وجود

... loading ...

وجود

آر ایس ایس کی دہشت گردی

جمعرات 08 جنوری 2026 آر ایس ایس کی دہشت گردی

ریاض احمدچودھری

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سو سالہ تاریخ پر ایک تنقیدی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں اس تنظیم کے نظریات، سیاسی اثر و رسوخ اور بھارت کی موجودہ سیاست پر اس کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس ایک خفیہ اور نیم عسکری تنظیم کے طور پر قائم ہوئی، جس کا بنیادی نظریہ ہندو قوم پرستی ہے۔ 1925 سے آر ایس ایس کے تربیتی کیمپس فوجی طرز پر قائم کیے گئے، جہاں مذہبی شناخت کی بنیاد پر منظم نظریاتی تربیت دی جاتی رہی۔اخبار نے لکھا کہ آر ایس ایس کا بنیادی مقصد بھارت کو ہندو قوم پرست ریاست میں تبدیل کرنا بتایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی حوالہ دیا گیا کہ تنظیم کے بعض رہنما سخت گیر نظریات رکھتے ہیں اور ان کا موازنہ نسل پرستی کی بعض تاریخی مثالوں سے کیا جاتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے تاریخی حوالوں کے ساتھ یہ بھی ذکر کیا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کو ماضی میں آر ایس ایس سے وابستہ شدت پسند سوچ سے جوڑا گیا تھا۔اگرچہ تنظیم اس تاثر سے اختلاف کرتی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی ماضی میں آر ایس ایس سے وابستہ رہے ہیں اور ناقدین کا ماننا ہے کہ حکومت کی کئی پالیسیوں پر بھی تنظیم کے نظریات کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ تاہم آر ایس ایس اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وہ بھارتی معاشرے میں نظم و ضبط، حب الوطنی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا کہ آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا کردار بھارت کے سیکولر تشخص، مذہبی ہم آہنگی اور سیاسی ڈھانچے کے لیے ایک اہم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔جس پر ملک کے اندر اور باہر دونوں سطحوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔آرایس ایس نے انیس سو اڑتالیس میں گاندھی کو’مسلمان نواز’ کہہ کرقتل کیا، مودی آر ایس ایس کا پیرو کا ر ہے اور اس کے انتہا پسند ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔
راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس بھارت کی ایک ہندو تنظیم ہے۔ یہ خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے، لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ کئی دہشت گردانہ معاملوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں اس تنظیم کا ہاتھ رہا ہے۔اس کی بنیاد 27 ستمبر 1925ء کو ناگپور میں ڈالی گئی تھی۔ 2014 تک اس کی رکنیت 50 لاکھ سے 60 لاکھ ہے۔اس کے بانی کیشوا بلی رام ہیڑگیوار ہیں۔ یہ ہندو سوائم سیوک سنگھ کے نام سے بیرون ممالک میں سرگرم ہے، وہاں سے خطیر رقم چندہ لایا جاتا ہے۔ یہ بھارت کو ہندو ملک گردانتی ہے۔ اور یہ اس تنظیم کا اہم مقصد بھی ہے۔ بھارت میں برطانوی حکومت نے ایک بار اور آزادی کے بعد حکومتِ ہند نے تین بار اس تنظیم کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔بھارت میں دنگے فسادات برپا کرنے میں اس تنظیم کا نام سرفہرست ہے۔ 1927 ء کے ناگپور فساد میں اس کا اہم رول رہا ہے۔ 1948 ء کو اس تنظیم کے ایک رکن ناتھورام ونائک گوڈ سے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا۔ 1969ء کو احمد آباد فساد، 1971 ء کو تلشیری فساد اور 1979 ء کو بہار کے جمشید پور فرقہ وارانہ فساد میں ملوث رہی۔ 6 دسمبر 1992ء کو اس تنظیم کے اراکین (کارسیوک) نے بابری مسجد میں گھس کر اس کو منہدم کر دیا۔ آر ایس ایس کو مختلف فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہونے پر تحقیقی کمیشن کی جانب سے سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارت کی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے اپنے قیام کے 100 سال مکمل کر لیے ہیں، جس موقع پر تنظیم کے سیاسی، سماجی اور ریاستی اداروں میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور بھارت میں گہری ہوتی سماجی تقسیم اور شدت پسندی پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔آر ایس ایس، جس کے موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی رکن رہ چکے ہیں، کو آج بھارت کی سب سے طاقتور دائیں بازو کی تنظیم تصور کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد آر ایس ایس کو غیر معمولی سیاسی تقویت ملی۔ بی جے پی کی انتخابی کامیابیوں کو آر ایس ایس کی تنظیمی طاقت اور نچلی سطح پر موجود نیٹ ورک کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق آر ایس ایس کا ایجنڈا بھارت کو ایک سیکولر ریاست کے بجائے ہندو بالادست ریاست میں تبدیل کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔آر ایس ایس پر اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے اور تشدد کو ہوا دینے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ متعدد واقعات میں ہندو انتہاپسند گروہوں کی جانب سے مساجد، گرجا گھروں اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جنہیں ناقدین آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں کی کارروائیاں قرار دیتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق آر ایس ایس کی بڑھتی طاقت نے بھارت کو مذہبی بنیادوں پر مزید تقسیم کر دیا ہے، اور آنے والے برسوں میں یہ تنظیم بھارتی سیاست اور معاشرت پر گہرے اثرات مرتب کرتی رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام! وجود جمعرات 08 جنوری 2026
وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام!

خواہش وجود بدھ 07 جنوری 2026
خواہش

گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار وجود بدھ 07 جنوری 2026
گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار

امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟ وجود بدھ 07 جنوری 2026
امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر