... loading ...
محمد آصف
وینزویلا میں حالیہ برسوں کے دوران پیش آنے والے معاشی، سیاسی اور سماجی بحران نے دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک واضح تنبیہ فراہم کی ہے ۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ایک ریاست کا شدید معاشی زوال اس امر کا ثبوت ہے کہ محض وسائل کی موجودگی ترقی کی ضمانت نہیں ہوتی، بلکہ درست حکمرانی، پائیدار پالیسیوں اور مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے ہی قوموں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے لیے وینزویلا کا تجربہ محض ایک بیرونی واقعہ نہیں بلکہ ایک عملی سبق ہے ، جس سے بروقت سیکھنا قومی بقا اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے ۔
سب سے اہم سبق معاشی انحصار سے متعلق ہے ۔ وینزویلا کی معیشت طویل عرصے تک صرف تیل پر منحصر رہی، جس نے وقتی خوشحالی تو دی مگر معیشت کو متنوع بنانے کی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی۔ نتیجتاً عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے پورے نظام کو مفلوج کر دیا۔ پاکستان کے لیے اس پہلو سے سبق یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان کی معیشت تیل پر براہِ راست انحصار نہیں کرتی، مگر زرعی اجناس، ترسیلاتِ زر اور چند محدود
صنعتی شعبوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ پائیدار ترقی کے لیے صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، برآمدات اور مقامی پیداوار میں توازن ناگزیر ہے ۔ معاشی پالیسیوں میں غیر سائنسی فیصلوں کا انجام بھی وینزویلا کی صورت میں واضح نظر آتا ہے ۔ بے تحاشا نوٹ چھاپنا، مصنوعی قیمتوں کا تعین اور مارکیٹ میکانزم میں غیر فطری مداخلت نے مہنگائی کو اس حد تک پہنچا دیا کہ کرنسی تقریباً بے وقعت ہو گئی۔ پاکستان میں بھی جب مالیاتی نظم و ضبط کمزور پڑتا ہے ، بجٹ خسارہ بڑھتا ہے اور غیر پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائی اور کرنسی دباؤ میں آتی ہے ۔ وینزویلا کا سبق یہ ہے کہ وقتی سیاسی فائدے کے لیے معاشی اصولوں کو قربان کرنا طویل المدت تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔
حکمرانی اور کرپشن کے حوالے سے بھی وینزویلا کی مثال نہایت سبق آموز ہے ۔ ریاستی اداروں میں بدعنوانی،اقربا پروری اور شفافیت کی کمی نے عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ جب ادارے کمزور ہوں تو وسائل درست سمت میں استعمال نہیں ہوتے اور عوامی فلاح کے منصوبے کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر احتساب کا عمل غیر جانبدار، مستقل اور ادارہ جاتی بنیادوں پر مضبوط نہ ہوا تو ترقیاتی وسائل ضائع ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔ وینزویلا ہمیں سکھاتا ہے کہ کرپشن محض اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی سلامتی کا چیلنج ہے ۔ سیاسی عدم استحکام بھی وینزویلا کے بحران کا ایک بنیادی عنصر رہا۔ طاقت کا ارتکاز، سیاسی مکالمے کا فقدان اور اختلافِ رائے کو دبانے کی پالیسی نے معاشرے کو تقسیم کر دیا۔ پاکستان کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ سیاسی استحکام کسی بھی معاشی اصلاح کی بنیاد ہوتا ہے ۔ اگر سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو برداشت نہ کریں،پارلیمانی نظام کمزور ہو اور آئینی عمل بار بار متاثر ہو تو معاشی ترقی ایک خواب ہی رہتی ہے ۔ وینزویلا کے حالات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ جمہوری تسلسل ہی قومی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے ۔
عوامی فلاح اور سماجی تحفظ کے نظام کو نظر انداز کرنا بھی وینزویلا کے بحران کا ایک تلخ پہلو ہے ۔ معاشی بدحالی کے باعث تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبے بری طرح متاثر ہوئے ، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ۔ پاکستان کے لیے یہ لمحئہ فکریہ ہے کہ اگر نوجوانوں کو روزگار، معیاری تعلیم اور بنیادی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو افرادی قوت بوجھ بن سکتی ہے یا ملک سے باہر ہجرت کا رجحان بڑھ سکتا ہے ۔ انسانی سرمایہ کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے ۔خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی وینزویلا کا تجربہ پاکستان کے لیے سبق رکھتا ہے ۔ عالمی تنہائی، سخت پابندیوں اور محدود سفارتی روابط نے وینزویلا کے بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متوازن، حقیقت پسندانہ اور قومی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی اختیار کرے ۔ کسی ایک بلاک یا طاقت پر غیر معمولی انحصار طویل المدت مفادات کے خلاف جا سکتا ہے ۔ وینزویلا کا انجام بتاتا ہے کہ عالمی نظام میں تنہائی ریاستی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے ۔
ریاستی اداروں کی خودمختاری اور قانون کی بالادستی بھی ایک اہم سبق ہے ۔ وینزویلا میں جب عدلیہ، انتخابی ادارے اور دیگر ریاستی ستون کمزور پڑے تو بحران سے نکلنے کا راستہ مزید مسدود ہو گیا۔ پاکستان کے لیے یہ سبق ہے کہ اداروں کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی ہی بحرانوں کا پائیدار حل فراہم کرتی ہے ۔ اگر ادارے سیاسی دباؤ سے آزاد ہوں تو پالیسیوں میں تسلسل اور اعتماد پیدا ہوتا ہے ۔ میڈیا اور معلومات کے بہاؤ پر غیر ضروری قدغنیں بھی بحران کو بڑھا دیتی ہیں۔ وینزویلا میں جب حقائق چھپانے کی کوشش کی گئی تو افواہوں اور بے یقینی نے جنم لیا۔ پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ آزاد مگر ذمہ دار میڈیا کو فروغ دیا جائے تاکہ عوام کو درست معلومات میسر ہوں اور پالیسی سازی میں شفافیت برقرار رہے ۔
وینزویلا ایک ایسا ملک تھا جسے قدرت نے بے پناہ وسائل سے نواز رکھا تھا۔ زمین کے نیچے تقریباً تین سو ارب بیرل تیل کے ذخائر، زمین کے اوپر وسیع و عریض رقبہ، سمندر سے جڑی طویل ساحلی پٹی اور خشکی کے راستے برازیل، گیانا اور کولمبیا جیسے اہم ہمسایہ ممالک نقشے پر یہ ملک کسی ریاست سے زیادہ قدرت کے شاہکار کا منظر پیش کرتا تھا۔ دنیا اسے اس حیثیت سے جانتی تھی کہ یہ سب سے زیادہ تیل رکھنے والا ملک
ہے ، مگر دنیا اس حقیقت سے غافل تھی کہ اس کی اصل کمزوری زمین کے نیچے نہیں بلکہ زمین کے اوپر موجود تھی۔ برسوں تک یہ ملک ایک بڑی عالمی طاقت کے ساتھ زبانی محاذ آرائی، سخت بیانات، دھمکیوں اور
اشتعال انگیز تقاریر میں مصروف رہا، لیکن پس پردہ جو چیز خاموشی سے کمزور ہوتی چلی گئی وہ اس کا دفاع تھا۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی تاریخ نے کروٹ بدل لی؛ فضا میں شور تھا، ریڈار خاموش ہو چکے تھے ، کمانڈ سینٹر اندھیرے میں ڈوب گئے تھے اور چند ہی گھنٹوں میں فضائی دفاع مفلوج، اہم تنصیبات راکھ اور اقتدار کے ایوان خالی ہو چکے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے گرفتار کر لیا گیا، اور جو ملک خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا وہ چند گھنٹوں میں عبرت کی مثال بن گیا۔ تب دنیا نے یہ تلخ حقیقت دیکھی کہ تیل کے کنویں ٹینک نہیں ہوتے ، سڑکیں میزائل نہیں بنتیں اور اونچی عمارتیں دفاعی ڈھال نہیں ہوتیں؛ اگر دفاع ناقابلِ تسخیر نہ ہو تو ترقی بے معنی، معیشت عارضی، وسائل بے جان اور خودمختاری محض ایک فریب بن کر رہ جاتی ہے ۔ ایسا ملک کسی معاملے پر مضبوط مؤقف نہیں لے سکتا کیونکہ دشمن جانتا ہے کہ ایک بٹن دبے گا اور سب کچھ صفر ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک ملک کی کہانی نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک کے لیے ایک واضح پیغام تھا۔
اسی تناظر میں نظر پاکستان کی طرف جاتی ہے ؛ نہ سب سے زیادہ تیل، نہ سب سے بڑی معیشت، نہ جدید سہولیات کی بھرمار، مگر ایک چیز جو سب سے زیادہ مضبوط ہے وہ ہے پاکستان کا دفاع۔ اسی اعتماد کے ساتھ ہمارے سپہ سالار کا یہ کہنا کہ ”اگر ہمیں لگا کہ ہم ڈوب رہے ہیں تو آدھی دنیا کو ساتھ لے کر ڈوبیں گے ” محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ یہ ملک آسان شکار نہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے پاس وہ قوت موجود ہے جو قوموں کو زندہ رکھتی ہے ناقابلِ تسخیر دفاع اور تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم کا دفاع مضبوط ہو، وہی قوم اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتی ہے ۔ پاک فوج زندہ باد، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
آخرکار، وینزویلا کا بحران ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قومی ترقی ایک جامع اور ہم آہنگ عمل ہے ۔ معیشت، سیاست، ادارے اور سماج ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ایک شعبہ کمزور ہو تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے ۔ پاکستان کے لیے وینزویلا کا تجربہ ایک آئینہ ہے ، جس میں وہ اپنے ممکنہ خطرات اور کمزوریوں کو دیکھ سکتا ہے ۔ بروقت اصلاحات، دور اندیش قیادت اور عوامی مفاد پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے ہی ان خطرات سے بچا جا سکتا ہے ۔
خلاصہ یہ کہ وینزویلا کی مثال پاکستان کے لیے خوف نہیں بلکہ ہوش مندی کا پیغام ہے ۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مضبوط معیشت، شفاف حکمرانی، سیاسی استحکام، ادارہ جاتی خودمختاری اور متوازن خارجہ پالیسی ہی قومی سلامتی اور خوشحالی کی ضامن ہیں۔ اگر پاکستان ان اسباق کو سنجیدگی سے اختیار کرے تو نہ صرف بڑے بحرانوں سے بچ سکتا ہے بلکہ پائیدار ترقی کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے ۔
٭٭٭