وجود

... loading ...

وجود

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

بدھ 14 جنوری 2026 ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

آواز
۔۔۔۔۔۔
امداد سومرو

سندھ ایک ایسے معاشرے کا نام ہے جہاں صدیوں سے باہمی رہائش، برداشت اور انسانی اقدار کی روایات موجود رہی ہیں۔ یہ سرزمین ہمیشہ تنوع، رواداری اور اجتماعی شعور کی علامت رہی ہے ۔ مگر اس روشن تاریخ کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے کہ آج کا سندھ کئی ایسے فرسودہ سماجی ڈھانچوں میں جکڑا ہوا ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوتے چلے گئے ہیں۔ذات برادری کی بنیاد پر سیاست، قبائلی نظام، نام نہاد سرداری سوچ اور پیر مریدی کا جمودیہ تمام عناصر اب سندھ کی فکری آزادی اور اجتماعی شعور کے سامنے ایک سنجیدہ سوال بن چکے ہیں۔
شناخت، عقیدت یا غلامی؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان اپنی شناخت یا روایت سے محبت کرتا ہے ۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب شناخت سوچ کی جگہ لے لے ، اور ذات، قبیلہ یا پیر انسان کے ذہن، ضمیر اور اصولوں پر حاوی ہو جائے ۔جب معاشرے اصولوں کے بجائے تعلقات، نظریات کے بجائے نسبتوں اور انصاف کے بجائے وفاداریوں پر چلنے لگیں تو ترقی رک جاتی ہے اور سماج ایک ہی دائرے میں گھومتا رہتا ہے ۔مظلوم کے ساتھ کون کھڑا ہے ؟نادر جمالی کا واقعہ ہو یا سندھ کے دیگر علاقوں میں ہونے والے سانحات، ان سب میں ایک پہلو حوصلہ افزا بھی ہے ۔ عام سندھی شہری نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ ذات، قبیلے اور برادری سے بالاتر ہو کر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے ۔نہ ذات دیکھی گئی، نہ قبیلہ، نہ ہی پیر یا سردار۔ احتجاج، سوال اور ہمدردی زیادہ تر اسی سماج سے ابھری جسے ہم عام لوگ کہتے ہیںنہ کہ ان تنظیموں سے جو خود کو ذات یا مذہب کی نمائندہ قرار دیتی ہیں۔
سات حر قتل اور سوالیہ خاموشی
چند برس قبل خیرپور میں سات حر افراد کا قتل ایک بڑا انسانی سانحہ تھا۔ مگر اس واقعے پر حر جماعت کی قیادت کی جانب سے اختیار کی گئی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا۔اس کے برعکس کراچی پریس کلب پر ہونے والا احتجاج سندھ کی سول سوسائٹی، صحافیوں اور باشعور حلقوں نے کیا۔ یہ خود اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ظلم کے خلاف آواز آج بھی قبائلی یا پیرانہ ڈھانچوں سے نہیں بلکہ سماجی شعور سے اٹھتی ہے ۔
غربت، خوف اور گدیوں کی طاقت
اگر سندھ کو غور سے دیکھا جائے تو ذات پرستی، قبائلیت اور پیر پرستی انہی علاقوں میں زیادہ مضبوط نظر آتی ہے جہاں غربت انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔تھر، عمرکوٹ، سانگھڑ، خیرپور اور کاچھویہ وہ خطے ہیں جہاں قحط، بھوک، بیماری اور بے روزگاری نے لوگوں سے سوال کرنے کی طاقت چھین لی ہے ، اور یہی علاقے مختلف گدیوں اور جماعتوں کے مضبوط گڑھ بھی ہیں۔یہ کوئی اتفاق نہیں کہ حر جماعت کا اثر تھر اور ریگستانی علاقوں تک محدود ہے ، شاہ محمود قریشی کے مریدوں کی اکثریت تھر اور عمرکوٹ میں ہے ، پنجاب یا سرائیکی پٹی میں نہیں۔اسی طرح لنواری شریف، کاچھو اور نینگی کے صالح شاہ کی گدیاں بھی انہی خطوں میں زیادہ اثر رکھتی ہیں جہاں غربت انسان کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیتی ہے ۔
نذرانہ، مگر سوال ممنوع
یہ ایک دردناک حقیقت ہے کہ انتہائی غریب لوگ جو اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور خوراک کے لیے پریشان ہیںوہی پیرانِ کرام اور گدیوں کو بڑی رقوم نذرانے کے طور پر دیتے ہیں۔عقیدت اپنی جگہ، مگر جب عقیدت سوال کرنے کی صلاحیت ختم کر دے تو وہ استحصال میں بدل جاتی ہے ۔افسوس یہ ہے کہ کروڑوں اور اربوں روپے کی طاقت رکھنے والی یہ گدیاں اور جماعتیں اپنے علاقوں میں بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوئی منظم کردار ادا کرتی دکھائی نہیں دیتیں۔ان کے پیر صاحبان اور گدی نشین اسمبلیوں، وزارتوں اور مشاورت کے ایوانوں تک تو پہنچ جاتے ہیں، مگر مریدوں کی تعلیم، صحت اور روزگار ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتیں۔
مسئلہ مذہب نہیں، طاقت ہے
سندھ کا مسئلہ نہ مذہب ہے ، نہ روحانیت اور نہ ہی محض قبائلیت بلکہ طاقت کے اس غیر متوازن استعمال کا ہے جو غربت، جہالت اور خوف سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ جب قبیلہ، ذات، سردار اور پیر سوال سے بالاتر ہو جائیں تو معاشرے میں انصاف کے بجائے تابعداری جنم لیتی ہے۔
سندھ کس سمت جا رہا ہے ؟
مصنوعی ذہانت اور جدید انسانی ترقی کے اس دور میں سندھ کے سامنے چند بنیادی سوال کھڑے ہیں:کیا ہم اب بھی اپنا ووٹ، اپنی آواز اور اپنی وفاداری ذات، قبیلہ اور گدی دیکھ کر دیں گے ؟کیا بھوک، قحط اور بیماری میں جینے والے انسان کے لیے پیر کا نذرانہ تعلیم، علاج اور روزگار سے زیادہ اہم رہے گا؟کیا ہر ظلم کے بعد قبیلے کو بچایا جائے گا اور مقتول کو فراموش کر دیا جائے گا؟کیا سوال کرنا اب بھی بے ادبی، بغاوت یا گناہ سمجھا جائے گا؟کیا کبھی گدی نشینوں سے یہ پوچھا جائے گا کہ ان کی اربوں روپے کی طاقت نے غربت کم کرنے کے لیے کیا کردار ادا کیا؟کیا سندھ کا نوجوان سردار اور پیر کے سائے میں ہی اپنا مستقبل تلاش کرتا رہے گا، یا اپنی عقل اور شعور پر بھروسہ کرے گا؟اور سب سے اہم سوال:کیا ظلم کے خلاف اکٹھا ہونا محض ذاتی ردِعمل رہے گا، یا اسے اجتماعی ضمیر کی ذمہ داری بنایا جائے گا؟یہ سوال کسی ایک کے خلاف نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے ہیں۔کیونکہ سندھ کا مستقبل نعروں میں نہیں، بلکہ ان سوالوں کے دیانت دارانہ جواب تلاش کرنے میں ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر