... loading ...
چوپال /عظمیٰ نقوی
عدالت کے کمرہ نمبر تین میں اُس دن خاموشی بول رہی تھی۔ لکڑی کی سخت بینچ پر بیٹھی ایک بوڑھی ماں کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔ کبھی وہ اپنے دوپٹے کے کونے سے آنسو پونچھتی، کبھی اسے مضبوطی سے تھام لیتی، جیسے یہ کپڑا نہیں بلکہ اس کی آخری اُمید ہو۔ اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، صرف برسوں کی جاگ، مسلسل فکر اور نہ ختم ہونے والا انتظار تھا۔ ہر لمحہ اس کی نگاہ سامنے کھڑے اپنے بیٹے پر جا ٹھہرتی، جیسے وہ اسے دیکھ کر خود کو یقین دلاتی ہو کہ وہ ابھی زندہ ہے۔
آہنی سلاخوں کے پیچھے کھڑا وہ بیٹا، جس کی عمر ابھی تیس برس بھی نہ تھی، چہرے سے بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ نظریں زمین میں گاڑی ہوئی تھیں، جیسے وہ عدالت سے نہیں بلکہ اپنے مقدر سے نظریں چرا رہا ہو۔ اس کے جھکے ہوئے سر میں خوف بھی تھا اور بے بسی بھی، اور شاید یہ خاموش سوال بھی کہ کیا آج کوئی فیصلہ ہوگا یا پھر ایک اور تاریخ ملے گی۔
جج نے فائل کھولی۔ کاغذ پلٹنے کی آواز کمرہ عدالت میں گونجی تو ماں کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ہر صفحہ الٹنے کے ساتھ اس کی امید بڑھتی گئی۔ پھر جج نے نگاہ اٹھائی اور مختصر مگر بھاری لہجے میں کہا:چالان نامکمل ہے، گواہوں کے بیانات متضاد ہیں، فرانزک رپورٹ شامل نہیں۔ کیس ملتوی کیا جاتا ہے۔
یہ الفاظ عدالت کے لیے معمول کی بات تھے، مگر اس ماں کے لیے ایک اور سال کا انتظار بن گئے۔ ایک اور سال آنسوؤں کا، ایک اور سال دعاؤں کا، اور ایک اور سال ہر پیشی پر یہی سوچ کہ شاید اگلی تاریخ پر انصاف مل جائے۔مگر انصاف ایک بار پھر تاریخ کی فائل میں دب گیا۔
یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظام کی تصویر ہے۔ 9مئی کے مبینہ واقعہ کو جواز بناکر ہزاروں ورکرز کو پابند سلاسل کردیا گیا ، مائیں ،بہنیں ۔بیٹیاں ،بیویاں ہر پیشی پر رہائی کی امید لے کر گھر کی دہلیز پار کرتی ہیں لیکن ہر بار عدالت کے ریمارکس اس امید پر پانی پھیر دیتے ہیں ،ہم کس دور میں سانس لے رہے ہیں ،سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ ،صنف آہن ڈاکٹر یاسمین راشد ،صنم جاوید ،جیسے ہزاروں ورکروں کو جرم ِ بے گناہی کی سزا دی جارہی ہے ۔
ناقص چالان مقدمے کو کمزور کر دیتا ہے لیکن ٹرائل کو لمبا کر دیتا ہے اور انصاف کو دیر کا شکار بنا دیتا ہے۔ اگر ملزم بے گناہ ہو تو وہ برسوں جیل میں رہتا ہے، اور اگر مجرم ہو تو شواہد کی کمی اسے بچا لیتی ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان معاشرے کا ہوتا ہے۔ اس مسئلے کی جڑ صرف افراد نہیں بلکہ نظام ہے۔ ایک تفتیشی افسر پر درجنوں مقدمات کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ تربیت کی کمی، نگرانی کی کمزوری اور جوابدہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یوں چالان ایک سنجیدہ قانونی ذمہ داری کے بجائے محض فائل مکمل کرنے کا مرحلہ بن جاتا ہے۔ انصاف ہمیشہ پولیس چالان کی سنجیدگی سے جنم لیتا ہے ۔ مہذب معاشروں میں تفتیشی افسران کی بہتر تربیت، پراسیکیوشن کے ساتھ مؤثر رابطہ اور ناقص چالان پر احتساب کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے،کیونکہ جب تک چالان مضبوط نہیں ہوتا ٹرائل بھی کمزور رہے گا۔9مئی کی جھوٹی ایف آئی آرز میں ایک ایک ورکرز کی کئی کئی شہروں میں موجودگی دکھا کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ،جہاں عدلیہ کا وجود نہ ہو وہاں انصاف کا تصور دم توڑ دیتا ہے ، ملک بھر کی عدالتوں میں ایسے مناظر روز دیکھے جا سکتے ہیں۔ مائیں ہر پیشی پر امید لے کر آتی ہیں اور واپس صرف ایک نئی تاریخ لے کر جاتی ہیں۔
فیصلوں کے انتظار میں گزشتہ چار برس سے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز اور ان کے لواحقین دھکے کھارہے ہیں ،پولیس آج بھی ورکروں پر زمین تنگ کئے ہوئے ہے ،میرے سامنے ہنجر وال کے راشد یوسف کی لاش ہے جسے گزشتہ رات فسطائی پولیس نے اپنی دہشت کی نذر کر دیا ہم ایک ایسی دھرتی پر سانسوں کے گنہگار ہیں جہاں قانون جھوٹی ایف آئی آر کی بیساکھیوں پر زندہ ہے اور انصاف راندۂ درگاہ ہوچکا ہے ؟
پاکستان کے نظامِ انصاف میں پولیس چالان ایک بنیادی قانونی دستاویز ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد پولیس یہی رپورٹ عدالت میں پیش کرتی ہے اور اسی پر مقدمے کی سمت طے ہوتی ہے۔ گواہوں کے بیانات، شواہد، میڈیکل اور فرانزک رپورٹس سب اسی چالان کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر چالان مضبوط اور مکمل ہو تو انصاف کی راہ ہموار ہوتی ہے، لیکن اگر یہ کمزور ہو تو پورا مقدمہ ابتدا ہی میں لڑکھڑا جاتا ہے۔
قانون کے مطابق چالان بروقت، مکمل اور غیر جانبدار ہونا چاہیے، مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہورہا ۔ اوپر کسی آرڈر پر چالان عجلت میں اور رسمی انداز میں تیار کیے جارہے ہیں۔ جس کا نقصان صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانوں کی زندگیاں اس کی قیمت چکاتی ہیں۔
٭٭٭