وجود

... loading ...

وجود

بھارت پوری دنیا میں تنہا رہ گیا!

هفته 10 جنوری 2026 بھارت پوری دنیا میں تنہا رہ گیا!

ریاض احمدچودھری

2025ء کا سال بھارتی خارجہ پالیسی کے لیے شدید مشکلات، ناکامیوں اور عالمی سطح پر سفارتی سبکیوں کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔ بھارتی اخبار دی ہندو نے سال کے اختتام پر شائع ہونے والے تجزیے میں اعتراف کیا ہے کہ نریندر مودی حکومت سے وابستہ وہ توقعات، جنہیں عالمی قیادت، علاقائی اثرورسوخ اور اسٹریٹجک طاقت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔ اخبار نے 2025ء کو بھارتی خارجہ پالیسی کے لیے ”وعدوں کے بکھرنے” کا سال قرار دیا ہے۔
دی ہندو کے مطابق بھارتی سفارت کاری زیادہ تر علامتی اقدامات، ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی تک محدود رہی، جو حقیقی معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت کا متبادل ثابت نہ ہو سکی۔ بھارت نے نہ صرف خود سے بلکہ اپنے شراکت دار ممالک سے بھی ایسے وعدے کیے جنہیں پورا کرنے کے لیے اس کے پاس نہ مطلوبہ اثرورسوخ موجود تھا اور نہ ہی عملی قوت۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عالمی سطح پر بھارت کے دعوے کمزور اور اس کی حیثیت محدود ہوتی چلی گئی۔امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دی ہندو نے 2025ء کو بھارت کے لیے اس صدی کا مشکل ترین سال قرار دیا ہے۔ 25 فیصد ٹیرف، روسی تیل سے متعلق اضافی پابندیاں اور Hـ1B ویزا سے متعلق قدغنوں نے واضح کر دیا کہ واشنگٹن کے ساتھ بھارت کی شراکت داری غیر مشروط نہیں بلکہ مفاداتی اور محدود نوعیت کی ہے۔ 2017ء کے مقابلے میں 2025ء کی امریکی نیشنل سیکورٹی اسٹریٹجی میں بھارت کو کہیں زیادہ محدود کردار تک سمیٹ دیا گیا ہے، جو نئی دہلی کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ہے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کہیں یا پاکستان کی جنگی جیت اور امریکہ سے بہترین سٹریٹجک تعلقات کا نتیجہ کہ مئی میں بھارت کو میدان جنگ میں دھول چٹانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر مدعو کیا۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس طویل و تاریخی ملاقات میں امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان سے محبت کا اظہار بھی کیا۔ بھارت کی سفارت کاری کا زور محض بیرونی دوروں پر ہے۔ اپریل 2025 میں مودی کا مقبوضہ کشمیر میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان پر جھوٹا الزام بھی دنیا نے مسترد کیا جو انکی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ چین اور روس کے ساتھ تعلقات کے باب میں بھی دی ہندو نے مایوس کن صورتِ حال کی نشاندہی کی ہے۔ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور سفارتی سرگرمیوں کے باوجود لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی ٹھوس سیکورٹی پیش رفت حاصل نہ ہو سکی۔ سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رہیں اور بھارت عالمی سطح پر محض علامتی موجودگی تک محدود رہا۔اسی طرح توانائی کے شعبے میں بھی امریکی دباؤ کے نتیجے میں بھارت کو روسی تیل کے معاملے پر اپنے پہلے سے اختیار کردہ موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا، جو اس کی پالیسی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
دی ہندو نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو بھی سنگین سیکورٹی ناکامی قرار دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھارتی عسکری اقدامات کو عالمی سطح پر وہ سفارتی حمایت حاصل نہ ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ مزید یہ کہ عسکری کارروائیوں کے دوران طیاروں کو پہنچنے والے نقصانات پر خاموشی نے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔علاوہ ازیں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کا اعلان بھی بھارت کے لیے ایک اضافی سفارتی دھچکا ثابت ہوا۔ بھارتی تجزیہ کار اب پاکستان کی قیادت کو ”سخت گیر اور منظم صلاحیت رکھنے والی” ماننے لگے ہیں جب کہ بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات تاریخ کی سب سے کشیدہ سطح تک پہنچ چکے ہیں۔دی ہندو نے خبردار کیا ہے کہ بھارت ”وشو گرو” کے بیانیے سے نکل کر ”وشو وکٹم” کی سمت بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی روش اصلاحات اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پورے ملک میں ہندی زبان کے نفاذ کا فیصلہ مختلف ریاستوں میں تشویش اور ممکنہ تنازعے کا سبب بن رہا ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ایک ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں سے کئی زبانوں سے عوام کا گہرا جذباتی تعلق ہے۔ ایسے میں مودی حکومت کی یہ خواہش کہ بھارتی شہری زیادہ سے زیادہ ہندی زبان اختیار کریں، کئی ریاستوں کو ناپسند گزر رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف ریاستیں اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ہندی کے زبردستی نفاذ سے ان کی مقامی زبانوں اور ثقافتی ورثے کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق مودی کا یہ اقدام نہ صرف ریاستی مخالفت کو ہوا دے رہا ہے بلکہ خود ان کی حکومت کے لیے بھی ایک نیا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔ گزشتہ ماہ مہاراشٹرا میں، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہے، حزبِ اختلاف، مقامی شہریوں اور دیگر حلقوں کے دباؤ کے باعث حکومت کو اسکولوں میں ہندی پڑھانے کی پالیسی واپس لینا پڑی۔ اس پالیسی کو ریاستی زبان مراٹھی کی توہین قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ طویل عرصے سے مودی حکومت کی تعلیمی پالیسی میں ہندی کو لازمی قرار دینے کی کوششوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تامل ناڈو نے مئی میں مرکزی حکومت کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ مرکزی حکومت ہندی پالیسی پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ریاست کے تعلیمی فنڈز روکنے کی دھمکی دے رہی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
اپنی اپنی سچائی ! وجود هفته 10 جنوری 2026
اپنی اپنی سچائی !

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا! وجود هفته 10 جنوری 2026
جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا!

بھارت پوری دنیا میں تنہا رہ گیا! وجود هفته 10 جنوری 2026
بھارت پوری دنیا میں تنہا رہ گیا!

کردار برا ہوتاہے انسان نہیں وجود جمعه 09 جنوری 2026
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق وجود جمعه 09 جنوری 2026
وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر