... loading ...
چوپال /عظمیٰ نقوی
ریاست کو ہمیشہ ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ماں وہ ہستی ہوتی ہے جو اپنے بچوں کی بھوک، سردی، تکلیف اور ضرورت کو سب سے پہلے محسوس کرتی ہے۔ ماں کے نزدیک کوئی بچہ کم تر یا غیر اہم نہیں ہوتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ریاست واقعی ماں جیسی ہوتی ہے تو پھر سرد راتوں میں وہ ماں کہاں چلی جاتی ہے، جب اس کے بچے فٹ پاتھوں پر ٹھٹھرتے ہوئے رات گزارنے پر مجبور ہوں؟
راولپنڈی میں جب اکثر رات گئے میں گھر لوٹتی ہوں اور موسمِ سرما کے دوران صبح اور رات کے اوقات میں درجہ حرارت 7 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب پکے مکانوں میں رہنے والے بھی رضائیاں اوڑھ کر کانپ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان لوگوں کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جو کھلے آسمان تلے، سڑک کنارے، فٹ پاتھوں اور دکانوں کے تھڑوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دن نکلتے ہی محنت مزدوری کے لیے نکل جاتے ہیں، اینٹیں اٹھاتے ہیں، ریڑھیاں لگاتے ہیں، بوجھ ڈھوتے ہیں اور شام کو پھر یہی سرد زمین کی آغوش ان کا ٹھکانہ ہوتی ہے ۔ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو پیر ودھائی لاری اڈوں پر اپنے گھر کا رزق چلانے کیلئے ”گرم انڈے ،گرم انڈے ”کی صدائیں لگاتے ہیں اور ایسی کٹیا یا مکانوں میں رہتے ہیں جہاں سردیاں اور گرمیاں اپنی شدت کے ساتھ وارد ہوتی ہیں ۔
سابق وزیر اعظم اور اڈیالہ کے قیدی 804کے دور میں انہی بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہیں قائم کی گئیں ۔ یہ پناہ گاہیں محض عمارتیں نہیں تھیں بلکہ انسانیت کا عملی اظہار تھیں۔ وہاں انہیں سردی سے بچاؤ، محفوظ چھت اور دو وقت کا کھانا میسر تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اگر ریاست چاہے تو اپنے کمزور ترین شہریوں کو بھی تحفظ دے سکتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ریاست واقعی ماں بن جاتی ہے۔مگر افسوس کہ سیاسی بنیادوں پر ان فلاحی منصوبوں کو بند کر دیا گیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس نے ایک بار پھر غریب اور بے آسرا انسانوں کو تنہا چھوڑ دیا۔ حالانکہ انسانیت کا کوئی سیاسی رنگ نہیں ہوتا۔ بھوک کسی جماعت کی نہیں ہوتی، سردی کسی حکومت کو نہیں پہچانتی، اور بے گھر انسان یہ نہیں جانتا کہ پناہ گاہ کس نے بنائی تھی۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ اسے رات گزارنے کے لیے چھت اور پیٹ بھرنے کے لیے روٹی چاہیے۔یہاں سوال صرف ماضی کی حکومت کا نہیں، بلکہ موجودہ نظام کی ذمہ داری کا ہے۔ ایک صوبے میں سب سے بڑی انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ صوبے کے ہر شہری کے محافظ سمجھے جاتے ہیں، چاہے وہ کسی بنگلے میں رہتا ہو یا فٹ پاتھ پر سوتا ہو۔ سردی میں بے گھر افراد کی حالتِ زار اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایسے منصوبوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر جاری رکھا جائے۔اسی طرح کمشنر ز اور ڈپٹی کمشنرز کی ذمہ داری بھی کسی سے کم نہیں۔ کمشنر زپورے ڈویژن میں حکومتی پالیسیوں کے نفاذ کے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر زضلع کے براہِ راست انتظامی سربراہ ہوتے ہیں۔ سرد موسم، پناہ گاہوں کی بندش اور بے گھر افراد کی مشکلات ایسے معاملات ہیں جن پر فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اگر مستقل پناہ گاہیں ممکن نہیں تو کم از کم عارضی شیلٹر، کمبل اور خوراک کا انتظام تو کیا جا سکتا ہے۔
ریاست کا کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ اچھے منصوبوں پر تختی بدل کر انہیں ختم کر دے۔ ماں کبھی یہ نہیں کہتی کہ یہ روٹی کسی اور نے پکائی تھی، اس لیے میں نہیں دوں گی۔ ماں صرف یہ دیکھتی ہے کہ اس کا بچہ بھوکا نہ رہے، بیمار نہ ہو اور سردی میں مر نہ جائے۔ ریاست بھی تبھی ماں کہلاتی ہے جب وہ اپنے شہریوں کے لیے یہی سوچ رکھے۔آج وہی مزدور، وہی بے گھر لوگ دوبارہ فٹ پاتھوں پر سو رہے ہیں۔ ان کی خاموشی دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سوال ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ منصوبہ عمران خان نے شروع کیا تھااور آج اس کے حریف سیاستدان فارم 47کے قابض ہیں ، اصل سوال یہ ہے کہ انسانیت کے ناتے ہم نے کیا کیا اور اب کیا کرنا چاہیے۔
اگر ہم واقعی ایک فلاحی ریاست بننا چاہتے ہیں تو ہمیں سیاست سے اوپر اٹھ کر کمزور طبقے کے لیے سوچنا ہوگا۔ پناہ گاہیں بند کرنا نہیں بلکہ انہیں بہتر بنانا، ان کی نگرانی کرنا اور ضرورت مندوں تک ان کی رسائی یقینی بنانا ہی ایک ماں جیسی ریاست کی پہچان ہے۔ ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ سرد راتوں میں جب بچے ٹھٹھرتے رہے، تو ریاست ماں ہونے کا دعویٰ کرتی رہی مگر ماں کہیں نظر نہ آئی۔
٭٭٭