وجود

... loading ...

وجود

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

منگل 13 جنوری 2026 وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

بے نقاب  /ایم آر ملک

بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کی زبان ہی بنیادی حقیقت بنتی جارہی ہے۔ انسان نے دونوں عالمی جنگوں کی تباہیوں کے بعد گو ترقی کی لیکن غلبے، برتری، تسلط اور پھیلاؤ کی جبلت ابھی بھی پوری قوت سے موجود ہے۔ یہ جبلت صرف طاقتور ممالک ہی نہیں بلکہ کمزور ممالک بھی ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت میں ہندوؤں کا “اکھنڈ بھارت” کا تصور، طالبان اور داعش کا عالمی اسلامی حکومت کا نظریہ، اسرائیل میں کٹر یہودیوں کا “عظیم تر اسرائیل” کا خیال، روس میں قدامت پسندوں کا سوویت یونین سے رومانس، کمیونزم کی عالمی کامریڈ شپ کا دعویٰ، اور مغربی طاقتوں کا موجودہ عالمی نظام برقرار رکھنے کی کوشش یہ سب اسی انسانی جبلت کے مختلف مظاہر ہیں۔
دورِ جدید میں چین واحد ملک ہے جو طاقت رکھنے کے باوجود اس کے اظہار کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ نئی دنیا میں چین کا یہی رویہ اسے مستقبل میں مزید طاقتور بنانے کا باعث بن سکتا ہے۔ بہت سے لوگ اس محتاط پالیسی کی وجہ سے چین کو امریکہ کے مقابلے میں کمزور یا بزدل سمجھتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسلامی دنیا اور مغربی دنیا ابھی بھی بین الاقوامی تنازعات کو صلیبی جنگوں کے انداز میں دیکھنے کے عادی ہیں، جہاں نظریاتی بنیادوں پر جنگ لڑنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ چین نظریے کا نہیں، بلکہ اپنی عظمت کا پرچارک ہے۔ اور چین کی عظمت کے حوالے سے خواہ امریکہ ہو، بھارت ہو، یا کوئی اور طاقت، چین کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔ لیکن چین اپنے دفاعی دائرے سے آگے بڑھ کر کسی بھی ملک کے لیے امریکہ سے جنگ کا خطرہ مول لینے سے گریز کرے گا۔
یہی وجہ ہے کہ چین نے شام اور وینزویلا دونوں معاملات میں امریکی مفادات سے ٹکراؤ سے گریز کیا۔ لیکن ویتنام اور کوریا کے سوال پر کمزور چین بھی جنگ میں کود پڑا تھا۔ اسی طرح پاکستان پر بھارتی جارحیت بھی امریکی اشیرباد سے ہی کی گئی تھی لیکن چین نے اپنی روایتی پالیسی کے برعکس کھل کر پاکستان کی مدد کی اور بھارت کو شکست فاش دینے میں پس پردہ کردار ادا کیا۔ چین اپنے علاقائی دفاعی حصار میں ہر طاقت سے ٹکرائے گا اور دیگر خطوں میں وہ امریکہ کو جنگی تنازعات میں الجھنے کا پورا موقع دے گا۔ دونوں صورتوں میں بنیادی محرک چینی مفادات کا تخفظ ہے۔اس وقت چین کا اثر و رسوخ ارجنٹینا، چلی، پیرو اور برازیل سمیت سارے لاطینی امریکہ کی گہرائی میں اُتر چکا ہے۔ وینزویلا، بولیویا اور کیوبا تو سوشلسٹ ہیں، ان کا انحصار ہی چین پر ہے۔ اب تو میکسیکو بھی چین کی طرف بڑھ رہا ہے۔امریکا نے ہر حربہ آزمایا کہ چین کو روک سکے مگر ناکام رہا۔ وہ مڈل ایسٹ، یوکرین، ایشیا اور افریقہ میں سازشیں کرتا رہا اور چین چپکے سے اس کے پچھواڑے میں جا بیٹھا۔امریکہ نے اپنی بڑھتی ہوئی کمزوری کو چھپانے کے لیے آخری حربے کے طور پر ننگی بدمعاشی کر ڈالی ہے۔لیکن وینزویلا میں اسے سوائے غنڈہ گردی کرنے کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔چین ہی نہیں، روس بھی اپنے اسلحے اور ٹیکنالوجی کے ساتھ لاطینی امریکہ میں موجود ہے۔لیبیا، عراق، شام، یوکرین اور افغانستان پر تو پورا یورپ، نیٹو اور عرب شیوخ امریکا کے حواری تھے۔ مگر وینزویلا پر پوری دنیا میں کوئی ایک ملک بھی کھل کر اس کے ساتھ نہیں۔ صرف بدنامِ زمانہ نتن یاہو کی حمایت کافی نہیں،اور وینزویلا میں فوج امریکہ اُتار نہیں سکتا، کیونکہ اس کی حمایت امریکہ میں موجود نہیں، اور ایسا کیا تو لمبی گوریلا جنگ ہو گی، جس میں امریکہ کی شکست یقینی ہے۔یورپ بھی وینزویلا کے مسئلے پر امریکہ کے مد مقابل آکھڑا ہوا ہے ،ڈنمارک نے دوٹوک وارننگ دی کہ اگر گرین لینڈ پر امریکی حملہ ہوا تو پہلا جواب گولی ہوگی، سوال بعد میںہوگا ،اسی طرح ٹرمپ کے جرمن ہم منصب والٹر نے ایک تقریب کے دوران خطاب میں کہا کہ ہم لیک آف رول آف لا کے ماتم کرنے کے اسٹیج سے گزر چکے ہیں ،اور اس وقت امریکہ عالمی نظام کو برباد کرنے کے درپے ہے ،آج ہمارا سب سے بڑا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ دنیا کو چوروں کے اڈے میں تبدیل ہونے سے کیسے بچائیں جہاں بے ضمیر لوگ جب چاہیں اس پہ آکے قبضہ کر لیں ،فرانس بھی میدان میں آچکا ،  جو کچھ اس وقت گرین لینڈ کے گرد ہو رہا ہے، وہ محض ایک جزیرے کا تنازع نہیں بلکہ آنے والے عالمی نظام کی ایک جھلک ہے۔ ڈنمارک کی جانب سے یہ واضح اعلان کہ اگر گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت ہوئی تو ”پہلے فائر کیا جائے گا، سوال بعد میں پوچھے جائیں گے”، دراصل ایک چھوٹے مگر خوددار یورپی ملک کا اُس طاقت کے سامنے کھڑا ہونا ہے جسے عادت ہے پہلے فیصلے کرنے کی اور پھر دنیا کو اس کی منطق سمجھانے کی،ٹرمپ کے جرمن ہم منصب نے بھی امریکہ کے خلاف سخت زبان استعمال کی ۔گرین لینڈ، جو بظاہر برف سے ڈھکا ایک خاموش خطہ دکھائی دیتا ہے، ماضی میں کبھی عالمی سیاست کے مرکز میں نہیں رہا۔ سرد جنگ کے دور میں ضرور یہ علاقہ امریکی اور نیٹو اسٹریٹیجی کا حصہ تھا، مگر تب بھی ڈنمارک کی خودمختاری پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ آج منظرنامہ بدل چکا ہے۔ آرکٹک خطہ تیزی سے پگھل رہا ہے، نئی سمندری گزرگاہیں کھل رہی ہیں، نایاب معدنیات کی دوڑ شروع ہو چکی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں طاقتور ریاستیں نقشے دوبارہ بنانے لگتی ہیں۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اسی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ گرین لینڈ امریکہ کی ”قومی سلامتی”کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ دعویٰ کہ اس خطے میں روسی اور چینی بحری جہاز ”ہر جگہ موجود” ہیں، محض تشویش کا اظہار نہیں بلکہ ایک بیانیہ تیار کرنے کی کوشش ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی کسی طاقت نے ”قومی سلامتی” کا نعرہ لگایا، اس کے پیچھے اکثر کسی اور کی سرزمین، وسائل یا خودمختاری چھپی ہوتی ہے۔ڈنمارک کا ردِعمل اسی لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں کہ کسی یورپی ملک نے امریکہ کی پالیسی سے اختلاف کیا ہو، مگر یہ ضرور پہلی بار ہے کہ اختلاف اس قدر کھلے اور سخت لہجے میں سامنے آیا ہو۔ ”فوری فوجی جواب”کی بات دراصل نیٹو کے اندر موجود اُس خاموش تناؤ کو آشکار کر رہی ہے جسے برسوں سے قالین کے نیچے چھپایا جاتا رہا۔ ڈنمارک یہ پیغام دے رہا ہے کہ گرین لینڈ کوئی خالی زمین نہیں، نہ ہی کوئی سودا ہے جو طاقت کے زور پر طے کیا جا سکے۔اب ذرا مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں۔ اگر امریکہ نے واقعی اس سمت میں کوئی جارحانہ قدم اٹھایا، تو اس کے اثرات صرف گرین لینڈ یا ڈنمارک تک محدود نہیں رہیں گے۔ یورپ اور امریکہ کے تعلقات، جو پہلے ہی یوکرین جنگ، تجارتی تنازعات اور دفاعی اخراجات پر اختلافات کا شکار ہیں، ایک نئے بحران میں داخل ہو جائیں گے۔ یورپی عوام کے اندر پہلے ہی یہ سوال گونج رہا ہے کہ آیا امریکہ واقعی ایک قابلِ اعتماد اتحادی ہے یا صرف اپنے مفادات کا محافظ۔ گرین لینڈ کا معاملہ اس شکوک کو یقین میں بدل سکتا ہے۔
یورپ اپنے  لیے اس لمحہ کو خود احتسابی کا بھی لمحہ سمجھتا ہے۔ اگر آج گرین لینڈ کے معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی، تو کل کوئی اور خطہ، کوئی اور خودمختاری خطرے میں ہو سکتی ہے۔ امریکہ کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔ ایک طرف وہ چین اور روس کے بڑھتے اثر و رسوخ سے خوفزدہ ہے، دوسری طرف اپنے روایتی اتحادیوں کو ہی ناراض کر کے وہ اُس عالمی قیادت کو کمزور کر سکتا ہے جس کا دعویٰ وہ خود کرتا آیا ہے۔
میں یہ سب آپ کو کسی تجزیہ کار کے ٹھنڈے لہجے میں نہیں، بلکہ ایک عام انسان کی طرح کہہ رہا ہوں۔ کیونکہ جب طاقتور ریاستیں نقشے بدلنے لگتی ہیں، تو اس کی قیمت ہمیشہ عام لوگ ادا کرتے ہیں۔۔۔چاہے وہ برفانی گرین لینڈ کے باشندے ہوں یا یورپ کے وہ شہری جو ایک اور غیرضروری تنازع کے بوجھ تلے آ سکتے ہیں۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ کشیدگی ایک سفارتی موڑ پر رکتی ہے یا دنیا ایک نئے، خطرناک باب میں داخل ہونے والی ہے۔ لیکن ایک بات اب واضح ہے گرین لینڈ اب صرف برف کا جزیرہ نہیں رہا، یہ عالمی طاقت کے توازن کی علامت بن چکاہے ،ایک اور تناظر میں ہم دیکھیں تو امریکی ڈالر اب خطر ے سے دوچار ہونے کو ہے اس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کے متبادل کرنسی نظام لانے پر (BRICS)کی تنظیم کا کردار نمایاں ہے جس میں برازیل ،رشیا ،انڈیا ،چائنا اور سائوتھ افریقہ شامل ہیں ،نے بین الاقوامی تجارت کو ڈالر سے آزاد کرنے کے درپے ہے جس پر اپنی انتخابی مہم کے دوراں ٹرمپ نے کھل کر تنقید کی ،برازیل میں ہونے والی کانفرنس میں بھی (BRICS)تنظیم نے اسے چند ماہ قبل فعال بھی کر نے کا اعلان بھی کیا۔ آئی ایم ایف کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پائولو نے برازیل میں ہونے والی مذکورہ کانفرنس پر کہا تھا کہ ”واشنگٹن فوجی فتوحات اور اقتصادی ترقی کے اعدادو شمار کا جشن منا رہا ہے لیکن حقیقی جنگ کا میدان کہیں زیادہ خطرناک ہے جو دوسری طرف منتقل ہوچکا ہے ”۔اگر ہم دیکھیں تووینزویلا پر قبضے کے خواب کا ایک پس منظر یہ بھی ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر