... loading ...
منظر نامہ
۔۔۔۔۔
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
بھارت کے سیاستدان، بولی وڈ اداکار اور فلمیں ،گودی میڈیا، کھلاڑی، ملا الغرض یہ کہ سب پاکستان کے خلاف بیانات ہرزہ سرائی کر کے اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور ان کی روزی روٹی چل رہی ہے ۔اسی کی ایک کڑی گزشتہ دنوں اویس الدین اویسی کی پاکستان مخالف تقریر ہے۔اسدالدین اویسی کی تقریریں اکثر مسلمانوں کے نام پر تو ہوتی ہیں مگر اس کا بیانیہ حیرت انگیز طور پر پاکستان مخالف جذبات سے بھرپور ہوتا ہے ۔ وہ پاکستان کو مستقل خطرہ قرار دیتا ہے ، پاکستان کی حکومت اور پالیسیوں کے خلاف ہر فورم پر نکتہ چینی کرتا ہے ۔پاکستان مخالف بیانیہ کے بر عکس بھارت میں مسلمانوں کی زندگی، ان کے حقوق اور ان کی حفاظت خود اویسی کے دعووں سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ پاکستان کے خلاف زہر اگلتا ہے ۔ اویسی کی تقریریں اور دھمکیاں حقیقت کے بجائے دہشت، شبہ اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔یہ صرف اپنی فلموں میں ہی پاکستان کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں بلکہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔جس کی مثال گزشتہ دنوں بھارت میں پاکستان مخالف پروپیگنڈہ جھوٹ پر مبنی فلم دھرندھر ہے ۔ماضی میں بھی بارڈر، گدر جیسی فلموں کے ذریعہ اپنی عوام کو بیوقوف بنایا گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آپریشن سندور کا پاکستانی افواج نے کرارا جواب دیا خوب پٹائی کی اور چٹھی کا دودھ یاد دلا دیا۔اگر آئندہ بھی کبھی پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو نانی یاد آ جائے گی۔بنیان المرصوص میں تو پاکستانی افواج نے ہلکا ہاتھ رکھا اور خیال کیا مگر اب عبرتناک انجام ہو گا۔
اویسی کی سیاست کو اگر محض خطابت سمجھ لیا جائے تو اصل مسئلہ نظروں سے اوجھل رہتا ہے ، کیونکہ یہ وہ سیاست ہے جو زبان سے مزاحمت کا دعویٰ کرتی ہے مگر عمل میں اسی نظام کو مضبوط کرتی دکھائی دیتی ہے جس کے خلاف نعرہ بلند کیا جاتا ہے ۔ مسلمان سڑک پر ہیں، جیل میں ہیں، خوف میں جی رہے ہیں، اور ایوان کے اندر للکارنے والا لیڈر ہر تیز جملے کے ساتھ اپنی سیاست کا دائرہ وسیع کرتا جاتا ہے ، جبکہ مودی کی سیاست کو اسی شور میں سب سے زیادہ سہولت ملتی ہے ۔ یوں اویسی کی للکار محض احتجاج نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی منافقت بن جاتی ہے جو مسلمانوں کے زخموں پر مرہم کے بجائے انہیں انتخابی نعروں میں بدل دیتی ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کا سربراہ اسدالدین اویسی کی وہ تقریر، جس میں اس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی مبینہ امریکی گرفتاری کو بنیاد بنا کر بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو پاکستان سے ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمان کو اٹھوا لانے کا چیلنج دیا، دراصل ایک سوچے سمجھے سیاسی بیانیے کی بازگشت ہے ۔ یہ بیان نہ کسی جذباتی لغزش کا نتیجہ ہے اور نہ وقتی جوش کا، بلکہ اس سیاسی اسکرپٹ کا حصہ ہے جس میں بھارتی مسلمانوں کو بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی قیادت بھی اسی زبان میں بات کرے گی جو اکثریتی طاقت کو پسند ہو۔اویسی کا یہ کہنا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے منتخب صدر کو گرفتار کر کے امریکہ لا سکتے ہیں تو بھارت کیوں نہیں، بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور سفارتی اصولوں کی صریح نفی ہے ۔ انڈیا نہ امریکہ ہے اور نہ پاکستان وینزویلا، مگر اس حقیقت سے زیادہ تشویشناک وہ ذہنیت ہے جو ایسے تقابل کو قابلِ فخر سمجھتی ہے ۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو 56 انچ کے سینے کو ریاستی طاقت کا استعارہ بناتی ہے اور عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ انصاف نہیں، بلکہ طاقت ہی مسائل کا حل ہے ۔
اویسی کے اس بیان پر بھارتی سوشل میڈیا میں آنے والے ردعمل خود اس تضاد کو عیاں کرتے ہیں۔ کچھ اسے مودی کو اُکسانے کی کوشش کہتے ہیں، کچھ کے نزدیک یہ محض ایک سیاسی بیان ہے ، اور کچھ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ پہلے پاکستان سے ایشیا کپ کی ٹرافی تو اٹھوا لیں۔ یہ جملے ہنسی مذاق نہیں بلکہ اس اجتماعی شعور کا اظہار ہیں جو اب جارحانہ قوم پرستی کے کھوکھلے پن کو پہچاننے لگا ہے ۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اویسی اس کھیل میں کس کردار میں نظر آتا ہے ۔اویسی بظاہر مودی کا ناقد دکھائی دیتا ہے ، مگر اس کا عملی سیاسی کردار بارہا شکوک کو جنم دیتا ہے ۔ پہلگام کے واقعے کے بعد مودی حکومت کی جانب سے دنیا بھر میں بھیجے گئے پارلیمانی وفود میں ششی تھرور کے ساتھ اویسی کی شمولیت محض اتفاق نہیں تھی۔ وہاں جا کر بھارتی ریاستی بیانیے کی ترجمانی، مودی سرکار کے مؤقف کا دفاع، اور عالمی سطح پر وہی نکات دہرانا جو بی جے پی کہتی ہے ، اس دعوے کو کمزور کر دیتا ہے کہ اویسی واقعی ایک مزاحمتی آواز ہیں۔ اسی لیے ناقدین اسے بی جے پی کے لیے ایک محفوظ مسلم چہرہ قرار دیتے ہیں، جو اختلاف کا تاثر دے کر اصل بیانیے کو تقویت دیتا ہے ۔
بھارت میں مسلمانوں کی موجودہ حالت اس سیاسی منافقت کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔ سیاسی سطح پر مسلمانوں کو بتدریج دیوار سے لگایا گیا، انتخابی سیاست میں نفرت انگیز بیانیے معمول بن گئے ، مذہبی شناخت کو وفاداری کے پیمانے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا، اور مسلمانوں کو بار بار دوسرا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس فضا میں قانون سازی بھی متاثر ہوئی، جہاں بعض قوانین اور پالیسیوں کو امتیازی انداز میں نافذ کیے جانے کے الزامات لگتے رہے ، جس سے شہری مساوات کا تصور کمزور پڑتا چلا گیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کا شعر محض ادبی حوالہ نہیں بلکہ ایک زندہ سیاسی سچ بن کر سامنے آتا ہے :
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
یہ شعر اس ذہنی فریب کو بے نقاب کرتا ہے جس میں مذہبی رسومات کی محدود اجازت کو مکمل آزادی سمجھ لیا جاتا ہے ، جبکہ حقیقت میں ایک پوری قوم سماجی، سیاسی اور معاشی بحران میں جکڑی ہوتی ہے ۔ آج کا بھارتی مسلمان اسی فریب کا شکار ہے ، جہاں اسے نماز پڑھنے کی اجازت تو ہے مگر عزت کے ساتھ جینے ، برابر کے شہری حقوق حاصل کرنے اور اپنی شناخت کے تحفظ کی ضمانت نہیں۔سماجی میدان میں مسلمانوں کو تعلیم، معیشت اور روزگار میں امتیاز کا سامنا ہے ۔ کئی علاقوں میں رہائش کے حصول میں رکاوٹیں، کاروبار پر دباؤ، اور روزمرہ زندگی میں تحقیر آمیز رویے عام ہیں۔ مساجد، مدارس اور اسلامی شناخت کو نشانہ بنانا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، جو ایک پوری برادری کو خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں جینے پر مجبور کرتی ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے ادارے ، جو کبھی علمی وقار کی علامت تھے ، آج ریاستی دباؤ اور سیاسی الزامات کی زد میں ہیں۔ایسے حالات میں اویسی کا مودی سے مطالبہ ایک تلخ تضاد بن جاتا ہے ۔ وہ مودی جس کے دور میں بابری مسجد شہید ہوئی اور رام مندر تعمیر ہوا، وہی مودی جس کے سیاسی عروج کا راستہ گجرات کے خون سے ہو کر گزرا، اور جس کے اقتدار میں مسلمانوں کے لیے زمین تنگ ہوتی چلی گئی۔ ایسے شخص سے انصاف یا اصولی جرات کی توقع کرنا خود فریبی کے مترادف ہے ۔یہی وہ پس منظر تھا جس میں تقسیم ہند کے وقت اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے تحریک پاکستان کا ساتھ دیا اور لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی۔ اس ہجرت کو آج غلط ثابت کرنے کی کوشش دراصل تاریخ کے زخموں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم محض وقتی واقعات نہیں بلکہ ایک طویل، منظم اور گہرے سماجی و سیاسی عمل کا نتیجہ ہیں، جس کی جڑیں آزادی کے بعد بننے والی قومی شناخت اور اکثریتی سیاست میں پیوست ہیں۔
تقسیم کے دوران قتل و غارت، اس کے بعد مختلف ادوار میں ہونے والے فسادات، اور اکثر اوقات ریاستی اداروں کی خاموشی یا ناکامی، اس احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرتی رہی۔ ایسے میں اویسی جیسے رہنماؤں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس نظام ناانصافی کو للکارتا ، مگر جب وہی زبان اختیار کی جائے جو اکثریتی طاقت کو خوش کرے ، تو سوال اٹھنا ناگزیر ہو جاتا ہے ۔آج بھارتی مسلمانوں کے مسائل کا حل مودی کو چیلنج دینے میں نہیں بلکہ اس بیانیے کو مسترد کرنے میں ہے جو طاقت کو حق اور نفرت کو سیاست بناتا ہے ۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی سیاسی بصیرت کو پہچانیں، نمائندگی کے نام پر پیش کی جانے والی ہر آواز کو پرکھیں، اور یہ سمجھیں کہ آزادی محض سجدے کی اجازت کا نام نہیں بلکہ عزت، مساوات اور انصاف کے ساتھ جینے کا حق ہے ۔
٭٭٭