم کو خرچ کرنے اور دوسری بہت سی مشکلات اٹھانے سے بچ سکتے تھے،لیکن ہرایک کا اصل مقصدباغ جناح پہنچنا تھا تا کہ اس تحریک کا حصہ بنا جاسکے اور اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا جا سکے۔ جہاں اپنے مقدر پر حکمرانی کرنے والے اس نظام کو بدلنے کی جدو جہد کرنے کی اپنی خواہشات اور آرزوؤں کو عملی شکل دے سکیں۔شہر قائد کے باسیوں کے جذبات کے اظہار کا ذریعہ اور پلیٹ فارم ایک دفعہ پھر پاکستان تحریک انصاف تھا۔
سہیل آفریدی کی عوامی پزیرائی کو پس پشت ڈال کر مخالف سیاسی حریف اور میڈیا کے منظرنامے اپنی اپنی صورت میں مکارتھی ازم (McCarthyism) کے ایک نئے روپ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔مکارتھی ازم ایک ایسا بھوت ہے جو سیاسی اور ادارہ جاتی نظاموں میں زندہ رہتا ہے۔ یہ اختلافِ رائے کو مسترد کرتا، تنقید کو کچلتا اور خود کو مسخ شدہ منطق، بے بنیاد خوف اور سہولت پسند جھوٹ کے پیچھے چھپا لیتا ہے۔ یہ خود کو اقدار کا محافظ ظاہر کرتا ہے، مگر اصل میں سب اختلافی آوازوں کو ”کم وفادار” کے خانے میں ڈال دیتا ہے۔ آج یہ رجحان پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے کئی حصوں میں، بشمول امریکہ غالب آتا دکھائی دیتا ہے۔جارج کلونی کی فلم ”گڈ نائٹ اینڈ گڈ لک” اس رجحان کو شاندار انداز میں پیش کرتی ہے۔ یہ فلم امریکی صحافی ایڈورڈ آر مرو اور سینیٹر جوزف مکارتھی کے درمیان ٹکراؤ کو دوبارہ زندہ کرتی ہے۔ ”مکارتھی ازم” کی اصطلاح خود سینیٹر کے طریقِ کار سے نکلی، جس میں بغیر ثبوت الزامات، شکوک کی بنیاد پر کیریئر تباہ کرنا، اور خوف کے ذریعے تنقیدی آوازوں کو خاموش کرانا شامل تھا۔ یہ فلم صرف مکارتھی کے کردار پر نہیں رُکتی بلکہ نیوز روم کی تہوں کو بھی کھولتی ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ ادارتی حدود، تجارتی دباؤ اور سیکھے ہوئے سمجھوتے کس طرح آہستہ آہستہ جرأت کو دبا دیتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خاموشی کی قیمت کیا ہوتی ہے۔۔اور یہ کہ ہمیشہ ایک راستہ موجود ہوتا ہے، جو دیانت، جرأت اور دھونس کو قبول نہ کرنے سے شروع ہوتا ہے۔اگرچہ فلم 1950ء کی دہائی میں قائم ہے، مگر یہ آج کے حالات سے گہری مماثلت رکھتی ہے، جہاں سیاست اور میڈیا کے ماحول میں بیانیوں کی نگرانی ہوتی ہے، وفاداریاں پرکھی جاتی ہیں اور خوف کو ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ فلم ہمیں نہ صرف تاریخ بلکہ اپنے حال پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
صحافت کے لیے یہ مشکل وقت ہے، خاص طور پر اُس صحافت کے لیے جو کبھی مکارتھی ازم کے سامنے ڈٹ کر کھڑی تھی۔ چیلنج اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب ریاستیں اخبارات بند کریں، صحافی گرفتار کریں، اور اشاعت سے پہلے سنسرشپ نافذ کریں۔۔جیسا کہ بھٹو اور ضیا کے ادوار میں ہوا، اور بعد ازاں پابندیوں، گرفتاریوں اور چینلز کی بندشوں کی صورت میں یہ سلسلہ جاری رہا۔مشرف دور میں صحافیوں پر حملے ہوئے، اور یہ طرزِ عمل بعد کے ادوار میں بھی مختلف صورتوں میں برقرار رہا، چاہے وہ پی ٹی آئی کی حکومت ہو یا پی ڈی ایم کی انتظامیہ۔ اگرچہ میڈیا کے بڑے حصے اور کئی معروف صحافی مختلف مراحل پر سمجھوتہ کر چکے ہیں، پھر بھی صحافیوں کی ایک چھوٹی مگر مضبوط مزاحمتی برادری موجود ہے، اور چند حوصلہ مند میڈیا مالکان بھی ہیں جو دباؤ کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔زمانہ حال میں مزاحمت کی نئی صورتیں بھی سامنے آئی ہیں، مکارتھی طرزِ فکر کے حامیوں نے ہر دور میں یہی سمجھا کہ میڈیا سیاسی عدم استحکام اور افراتفری کا ذمہ دار ہے؛ اسی لیے انہوں نے برسوں صحافت کو خاموش کرانے کی کوشش کی، مگر ملک کبھی دائمی عدم استحکام سے باہر نہ آ سکا۔اپنا طریقہ بدلنے کے بجائے، وہی پرانا نسخہ— اختلافِ رائے کو دبانا— دہرایا جاتا رہا، جس سے کبھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ غالب امکان یہی ہے کہ آئندہ بھی یہی ہوگا۔اور پھر ہمارا یہ ملک عجیب روایتوں کا امین ٹھہرا ۔ یہاں جو عوامی لیڈر یاسیاست دان اُبھرا، کچھ عرصہ برداشت ہوا پھر اُسے ایک ہی لیبل میں سمیٹ دیا گیا : غدار۔ نام بدل جاتے ہیں، الزام نہیں بدلتا۔
عمران خان بھی اسی روایت کا حصہ بنے۔ جب وہ اقتدار میں آئے تو انہیں سلیکٹڈ کہا گیا۔ یہ نعرہ صرف سیاسی نہیں تھا، یہ اس نظام پر عدم اعتماد کا اظہار تھا جو عوام کو ہمیشہ آدھا سچ دکھاتا ہے۔ مگر محض تین برس سے زائد کی حکمرانی نے ایک اور حقیقت بھی عیاں کر دی—وہ دو جماعتیں جو برسوں سے ایک دوسرے کو ملکی تباہی کی جڑ قرار دیتی رہیں، اچانک ایک صف میں کھڑی دکھائی دیں۔ نظریاتی اختلافات پسِ پشت چلے گئے، اور مفادات کا اتحاد سامنے آ گیا۔عمران خان کی مخالفت نے معاشرے کے کئی چہروں سے نقاب ہٹا دیے۔
لبرل ازم، طاقت کے سامنے خاموش ہو گیا۔
انسانی حقوق، پسند ناپسند کی قید میں آ گئے۔
مذہب، سیاست کا آلہ بن گیا۔
صحافت، ترجمانی میں ڈھل گئی۔
اور ادارے۔۔۔ وہ اپنے آئینی دائرے سے بہت آگے نکل گئے۔
اقتدار سے علیحدگی کے بعد معاملہ ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر یہاں سیاست شخصیات سے نہیں، خوف سے چلتی ہے۔ اس لیے پہلے قاتلانہ حملہ ہوا، پھر عدالت کے اندر سے گرفتاری، پھر انتخابی نشان کا خاتمہ، پھر جماعت کی منظم توڑ پھوڑ۔ وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں، سیاسی میدان سکیڑا گیا، اور فروری کے انتخابات میں عوامی فیصلے کو کاغذی شکست میں بدل دیا گیا۔
جو اس عمل پر سوال اٹھاتا، وہ ریاست دشمن قرار پایا۔
جو بولتا، وہ خاموش کر دیا گیا۔
اور جو لکھتا، وہ مشکوک ٹھہرا۔
میڈیا پر بیٹھے ماوتھ پیس مسلسل یہ باور کراتے رہے کہ عمران خان سیاسی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ مگر اصل مسئلہ عمران خان نہیں تھا۔۔اصل مسئلہ وہ عوام تھے جو اس بیانیے کو ماننے پر آمادہ نہیں تھے۔ان عوام نے لاٹھیاں کھائیں، گولیاں کھائیں، گرفتاریوں اور تضحیک کا سامنا کیا، مگر پھر بھی جہاں موقع ملا، اپنی رائے کا اظہار کیا۔ یہ وہ عوام ہیں جو جانتے ہیں کہ غداری کے سرٹیفکیٹ یہاں ہمیشہ طاقت دیتی ہے، تاریخ نہیں۔
فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا گیا۔
بھٹو کو بھی۔
بینظیر کو بھی۔
نواز شریف کو بھی۔
اور اب عمران خان کو۔
اگر یہ سب غدار تھے، تو پھر سوال یہ نہیں بنتا کہ عمران خان کیا ہے؟سوال یہ بنتا ہے کہ یہ ریاست کس کے لیے ہے؟ اور وہ قوتیں جو دہائیوں سے خود کو واحد محب ِ وطن کہلاتی رہی ہیں، وہ اس ملک کو آج تک کیوں منزل نہ دے سکیں؟
کراچی میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر کسی اشتہار کا نتیجہ نہیں تھا، نہ کسی چینل کی مہربانی۔ وہ ایک خاموش ریفرنڈم تھا۔۔بغیر بیلٹ پیپر کے، بغیر اجازت کے۔
اور یہی بات شاید سب سے زیادہ ناگوار ہے۔
کیونکہ اس ملک میں مسئلہ یہ نہیں کہ عوام بول رہے ہیں۔۔۔
مسئلہ یہ ہے کہ عوام سمجھ بھی گئے!!
٭٭٭