وجود

... loading ...

وجود

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

جمعرات 15 جنوری 2026 کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

معصوم مرادآبادی

راجدھانی دہلی سے متصل اترپردیش کا شہر غازی آباد آج کل سرخیوں میں ہے ۔ایک طرف جہاں غازی آباد کی پولیس نے ایک ایسا آلہ ایجاد کرڈالا ہے جسے کسی کے جسم پر لگاکر اس کے بنگلہ دیشی ہونے کا پتہ چل جائے گا تو وہیں اس شہر میں ہندو رکشا دل نامی ایک ہندو انتہا پسند تنظیم ہندووں میں خطرناک ہتھیار تقسیم کرکے یہ کہہ رہی ہے کہ اگر یہاں بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا ہوں تو ہندو اپنی حفاظت کے لیے ان ہتھیاروں کا استعمال کریں۔کیا واقعی بنگلہ دیش سے یہاں کے ہندووں کو خطرہ لاحق ہے اور ان کو سیکورٹی کی ضرورت پیش آگئی ہے ؟ ہم ذیل کے مضمون میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح ایک ایسے ملک میں جہاں ہندووں کی غالب اکثریت ہے اور ان کی اندھی حمایت میں پورا سرکاری نظام موجود ہے ، وہاں وہ مٹھی بھر”گھس پیٹھیوں ”سے اپنے لیے ایسا خطرہ کیوں محسوس کررہے کہ انھیں اپنی حفاظت کے لیے مہلک ہتھیار رکھنے کی ضرورت پیش آگئی ہے ۔
غازی آبادپولیس نے ہندو رکشا دل کے جن کارکنوں کو ہندووں میں خطرنا ک ہتھیار تقسیم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے ، ان کا کہنا
ہے کہ تلوار، کلہاڑی اور دیگر مہلک ہتھیاروں کی تقسیم کا مقصد ہندووں کو اپنی حفاظت کے انتظامات کرنا ہے ۔ سوشل میڈیا پرہتھیاروں کی تقسیم
کی جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے ، اس میں یہ نوجوان یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا ہونے کی صورت میں یہ ہتھیار
اپنی حفاظت کے کام آئیں گے ۔ ان کا واضح اشارہ مسلمانوں سے درپیش خطرے کی طرف تھا۔پولیس نے ہندورکشا دل کے شالیمار
گارڈن میں واقع دفتر سے کئی تلواریں برآمد بھی کی ہیںاور وہ ہندورکشا دل کے سربراہ پنکی چودھری کو تلاش کررہی ہے جو موقع سے فرار ہوگیا
ہے ۔پنکی چودھری اس سے پہلے بھی مسلم مخالف پروپیگنڈے اور نفرت پھیلانے کے معاملے میں گرفتار ہوچکا ہے ۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ہندوبرادران وطن میں مہلک ہتھیار تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں اور اس معاملے میں پولیس نے جو کارروائی کی ہے ، اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں ۔ چونکہ اشتعال پھیلانے والے ہندو گروپوں کے ساتھ پولیس کا رویہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ اس قسم کی معمولی سرگرمی میں ملوث ہونے والے مسلمانوں کے ساتھ ہوتاہے ۔یہ انتہا پسند گروپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پولیس ان کے خلاف محض محدود کارروائی انجام دے سکتی ہے اور ان کا کچھ بگاڑنہیں سکتی ۔ وہ تمام غیرقانونی اور اقلیت دشمن کارروائیاں کرنے کے باوجود آزاد گھوم سکتے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت اسی غازی آباد شہر کے قصبے ڈاسنہ کا سادھویتی نرسنگھا نند ہے جو مسلمانوں کے خلاف آخری درجہ کی اشتعال انگیزی اورمنافرت پھیلانے کے باوجود نہ صرف آزاد ہے بلکہ اسے ہر قسم کی اشتعال انگیزی کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔ تازہ ثبوت وہ بیان ہے جو یتی نرسنگھا نندنے غازی آباد میں ہتھیاروں کی تقسیم کے بعد دیا ہے ۔ ہندورکشا دل کی طرف سے ہندووں میں تلواروں کی تقسیم کی حمایت کرتے ہوئے اس نے کہا ہے کہ ”اس سے زیادہ مہلک ہتھیار تقسیم کئے جائیں ۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اب ہندووں کو داعش جیسے خودکش دستے بنانے چاہئیں ۔اس بیان کے بعد غازی آبادپولیس نے ابھی تک یتی نرسنگھا نند سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی ہے ۔
ہندورکشا دل کی طرف سے کھلے عام مہلک ہتھیاروں کی تقسیم اور یتی نرسنگھا کی طرف سے ہندووں کو خودکش دستے بنانے کی تلقین یقینی طورپر ا س ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی کو کھلا چیلنج ہے ۔سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں دستور اور قانون کی حکمرانی ہے اور اس کے نفاذ کے لیے پولیس اور عدالتیں موجود ہیں ، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں ہندو انتہا پسند عناصر کوقانون اور آئین کی کوئی پروا نہیں ہے اور وہ یہاں اپنا مساوی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہندوراشٹر کے وہ پیروکار ہیں جو اس ملک میں ایک مذہب ، ایک زبان اور ایک کلچر کی مطلق حکمرانی کے طلب گار ہیں۔
گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں رونما ہونے والے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے گرد دائرہ مسلسل تنگ ہوتا چلا جارہا ہے اور انھیں دیوار سے لگانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ اس میں دورائے نہیں کہ اگر ملک کے کسی باشندے کو کسی سے اپنے جان ومال کے لیے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے تو اس کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے رجوع ہو۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کوئی خوفزدہ فرد یا گروہ خود اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار جمع کرکے انھیں عوام الناس میں تقسیم کرنے لگے ۔اگر ایسا ہوا تو ملک کے اندر نراج کی حالت پیدا ہوجائے گی اور خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں کے ہرشہری کے اندر تحفظ کا احساس پیدا کرے ۔اس وقت ملک میں جس پارٹی کی حکمرانی ہے ، وہ ہندومفادات کی سب سے بڑی علمبردار ہے ۔ ملک کی آبادی کی اکثریت بھی ہندووں پر مشتمل ہے ۔ سرکاری مشنری بھی ان کی ہمنوا ہے ، اس کے باوجود اگر ہندو ہی اس ملک میں خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں تو معاملہ کچھ اور ہے ۔
ہندووں کے انتہا پسند گروپوں میں بے چینی اور اشتعال کا فوری سبب بنگلہ دیش کے حالات ہیں ، جہاں یکے بعد دیگرے تین ہندونوجوانوں کے قتل نے ہندوستان میں ان عناصر کو چراغ پا کردیا ہے جو خود کو ہندووں کا محافظ تصور کرتے ہیںاور ان کی حیثیت خدائی فوجدار جیسی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بنگلہ دیش کے حالات تشویش ناک ہیں اور وہاں کی ہندو اقلیت پر ہونے والے حملے قابل مذمت ہیں۔درحقیقت جو لوگ اسلام کے نام پر کسی بے گناہ کا خون بہاتے ہیں وہ اسلام کے سچے پیروکار تو کبھی نہیں ہوسکتے ۔ اسلام کے نزدیک کسی ایک بے گناہ فرد کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے ۔ اس لیے ہم ایسے تمام واقعات کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور خاطیوں کو سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہیں ، لیکن بنگلہ دیش کے واقعات کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کو قصوروار ٹھہراکر ان سے انتقام لینے کی باتیں کرنا خود اپنے ملک کو تباہی کے راستے پر لے جانا ہے ۔
بلاشبہ ہر مذہب میں اپنی حفاظت آپ کرنے کا اصول نافذ ہے ۔ یعنی اگر کوئی آپ پر حملہ آور ہو تو آپ اپنے دفاع میں اقدام کرسکتے ہیں ، لیکن کسی اشتعال اور حملے کے بغیر لوگوں میں خوف وہراس پیدا کرنے اور انھیں ڈرانے کے لیے ہتھیار تقسیم کرنا قابل سزا جرم ہے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس ملک میں دستور اور قانون کی حکمرانی ہیں ۔ آپ کو کسی سے کوئی خطرہ محسوس ہوتوآپ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں سے رجوع کر کے اپنے تحفظ کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ پولیس آپ کو تحفظ فراہم کرنے کی پابند ہے ، لیکن ایسا تو ہرگز نہیں ہے کہ آپ کسی فرضی خطرے کو اپنے اوپر سوار کرکے ہتھیار تقسیم کرنا شروع کردیں۔ جہاں تک ہمارے ملک میں بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا ہونے کی بات ہے تو اس سے بڑا کوئی مفروضہ نہیں ہوسکتا۔ بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت میں ہیں اور ہندوستان میں ہندووں کی غالب اکثریت ہے اور ایسی اکثریت ہے کہ ہماری موجودہ حکومت سب کچھ ان ہی کے لیے کررہی ہے ۔اس کا ہر عمل اور قول ہندووں کی حفاظت کے لیے ہے ۔یہاں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کی جو حالت زار ہے اسے پوری طرح لفظوں کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔جب بھی بنگلہ دیش یا کسی اور پڑوسی ملک میں ہندووں کے ساتھ کوئی واردات ہوتی ہے تو انتہا پسند ہندو تنظیمیں اس کے خلاف آسمان سرپر اٹھا لیتی ہیں اور اس کا انتقام ہندوستانی مسلمانوں سے لینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔حالانکہ مسلم تنظیمیں اور قائدین پہلے ہی مرحلے میں اس کی پرزورمذمت کرتے ہیں ، لیکن اس پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بجرنگ دل اور ہندو رکشا دل جیسی انتہا پسند اور اقلیت دشمن تنظیموں نے ملک میں اپنی مساوی حکومت قائم کرلی ہے اور وہ ملک کو اندھے کنویں میں دھکیلنے کے لیے ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگا رہی ہیں۔ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت ان کے خلاف ایکشن نہیں لیا تو صورتحال بے قابو ہوسکتی ہے ۔اگرملک میں اپنی حفاظت کے لیے دوسرے لوگ بھی اسی طرح ہتھیار تقسیم کرنے لگیں تو ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ، جو کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہے ۔


متعلقہ خبریں


مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر