... loading ...
محمد آصف
آج کے دور میں شہری طرزِ حکمرانی تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ تیز رفتار شہری آبادی، سماجی و معاشی عدم مساوات، اور بدلتے ہوئے آبادیاتی رجحانات ہیں۔ جیسے جیسے شہر پھیلتے جا رہے ہیں، شمولیتی اور مساوی نظامِ حکمرانی کی ضرورت مزید بڑھ رہی ہے ۔ اس پس منظر میں صنفی شمولیت (Gender Mainstreaming) ایک نہایت اہم حکمتِ عملی ہے ، جس کا مقصد یہ ہے کہ شہری منصوبہ بندی، پالیسی سازی اور خدمات کی فراہمی میں ہر صنف کی ضروریات کا بھرپور لحاظ رکھا جائے ۔ صنفی شمولیت کا مطلب صرف خواتین کی شمولیت نہیں بلکہ ایک جامع نظام ہے جو ہر سطح پر صنفی نقطۂ نظر کو پالیسی سازی کا حصہ بناتا ہے ۔ جب اس اصول کو شہری حکمرانی میں شامل کیا جاتا ہے ، تو شہر زیادہ محفوظ، قابلِ رسائی اور منصفانہ بن جاتے ہیں۔
شہری حکمرانی کے بنیادی مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ روایتی پالیسیاں عمومی طور پر صنف سے بے نیاز بنائی جاتی رہی ہیں۔ تاریخی طور پر شہروں کی ساخت مردانہ کرداروں اور ضروریات کے مطابق بنائی گئی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے راستے ، شہری ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں کے مراکز میں خواتین کی نقل و حرکت، دیکھ بھال کی ذمہ داریوں یا ان کے تحفظ کے تقاضوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جاتا رہا۔ نتیجتاً، خواتین کو تعلیم، روزگار، صحت اور عوامی مقامات تک رسائی میں نسبتاً زیادہ رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے ۔ صنفی شمولیت کا طریقۂ کار ان ساختی عدم مساوات کو چیلنج کرتا ہے اور ہر پالیسی کے اثرات کو نافذ کرنے سے پہلے مختلف اصناف کے تناظر میں جانچنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔
صنفی شمولیت کا ایک اہم پہلو مقامی سطح پر خواتین کی سیاسی شرکت میں اضافہ ہے ۔ بلدیاتی اداروں، ٹاؤن کمیٹیوں اور شہری منصوبہ بندی کے حکام میں خواتین کی نمائندگی اکثر ناکافی ہوتی ہے ۔ اس کمی کی وجہ سے خواتین شہری ترجیحات اور مخصوص مسائل جیسے صفائی، رہائش، پانی، اور شہری تحفظ کے بارے میں بھرپور آواز نہیں اٹھا سکتیں۔ مختلف ممالک کے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب خواتین مقامی حکومتوں میں فعال کردار ادا کرتی ہیں، تو بجٹ میں خاندان، صحت، تعلیم اور تحفظ جیسے شعبے نمایاں ہوتے ہیں۔ اسی لیے خواتین کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ شمولیت پر مبنی شہری حکمرانی کی بنیاد ہے ۔
شہری علاقوں میں صنفی بنیاد پر تشدد بھی ایک اہم چیلنج ہے ۔ غیر محفوظ ٹرانسپورٹ، تاریک گلیاں، بے ترتیب بازار اور کمزور نگرانی اکثر خواتین کو ہراسانی یا تشدد کا شکار بناتے ہیں۔ صنفی شمولیت پر مبنی شہری حکمرانی ایسے شہروں کے قیام پر زور دیتی ہے جو سب کے لیے محفوظ ہوں۔ اس میں اسٹریٹ لائٹس کی بہتری، حساس پولیسنگ، صرف خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کے آپشنز، اور کمیونٹی نگرانی شامل ہو سکتے ہیں۔ ”اسمارٹ سٹی” ٹیکنالوجیز جیسے ہنگامی ایپس، سی سی ٹی وی، اور آن لائن شکایتی نظام شہری تحفظ کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔ ایک صنفی حساس سیکیورٹی نظام اعتماد، نقل و حرکت اور سماجی شرکت میں اضافہ کرتا ہے ۔
بنیادی شہری خدمات تک رسائی بھی صنفی عدم مساوات سے متاثر ہوتی ہے ۔ پانی کی فراہمی، صحت، صفائی اور نکاسیِ آب کے نظام خواتین کی روزمرہ زندگی سے براہ راست جڑے ہوتے ہیں۔خاص طور پر کم آمدنی والے علاقوں میں خواتین کو پانی جمع کرنے یا گھریلو فضلہ نمٹانے میں کئی گھنٹے صرف کرنے پڑتے ہیں، جس سے ان کے تعلیمی یا معاشی مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ صنفی شمولیت ایسے حل فراہم کرتی ہے جن میں خواتین کی ضروریات مرکزی حیثیت رکھتی ہیں مثلاً محفوظ اور قابلِ رسائی باتھ روم، بہتر زچگی صحت مراکز، اور خواتین کو کمیونٹی صفائی پروگراموں میں فیصلہ سازی کا حصہ بنانا۔ یہ اقدامات نہ صرف خواتین کی فلاح و بہبود بڑھاتے ہیں بلکہ شہری نظام کو زیادہ مضبوط بھی بناتے ہیں۔
صنفی شمولیت کا معاشی پہلو بھی نہایت اہم ہے ۔ شہروں میں خواتین کی کمزور معاشی شرکت کی بہت سی وجوہات ہیں محفوظ ٹرانسپورٹ کا فقدان، ڈے کیئر سینٹرز کی کمی، یا ملازمت میں صنفی امتیاز۔ شہری منصوبہ بندی میں اگر ڈے کیئر مراکز، خواتین کے لیے محفوظ مارکیٹیں، ووکیشنل تربیت اور مائیکروفنانس مواقع کو شامل کیا جائے تو خواتین کی معاشی خود مختاری بڑھے گی۔ خواتین کے کاروبار کے لیے مالی سہولتوں، ڈیجیٹل تربیت اور مارکیٹ رسائی کے پروگرام نہ صرف خواتین کو مستحکم کرتے ہیں بلکہ مجموعی شہری معیشت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔تعلیم اور آگاہی بھی صنفی شمولیت کو مضبوط بنانے کے اہم عوامل ہیں۔ تعلیمی ادارے ، میڈیا اور سول سوسائٹی مل کر ایسی مہمات شروع کر سکتے ہیں جو معاشرے میں صنفی مساوات کے تصور کو فروغ دیں۔ شہری منصوبہ سازوں، پولیس، ٹرانسپورٹ حکام اور بلدیاتی ملازمین کی صنفی تربیت
ان کے رویوں اور طرزِ عمل میں بہتری لا سکتی ہے ۔ اسی طرح یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں صنفی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانا مستقبل کے شہریوں کو زیادہ ذمہ دار اور حساس بنا سکتا ہے ۔
صنفی گروہوں جیسے ٹرانسجینڈر یا غیر بائنری افراد کی ضروریات بھی شہری نظام میں اکثر نظرانداز ہوتی ہیں۔ رہائش، صحت اور روزگار میں انہیں بڑے پیمانے پر امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔صنفی شمولیت کا اصول اگر بین المسالکی نقطۂ نظر اپنا لے تو ان طبقات کی ضروریات بھی پالیسی سازی کا حصہ بن سکتی ہیں۔ اس سے زیادہ مہذب اور مساوی شہری ماحول وجود میں آتا ہے ۔موثر صنفی شمولیت کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک نہایت اہم ہے ۔ بلدیاتی محکموں میں صنفی یونٹس،صنفی حساس بجٹ سازی، اور باقاعدہ مانیٹرنگ کے نظام ضروری ہیں۔ مقامی حکومتوں، این جی اوز، تعلیمی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے باہمی تعاون سے تکنیکی تربیت اور استعداد کار میں اضافہ ممکن ہے ۔ قوانین اور پالیسیوں کا سختی سے نفاذ بھی اہم ہے ، ورنہ صنفی شمولیت محض علامتی رہ جائے گی۔
آخر میں، صنفی شمولیت کے تناظر میں شہری حکمرانی ایک تکنیکی ضرورت ہی نہیں بلکہ جمہوری فریضہ ہے ۔ ایسی شہری پالیسیاں جو ہر صنف کی ضروریات کو سمجھ کر بنائی جائیں، شہر کو زیادہ محفوظ، مضبوط اور مساوی بناتی ہیں۔ جیسے جیسے دنیا میں شہری آبادی بڑھ رہی ہے ، صنفی شمولیت ایک ایسا مؤثر فریم ورک مہیا کرتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے بہتر، منصفانہ اور مہذب شہر تعمیر کر سکتا ہے ۔
٭٭٭