وجود

... loading ...

وجود

دفاعی صنعت اورمعیشت

اتوار 11 جنوری 2026 دفاعی صنعت اورمعیشت

حمیداللہ بھٹی

پاکستان کو اِس وقت جن سنجیدہ نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے اِن میں ایک دہشت گردی ہے ۔اِس کا امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کے ساتھ معیشت کے زوال میں اہم کردار ہے کیونکہ بدامنی سے پیداواری شعبہ سکڑنے کی وجہ سے برآمدی شعبہ اس حدتک متاثر ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کا تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالرسے تجاوزکرگیا ہے۔ اِس میں کچھ عمل دخل نرم درآمدی پالیسی کابھی ہے جو آئی ایم ایف سے کیے وعدوں کا نتیجہ ہے جس سے برآمدات سے درآمدات بڑھتی جارہی ہیں مگر دہشت گردی نے معیشت کو بُری طرح جکڑ رکھا ہے جس سے پیداواری شعبہ نمو نہیں پارہا لیکن عسکری قیادت کی دہشت گردی کے خلاف ثابت قدمی سے کافی بہتری آئی ہے۔ مزید اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ حکومت اور عسکری قیادت میں تعاون کی فضا ہے اور دونوں معاشی بحالی میں ایک دوسرے کے سہولت کار ہیں۔ اِس وقت جہاں دیگر پیداواری شعبے زوال پذیر ہیں پاکستان کا دفاعی شعبہ مسلسل ترقی کی جانب گامز ن ہے اور پاکستان خطے میں دفاعی سامان برآمد کرنے والے ایک بڑے ملک کے طورپر شناخت بنارہا ہے ۔محدودوسائل میں یہ پیش رفت معیشت کے لیے بھی کسی حدتک آکسیجن ہے ۔
دسمبر1971کی پاک بھارت جنگ نے پاکستان کوجس کمزور پوزیشن پر لاکھڑا کیا تھا اُس سے پاکستان اب نکل آیاہے۔ گزشتہ برس مئی کی محدودجھڑپوں نے ایک ایسے پاکستان کی بنیادرکھی ہے جو جوہری ملک ہونے کے ساتھ روایتی ہتھیاروں میں بھی آگے ہے اورہر قسم کے خطرات کا سامناکرنے کی اہلیت وصلاحیت رکھتا ہے ۔جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے دنیا کے جدید ترین جنگی جہازوں کو ایسے نشانہ بناکر تباہ کیا جیسے ماہر شکاری پرندوں کاشکارکرتاہے وہ بھارت جو پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بناکر طاقتور ہونے کا تاثر دے رہا تھا۔ اُس کی دفاعی تنصیبات کو پاک فوج نے چند گھنٹوں میں ملیا میٹ کردیا ۔سچ تو یہ ہے کہ مئی کی پاک بھارت جھڑپوں سے پاکستانیوں کونہ صرف ایک نیا اعتماد اور حوصلہ ملا بلکہ ملک کی عالمی ساکھ بھی بہتر ہوئی ہے اور عشروں بعد دنیاپاکستان کو اہم اور طاقتورکھلاڑی سمجھ کر متوجہ ہوئی ہے۔ آج نہ صرف خطے میں پاکستانی کردار وسعت پذیر ہے بلکہ افریقہ ،مشرقِ وسطیٰ اور وسط ایشیائی ریاستوں کادفاعی حوالے سے پاکستان پر انحصار بڑھنے سے معیشت میں بھی بہتر ی کی توقع ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب بھارت ملکی ساختہ تیجس طیارہ باوجود کوشش کسی بھی ملک کوفروخت کرنے میں ناکام ہے کیونکہ تیجس ابھی تک کسی حربی ٹکرائومیں استعمال نہیں ہو سکا کہ خوبیاں معلوم ہو سکیں ،البتہ دبئی کے فضائی مظاہرے میں اِس لڑاکا طیارے کی تباہی ساراعالم جان گیا ہے ۔اِس واقعہ سے بھارت کی نہ صرف دفاعی صنعت کے اعتبار کو دھچکا لگا ہے بلکہ بھارتی فضایہ کو بھی شرمندگی ہوئی۔ نیز براہموس میزائل بھی کچھ خاص تاثرنہیں دے سکا جبکہ پاکستان کی چند گھنٹوں پرمحیط زمینی اور فضائی کاروائی سے بھارت نے نہ صرف اپنے لڑاکا طیارے ڈر سے دوردراز مستقروں میں چھپا دیے بلکہ براہموس استعمال کرنے کی جرأت نہ کر سکا بلکہ جنگ بندی کے لیے عالمی خیرخواہوں سے رابطے کرنے لگا ،اسی بناپر امریکی صدرٹرمپ پاکستان کی عسکری قیادت پر فداہے اور قطر وسعودی عرب جو پاکستان کو جوابی کاروائی کی بجائے صبروتحمل کے مشورے دے رہے تھے کہ وہ غزہ نہیں دیکھنا چاہتے ،آج پاکستان سے دفاعی تعاون چاہتے ہیں یہ تبدیلی پاکستان کی عسکری قیادت کی پیشہ وارانہ مہارت و طاقت کا اعتراف ہے۔
ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان خطے کے امن واستحکام کے لیے ناگزیرہے پاکستان کی عسکری قیادت نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنے فرائض سے آشنا ہے اوراِس میں غفلت نہیں کررہی، پاک فوج پیشہ ورانہ مہارت اور جدیدجنگی طیاروں کی بناپر خطے میں چین کے بعد اہم ترین ہے تیجس کو توآج تک کوئی ایک بھی خریدار نہیں مل سکا ۔آرمینیا نے خریداری کی جاری بات چیت تک ختم کردی ہے لیکن جے ایف 17 تھنڈر اِس وقت آزربائیجان،میانمار،نائیجریا کی فضائیہ کا اہم حصہ ہیں یہ جنگی طیارہ کم وزن،فورتھ جنریشن ملٹی رول ائر کرافٹ ہے جس نے بھارت کے ساتھ 2019اور 2024کی جھڑپوں میںخوب کارکردگی دکھائی اسے بنگلہ دیش، سعودی عرب ،عرب امارات ،عراق  اور لیبیاسمیت مزید کئی ممالک سے خریدناچاہتے ہیں۔ اِس پاکستانی شاہکار طیارے نے دبئی کے فضائی مظاہرے میں فضائی ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے۔ فضائی جھڑپ میں پاکستانی پائلٹوں نے کمال دکھایا اورپھر آذربائیجان کے لیے جاتے ہوئے فضامیں ہی ایندھن لینے کا مظاہرہ بھی ہو چکا،اب توکئی عرب ، ایشیائی اور افریقی ممالک مشترکہ تربیت کے خواہشمند ہیں اسی بناپر کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی صنعت معاشی حالت کی بہتر ی میں بھی معاون ہے۔
جنگیں دعووں سے نہیں مہارت،طاقت اور بروقت فیصلوں سے جیتی جاتی ہیں۔ یہ سب پاک فوج کی خوبیاں ہیں آپریشن سندور کو پاکستان نے بھارت کے ماتھے کی کالک بنایا اوروہ بھارت جسے اپنے دفاعی نظام پرنازتھاکیونکہ یہ تین سوکلومیٹر دور سے دشمن کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ایک سو تک لڑاکاطیاروں کو مصروف کر نے کی خوبی رکھتاہے لیکن مئی کی پاک بھارت جھڑپوں میں پاک فوج نے کچھ ایسا مہارت کا مظاہرہ کیاکہ دفاعی نظام کے حرکت میں آنے سے قبل ہی دفاعی اہداف کو نشانہ بناڈالا ۔ایس400کو بھی کسی کاروائی کا موقع ہی نہ دیا جس کی وجہ سے ترکیہ اور برازیل جیسے ممالک نے یہ نظام خریدنے کی روس سے جاری بات چیت روک دی ہے۔ فلپائن اوریران نے بھی یہ نظام خریدنے کااب ارادہ ترک کردیا ہے۔ آپریشن سندور سے بھارت کی دفاعی خامیاں دنیا پر اُجاگر ہوئیںتو روسی دفاعی صنعت کو بھی دھچکا لگا ہے لیکن پاک چین اشتراک نے اپنی خوبیوں ،مہارت اور طاقت کا لوہا منوالیا ہے ۔
بھارت نے دفاعی نظام تباہ کرانے کے بعد اپنا طیارہ بردار جہاز وکرانت کو پاکستانی سمندری حدود میں بھیج دیا لیکن یہ فیصلہ بھی توقع کے مطابق نتائج نہ دے سکا اورپھر وکرانت لاک ہونے کا سگنل ملتے ہی مجبوراََواپس بلانا پڑا ۔پاکستان نے مہارت اور ٹیکنالوجی دونوں میں بھارت کو مات دیدی اور نہ صرف جوہری جنگ کی نوبت نہیں آنے دی بلکہ روایتی ہتھیاروں سے بھارت کے دفاعی اہداف کو نشانہ بناکر  برتری ثابت کردی کیونکہ بھارت نے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بناکراملاک و انسانی جانوں کونقصان پہنچاکر خوف وہراس پھیلایا مگرجواب میںبھارت کے بجلی نظام کو جام کرنا ،دفاعی نظام کے ساتھ اکتیس سے زائد فوجی اہداف کی تباہی جدید حربی نظام کاایساشاندار مظاہرہ ہے جس کا سہراجنرل عاصم منیر کے سر ہے جنھوں نے بروقت اورٹھوس فیصلے کیے جو نتیجہ خیز ثابت ہوئے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت کا موجودہ عروج گزشتہ برس مئی کی پاک بھارت جنگ کے تجربات اور نتائج کاہی نتیجہ ہے جس میں بھارت کی دفاعی صنعت کو ناقابلِ یقین نقصان پہنچا اور پاکستان خطے کے ساتھ عالمی نظام کا ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا جو دفاعی صنعت کے عروج کے ساتھ ملکی معیشت کوسہارا دینے کا باعث ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت وجود اتوار 11 جنوری 2026
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ وجود اتوار 11 جنوری 2026
مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ

دفاعی صنعت اورمعیشت وجود اتوار 11 جنوری 2026
دفاعی صنعت اورمعیشت

اپنی اپنی سچائی ! وجود هفته 10 جنوری 2026
اپنی اپنی سچائی !

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا! وجود هفته 10 جنوری 2026
جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر