وجود

... loading ...

وجود

اپنی اپنی سچائی !

هفته 10 جنوری 2026 اپنی اپنی سچائی !

بے نقاب /ایم آر ملک

سچائی، اگر ہمارے سیاسی منظرنامے میں جیتی جاگتی ہوتی، تو غالباً وہ ایک ایسی نرگسیت زدہ حسینہ ہوتی جو چوبیس گھنٹے آئینے کے سامنے کھڑی اپنی شفافیت پر نثار ہوتی رہتی۔ مگر وہ آئینہ خود اس کے چہرے کا اصل روپ دکھانے سے قاصر ہوتا کیونکہ یہ آئینہ بھی تو ”سرکاری پروپیگنڈے کے شیشہ گر خانے” میں تیار ہوا ہوتا۔ وہ اپنے عکس کو دیکھ کر کسی خود ساختہ تربیت یافتہ ”پیامبر” کی طرح اعلان کرتی: ”دیکھو! میں ہی اکلوتی سچائی ہوں، باقی سب نقاب پوش جھوٹ ہیں”! اور ہم عوام، جو کبھی ‘قوم’ کہلانے کی جتنی کرتی پھرتی تھی، اب صرف ”بیان بازی کی مریض” بن کر اس کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں جیسے کوئی گمشدہ ضمیر کی تلاش میں نکلا ہوا پجاری۔
سچائی کا سب سے بڑا فریب یہی ہے کہ اسے اپنے کامل ہونے کا جنون ہے۔ وہ خود کو آسمانی وحی سے ملتی جلتی شے سمجھتی ہے اور ہر دوسری آواز کو ”سازش کا شور”۔ ہمارے ہاں سچائی کے یہ ٹھیکیدار بڑے ہی رنگین مزاج ہیں۔ایک دن وہ ”جمہوریت کے سپاہی” بن جاتے ہیں تو دوسرے دن ”استحکام کے علمبردار”۔ ان کی سچائی کبھی خادمِ اعلیٰ کی منطق سے اترتی ہے، کبھی جلاوطنی کے سوٹ کیس سے نکلتی ہے، اور کبھی کسی ”ڈیل” کے پلندے میں بندھی ملتی ہے۔ یہ وہ پجاری ہیں جو سچائی کی تلاش میں نہیں، بلکہ اپنی انا کی مورتی کو سچائی کا لیبل لگا کر سود و زیاں کی منڈی میں اتارنے نکلے ہیں۔ان کے نزدیک سچ وہی ہے جو ان کے ”ٹویٹر ٹائم لائن” پر چمکے، اور جھوٹ وہ جو مخالف کی ”پریس بریفنگ” میں گونجے۔ مشیل فوکو آج ہمارے ہاں آتا تو کہتا: ”یہاں سچائی علم نہیں، ایک ہتھیار ہے جس کا ہینڈل جس کے ہاتھ میں، وہی ‘سچ’ کا مالک”۔ سچائی کی یہ خود پسندی اسے ڈھلتے شام کے سائے کی طرح لمبا کر دیتی ہے کبھی وہ ”یوٹرن” کو حکمت ِ عملی کہتی ہے، کبھی ”فرار” کو سفری ضرورت۔ جو ”عوام کا چہیتا” ہے، آج دوسو سے زائد ایف آئی آرز کے بوجھ تلے ”باغی” بن کراڈیالہ میں سزا کاٹ رہا ہے، اور جو کل ”زیر عتاب ” تھا، آج ”نجات دہندہ” بن کر اسی نظام کو مقدس بنا رہا ہے۔
جون ایلیا نے شاید ایسے ہی منظر دیکھ کر کہا تھا!
میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
آج کے ڈیجیٹل دور میں سچائی کسی غار میں نہیں، بلکہ ”ٹرول فارمز” کے سرورز میں پلتی ہے۔ یہاں سچ وہ ہے جو ٹرینڈ کر جائے۔ چاہے وہ ”ہیکڈ دستاویزات” ہوں یا ”مقدس اعدادوشمار”۔ سچ اب ایک ”پرفارمننگ آرٹ” بن چکا ہے۔ اسٹیج بدلتا ہے، تو ساتھ ہی کردار بھی بدل جاتے ہیں، ڈائیلاگ وہی رہتے ہیں۔ ہم نے سچائی کو ”برینڈ” بنا لیا ہے۔ ”سرکاری سچ”، ”اپوزیشن سچ”، ”مثبت رپورٹنگ کا سچ”، ”مذہبی سچ”۔ ہر ایک کا الگ پیکیج، الگ مارکیٹ، الگ کنزیومر۔
مصطفی زیدی نے کیا خوب چبھتا سچ کہا تھا

سچائی اک قحبہ تھی جو رات کو تھک کرسوئی ہوئی تھی،
شور سنا تو خوف کے مارے تھر تھر کانپی
روزِ عدالت سے گھبرائی
بھیس بدل کر پیچھے نکلی
آگے آگے مشرق کے پنڈت
مغرب کے گرجا والے”
ہماری سچائی بھی بھیس بدلنے کی ماہر ہے، کبھی ”انقلاب” کا لباس پہنتی ہے،اور جن کے خلاف انقلاب آنا ہوتا ہے وہ” مسخرے” حبیب جالب کے اشعار اسٹیج پر سناکر انقلاب کا تمسخر اڑاتے ہیں کبھی طاقتوروں کے سامنے ”مصلحت” کا برقعہ اوڑھ لیتی ہے۔ اشراف تو کیا اجلاف بھی اب سمجھ چکے ہیں کہ ان پجاریوں کا اصل مندر ”اقتدار” ہے، اور ان کا اصل دیوتا ”کرسی”، جس کے سامنے سچائی کی قربانی دی جاتی ہے، پھر اسی کا قیمہ عوام کے تھال میں ڈالا جاتا ہے کہ تم بھی اسے ذرا کی ذرا چکھو مگر پیار سے۔
خداوندا! ہماری اس سچائی پر تھوڑی سی ”شرم” کی بارش برسا، تاکہ اس کے چہرے کا بھوت پن کچھ ہلکا پڑے۔ اسے وہ عطا کر کہ یہ آئینے کے علاوہ دوسروں کے چہروں پر بھی نظر ڈال سکے۔ ان تھکے ہوئے، بے یقین ہوئے سینوں کو توفیق دے کہ ‘صادق و امین’ کے تمغے اپنے سینے سے اتار کر تھوڑا سا ‘انسان بن سکیں۔ اور ہمیں بھی وہ عقل دے کہ ہم ہر ”نعرے” کو مقدس کتاب نہ سمجھیں، ہر ”لیڈر” کو مسیحا نہ ٹھہرائیں، اور ہر ”بیان” کو وحی سمان نہ مانیں۔ ہمیں اتنی فراست دے کہ ہم ”سچائی کے نام نہاد دیوتائوں” اور ”مصلحت کے پٹواریوں” کے درمیان پستے رہنے کے بجائے، اپنی عقلِ سلیم کو استعمال کرنا شروع کر دیں۔ جو اب بھی سچائی کو آئینہ نہیں، ایک ٹول ہی سمجھتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
اپنی اپنی سچائی ! وجود هفته 10 جنوری 2026
اپنی اپنی سچائی !

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا! وجود هفته 10 جنوری 2026
جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا!

بھارت پوری دنیا میں تنہا رہ گیا! وجود هفته 10 جنوری 2026
بھارت پوری دنیا میں تنہا رہ گیا!

کردار برا ہوتاہے انسان نہیں وجود جمعه 09 جنوری 2026
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق وجود جمعه 09 جنوری 2026
وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر