وجود

... loading ...

وجود

کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

جمعه 09 جنوری 2026 کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

٧٨٦
تحریر :آفتاب احمد خانزادہ

Stanford Prison Experiment تاریخ کے متنازعہ ترین تجربات میں سے ایک ہے یہ تجربہ 1971 میں امریکی ماہر نفسیات فلپ زیمبارڈو (Philip Zimbardo) نے کیا، جسے ”اسٹینفورڈ پرزن ایکسپریمنٹ” کہا جاتا ہے۔ یہ سماجی نفسیات کا ایک مشہور لیکن بہت متنازعہ مطالعہ ہے۔ زیمبارڈو نے صحت مند اور نفسیاتی طور پر نارمل کالج کے طلبہ کے ایک گروپ کو رینڈم طور پر دو گروپوں میں تقسیم کیا ایک گروپ قیدیوں کا اور دوسرا جیل کے گارڈز کا۔ یہ تجربہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی عمارت کے بیسمنٹ میں ایک نقلی جیل میں کیا گیا۔تجربے کو حقیقت پسندانہ بنانے کے لیے، ”قیدیوں” کو گھروں سے گرفتار کرنے کا ڈرامہ کیا گیا۔ اصل پولیس کی مدد سے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر لایا گیا، ان کی تلاشی لی گئی، اور انہیں جیل کے کپڑے پہنائے گئے۔ گارڈز کو یونیفارم، لاٹھی اور سنگلاسز دیے گئے۔تجربے کا بنیادی اصول یہ تھا کہ گارڈز کو قیدیوں پر مکمل کنٹرول دیا جائے، لیکن جسمانی تشدد کی اجازت نہیں تھی۔ البتہ، گارڈز کو ہدایت کی گئی کہ وہ قیدیوں میں بے بسی، خوف اور طاقت کا عدم توازن پیدا کریں۔ کوئی سخت اصول نہیں تھے، صرف جیل کا ماحول برقرار رکھنا تھا۔نتیجہ واقعی تباہ کن نکلا صرف چند دنوں میں گارڈز ظالمانہ اور تشدد آمیز رویہ اختیار کر گئے، جبکہ قیدی شدید ذہنی تناؤ، افسردگی اور بغاوت کی طرف بڑھ گئے۔ زیمبارڈو خود تجربے کے ”جیل سپرنٹنڈنٹ” بن گئے تھے اور وہ بھی اس ماحول میں گم ہو گئے۔ تجربہ، جو دو ہفتوں کا ہونا تھا، صرف 6 دن بعد بند کرنا پڑا کیونکہ حالات خطرناک حد تک بگڑ گئے تھے۔یہ مطالعہ سائنسی اور اخلاقی طور پر بہت متنازعہ رہا ہے۔ اس نے اخلاقیات کی بحث چھیڑ دی کہ کیا ایسے تجربات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ آج کل اس کی کچھ تنقیدیں بھی ہیں کہ شاید زیمبارڈو نے گارڈز کو غیر واضح طور پر سخت رویہ اپنانے کی طرف راغب کیا، اور نتائج مکمل طور پر حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ توقعات کی وجہ سے بھی ہوئے۔اس تجربے سے ایک اہم نتیجہ یہ اخذ کیا گیا جو سماجی نفسیات میں اب بھی پڑھایا جاتا ہے”مطلق اختیار (یا حالات کی طاقت) عام انسانوں میں بدترین رویوں کو سامنے لا سکتا ہے”۔یعنی، برائی اکثر لوگوں کی ذاتی شخصیت میں نہیں بلکہ حالات اور کردار (Roles) کی طاقت میں ہوتی ہے۔برائی کہاں رہتی ہے انسان میں یا حالات میں کہتے ہیں کہ انسان فطرتاً برا نہیں ہوتا، مگر تاریخ کی عدالت میں کھڑے ہو کر انسان ہمیشہ مجرم ثابت ہوا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ برائی ہے یا نہیں ،سوال یہ ہے کہ وہ کہاں رہتی ہے انسان کے اندر یا اُن حالات کے اندر جو اسے وہ”کردار”عطا کرتے ہیں جن کے پیچھے چھپ کر وہ خود کو معصوم سمجھنے لگتا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ ماننے میں سہولت محسوس کی کہ”فلاں شخص برا تھا” گویا ظلم، ناانصافی، قتل، جھوٹ اور جبر چند مخصوص چہروں کی ذاتی خرابی تھی۔ مگر سماجی نفسیات، فلسفہ اور تاریخ ہمیں ایک تلخ سچ بتاتے ہیں برائی زیادہ تر فرد میں نہیں، اُس کردار میں ہوتی ہے جو اسے دیا جاتا ہے، اور اُن حالات میں ہوتی ہے جو اسے نیک یا بد بننے کا راستہ نہیں بلکہ سمت دیتے ہیں۔ ہنہ آرنٹ نے ایڈولف آئخمان کے مقدمے کے بعد”The Banality of Evil”کا تصور پیش کیا وہی عام سا آدمی، بے رنگ چہرہ، کوئی درندہ نہیں، کوئی شیطان نہیں مگر اُس نے ہولوکاسٹ جیسے عذاب کو کاغذی فائلوں میں”ڈیوٹی”بنا دیا۔ برائی اس کے چہرے پر نہیں تھی، اُس کے عہدے میں تھی۔ اُس کے ہاتھ میں نہیں تھی، اُس کے دستخطی اختیار میں تھی۔فلپ زیمبارڈو کے اسٹینفورڈ پرزن ایکسپریمنٹ نے دکھایا کہ کیسے عام، صحت مند، مہذب نوجوان چند دنوں میں جیل کے”گارڈ”بن کر ظالم ہو گئے ۔کیونکہ ان کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیا گیا تھا”تم اب طاقت ہو، تم اب قانون ہو، تم اب اختیار ہو۔”انسان وہی رہتا ہے کردار بدلتا ہے، اور اس کے ساتھ اخلاق بھی۔پاکستانی سماج میں یہ سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ یہاں ہم فرد کو برا کہتے ہیں، مگر اُس نظام کو معصوم سمجھتے ہیں جو اسے جنم دیتا ہے۔ ہم ایک تھانیدار کو کوستے ہیں، مگر اُس تھانے کے ڈھانچے پر خاموش رہتے ہیں۔ ہم ایک جج کے فیصلے پر لعنت بھیجتے ہیں، مگر اُس قانون پر نہیں جو اسے طاقت دیتا ہے۔ ہم ایک افسر کی کرپشن پر چیختے ہیں، مگر اُس نوآبادیاتی ذہنیت پر نہیں جو”اختیار”کو”حق”بنا کر دیتی ہے۔یہاں برائی شخص میں نہیں، کرسی میں ہے۔یہاں گناہ انسان میں نہیں، عہدے میں ہے۔یہاں ظلم نیت میں نہیں، نظام میں ہے۔ایک باپ جب گھر میں ظالم بنتا ہے تو وہ صرف مرد نہیں ہوتا وہ ایک”سرپرست”کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے جسے سماج نے مطلق طاقت دے رکھی ہے۔ ایک استاد جب طالب علم کی تذلیل کرتا ہے تو وہ صرف بدتمیز نہیں وہ ایک ایسے تعلیمی ڈھانچے کا پرزہ ہے جہاں خوف کو نظم و ضبط کا نام دیا گیا ہے۔ایک افسر جب شہری کو کچلتا ہے تو وہ صرف مغرور نہیں وہ اُس ریاستی کردار میں داخل ہو چکا ہے جہاں قانون نہیں، اختیار بولتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں برائی مسلسل زندہ رہتی ہے کیونکہ ہم افراد بدلتے ہیں، مگر کردار وہی رہتے ہیں۔ہم چہرے بدلتے ہیں، نظام نہیں۔فلسفی نطشے نے کہا تھا”جو طویل عرصے تک درندے سے لڑتا ہے، وہ خود درندہ بننے لگتا ہے۔”مگر ہم اس سے بھی آگے جا چکے ہیں یہاں انسان کو لڑنے کی ضرورت ہی نہیں، یہاں اسے صرف کردار پہنایا جاتا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ”ہم میں برائی کیوں ہے”اصل سوال یہ ہے کہ”ہم نے ایسے کردار کیوں بنائے جن میں برائی کا لائسنس شامل ہے”جب تک ہم نظام کو نہیں بدلیں گے، جب تک ہم طاقت کو جواب دہ نہیں بنائیں گے، جب تک ہم کرسی کو مقدس سمجھتے رہیں گے ۔ تب تک برائی کو نئے چہرے ملتے رہیں گے۔اور پھر ہم ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے”فلاں شخص برا تھا”حالانکہ سچ یہ ہوگاکردار برا تھا انسان نہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں وجود جمعه 09 جنوری 2026
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق وجود جمعه 09 جنوری 2026
وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت وجود جمعه 09 جنوری 2026
اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت

اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات وجود جمعه 09 جنوری 2026
اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر