... loading ...
ریاض احمدچودھری
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سو سالہ تاریخ پر ایک تنقیدی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں اس تنظیم کے نظریات، سیاسی اثر و رسوخ اور بھارت کی موجودہ سیاست پر اس کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس ایک خفیہ اور نیم عسکری تنظیم کے طور پر قائم ہوئی، جس کا بنیادی نظریہ ہندو قوم پرستی ہے۔ 1925 سے آر ایس ایس کے تربیتی کیمپس فوجی طرز پر قائم کیے گئے، جہاں مذہبی شناخت کی بنیاد پر منظم نظریاتی تربیت دی جاتی رہی۔اخبار نے لکھا کہ آر ایس ایس کا بنیادی مقصد بھارت کو ہندو قوم پرست ریاست میں تبدیل کرنا بتایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی حوالہ دیا گیا کہ تنظیم کے بعض رہنما سخت گیر نظریات رکھتے ہیں اور ان کا موازنہ نسل پرستی کی بعض تاریخی مثالوں سے کیا جاتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے تاریخی حوالوں کے ساتھ یہ بھی ذکر کیا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کو ماضی میں آر ایس ایس سے وابستہ شدت پسند سوچ سے جوڑا گیا تھا۔اگرچہ تنظیم اس تاثر سے اختلاف کرتی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی ماضی میں آر ایس ایس سے وابستہ رہے ہیں اور ناقدین کا ماننا ہے کہ حکومت کی کئی پالیسیوں پر بھی تنظیم کے نظریات کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ تاہم آر ایس ایس اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وہ بھارتی معاشرے میں نظم و ضبط، حب الوطنی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا کہ آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا کردار بھارت کے سیکولر تشخص، مذہبی ہم آہنگی اور سیاسی ڈھانچے کے لیے ایک اہم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔جس پر ملک کے اندر اور باہر دونوں سطحوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔آرایس ایس نے انیس سو اڑتالیس میں گاندھی کو’مسلمان نواز’ کہہ کرقتل کیا، مودی آر ایس ایس کا پیرو کا ر ہے اور اس کے انتہا پسند ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔
راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس بھارت کی ایک ہندو تنظیم ہے۔ یہ خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے، لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ کئی دہشت گردانہ معاملوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں اس تنظیم کا ہاتھ رہا ہے۔اس کی بنیاد 27 ستمبر 1925ء کو ناگپور میں ڈالی گئی تھی۔ 2014 تک اس کی رکنیت 50 لاکھ سے 60 لاکھ ہے۔اس کے بانی کیشوا بلی رام ہیڑگیوار ہیں۔ یہ ہندو سوائم سیوک سنگھ کے نام سے بیرون ممالک میں سرگرم ہے، وہاں سے خطیر رقم چندہ لایا جاتا ہے۔ یہ بھارت کو ہندو ملک گردانتی ہے۔ اور یہ اس تنظیم کا اہم مقصد بھی ہے۔ بھارت میں برطانوی حکومت نے ایک بار اور آزادی کے بعد حکومتِ ہند نے تین بار اس تنظیم کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔بھارت میں دنگے فسادات برپا کرنے میں اس تنظیم کا نام سرفہرست ہے۔ 1927 ء کے ناگپور فساد میں اس کا اہم رول رہا ہے۔ 1948 ء کو اس تنظیم کے ایک رکن ناتھورام ونائک گوڈ سے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا۔ 1969ء کو احمد آباد فساد، 1971 ء کو تلشیری فساد اور 1979 ء کو بہار کے جمشید پور فرقہ وارانہ فساد میں ملوث رہی۔ 6 دسمبر 1992ء کو اس تنظیم کے اراکین (کارسیوک) نے بابری مسجد میں گھس کر اس کو منہدم کر دیا۔ آر ایس ایس کو مختلف فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہونے پر تحقیقی کمیشن کی جانب سے سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارت کی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے اپنے قیام کے 100 سال مکمل کر لیے ہیں، جس موقع پر تنظیم کے سیاسی، سماجی اور ریاستی اداروں میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور بھارت میں گہری ہوتی سماجی تقسیم اور شدت پسندی پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔آر ایس ایس، جس کے موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی رکن رہ چکے ہیں، کو آج بھارت کی سب سے طاقتور دائیں بازو کی تنظیم تصور کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد آر ایس ایس کو غیر معمولی سیاسی تقویت ملی۔ بی جے پی کی انتخابی کامیابیوں کو آر ایس ایس کی تنظیمی طاقت اور نچلی سطح پر موجود نیٹ ورک کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق آر ایس ایس کا ایجنڈا بھارت کو ایک سیکولر ریاست کے بجائے ہندو بالادست ریاست میں تبدیل کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔آر ایس ایس پر اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے اور تشدد کو ہوا دینے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ متعدد واقعات میں ہندو انتہاپسند گروہوں کی جانب سے مساجد، گرجا گھروں اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جنہیں ناقدین آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں کی کارروائیاں قرار دیتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق آر ایس ایس کی بڑھتی طاقت نے بھارت کو مذہبی بنیادوں پر مزید تقسیم کر دیا ہے، اور آنے والے برسوں میں یہ تنظیم بھارتی سیاست اور معاشرت پر گہرے اثرات مرتب کرتی رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔