وجود

... loading ...

وجود

وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام!

جمعرات 08 جنوری 2026 وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام!

حمیداللہ بھٹی

وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی پر دنیا حیران اور پریشان ہے ،کیونکہ اِس سے اقوامِ متحدہ کے اُس چارٹر کی نفی ہوتی ہے جس کے آرٹیکل دو کی ذیلی شق چارکے مطابق تمام رُکن ممالک پربیرونی حملے غیر قانونی ہیں۔ لہٰذا بلا اشتعال کارروائی کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہتا۔ مگر دنیا کی واحد سُپرپاور کے صدر کے حکم پر امریکی افواج سمند ر پار معدنی دولت سے مالامال وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت کئی شہروں پر حملے کرتیں اور ایک آزادوخود مختار ملک کے صدرنکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے نیویارک لے آتی ہیں۔ بدمعاشی ، دہشت گردی اور اغوا کی اِس واردات کا امریکی حکومت فخریہ پرچار کررہی ہے ۔اِس کارروائی سے چھوٹے اور دفاعی لحاظ سے کمزور ممالک میں عدمِ تحفظ کااحساس دوچندہوگا جس کی وجہ سے اپنی آزادی و خودمختاری برقراررکھنے کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے پر مجبورہوں گے وگرنہ کسی بھی طاقتور ملک کی طرف سے آزادی وخودمختاری کو پامال کرتے ہوئے منتخب حکمرانوں کو اغوا کرنے کاخدشہ رہے گا اب ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہوگی اور کمزور ممالک کے معدنی وسائل کی لوٹ مار بھی ۔
ماضی کی طرح اب بھی طاقتورممالک کسی اصول،اخلاق یا قانون کو اہمیت نہیں دیتے یہ مہروں کواستعمال کرنے کے بعد انھیں بھی مار دیتے ہیں گزشتہ صدی کے اختتام 1989میں امریکہ نے پانامہ کے خلاف بھی ایسی نوعیت کی کارروائی کی تھی جس میں جنرل ڈکٹیٹر نوریگاکو نہ صرف فوجی آپریشن کے ذریعے گرفتار کرکے امریکہ لایا گیا بلکہ میامی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر سزابھی دی گئی۔ ایک اور اہم بات یہ کہ جنرل نوریگا نے سی آئی اے کے لیے بھی خدمات سرانجام دی تھیں مگر جب اقتدارمیں آکرعوامی مفادمیں آزادانہ فیصلے کرنے لگے تواُسے گرفتار کرکے اپنے ملک لاکرعبرت کانشان بنادیاگیا ۔
صدام حسین کے ذریعے آٹھ برس تک ایران ، عراق جنگ کرائی گئی۔ اِس جنگ میں دونوں طرف سے ہزاروں لوگ بے موت مارے گئے جب صدام حسین نے بے مقصد جنگ ختم کرنے کی عملی کوششیں شروع کیں تویہ کوششیں ہی اُس کی سزا کا موجب بن گئیں۔ عراق کوکویت پر قبضہ کرنے کاا شارہ کرتے ہوئے عدم مداخلت کی یقین دہانی کرائی گئی جب صدام حسین نے یہ حماقت کرلی تو 2003میں عراق کو تباہ اور صدام حسین کو عبرتناک طریقے سے ماردیا گیا۔ اصل بات صرف عراقی تیل پر کنٹرول حاصل کرنا تھا ۔امریکی کارروائی کے بعد آج تک عراق سنبھل نہیں سکا ۔رواں صدی کے پہلے عشرے میں لیبیا کے بارے میں بھی کیمیائی ہتھیارحاصل کرنے کاایساہی گمراہ کُن پراپیگنڈہ کیا گیا ۔کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو مجبور کیا گیا کہ اپنے والد کو تصفیہ کرنے کاکہیں کرنل قذافی کے خلاف مقامی بغاوت کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی گئی باغیوں کو تقویت دینے کے لیے لیبیا کی فوج پر فضائی حملے کیے آخرکار 2011میں کرنل قذافی کو مار دیا گیا ایران اور نائجیریا کے معدنی وسائل پر بھی نظر ہے، لیکن یہاں حکومتوں کی تبدیلی کا مقصد ابھی تک پورا نہیں ہو سکا۔ یہ پیغام ہے کہ مت بھولیں جو استعمال ہوتے ہیں ،وہ ہمیشہ منظورِ نظر نہیں رہیں گے بلکہ مقصد پوراہونے پرحرفِ غلط کی طرح مٹایاجاسکتاہے ۔
وینزویلا کے خلاف ہونے والی کارروائی نے اقوامِ متحدہ کی افادیت ختم کردی ہے کیونکہ یہ اِدارہ تنازعات ختم کرانے اور جنگیں روکنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ اِسے صرف طاقت ور ممالک کرتے ہیں اِس کی قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں یہ پانچ مستقل ممالک کا یرغمال ہے اسرائیل کے آگے بھی بے بس ہے ۔
کئی عشروں سے عالمی طاقتیں دنیا کے معدنی ذخائر پر کنڑول کی خواہشمند ہیں ۔ امریکہ ہر قیمت پرعالمی تجارت ڈالر میں چاہتا ہے مگر اِس وقت عالمی تجارت میں ڈالر کاحصہ ساٹھ فیصد ہے جبکہ دیگر کرنسیوں کا حصہ چالیس فیصد ہوچکاہے برکس جیسی تنظیم ڈالر کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ وینز ویلا تو ہیوگوشاویز کے دورسے امریکہ و اسرائیل کے خلاف سرگرم ہے ۔لبنا ن پر بلاجوازاسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کی اور غزہ پر بمباری کی پاداش میں اسرائیلی سفیر کو ملک سے ہی نکال دیا ۔ہیوگو کی وفات کے بعد نکولس مادورونے صدر بن کر مزید سخت فیصلے کیے اور امریکہ و اسرائیل مخالف ممالک سے تعلقات بنائے ایرانی ڈرونز اورہتھیاروں کے حصول کی کوششیں کیں ۔مزیدیہ کہ چین کو ارزاں نرخوں پر تیل و دیگر معدنیات دینا شروع کردیں۔ یہی اُن کاصل جُرم ہے اسی جُرم پرمادوروکے خلاف منشیات اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی امریکی ذرائع ابلاغ نے خبریں شائع کیںاور امریکہ نے 2025میں اُن کی گرفتاری پرانعامی رقم پچیس سے پچاس لاکھ ملین ڈالر کردی۔ یہ ایسے فیصلے تھے جن میں پوشیدپیغام نہ سمجھنے پر آج امریکی قید میں انجام کا منتظر ہے اگر سمجھ کر ملکی دفاع کے ساتھ اپنے حفاظتی انتظامات بہتر کرتا توصورتحال ایسی نہ ہوتی۔ وینزویلا لاطینی امریکہ کا وہ ملک ہے جس کے پاس تیل کے ذخائر سعودیہ ،قطراور ایران سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ تیل کی قیمت کم یا زیادہ کرسکتاہے، اسی بناپر ڈالر کے لیے خطرہ سمجھاجاتاہے اِس کے پاس دیگر معدنیات کابھی خزانہ ہے لیکن مادورو بروقت اپنے ملک کی اہمیت کا ادراک نہ کرسکااور گرفتارہے۔
اقوامِ متحدہ ،چین ،روس ،کیوبا،برازیل،شمالی کوریا،ایران سمیت دنیا بھر میں وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کی مذمت ہورہی ہے مگر امریکی رویے سے ایسا کوئی تاثر نہیں ملتا کہ وہ اپنے طرزِعمل پر نظرثانی کر سکتاہے ۔روس اور چین نے بھی جاندار موقف اختیارنہیں کیا۔ روس یوکرین میں الجھا ہے تو چین کو تائیوان کامسئلہ درپیش ہے اسی لیے شاید موقف میں نرمی ہے اب تو ایسے خدشات کا ظہار کیا جارہا ہے کہ اگلا نشانہ ایران ، افغانستان اور نائیجیریا بن سکتے ہیں۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ دنیا جارحیت کے خلاف ایسا متفقہ موقف اپنائے جو نتیجہ خیزثابت ہو ۔
صدرٹرمپ آٹھ جنگیں روکنے کاکریڈٹ لینے پر مُصر تھے مگرڈالر میں تجارت اور معدنیات پر تصرف کے لیے جارحیت سے انھیں نیک نامی حاصل نہیں ہوئی۔ غزہ پر جانبداری سے بھی اُن کے انصاف پسند ہونے کی نفی ہوئی ہے ۔ ایک طرف تو وینزویلا کے صدر کو اہلیہ سمیت اغوا کرایاہے لیکن عالمی عدالتِ انصاف سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود مجرم سے اعلانیہ ملتے اور پریس کانفرنسیں کرتے ہیں ۔دیدہ دلیری سے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے کے اعلانات کرتے ہیں ،یہ دُہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ وہ امن پسندنہیں بلکہ امن پسندی کالبادہ اوڑھا ہواہے، جسے مادوروجیسا شخص بروقت سمجھ نہ سکااوراب قید میں ہے۔ امریکہ نے جو کارروائی کی ہے اور جس طرح اقوامِ متحدہ بے بس دکھائی دیتی ہے اِس طرح تو دیگر طاقتور ممالک بھی جارحانہ کارروائیاں کرسکتے ہیں جس سے دنیا کا امن تباہ ہوگا۔ اگر روس جیسی فوجی قوت اور چین جیسی معاشی طاقت نے وینزویلا کے خلاف ہونے والی جارحیت پر ٹھوس موقف اختیار نہ کیا تو شائد اُن کے دوست ممالک آئندہ اُن پر کم ہی اعتبار کریں گے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام! وجود جمعرات 08 جنوری 2026
وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام!

خواہش وجود بدھ 07 جنوری 2026
خواہش

گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار وجود بدھ 07 جنوری 2026
گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار

امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟ وجود بدھ 07 جنوری 2026
امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر