وجود

... loading ...

وجود

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

بدھ 14 جنوری 2026 عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

چوپال /عظمیٰ نقوی

ریاست کو ہمیشہ ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ماں وہ ہستی ہوتی ہے جو اپنے بچوں کی بھوک، سردی، تکلیف اور ضرورت کو سب سے پہلے محسوس کرتی ہے۔ ماں کے نزدیک کوئی بچہ کم تر یا غیر اہم نہیں ہوتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ریاست واقعی ماں جیسی ہوتی ہے تو پھر سرد راتوں میں وہ ماں کہاں چلی جاتی ہے، جب اس کے بچے فٹ پاتھوں پر ٹھٹھرتے ہوئے رات گزارنے پر مجبور ہوں؟
راولپنڈی میں جب اکثر رات گئے میں گھر لوٹتی ہوں اور موسمِ سرما کے دوران صبح اور رات کے اوقات میں درجہ حرارت 7 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب پکے مکانوں میں رہنے والے بھی رضائیاں اوڑھ کر کانپ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان لوگوں کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جو کھلے آسمان تلے، سڑک کنارے، فٹ پاتھوں اور دکانوں کے تھڑوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دن نکلتے ہی محنت مزدوری کے لیے نکل جاتے ہیں، اینٹیں اٹھاتے ہیں، ریڑھیاں لگاتے ہیں، بوجھ ڈھوتے ہیں اور شام کو پھر یہی سرد زمین کی آغوش ان کا ٹھکانہ ہوتی ہے ۔ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو پیر ودھائی لاری اڈوں پر اپنے گھر کا رزق چلانے کیلئے ”گرم انڈے ،گرم انڈے ”کی صدائیں لگاتے ہیں اور ایسی کٹیا یا مکانوں میں رہتے ہیں جہاں سردیاں اور گرمیاں اپنی شدت کے ساتھ وارد ہوتی ہیں ۔
سابق وزیر اعظم اور اڈیالہ کے قیدی 804کے دور میں انہی بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہیں قائم کی گئیں ۔ یہ پناہ گاہیں محض عمارتیں نہیں تھیں بلکہ انسانیت کا عملی اظہار تھیں۔ وہاں انہیں سردی سے بچاؤ، محفوظ چھت اور دو وقت کا کھانا میسر تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اگر ریاست چاہے تو اپنے کمزور ترین شہریوں کو بھی تحفظ دے سکتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ریاست واقعی ماں بن جاتی ہے۔مگر افسوس کہ سیاسی بنیادوں پر ان فلاحی منصوبوں کو بند کر دیا گیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس نے ایک بار پھر غریب اور بے آسرا انسانوں کو تنہا چھوڑ دیا۔ حالانکہ انسانیت کا کوئی سیاسی رنگ نہیں ہوتا۔ بھوک کسی جماعت کی نہیں ہوتی، سردی کسی حکومت کو نہیں پہچانتی، اور بے گھر انسان یہ نہیں جانتا کہ پناہ گاہ کس نے بنائی تھی۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ اسے رات گزارنے کے لیے چھت اور پیٹ بھرنے کے لیے روٹی چاہیے۔یہاں سوال صرف ماضی کی حکومت کا نہیں، بلکہ موجودہ نظام کی ذمہ داری کا ہے۔ ایک صوبے میں سب سے بڑی انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ صوبے کے ہر شہری کے محافظ سمجھے جاتے ہیں، چاہے وہ کسی بنگلے میں رہتا ہو یا فٹ پاتھ پر سوتا ہو۔ سردی میں بے گھر افراد کی حالتِ زار اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایسے منصوبوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر جاری رکھا جائے۔اسی طرح کمشنر ز اور ڈپٹی کمشنرز کی ذمہ داری بھی کسی سے کم نہیں۔ کمشنر زپورے ڈویژن میں حکومتی پالیسیوں کے نفاذ کے ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر زضلع کے براہِ راست انتظامی سربراہ ہوتے ہیں۔ سرد موسم، پناہ گاہوں کی بندش اور بے گھر افراد کی مشکلات ایسے معاملات ہیں جن پر فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ان کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اگر مستقل پناہ گاہیں ممکن نہیں تو کم از کم عارضی شیلٹر، کمبل اور خوراک کا انتظام تو کیا جا سکتا ہے۔
ریاست کا کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ اچھے منصوبوں پر تختی بدل کر انہیں ختم کر دے۔ ماں کبھی یہ نہیں کہتی کہ یہ روٹی کسی اور نے پکائی تھی، اس لیے میں نہیں دوں گی۔ ماں صرف یہ دیکھتی ہے کہ اس کا بچہ بھوکا نہ رہے، بیمار نہ ہو اور سردی میں مر نہ جائے۔ ریاست بھی تبھی ماں کہلاتی ہے جب وہ اپنے شہریوں کے لیے یہی سوچ رکھے۔آج وہی مزدور، وہی بے گھر لوگ دوبارہ فٹ پاتھوں پر سو رہے ہیں۔ ان کی خاموشی دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سوال ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ منصوبہ عمران خان نے شروع کیا تھااور آج اس کے حریف سیاستدان فارم 47کے قابض ہیں ، اصل سوال یہ ہے کہ انسانیت کے ناتے ہم نے کیا کیا اور اب کیا کرنا چاہیے۔
اگر ہم واقعی ایک فلاحی ریاست بننا چاہتے ہیں تو ہمیں سیاست سے اوپر اٹھ کر کمزور طبقے کے لیے سوچنا ہوگا۔ پناہ گاہیں بند کرنا نہیں بلکہ انہیں بہتر بنانا، ان کی نگرانی کرنا اور ضرورت مندوں تک ان کی رسائی یقینی بنانا ہی ایک ماں جیسی ریاست کی پہچان ہے۔ ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ سرد راتوں میں جب بچے ٹھٹھرتے رہے، تو ریاست ماں ہونے کا دعویٰ کرتی رہی مگر ماں کہیں نظر نہ آئی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر