... loading ...
٧٨٦
تحریر :آفتاب احمد خانزادہ
Stanford Prison Experiment تاریخ کے متنازعہ ترین تجربات میں سے ایک ہے یہ تجربہ 1971 میں امریکی ماہر نفسیات فلپ زیمبارڈو (Philip Zimbardo) نے کیا، جسے ”اسٹینفورڈ پرزن ایکسپریمنٹ” کہا جاتا ہے۔ یہ سماجی نفسیات کا ایک مشہور لیکن بہت متنازعہ مطالعہ ہے۔ زیمبارڈو نے صحت مند اور نفسیاتی طور پر نارمل کالج کے طلبہ کے ایک گروپ کو رینڈم طور پر دو گروپوں میں تقسیم کیا ایک گروپ قیدیوں کا اور دوسرا جیل کے گارڈز کا۔ یہ تجربہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی عمارت کے بیسمنٹ میں ایک نقلی جیل میں کیا گیا۔تجربے کو حقیقت پسندانہ بنانے کے لیے، ”قیدیوں” کو گھروں سے گرفتار کرنے کا ڈرامہ کیا گیا۔ اصل پولیس کی مدد سے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر لایا گیا، ان کی تلاشی لی گئی، اور انہیں جیل کے کپڑے پہنائے گئے۔ گارڈز کو یونیفارم، لاٹھی اور سنگلاسز دیے گئے۔تجربے کا بنیادی اصول یہ تھا کہ گارڈز کو قیدیوں پر مکمل کنٹرول دیا جائے، لیکن جسمانی تشدد کی اجازت نہیں تھی۔ البتہ، گارڈز کو ہدایت کی گئی کہ وہ قیدیوں میں بے بسی، خوف اور طاقت کا عدم توازن پیدا کریں۔ کوئی سخت اصول نہیں تھے، صرف جیل کا ماحول برقرار رکھنا تھا۔نتیجہ واقعی تباہ کن نکلا صرف چند دنوں میں گارڈز ظالمانہ اور تشدد آمیز رویہ اختیار کر گئے، جبکہ قیدی شدید ذہنی تناؤ، افسردگی اور بغاوت کی طرف بڑھ گئے۔ زیمبارڈو خود تجربے کے ”جیل سپرنٹنڈنٹ” بن گئے تھے اور وہ بھی اس ماحول میں گم ہو گئے۔ تجربہ، جو دو ہفتوں کا ہونا تھا، صرف 6 دن بعد بند کرنا پڑا کیونکہ حالات خطرناک حد تک بگڑ گئے تھے۔یہ مطالعہ سائنسی اور اخلاقی طور پر بہت متنازعہ رہا ہے۔ اس نے اخلاقیات کی بحث چھیڑ دی کہ کیا ایسے تجربات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ آج کل اس کی کچھ تنقیدیں بھی ہیں کہ شاید زیمبارڈو نے گارڈز کو غیر واضح طور پر سخت رویہ اپنانے کی طرف راغب کیا، اور نتائج مکمل طور پر حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ توقعات کی وجہ سے بھی ہوئے۔اس تجربے سے ایک اہم نتیجہ یہ اخذ کیا گیا جو سماجی نفسیات میں اب بھی پڑھایا جاتا ہے”مطلق اختیار (یا حالات کی طاقت) عام انسانوں میں بدترین رویوں کو سامنے لا سکتا ہے”۔یعنی، برائی اکثر لوگوں کی ذاتی شخصیت میں نہیں بلکہ حالات اور کردار (Roles) کی طاقت میں ہوتی ہے۔برائی کہاں رہتی ہے انسان میں یا حالات میں کہتے ہیں کہ انسان فطرتاً برا نہیں ہوتا، مگر تاریخ کی عدالت میں کھڑے ہو کر انسان ہمیشہ مجرم ثابت ہوا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ برائی ہے یا نہیں ،سوال یہ ہے کہ وہ کہاں رہتی ہے انسان کے اندر یا اُن حالات کے اندر جو اسے وہ”کردار”عطا کرتے ہیں جن کے پیچھے چھپ کر وہ خود کو معصوم سمجھنے لگتا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ ماننے میں سہولت محسوس کی کہ”فلاں شخص برا تھا” گویا ظلم، ناانصافی، قتل، جھوٹ اور جبر چند مخصوص چہروں کی ذاتی خرابی تھی۔ مگر سماجی نفسیات، فلسفہ اور تاریخ ہمیں ایک تلخ سچ بتاتے ہیں برائی زیادہ تر فرد میں نہیں، اُس کردار میں ہوتی ہے جو اسے دیا جاتا ہے، اور اُن حالات میں ہوتی ہے جو اسے نیک یا بد بننے کا راستہ نہیں بلکہ سمت دیتے ہیں۔ ہنہ آرنٹ نے ایڈولف آئخمان کے مقدمے کے بعد”The Banality of Evil”کا تصور پیش کیا وہی عام سا آدمی، بے رنگ چہرہ، کوئی درندہ نہیں، کوئی شیطان نہیں مگر اُس نے ہولوکاسٹ جیسے عذاب کو کاغذی فائلوں میں”ڈیوٹی”بنا دیا۔ برائی اس کے چہرے پر نہیں تھی، اُس کے عہدے میں تھی۔ اُس کے ہاتھ میں نہیں تھی، اُس کے دستخطی اختیار میں تھی۔فلپ زیمبارڈو کے اسٹینفورڈ پرزن ایکسپریمنٹ نے دکھایا کہ کیسے عام، صحت مند، مہذب نوجوان چند دنوں میں جیل کے”گارڈ”بن کر ظالم ہو گئے ۔کیونکہ ان کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیا گیا تھا”تم اب طاقت ہو، تم اب قانون ہو، تم اب اختیار ہو۔”انسان وہی رہتا ہے کردار بدلتا ہے، اور اس کے ساتھ اخلاق بھی۔پاکستانی سماج میں یہ سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ یہاں ہم فرد کو برا کہتے ہیں، مگر اُس نظام کو معصوم سمجھتے ہیں جو اسے جنم دیتا ہے۔ ہم ایک تھانیدار کو کوستے ہیں، مگر اُس تھانے کے ڈھانچے پر خاموش رہتے ہیں۔ ہم ایک جج کے فیصلے پر لعنت بھیجتے ہیں، مگر اُس قانون پر نہیں جو اسے طاقت دیتا ہے۔ ہم ایک افسر کی کرپشن پر چیختے ہیں، مگر اُس نوآبادیاتی ذہنیت پر نہیں جو”اختیار”کو”حق”بنا کر دیتی ہے۔یہاں برائی شخص میں نہیں، کرسی میں ہے۔یہاں گناہ انسان میں نہیں، عہدے میں ہے۔یہاں ظلم نیت میں نہیں، نظام میں ہے۔ایک باپ جب گھر میں ظالم بنتا ہے تو وہ صرف مرد نہیں ہوتا وہ ایک”سرپرست”کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے جسے سماج نے مطلق طاقت دے رکھی ہے۔ ایک استاد جب طالب علم کی تذلیل کرتا ہے تو وہ صرف بدتمیز نہیں وہ ایک ایسے تعلیمی ڈھانچے کا پرزہ ہے جہاں خوف کو نظم و ضبط کا نام دیا گیا ہے۔ایک افسر جب شہری کو کچلتا ہے تو وہ صرف مغرور نہیں وہ اُس ریاستی کردار میں داخل ہو چکا ہے جہاں قانون نہیں، اختیار بولتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں برائی مسلسل زندہ رہتی ہے کیونکہ ہم افراد بدلتے ہیں، مگر کردار وہی رہتے ہیں۔ہم چہرے بدلتے ہیں، نظام نہیں۔فلسفی نطشے نے کہا تھا”جو طویل عرصے تک درندے سے لڑتا ہے، وہ خود درندہ بننے لگتا ہے۔”مگر ہم اس سے بھی آگے جا چکے ہیں یہاں انسان کو لڑنے کی ضرورت ہی نہیں، یہاں اسے صرف کردار پہنایا جاتا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ”ہم میں برائی کیوں ہے”اصل سوال یہ ہے کہ”ہم نے ایسے کردار کیوں بنائے جن میں برائی کا لائسنس شامل ہے”جب تک ہم نظام کو نہیں بدلیں گے، جب تک ہم طاقت کو جواب دہ نہیں بنائیں گے، جب تک ہم کرسی کو مقدس سمجھتے رہیں گے ۔ تب تک برائی کو نئے چہرے ملتے رہیں گے۔اور پھر ہم ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے”فلاں شخص برا تھا”حالانکہ سچ یہ ہوگاکردار برا تھا انسان نہیں۔