... loading ...
جاوید محمود
۔۔۔۔
امریکہ سے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال 15اکتوبر کو نیویارک ٹائمز کی جانب سے ابتدائی طور پر شائع ہونے والی معلومات کی تصدیق کی جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ انہوں نے سی ائی اے کو وینزویلا کے اندر خفیہ کارروائیاں کرنے کا اختیار دیا تھا ۔اس بیان کے منظر عام پر آنے سے اس دور کی یادیں تازہ ہو گئیں ہیں کہ جب واشنگٹن نے خفیہ کارروائیوں کے ذریعے لاطینی امریکہ کی تقدیر کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ 1947میں اپنے قیام کے بعد سے امریکی قومی سلامتی سے متعلق دنیا بھر سے معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے علاوہ سی آئی اے نے دوسرے ممالک میں خفیہ کارروائیاں بھی کی ہیں جنہوں نے تاریخ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں سی آئی اے نے سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت محنت کی اور ایسے سیاسی نظام کے قیام کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جو اس وقت سابقہ سویت یونین میں قائم حکومت سے مماثلت رکھتا تھا۔ 2019میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نکولس مادورو کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے وینزویلا کی تیل کی صنعت پر پابندیاں عائد کیں تو اس ملک کے خام تیل کی برآمدات گھٹ کر تقریبا چار لاکھ 95 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی تھیں۔ اگرچہ چھ سال بعد بھی یہ پابندیاں جوں کی توں برقرارتھیں مگر اس دورانیے میں وینز ویلا کی تیل کی فروخت ڈرامائی طور پر بڑھ کر تقریبا 10 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔ تیل کی فروخت کی یہ مقدار اس ملک کے لیے اب بھی بہت کم تھی کیونکہ 1998 میں ہیوگو شاویز کے اقتدار میں آنے سے قبل لگ بھگ 30لاکھ بیرل یومیہ پیدا کرتا تھا لیکن پابندیوں کے باوجود اتنی مقدار میں تیل فروخت کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ چھ سال سے عائد پابندیاں وہ نتائج نہیں دے پا رہی جن کی توقع کی گئی تھی۔ وینزویلا کی مادور حکومت امریکی پابندیوں سے بچتے ہوئے تیل کی پیداوار بحال کرنے اور خام تیل کی فروخت کے لیے نئے راستے تلاش کرنے میں مصروف تھی اور اس تناظر میں ایک خفیہ گھوسٹ فلیٹ تیل کی ترسیل کرنے والا گمنام بیڑا مرکزی کردار ادا کر رہا تھا ۔یہ بیڑا دراصل ایسے تیل بردار جہازوں کا نیٹ ورک تھا جو مختلف حربے اپنا کر اپنی نقل و حمل چھپاتا تھا اوراس تیل کی ترسیل کرتا تھا جس پر امریکی پابندیاں تھیں ۔ امریکی حکومت نے گزشتہ سال میں بہت سے تیل بردار جہازوں کی نشاندہی کی یا انہیں قبضے میں لیا جو وینز ویلا کا تیل اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ یہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ وینزویلا کی اقتصادی بحران اور حکومتی مظالم کی وجہ سے لاکھوں لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جن میں سے سینکڑوں ہزاروں افراد امریکی سرحد پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے مادورو پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے جیلیں اور پاگل خانے خالی کر دیے ہیں اور اپنے قیدیوں اور پناہ کے خواہشمندوں کو مجبوراً امریکہ ہجرت کرنے پر مجبور کیا ۔خیال رہے ٹرمپ کے یہ دعوے متنازع ہیں اور انہوں نے اس کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔
نکولس مادورو نے بائیں بازو کے صدر ہیو گیوشاویزاور ان کی جماعت یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینز ویلا دور میں سیاسی اہمیت حاصل کی ۔2013 میں وہ شاویز کے بعد وینز ویلا کے صدر بنے، 2024 میں مادورو کو صدارتی انتخابات کا فاتح قرار دیا گیا تاہم اپوزیشن کی جانب سے جمع کیے گئے ووٹنگ نتائج کے مطابق ان کے امیدوار واضح اکثریت سے جیت گئے تھے ۔امریکہ میں وینزویلا کے سینکڑوں ہزار مہاجرین کی آمد اور امریکہ میں منشیات خصوصا ًفینٹانائل اور کوکین کی اسمگلنگ کے خلاف وائٹ ہاؤس کی مہم کے حوالے سے مادور و اور ٹرمپ کے درمیان شدید اختلافات رہے ہیں۔ ٹرمپ نے وینز ویلا کے دو منشیات فروش گروپوں ٹرین دے آرگو اور کاٹل دے لوس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ دوسرے گروہ کی قیادت خود مادورو کر رہے ہیں۔ مادور و حکومت کے لیے تیل غیر ملکی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس شعبے سے حاصل ہونے والا منافع حکومت کے بجٹ کا آدھے سے زیادہ حصہ پورا کرتا ہے۔ فی الحال وینزویلا روزانہ تقریبا ًدو لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا ہے، جس کا چین سب سے بڑا خریدار ہے۔ اگرچہ امریکی جائزے کے مطابق وینز ویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تصدیق شدہ خام تیل کے ذخائر ہیں لیکن یہ ان سے نسبتاً کم فائدہ اٹھا رہا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2023میں وینزویلا نے عالمی خام تیل کی پیداوار کا صرف0.8فیصد پیدا کیا جس کی وجہ تیکنیکی اور بجٹ سے متعلق چیلنجز ہیں۔ پہلا ٹینکر ضبط کرنے کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا میرا خیال ہے ہم یہ تیل رکھ لیں گے۔ اس سے قبل امریکہ نے وینزویلا کے ان الزامات کو مسترد کیا تھا کہ مادور و حکومت کے خلاف اقدامات کا مقصد ملک کے ایسے غیر استعمال شدہ تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنا ہے ۔صدر ٹرمپ کی وینز ویلا میں مداخلت نے ان کے عالمی عزائم پر توجہ مبدول کروائی ہے۔ اب اس معاملے میں کوئی راز باقی نہیں رہا کہ ٹرمپ دوسرے ممالک کی معدنی دولت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ پہلے ہی فوجی امداد کے بدلے یوکرین کے قدرتی وسائل سے منافع حاصل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ ٹرمپ وینزویلاکے معدنی ذخائر کو کنٹرول کرنے کی اپنی خواہش کو بھی نہیں چھپا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وینزویلا میں ان کی صنعت کو سرکاری تحویل میں لیا گیا تو امریکی تیل کمپنیوں کو لوٹا گیا تھا۔ ٹرمپ کے عزائم کو دیکھتے ہوئے گرین لینڈ اور ڈنمارک میں بھی خوف کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں کہ وہ اب جنوب کے ساتھ ساتھ شمال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں ۔مادورو آپریشن اس خیال کے لیے بھی ایک اور سنگین دھچکا ہے کہ دنیا کو چلانے کا بہترین طریقہ بین الاقوامی قانون کے مطابق طے شدہ اصولوں پر عمل کرنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی اس خیال کو دھچکا لگا تھا ۔صدرٹرمپ کئی موقع پر یہ کہہ چکے تھے کہ وہ ایسے قوانین کو نظر انداز کر سکتے ہیں جنہیں وہ ناپسند کرتے ہیں۔ امریکہ کے یورپی اتحادی بھی انہیں ناراض کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹرامر اور یورپی رہنما جانتے بوچھتے بھی اس اقدام کی مذمت سے گریز کر رہے ہیں کہ یہ آپریشن اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے جبکہ چین نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی تسلط پسندانہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے اور اس سے لاطینی امریکہ کی سیکیورٹی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ امریکی کارروائی کی مذمت کے باوجود یہ امریکی اقدام چین کو بھی ایک راستہ دکھاتا ہے ۔چین تائیوان کو اپنا صوبہ قرار دیتا ہے اور اسے خود میں ضم کرنے کو اپنی قومی سلامتی کا اہم جزوقرار دیتا ہے۔ اگر امریکہ غیر ملکی رہنماؤں پر حملہ کر نے اور انہیں پکڑنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرتا ہے تو چین بھی تائیوان کی قیادت پر اسی اختیار کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ یہ روسی صدر کو یوکرینی صدر کو اغوا کرنے کی ترغیب بھی دے سکتا ہے۔ ایک بار جب اس لائن کو عبور کر لیں گے تو پھرہر ملک عالمی قوانین کی اپنے طور پر تشریح کرے گا اور پھرجس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا۔
٭٭٭