... loading ...
عطا محمد تبسم
‘میں نے ابھی تک کچھ نہیں کہا، آپ کا صبر ختم ہو گیا’ ایرانی گلوگار مہاستی کے گانے کے یہ بول اب ٹوئیٹر پر کثرت سے نظر آتے ہیں۔ ایران میں 28 دسمبر کو شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم جلائے جارہے ہیں۔ عمارتیں تباہ کی جارہی ہیں، اور تشدد کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ اور اس سے کئی شہروں میں نظامِ زندگی بھی بڑی حد تک مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ۔ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہرے تہران ، مشہد سمیت 100 سے زائد شہروں اور تمام 31 صوبوں میں پھیل چکے ہیں، جو اقتصادی بحران، کرنسی کی قدر میں کمی اور سرکار مخالف نعروں سے شروع ہوئے تھے ، لیکن اب سیاسی انقلاب کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، کم از کم 217 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں ۔ جبکہ ہزاروں کو گرفتار کیا گیا ہے اور روزانہ ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ان مظاہروں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں۔سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای جن کے بارے میں افواہیں پھیلائی جارہی تھیں، گذشتہ روز ٹی وی پر آئے ہیں ، اور انھوں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے ۔ جبکہ مظاہرین رضا پہلوی (شاہ کے بیٹے ) کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ حکومت نے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز بند کر دی ہیں تاکہ معلومات روکی جائیں۔ حالیہ احتجاج انٹرنیٹ پر پابندی کے باوجود سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ سے پرشور نظر آتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ایرانی شہریوں کے احتجاج کو دیکھا جا سکتا ہے ، جو حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ بہت سے افراد اپنی پوسٹوں کے ساتھ ‘خواتین، زندگی، آزادی’ کا ہیش ٹیگ استعمال کر رہے ہیں جو 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع
ہونے والے مظاہروں کے دوران استعمال کیا جاتا تھا۔بہت سے افراد احتجاج کے طور پر 1979کے اسلامی انقلاب سے قبل استعمال ہونے والے ایرانی جھنڈے کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں جس میں سورج اور شیر بنا ہوتا ہے ۔اسرائیلی ویب سائٹ دی یروشلم پوسٹ نے اسرائیل میں ہائی الرٹ کی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں حکومت مخالف تحریک کی حمایت کے لیے کسی وقت بھی مداخلت کر سکتا ہے ۔جبکہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو تہران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ‘جائز اہداف’ تصور کرے گا۔یوں خلیج کے ممالک اور اسرائیل حملے کی زد میں آسکتے ہیں۔
اس صورت حال سے ایران آج کل عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ ملک داخلی اور خارجی دونوںچیلنجز کا شکار ہے ۔ معاشی دباؤ، عوامی احتجاج اور بین الاقوامی پابندیوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے ۔ خاص طور پر امریکہ اور صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی تازہ دھمکیوں نے کشیدگی کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے ۔ یہ دھمکیاں اقتصادی پابندیوں، تیل کی برآمدات پر قدغن اور ممکنہ فوجی کارروائیوں تک پھیل گئی ہیں۔ امریکہ نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ حالیہ بیانات میں امریکی حکام نے تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر روکنے اور ایران کے مالیاتی نظام کو الگ تھلگ کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ امریکی پابندیوں کا اثر، خاص طور پر ایران کی معاشی صورتحال پر پڑ رہا ہے ۔ یہ پابندیاں ایران کی معیشت پر پہلے ہی بھاری ہیں، جہاں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
ایران کی حکومت ان حالات میں اپنے اتحادیوں کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ایران اس بحران میں بالکل تنہا نہیں ہے ۔ وہ ایٹمی طاقت ہے ، اور ٹیکنالوجی میں اسے مہارت حاصل ہے ۔ روس اور چین اس کے سب سے بڑے اتحادی ہیں۔ روس نے ایران کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے اور دونوں ممالک نے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی ہیں۔ چین اقتصادی مدد کا ذریعہ بن رہا ہے ، جو ایران کو تیل کی خریداری اور انفراسٹرکچر پروجیکٹس کے ذریعے سہارا دے رہا ہے ۔ علاقائی سطح پر، شام اور عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے اسے مضبوط بنایا ہے ۔ان حالات میں ترکی کا کردار بھی دلچسپ ہے ۔ ترکی کی خارجہ پالیسی میں ایران کو ایک ضروری شراکت دار سمجھا جاتا
ہے ، خاص طور پر شام اور عراق جیسے علاقوں میں۔ تاہم، ترکی امریکہ کے دباؤ میں بھی ہے ، اس لیے اس کا موقف متوازن ہے ۔ترکی نے ایران کے ساتھ تجارتی حجم بڑھانے کا اعلان کیا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے ۔ پاکستانی حکام نے بھی ایران کی خودمختاری کی حمایت کی ہے ، تاہم اس نے براہ راست فوجی مدد کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ ایران کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسی سنی اکثریتی ممالک ایران سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو علاقائی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے ۔ ایران میں حالیہ احتجاج جنوری 2026 میں شروع ہوئے اور اب 13ویں دن( 9 جنوری 2026 تک) جاری ہیں۔ یہ مظاہرے 100 سے زائد شہروں اور تمام 31 صوبوں میں پھیل چکے ہیں، جو اقتصادی بحران، کرنسی کی قدر میں کمی اور سرکار مخالف نعروں پر مبنی ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، کم از کم 45 سے 51 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں (جن میں بچے بھی شامل ہیں)، جبکہ 2270 کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایران میں قائم اسلامی انقلابی حکومت کو مخالفین کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔2022 میں بھی ایران میں بڑے پیمانے پر مظاہرے 22 سالہ کرد لڑکی مہسا امینی کی پولیس حراست میں مشکوک موت سے شروع ہوئے تھے ۔ اسے ”حجاب قوانین”کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا تھا، اور اس کی موت نے خواتین کے حقوق، آزادی اور سرکاری جبر کے خلاف غم و غصے کو بھڑکا دیا تھا۔ یہ مظاہرے محض خواتین کے حقوق تک محدود نہ رہے تھے بلکہ معاشی مسائل، بدعنوانی، بے روزگاری اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکمرانی کے خلاف تبدیل ہو گئے تھے ۔ مظاہرین جو”خواتین، زندگی، آزادی” جیسے نعرے لگا تے اور حجاب کو جلایا کرتے تھے ، طلبہ، یونیورسٹیوں اور مزدوروں پر مشتمل تھے ۔ یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے بڑی بغاوت تھی، جو 7 ماہ تک جاری رہی۔ جس میں اندازاً 200 سے 500 مظاہرین ہلاک ہوئے ، ہزاروں زخمی اور 20,000 سے زائد گرفتار ہوئے تھے ۔تاہم اس وقت بھی ایران نے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے کئی سخت اقدامات اور ٹھوس حکمت عملی اختیار کی تھی۔
پاسداران انقلاب (IRGC) اور باسج ملیشیا نے شہروں میں گھیراؤ کیا، ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس اور براہ راست فائرنگ کی۔ انٹرنیٹ سروسز کو کئی ہفتوں تک معطل رکھا گیا تاکہ ویڈیوز اور پیغامات وائرل نہ ہوں۔ اور ہزاروں گرفتاریاں کی۔ فوجی عدالتیں قائم کی گئیں اور موت کی سزائیں سنائی گئیں۔ اس وقت بھی تہران حکومت نے مظاہروں کو”غیر ملکی سازش”قرار دیا، خاص طور پر اسرائیل اور امریکہ پر ان مظاہروں کی پشت پناہی کا الزام لگایا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ مارچ 2023 تک مظاہرے دب گئے ، لیکن انہوں نے حکومت کی کمزوریاں کو بے نقاب کیا۔ جس سے انسانی حقوق کی تنظیمیں متحرک ہوئیں اور ایران پر عالمی سطح پر پابندیاں بڑھیں ۔
اب بات مستقبل کی کرتے ہیں، اگلے عرصے میں ایران کے لیے دو اہم امکان موجود ہیں۔ پہلا، ایک ممکنہ سفارتی حل، جس میں مذاکرات کی جلدی بحالی ہو سکتی ہے ۔ دوسرا، اگر دباؤ برقرار رہا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے ، جس سے داخلی استحکام پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ ان حالات میں ایران اپنی سفارتی مہارت، علاقائی اتحاد اور داخلی اصلاحات کے ذریعے اپنے مستقبل کا رخ متعین کرسکتا ہے ۔ اس وقت دنیا نظریں جمائے دیکھ رہی ہے کہ آیا یہ بحران مذاکرات کے ذریعے ختم ہو گا یا نہیں۔
٭٭٭