وجود

... loading ...

وجود

مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ

اتوار 11 جنوری 2026 مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ

ریاض احمدچودھری

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے ترکمان گیٹ میں سید فیض الہی مسجد اور اس سے ملحقہ قبرستان میں انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج کے دوران کم از کم پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سینکڑوں مقامی باشندے مسجد کے قریب ایک بینکوئٹ ہال اور ڈسپنسری کو مسمار کرنے کے خلاف احتجاج کے لئے جمع ہوئے جنہیں عدالت نے تجاوزات قرار دیا تھا۔ پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس ندھین والسن نے اعتراف کیا کہ ایم سی ڈی نے 6اور7جنوری کی درمیانی رات کو مسماری کا پروگرام بنایا تھا اوراس کے لیے پولیس کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ لوگوں کو قائل کرنے پر بہت سے رہائشی منتشر ہو گئے اورکچھ لوگوں نے مزاحمت کی جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں طبی امداد دی گئی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مسماری کی مہم بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ظلم وجبر کی وسیع پالیسی کی عکاسی کرتی ہے،جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے قانون اور انتظامیہ کو استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں رات کے وقت اور پولیس کی بھاری موجودگی میں کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا جائے اور اختلاف رائے کو دبایا جائے جس سے بھارت بھر میں اقلیتوں کو درپیش خوف ودہشت کے ماحول کی عکاسی ہوتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ بھارت میں عدالتی احکامات کے نفاذکی آڑ میں اقلیتوں کو نشانہ بنانا ایک معمول ہے۔
بھارت میں مودی حکومت کے دور میں مسلم مخالف پالیسیوں اور اقدامات میں تیزی آ گئی ہے، جس سے مسلمانوں کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کی ریاستی حکومت اور اس کے زیر اثر پولیس، آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں مزید بڑھا رہی ہے۔ متھرا کو ستمبر 2021 میں مقدس قرار دیے جانے کے بعد سے مسلم اکثریتی علاقوں میں گوشت کی دکانیں اور ہوٹل بند کر دیے گئے ہیں، جس سے مقامی مسلمانوں کا روزگار شدید متاثر ہوا ہے۔پولیس کو گائے کے تحفظ کے قوانین کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہیں، جنہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ جھوٹے مقدمات، ناحق گرفتاریاں اور سماجی امتیاز عام ہوگیا ہے۔ مسلمانوں میں خوف کی فضا اس قدر پھیل چکی ہے کہ وہ گوشت کھانے یا خریدنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔
متھرا میں مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند رہنما مسلمانوں کو ”دیمک” کہہ کر پکارتے ہیں، جب کہ نوجوان مسلمان شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ہندو مذہبی رنگوں والے زعفرانی کپڑے پہننے پر مجبور ہیں۔ مسلمانوں کے قبرستانوں کے قریب کچرے کے ڈھیر لگائے جا رہے ہیں اور مساجد کے قریب بیت الخلا تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں مساجد پر قبضوں، آذان پر پابندی اور گھروں کی مسماری کی قانونی کارروائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں، جو آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی مودی حکومت کے نظریاتی بیانیے اور ہندو قوم پرستی کے عروج کا نتیجہ ہے، جس نے ملک کے سیکولر تشخص کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
بھارتی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پابندی کے بعد وہاں کی مساجد اذان کے لیے موبائل ایپلی کیشن استعمال کرنے لگ گئیں۔ ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پولیس نے مساجد کو روکا تھا، جس کے بعد مساجد منتظمین کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جانے لگا ہے۔ممبئی بھر کی نصف درجن مساجد نے اذان آن لائن نامی ایپلی کیشن کا استعمال کرنا شروع کردیا جو کہ نمازیوں کو ریئل ٹائم اذان سنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔مذکورہ ایپلی کیشن ریاست تامل ناڈو کے مسلمان انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ماہرین نے تیار کی ہے جو کہ نمازیوں کو اذان ہونے کے وقت ریئل ٹائم میں اذان سننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔مذکورہ ایپلی کیشن کے ذریعے مساجد کو رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے، جس کے بعد مذکورہ مساجد کے ارد گرد کے نمازی مسجد کے اذان کے وقت اپنے موبائل پر ریئل ٹائم میں اذان سن سکتے ہیں۔ایپلی کیشن فیچرز کے تحت نمازیوں کو بھی ایپلی کیشن میں رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے، انہیں اپنے علاقے اور مسجد کا نام بھی مینشن کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد انہیں مقررہ وقت پر موبائل میں اذان سننے کو ملتی ہے۔
خیال رہے کہ ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن کیرت سومیا نے مہم شروع کی تھی اور انہوں نے مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو صوتی آلودگی سے جوڑا تھا، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی مہم کے بعد مساجد سے 1500 سے لاؤڈ اسپیکرز اتارے جا چکے ہیں۔ان کی مہم کے خلاف مسلم علما نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا تھا اور عدالت نے جنوری 2025 میں قرار دیا تھا کہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا ایک حد تک استعمال صوتی آلودگی میں شمار نہیں ہوتا۔عدالت کے مطابق مساجد میں دن کے وقت لاؤڈ اسپیکرز کی اسپیڈ 55 ڈیسیبل اور رات میں 45 ڈیسیبل تک ہو تو پھر وہ صوتی آلودگی کا سبب نہیں بنتے۔عدالتی فیصلے کے بعد ممبئی پولیس نے مساجد منتظمین کو بلیک میل کرنا شروع کیا اور ان پر لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو ترک کرنے کا دباؤبھی ڈالتی رہی، جس کے بعد مساجد منتظمین نے ایپلی کیشن کے استعمال کو بہتر آپشن سمجھا۔
بھارتی حکومت نے مساجد، مدارس اور درگاہوں جیسے مسلمانوں کے مذہبی اور خیراتی اثاثوں کو کنٹرول کرنے والے وقف بورڈ کے قانون میں ترمیم کا اعلان کیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے 1995 کے وقف قانون میں ترمیم کا بل اسمبلی میں متعارف کروایا ہے، جس کی مسلمان اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں مخالفت کر رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت وجود اتوار 11 جنوری 2026
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ وجود اتوار 11 جنوری 2026
مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ

دفاعی صنعت اورمعیشت وجود اتوار 11 جنوری 2026
دفاعی صنعت اورمعیشت

اپنی اپنی سچائی ! وجود هفته 10 جنوری 2026
اپنی اپنی سچائی !

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا! وجود هفته 10 جنوری 2026
جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر