... loading ...
حمیداللہ بھٹی
وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی پر دنیا حیران اور پریشان ہے ،کیونکہ اِس سے اقوامِ متحدہ کے اُس چارٹر کی نفی ہوتی ہے جس کے آرٹیکل دو کی ذیلی شق چارکے مطابق تمام رُکن ممالک پربیرونی حملے غیر قانونی ہیں۔ لہٰذا بلا اشتعال کارروائی کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہتا۔ مگر دنیا کی واحد سُپرپاور کے صدر کے حکم پر امریکی افواج سمند ر پار معدنی دولت سے مالامال وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت کئی شہروں پر حملے کرتیں اور ایک آزادوخود مختار ملک کے صدرنکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے نیویارک لے آتی ہیں۔ بدمعاشی ، دہشت گردی اور اغوا کی اِس واردات کا امریکی حکومت فخریہ پرچار کررہی ہے ۔اِس کارروائی سے چھوٹے اور دفاعی لحاظ سے کمزور ممالک میں عدمِ تحفظ کااحساس دوچندہوگا جس کی وجہ سے اپنی آزادی و خودمختاری برقراررکھنے کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے پر مجبورہوں گے وگرنہ کسی بھی طاقتور ملک کی طرف سے آزادی وخودمختاری کو پامال کرتے ہوئے منتخب حکمرانوں کو اغوا کرنے کاخدشہ رہے گا اب ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہوگی اور کمزور ممالک کے معدنی وسائل کی لوٹ مار بھی ۔
ماضی کی طرح اب بھی طاقتورممالک کسی اصول،اخلاق یا قانون کو اہمیت نہیں دیتے یہ مہروں کواستعمال کرنے کے بعد انھیں بھی مار دیتے ہیں گزشتہ صدی کے اختتام 1989میں امریکہ نے پانامہ کے خلاف بھی ایسی نوعیت کی کارروائی کی تھی جس میں جنرل ڈکٹیٹر نوریگاکو نہ صرف فوجی آپریشن کے ذریعے گرفتار کرکے امریکہ لایا گیا بلکہ میامی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر سزابھی دی گئی۔ ایک اور اہم بات یہ کہ جنرل نوریگا نے سی آئی اے کے لیے بھی خدمات سرانجام دی تھیں مگر جب اقتدارمیں آکرعوامی مفادمیں آزادانہ فیصلے کرنے لگے تواُسے گرفتار کرکے اپنے ملک لاکرعبرت کانشان بنادیاگیا ۔
صدام حسین کے ذریعے آٹھ برس تک ایران ، عراق جنگ کرائی گئی۔ اِس جنگ میں دونوں طرف سے ہزاروں لوگ بے موت مارے گئے جب صدام حسین نے بے مقصد جنگ ختم کرنے کی عملی کوششیں شروع کیں تویہ کوششیں ہی اُس کی سزا کا موجب بن گئیں۔ عراق کوکویت پر قبضہ کرنے کاا شارہ کرتے ہوئے عدم مداخلت کی یقین دہانی کرائی گئی جب صدام حسین نے یہ حماقت کرلی تو 2003میں عراق کو تباہ اور صدام حسین کو عبرتناک طریقے سے ماردیا گیا۔ اصل بات صرف عراقی تیل پر کنٹرول حاصل کرنا تھا ۔امریکی کارروائی کے بعد آج تک عراق سنبھل نہیں سکا ۔رواں صدی کے پہلے عشرے میں لیبیا کے بارے میں بھی کیمیائی ہتھیارحاصل کرنے کاایساہی گمراہ کُن پراپیگنڈہ کیا گیا ۔کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو مجبور کیا گیا کہ اپنے والد کو تصفیہ کرنے کاکہیں کرنل قذافی کے خلاف مقامی بغاوت کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی گئی باغیوں کو تقویت دینے کے لیے لیبیا کی فوج پر فضائی حملے کیے آخرکار 2011میں کرنل قذافی کو مار دیا گیا ایران اور نائجیریا کے معدنی وسائل پر بھی نظر ہے، لیکن یہاں حکومتوں کی تبدیلی کا مقصد ابھی تک پورا نہیں ہو سکا۔ یہ پیغام ہے کہ مت بھولیں جو استعمال ہوتے ہیں ،وہ ہمیشہ منظورِ نظر نہیں رہیں گے بلکہ مقصد پوراہونے پرحرفِ غلط کی طرح مٹایاجاسکتاہے ۔
وینزویلا کے خلاف ہونے والی کارروائی نے اقوامِ متحدہ کی افادیت ختم کردی ہے کیونکہ یہ اِدارہ تنازعات ختم کرانے اور جنگیں روکنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ اِسے صرف طاقت ور ممالک کرتے ہیں اِس کی قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں یہ پانچ مستقل ممالک کا یرغمال ہے اسرائیل کے آگے بھی بے بس ہے ۔
کئی عشروں سے عالمی طاقتیں دنیا کے معدنی ذخائر پر کنڑول کی خواہشمند ہیں ۔ امریکہ ہر قیمت پرعالمی تجارت ڈالر میں چاہتا ہے مگر اِس وقت عالمی تجارت میں ڈالر کاحصہ ساٹھ فیصد ہے جبکہ دیگر کرنسیوں کا حصہ چالیس فیصد ہوچکاہے برکس جیسی تنظیم ڈالر کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ وینز ویلا تو ہیوگوشاویز کے دورسے امریکہ و اسرائیل کے خلاف سرگرم ہے ۔لبنا ن پر بلاجوازاسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کی اور غزہ پر بمباری کی پاداش میں اسرائیلی سفیر کو ملک سے ہی نکال دیا ۔ہیوگو کی وفات کے بعد نکولس مادورونے صدر بن کر مزید سخت فیصلے کیے اور امریکہ و اسرائیل مخالف ممالک سے تعلقات بنائے ایرانی ڈرونز اورہتھیاروں کے حصول کی کوششیں کیں ۔مزیدیہ کہ چین کو ارزاں نرخوں پر تیل و دیگر معدنیات دینا شروع کردیں۔ یہی اُن کاصل جُرم ہے اسی جُرم پرمادوروکے خلاف منشیات اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی امریکی ذرائع ابلاغ نے خبریں شائع کیںاور امریکہ نے 2025میں اُن کی گرفتاری پرانعامی رقم پچیس سے پچاس لاکھ ملین ڈالر کردی۔ یہ ایسے فیصلے تھے جن میں پوشیدپیغام نہ سمجھنے پر آج امریکی قید میں انجام کا منتظر ہے اگر سمجھ کر ملکی دفاع کے ساتھ اپنے حفاظتی انتظامات بہتر کرتا توصورتحال ایسی نہ ہوتی۔ وینزویلا لاطینی امریکہ کا وہ ملک ہے جس کے پاس تیل کے ذخائر سعودیہ ،قطراور ایران سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ تیل کی قیمت کم یا زیادہ کرسکتاہے، اسی بناپر ڈالر کے لیے خطرہ سمجھاجاتاہے اِس کے پاس دیگر معدنیات کابھی خزانہ ہے لیکن مادورو بروقت اپنے ملک کی اہمیت کا ادراک نہ کرسکااور گرفتارہے۔
اقوامِ متحدہ ،چین ،روس ،کیوبا،برازیل،شمالی کوریا،ایران سمیت دنیا بھر میں وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کی مذمت ہورہی ہے مگر امریکی رویے سے ایسا کوئی تاثر نہیں ملتا کہ وہ اپنے طرزِعمل پر نظرثانی کر سکتاہے ۔روس اور چین نے بھی جاندار موقف اختیارنہیں کیا۔ روس یوکرین میں الجھا ہے تو چین کو تائیوان کامسئلہ درپیش ہے اسی لیے شاید موقف میں نرمی ہے اب تو ایسے خدشات کا ظہار کیا جارہا ہے کہ اگلا نشانہ ایران ، افغانستان اور نائیجیریا بن سکتے ہیں۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ دنیا جارحیت کے خلاف ایسا متفقہ موقف اپنائے جو نتیجہ خیزثابت ہو ۔
صدرٹرمپ آٹھ جنگیں روکنے کاکریڈٹ لینے پر مُصر تھے مگرڈالر میں تجارت اور معدنیات پر تصرف کے لیے جارحیت سے انھیں نیک نامی حاصل نہیں ہوئی۔ غزہ پر جانبداری سے بھی اُن کے انصاف پسند ہونے کی نفی ہوئی ہے ۔ ایک طرف تو وینزویلا کے صدر کو اہلیہ سمیت اغوا کرایاہے لیکن عالمی عدالتِ انصاف سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود مجرم سے اعلانیہ ملتے اور پریس کانفرنسیں کرتے ہیں ۔دیدہ دلیری سے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے کے اعلانات کرتے ہیں ،یہ دُہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ وہ امن پسندنہیں بلکہ امن پسندی کالبادہ اوڑھا ہواہے، جسے مادوروجیسا شخص بروقت سمجھ نہ سکااوراب قید میں ہے۔ امریکہ نے جو کارروائی کی ہے اور جس طرح اقوامِ متحدہ بے بس دکھائی دیتی ہے اِس طرح تو دیگر طاقتور ممالک بھی جارحانہ کارروائیاں کرسکتے ہیں جس سے دنیا کا امن تباہ ہوگا۔ اگر روس جیسی فوجی قوت اور چین جیسی معاشی طاقت نے وینزویلا کے خلاف ہونے والی جارحیت پر ٹھوس موقف اختیار نہ کیا تو شائد اُن کے دوست ممالک آئندہ اُن پر کم ہی اعتبار کریں گے۔
٭٭٭