وجود

... loading ...

وجود

اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت

جمعه 09 جنوری 2026 اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت

منظر نامہ
۔۔۔۔۔
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

بھارت کے سیاستدان، بولی وڈ اداکار اور فلمیں ،گودی میڈیا، کھلاڑی، ملا الغرض یہ کہ سب پاکستان کے خلاف بیانات ہرزہ سرائی کر کے اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور ان کی روزی روٹی چل رہی ہے ۔اسی کی ایک کڑی گزشتہ دنوں اویس الدین اویسی کی پاکستان مخالف تقریر ہے۔اسدالدین اویسی کی تقریریں اکثر مسلمانوں کے نام پر تو ہوتی ہیں مگر اس کا بیانیہ حیرت انگیز طور پر پاکستان مخالف جذبات سے بھرپور ہوتا ہے ۔ وہ پاکستان کو مستقل خطرہ قرار دیتا ہے ، پاکستان کی حکومت اور پالیسیوں کے خلاف ہر فورم پر نکتہ چینی کرتا ہے ۔پاکستان مخالف بیانیہ کے بر عکس بھارت میں مسلمانوں کی زندگی، ان کے حقوق اور ان کی حفاظت خود اویسی کے دعووں سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ پاکستان کے خلاف زہر اگلتا ہے ۔ اویسی کی تقریریں اور دھمکیاں حقیقت کے بجائے دہشت، شبہ اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔یہ صرف اپنی فلموں میں ہی پاکستان کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں بلکہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔جس کی مثال گزشتہ دنوں بھارت میں پاکستان مخالف پروپیگنڈہ جھوٹ پر مبنی فلم دھرندھر ہے ۔ماضی میں بھی بارڈر، گدر جیسی فلموں کے ذریعہ اپنی عوام کو بیوقوف بنایا گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آپریشن سندور کا پاکستانی افواج نے کرارا جواب دیا خوب پٹائی کی اور چٹھی کا دودھ یاد دلا دیا۔اگر آئندہ بھی کبھی پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو نانی یاد آ جائے گی۔بنیان المرصوص میں تو پاکستانی افواج نے ہلکا ہاتھ رکھا اور خیال کیا مگر اب عبرتناک انجام ہو گا۔
اویسی کی سیاست کو اگر محض خطابت سمجھ لیا جائے تو اصل مسئلہ نظروں سے اوجھل رہتا ہے ، کیونکہ یہ وہ سیاست ہے جو زبان سے مزاحمت کا دعویٰ کرتی ہے مگر عمل میں اسی نظام کو مضبوط کرتی دکھائی دیتی ہے جس کے خلاف نعرہ بلند کیا جاتا ہے ۔ مسلمان سڑک پر ہیں، جیل میں ہیں، خوف میں جی رہے ہیں، اور ایوان کے اندر للکارنے والا لیڈر ہر تیز جملے کے ساتھ اپنی سیاست کا دائرہ وسیع کرتا جاتا ہے ، جبکہ مودی کی سیاست کو اسی شور میں سب سے زیادہ سہولت ملتی ہے ۔ یوں اویسی کی للکار محض احتجاج نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی منافقت بن جاتی ہے جو مسلمانوں کے زخموں پر مرہم کے بجائے انہیں انتخابی نعروں میں بدل دیتی ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کا سربراہ اسدالدین اویسی کی وہ تقریر، جس میں اس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی مبینہ امریکی گرفتاری کو بنیاد بنا کر بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو پاکستان سے ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمان کو اٹھوا لانے کا چیلنج دیا، دراصل ایک سوچے سمجھے سیاسی بیانیے کی بازگشت ہے ۔ یہ بیان نہ کسی جذباتی لغزش کا نتیجہ ہے اور نہ وقتی جوش کا، بلکہ اس سیاسی اسکرپٹ کا حصہ ہے جس میں بھارتی مسلمانوں کو بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی قیادت بھی اسی زبان میں بات کرے گی جو اکثریتی طاقت کو پسند ہو۔اویسی کا یہ کہنا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے منتخب صدر کو گرفتار کر کے امریکہ لا سکتے ہیں تو بھارت کیوں نہیں، بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور سفارتی اصولوں کی صریح نفی ہے ۔ انڈیا نہ امریکہ ہے اور نہ پاکستان وینزویلا، مگر اس حقیقت سے زیادہ تشویشناک وہ ذہنیت ہے جو ایسے تقابل کو قابلِ فخر سمجھتی ہے ۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو 56 انچ کے سینے کو ریاستی طاقت کا استعارہ بناتی ہے اور عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ انصاف نہیں، بلکہ طاقت ہی مسائل کا حل ہے ۔
اویسی کے اس بیان پر بھارتی سوشل میڈیا میں آنے والے ردعمل خود اس تضاد کو عیاں کرتے ہیں۔ کچھ اسے مودی کو اُکسانے کی کوشش کہتے ہیں، کچھ کے نزدیک یہ محض ایک سیاسی بیان ہے ، اور کچھ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ پہلے پاکستان سے ایشیا کپ کی ٹرافی تو اٹھوا لیں۔ یہ جملے ہنسی مذاق نہیں بلکہ اس اجتماعی شعور کا اظہار ہیں جو اب جارحانہ قوم پرستی کے کھوکھلے پن کو پہچاننے لگا ہے ۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اویسی اس کھیل میں کس کردار میں نظر آتا ہے ۔اویسی بظاہر مودی کا ناقد دکھائی دیتا ہے ، مگر اس کا عملی سیاسی کردار بارہا شکوک کو جنم دیتا ہے ۔ پہلگام کے واقعے کے بعد مودی حکومت کی جانب سے دنیا بھر میں بھیجے گئے پارلیمانی وفود میں ششی تھرور کے ساتھ اویسی کی شمولیت محض اتفاق نہیں تھی۔ وہاں جا کر بھارتی ریاستی بیانیے کی ترجمانی، مودی سرکار کے مؤقف کا دفاع، اور عالمی سطح پر وہی نکات دہرانا جو بی جے پی کہتی ہے ، اس دعوے کو کمزور کر دیتا ہے کہ اویسی واقعی ایک مزاحمتی آواز ہیں۔ اسی لیے ناقدین اسے بی جے پی کے لیے ایک محفوظ مسلم چہرہ قرار دیتے ہیں، جو اختلاف کا تاثر دے کر اصل بیانیے کو تقویت دیتا ہے ۔
بھارت میں مسلمانوں کی موجودہ حالت اس سیاسی منافقت کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔ سیاسی سطح پر مسلمانوں کو بتدریج دیوار سے لگایا گیا، انتخابی سیاست میں نفرت انگیز بیانیے معمول بن گئے ، مذہبی شناخت کو وفاداری کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا، اور مسلمانوں کو بار بار دوسرا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس فضا میں قانون سازی بھی متاثر ہوئی، جہاں بعض قوانین اور پالیسیوں کو امتیازی انداز میں نافذ کیے جانے کے الزامات لگتے رہے ، جس سے شہری مساوات کا تصور کمزور پڑتا چلا گیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کا شعر محض ادبی حوالہ نہیں بلکہ ایک زندہ سیاسی سچ بن کر سامنے آتا ہے :
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
یہ شعر اس ذہنی فریب کو بے نقاب کرتا ہے جس میں مذہبی رسومات کی محدود اجازت کو مکمل آزادی سمجھ لیا جاتا ہے ، جبکہ حقیقت میں ایک پوری قوم سماجی، سیاسی اور معاشی بحران میں جکڑی ہوتی ہے ۔ آج کا بھارتی مسلمان اسی فریب کا شکار ہے ، جہاں اسے نماز پڑھنے کی اجازت تو ہے مگر عزت کے ساتھ جینے ، برابر کے شہری حقوق حاصل کرنے اور اپنی شناخت کے تحفظ کی ضمانت نہیں۔سماجی میدان میں مسلمانوں کو تعلیم، معیشت اور روزگار میں امتیاز کا سامنا ہے ۔ کئی علاقوں میں رہائش کے حصول میں رکاوٹیں، کاروبار پر دباؤ، اور روزمرہ زندگی میں تحقیر آمیز رویے عام ہیں۔ مساجد، مدارس اور اسلامی شناخت کو نشانہ بنانا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، جو ایک پوری برادری کو خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں جینے پر مجبور کرتی ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے ادارے ، جو کبھی علمی وقار کی علامت تھے ، آج ریاستی دباؤ اور سیاسی الزامات کی زد میں ہیں۔ایسے حالات میں اویسی کا مودی سے مطالبہ ایک تلخ تضاد بن جاتا ہے ۔ وہ مودی جس کے دور میں بابری مسجد شہید ہوئی اور رام مندر تعمیر ہوا، وہی مودی جس کے سیاسی عروج کا راستہ گجرات کے خون سے ہو کر گزرا، اور جس کے اقتدار میں مسلمانوں کے لیے زمین تنگ ہوتی چلی گئی۔ ایسے شخص سے انصاف یا اصولی جرات کی توقع کرنا خود فریبی کے مترادف ہے ۔یہی وہ پس منظر تھا جس میں تقسیم ہند کے وقت اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے تحریک پاکستان کا ساتھ دیا اور لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی۔ اس ہجرت کو آج غلط ثابت کرنے کی کوشش دراصل تاریخ کے زخموں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم محض وقتی واقعات نہیں بلکہ ایک طویل، منظم اور گہرے سماجی و سیاسی عمل کا نتیجہ ہیں، جس کی جڑیں آزادی کے بعد بننے والی قومی شناخت اور اکثریتی سیاست میں پیوست ہیں۔
تقسیم کے دوران قتل و غارت، اس کے بعد مختلف ادوار میں ہونے والے فسادات، اور اکثر اوقات ریاستی اداروں کی خاموشی یا ناکامی، اس احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرتی رہی۔ ایسے میں اویسی جیسے رہنماؤں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس نظام ناانصافی کو للکارتا ، مگر جب وہی زبان اختیار کی جائے جو اکثریتی طاقت کو خوش کرے ، تو سوال اٹھنا ناگزیر ہو جاتا ہے ۔آج بھارتی مسلمانوں کے مسائل کا حل مودی کو چیلنج دینے میں نہیں بلکہ اس بیانیے کو مسترد کرنے میں ہے جو طاقت کو حق اور نفرت کو سیاست بناتا ہے ۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی سیاسی بصیرت کو پہچانیں، نمائندگی کے نام پر پیش کی جانے والی ہر آواز کو پرکھیں، اور یہ سمجھیں کہ آزادی محض سجدے کی اجازت کا نام نہیں بلکہ عزت، مساوات اور انصاف کے ساتھ جینے کا حق ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں وجود جمعه 09 جنوری 2026
کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق وجود جمعه 09 جنوری 2026
وینزویلا کا بحران:پاکستان کے لیے ایک سٹریٹجک سبق

اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت وجود جمعه 09 جنوری 2026
اویسی کا پاکستان مخالف بیانیہ اور بھارت کی منافقت

اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات وجود جمعه 09 جنوری 2026
اسرائیلی جیل میں 45 برس:طویل ترین قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر