وجود

... loading ...

وجود

وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

جمعه 09 جنوری 2026 وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

محمد آصف

وینزویلا میں حالیہ برسوں کے دوران پیش آنے والے معاشی، سیاسی اور سماجی بحران نے دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک واضح تنبیہ فراہم کی ہے ۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ایک ریاست کا شدید معاشی زوال اس امر کا ثبوت ہے کہ محض وسائل کی موجودگی ترقی کی ضمانت نہیں ہوتی، بلکہ درست حکمرانی، پائیدار پالیسیوں اور مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے ہی قوموں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے لیے وینزویلا کا تجربہ محض ایک بیرونی واقعہ نہیں بلکہ ایک عملی سبق ہے ، جس سے بروقت سیکھنا قومی بقا اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے ۔
سب سے اہم سبق معاشی انحصار سے متعلق ہے ۔ وینزویلا کی معیشت طویل عرصے تک صرف تیل پر منحصر رہی، جس نے وقتی خوشحالی تو دی مگر معیشت کو متنوع بنانے کی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی۔ نتیجتاً عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے پورے نظام کو مفلوج کر دیا۔ پاکستان کے لیے اس پہلو سے سبق یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان کی معیشت تیل پر براہِ راست انحصار نہیں کرتی، مگر زرعی اجناس، ترسیلاتِ زر اور چند محدود
صنعتی شعبوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ پائیدار ترقی کے لیے صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، برآمدات اور مقامی پیداوار میں توازن ناگزیر ہے ۔ معاشی پالیسیوں میں غیر سائنسی فیصلوں کا انجام بھی وینزویلا کی صورت میں واضح نظر آتا ہے ۔ بے تحاشا نوٹ چھاپنا، مصنوعی قیمتوں کا تعین اور مارکیٹ میکانزم میں غیر فطری مداخلت نے مہنگائی کو اس حد تک پہنچا دیا کہ کرنسی تقریباً بے وقعت ہو گئی۔ پاکستان میں بھی جب مالیاتی نظم و ضبط کمزور پڑتا ہے ، بجٹ خسارہ بڑھتا ہے اور غیر پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائی اور کرنسی دباؤ میں آتی ہے ۔ وینزویلا کا سبق یہ ہے کہ وقتی سیاسی فائدے کے لیے معاشی اصولوں کو قربان کرنا طویل المدت تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔
حکمرانی اور کرپشن کے حوالے سے بھی وینزویلا کی مثال نہایت سبق آموز ہے ۔ ریاستی اداروں میں بدعنوانی،اقربا پروری اور شفافیت کی کمی نے عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ جب ادارے کمزور ہوں تو وسائل درست سمت میں استعمال نہیں ہوتے اور عوامی فلاح کے منصوبے کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر احتساب کا عمل غیر جانبدار، مستقل اور ادارہ جاتی بنیادوں پر مضبوط نہ ہوا تو ترقیاتی وسائل ضائع ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔ وینزویلا ہمیں سکھاتا ہے کہ کرپشن محض اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی سلامتی کا چیلنج ہے ۔ سیاسی عدم استحکام بھی وینزویلا کے بحران کا ایک بنیادی عنصر رہا۔ طاقت کا ارتکاز، سیاسی مکالمے کا فقدان اور اختلافِ رائے کو دبانے کی پالیسی نے معاشرے کو تقسیم کر دیا۔ پاکستان کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ سیاسی استحکام کسی بھی معاشی اصلاح کی بنیاد ہوتا ہے ۔ اگر سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو برداشت نہ کریں،پارلیمانی نظام کمزور ہو اور آئینی عمل بار بار متاثر ہو تو معاشی ترقی ایک خواب ہی رہتی ہے ۔ وینزویلا کے حالات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ جمہوری تسلسل ہی قومی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے ۔
عوامی فلاح اور سماجی تحفظ کے نظام کو نظر انداز کرنا بھی وینزویلا کے بحران کا ایک تلخ پہلو ہے ۔ معاشی بدحالی کے باعث تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبے بری طرح متاثر ہوئے ، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ۔ پاکستان کے لیے یہ لمحئہ فکریہ ہے کہ اگر نوجوانوں کو روزگار، معیاری تعلیم اور بنیادی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو افرادی قوت بوجھ بن سکتی ہے یا ملک سے باہر ہجرت کا رجحان بڑھ سکتا ہے ۔ انسانی سرمایہ کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے ۔خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی وینزویلا کا تجربہ پاکستان کے لیے سبق رکھتا ہے ۔ عالمی تنہائی، سخت پابندیوں اور محدود سفارتی روابط نے وینزویلا کے بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متوازن، حقیقت پسندانہ اور قومی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی اختیار کرے ۔ کسی ایک بلاک یا طاقت پر غیر معمولی انحصار طویل المدت مفادات کے خلاف جا سکتا ہے ۔ وینزویلا کا انجام بتاتا ہے کہ عالمی نظام میں تنہائی ریاستی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے ۔
ریاستی اداروں کی خودمختاری اور قانون کی بالادستی بھی ایک اہم سبق ہے ۔ وینزویلا میں جب عدلیہ، انتخابی ادارے اور دیگر ریاستی ستون کمزور پڑے تو بحران سے نکلنے کا راستہ مزید مسدود ہو گیا۔ پاکستان کے لیے یہ سبق ہے کہ اداروں کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی ہی بحرانوں کا پائیدار حل فراہم کرتی ہے ۔ اگر ادارے سیاسی دباؤ سے آزاد ہوں تو پالیسیوں میں تسلسل اور اعتماد پیدا ہوتا ہے ۔ میڈیا اور معلومات کے بہاؤ پر غیر ضروری قدغنیں بھی بحران کو بڑھا دیتی ہیں۔ وینزویلا میں جب حقائق چھپانے کی کوشش کی گئی تو افواہوں اور بے یقینی نے جنم لیا۔ پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ آزاد مگر ذمہ دار میڈیا کو فروغ دیا جائے تاکہ عوام کو درست معلومات میسر ہوں اور پالیسی سازی میں شفافیت برقرار رہے ۔
وینزویلا ایک ایسا ملک تھا جسے قدرت نے بے پناہ وسائل سے نواز رکھا تھا۔ زمین کے نیچے تقریباً تین سو ارب بیرل تیل کے ذخائر، زمین کے اوپر وسیع و عریض رقبہ، سمندر سے جڑی طویل ساحلی پٹی اور خشکی کے راستے برازیل، گیانا اور کولمبیا جیسے اہم ہمسایہ ممالک نقشے پر یہ ملک کسی ریاست سے زیادہ قدرت کے شاہکار کا منظر پیش کرتا تھا۔ دنیا اسے اس حیثیت سے جانتی تھی کہ یہ سب سے زیادہ تیل رکھنے والا ملک
ہے ، مگر دنیا اس حقیقت سے غافل تھی کہ اس کی اصل کمزوری زمین کے نیچے نہیں بلکہ زمین کے اوپر موجود تھی۔ برسوں تک یہ ملک ایک بڑی عالمی طاقت کے ساتھ زبانی محاذ آرائی، سخت بیانات، دھمکیوں اور
اشتعال انگیز تقاریر میں مصروف رہا، لیکن پس پردہ جو چیز خاموشی سے کمزور ہوتی چلی گئی وہ اس کا دفاع تھا۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی تاریخ نے کروٹ بدل لی؛ فضا میں شور تھا، ریڈار خاموش ہو چکے تھے ، کمانڈ سینٹر اندھیرے میں ڈوب گئے تھے اور چند ہی گھنٹوں میں فضائی دفاع مفلوج، اہم تنصیبات راکھ اور اقتدار کے ایوان خالی ہو چکے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے گرفتار کر لیا گیا، اور جو ملک خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا وہ چند گھنٹوں میں عبرت کی مثال بن گیا۔ تب دنیا نے یہ تلخ حقیقت دیکھی کہ تیل کے کنویں ٹینک نہیں ہوتے ، سڑکیں میزائل نہیں بنتیں اور اونچی عمارتیں دفاعی ڈھال نہیں ہوتیں؛ اگر دفاع ناقابلِ تسخیر نہ ہو تو ترقی بے معنی، معیشت عارضی، وسائل بے جان اور خودمختاری محض ایک فریب بن کر رہ جاتی ہے ۔ ایسا ملک کسی معاملے پر مضبوط مؤقف نہیں لے سکتا کیونکہ دشمن جانتا ہے کہ ایک بٹن دبے گا اور سب کچھ صفر ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک ملک کی کہانی نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک کے لیے ایک واضح پیغام تھا۔
اسی تناظر میں نظر پاکستان کی طرف جاتی ہے ؛ نہ سب سے زیادہ تیل، نہ سب سے بڑی معیشت، نہ جدید سہولیات کی بھرمار، مگر ایک چیز جو سب سے زیادہ مضبوط ہے وہ ہے پاکستان کا دفاع۔ اسی اعتماد کے ساتھ ہمارے سپہ سالار کا یہ کہنا کہ ”اگر ہمیں لگا کہ ہم ڈوب رہے ہیں تو آدھی دنیا کو ساتھ لے کر ڈوبیں گے ” محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ یہ ملک آسان شکار نہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے پاس وہ قوت موجود ہے جو قوموں کو زندہ رکھتی ہے ناقابلِ تسخیر دفاع اور تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم کا دفاع مضبوط ہو، وہی قوم اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتی ہے ۔ پاک فوج زندہ باد، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
آخرکار، وینزویلا کا بحران ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قومی ترقی ایک جامع اور ہم آہنگ عمل ہے ۔ معیشت، سیاست، ادارے اور سماج ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ایک شعبہ کمزور ہو تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے ۔ پاکستان کے لیے وینزویلا کا تجربہ ایک آئینہ ہے ، جس میں وہ اپنے ممکنہ خطرات اور کمزوریوں کو دیکھ سکتا ہے ۔ بروقت اصلاحات، دور اندیش قیادت اور عوامی مفاد پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے ہی ان خطرات سے بچا جا سکتا ہے ۔
خلاصہ یہ کہ وینزویلا کی مثال پاکستان کے لیے خوف نہیں بلکہ ہوش مندی کا پیغام ہے ۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مضبوط معیشت، شفاف حکمرانی، سیاسی استحکام، ادارہ جاتی خودمختاری اور متوازن خارجہ پالیسی ہی قومی سلامتی اور خوشحالی کی ضامن ہیں۔ اگر پاکستان ان اسباق کو سنجیدگی سے اختیار کرے تو نہ صرف بڑے بحرانوں سے بچ سکتا ہے بلکہ پائیدار ترقی کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں وجود جمعه 09 جنوری 2026
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق وجود جمعه 09 جنوری 2026
وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت وجود جمعه 09 جنوری 2026
اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت

اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات وجود جمعه 09 جنوری 2026
اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر