... loading ...
خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم ہے، خیبر پختونخوا میں آپریشن نہیں کرنا تو کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر
وزیر اعلیٰ کے پی فرما رہے ہیں کابل ہماری سکیورٹی کی گارنٹی دے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا؟کسی کی ذات پاکستان سے بڑی نہیں،جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشونہیں ہے، سیاست،سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ وہ بحران کا حل نکالیں۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ پاکستان کی سالمیت کی جنگ ہے، کسی کی ذات پاکستان سے بڑی نہیں ہے، جو کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے کیا ان کی شخصیت ملک سے بڑھ کر ہے؟ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ریاست اپنے ایک ایک بچے کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے، منگل کو ایک تفصیلی کانفرنس کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد گزشتہ سال میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا جامع احاطہ کرنا ہے، یہ صرف فوج کی جنگ نہیں، یہ قوم کے بچے بچے کی جنگ ہے، دہشت گردوں کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو یہ گھروں، بازاروں، گلیوں، دفتروں میں آکر پھٹیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کی جنگ دو دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے، دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان اورعوام کے درمیان ایک مکمل کلیرٹی حاصل ہوئی، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کے لیے ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے لیے موافق سیاسی فضا موجود ہے، خیبرپختونخوا میں کرمنل ٹیرر گٹھ جوڑ موجود ہے جس کی وجہ سے 2021 سے 2025 تک خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے زیادہ واقعات ہوئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں، فتنہ الہندوستان کا بلوچستان اوربلوچیت سے کوئی تعلق نہیں، فوج، پولیس،ایف سی اورانٹیلی جنس ایجنسیوں نے 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے، 14ہزار 658 آپریشن خیبرپختونخوا میں کیے گئے، 58 ہزار 778 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بلوچستان میں کیے گئے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ گزشتہ سال 2597دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، دہشت گردی کی جنگ میں ہماری 1235شہادتیں ہوئیں، پچھلے سال 27خودکش واقعات ہوئے، خیبرپختونخوا میں 16،بلوچستان 10اورایک اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ہوا، 3ہزار811 دہشت گردی کے واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے، 2021سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشت گردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشتگردی کے لیے پرعزم ہے، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف واضح موقف ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں، القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریبا اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، ان میں ایک بھی پاکستانی نہیں، یہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے، افغانستان کے ہمسایہ ممالک اس صورتحال کے باعث دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان سے انخلا کے وقت بڑی مقدار میں جدید اسلحہ چھوڑ کر گیا، جو اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے، یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور ان گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں اور یہ معاملہ علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کیے جائیں، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا میں مسجد پر حملہ کیا، فیلڈ مارشل نے خود پشاور کا دورہ کر کے اس مسجد کے ملبے پر کھڑے ہوکر دہشتگردی کے خلاف واضح موقف دیا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کسی بھی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بناکر پیش کرتا ہے جبکہ وار اکانومی کرتا ہے، وار اکانومی کو چلانے کیلئے وہ جنگ کو دہشتگردی کی شکل میں پورے ریجن میں پھیلایا جاتا ہے، ان کو وار اکانومی کی عادت پڑی ہوئی ہے، یہ واراکانومی کیلئے نئے سپانسر ڈھونڈتے ہیں، ہندوستان کے پیسے اورسرپرستی سے افغانستان سے دہشتگردی ہورہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں، پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان کو نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشتگردوں کے بیانات اور گفتگو بھی چلائی اور کہا کہ گرفتار دہشت گردوں نے افغانستان کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا، افغان باشندوں کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال دہشتگردی کے 10بڑے واقعات ہوئے، بنوں کینٹ،جعفرایکسپریس،نوشکی میں سول بس اور خضدار میں سکول بس کو نشانہ بنایا گیا، فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز، ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ سکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پشاور میں دوبارہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، تمام بڑے 10دہشتگردی کے واقعات میں افغانی ملوث پائے گئے، حملہ کرنے والا ہر افغانی مارا جاتا ہے، بارڈر بند کرنے سے دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دنیا نے دیکھا کہ معرکہ حق میں ہندوستان کا منہ کالا کیا گیا، بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشتگردی کو خوب ہوا دی، اکتوبر 2025 میں دہشت گردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے، یہ حق ہندوستان کوکسی نے نہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفراسٹرکچرکو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ فوج کی جنگ ہے، یہ پوری قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، اگر دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا گیا تو کل آپ کے سکولوں، بازاروں، دفاتر اور گلیوں میں دہشتگرد حملے ہو رہے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک بیانیہ بنایاجاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، ان کا سرپرست اعلی ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے، خارجیوں نے مسلح آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، یہ مساجد، عوامی جگہوں اور گھروں کو استعمال کرتے ہیں، خارجیوں کا ایک خاص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرتا ہے، سرویلنس کے لیے ڈرونز کا استعمال ہوتا ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشتگردی کرتے ہیں، پاک فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کیلیے پرعزم ہے، دہشت گردوں کیخلاف ہرطریقے سے لڑیں گے، ہم نے جنازے اٹھائے ہیں ہم ان کو ختم گے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے آخری کونے تک جائیں گے، فتنہ الخوراج کے مراکزافغانستان میں ہے،ریاست اپنے ایک ایک بچے،شہری کا تحفظ کررہی ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ پاکستان کی سالمیت کی جنگ ہے، کسی کی ذات پاکستان سے بڑی نہیں ہے، جو کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے کیا ان کی شخصیت ملک سے بڑھ کر ہے؟وانا میں معصوم بچوں پرحملہ ہوا،پولیس،ایف سی،سویلین کیا صوبے میں شہید نہیں ہورہے؟ کہتے ہیں کابل سے سکیورٹی کی بھیک مانگیں گے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کسی کی سیاست پاکستان سے بڑھ کر نہیں،حکومتیں بااختیار ہوتی ہے، ادارے بااختیار نہیں جس طرح ہونے چاہئیں جو ابھی بھی کہتے ہیں بات چیت سے مسئلے حل کریں ان سے پوچھیں طالبان سے کیا محبت ہے، ہمارا کام دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی قوم کے سامنے لانا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ فیلڈ مارشل کی ہدایت ہے کہ ان سے کوئی بات چیت نہیں کرنی، ہماری طرف سے کلیریٹی ہے، یہ خوراج ہیں اِن سے لڑنا ہے، ان کو کوئی سپیس نہیں دینی، دہشتگردوں کا کوئی ایمان نہیں، ہم حق پر ہیں اور حق نے غالب آنا ہے، ہمیں کسی دہشتگرد سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان سے2021سے بارہا مذاکرات کیے،کابل میں افغان طالبان کا ہی رول ہے،دوطرفہ بات چیت سیکوئی فائدہ نہیں ہوا، ہمارے نزدیک دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ماضی میں وزیراعظم نے اس وقت کے آرمی چیف کو باپ ڈکلیٔر کیا، یہ بیانیہ مضحکہ خیز ہے کہ ہم بے اختیار تھے، ایک لیڈر اپنی جماعت کو ایک آمرکی طرح چلاتا رہا، وہ شخص کہتا ہے میں بے اختیار تھا، ہم تو سمجھتے ہیں قوم کا ایک ہی باپ قائداعظم محمدعلی جناح ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کوسیاست کیلئے استعمال کیا گیا، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں،صوبے برابرہیں، آئین اورقانون ملک کے عوام کوتحفظ فراہم کرتا ہے، بارڈر بندش کے فوائد نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ توکہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے، سکیورٹی ہیبت اللہ سے لیں گے، کوئی مذاق ہے خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کے حوالیکردیں، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے، اگر ملک میں سکیورٹی ہو گی تو کاروبار ہو گا، جان ہے تو جہان ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ امن کے بغیر خیبرپختونخوا میں ترقی نہیں ہو گی، جو حکومت ہوتی ہے وہی ریاست ہوتی ہے اس نے پورے ملک کو لیکر چلنا ہوتا ہے، معاملات کا حل ان کے پاس ہے، حکومت کے ساتھ باقی ادارے مکمل ہم آہنگی کیساتھ چل رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ جو سیاسی ایشو ہے اس کو سیاست دان بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں، پاکستان کی معیشت افغانستان سے نہیں جڑی ہوئی، ان کے کہنے پر کیا پاکستان اپنی فوج بارڈر سے اٹھا دے؟ افغانستان میں افغان عوام بھی دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغانیوں کوخود فیصلہ کرنا ہے کہ قابض گروپ کیساتھ کیسے ڈیل کریں، ہم پاکستان کی سکیورٹی اوربارڈرکے ذمہ دارہیں، سیکورٹی فورسزکا کام علاقوں کودہشت گردوں سے کلیٔرکرانا ہے،آپ کے سامنے سوات کا ماڈل ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم نے بہت سارے علاقوں کو کلیرکیا پھر دوبارہ شہادتیں دیں، اِس سال 2500 دہشت گرد مارے گئے، ملٹری، سیاسی لیڈر شپ میں بالکل کلیریٹی ہے، دہشت گردوں نے دائیں، بائیں یا اکٹھے آنا ہے براہِ راست آنا ہے جسے مرضی آجائیں، ایک بار مزہ نہ آئے تو پیسے واپس۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جس سیاسی جماعت نے بات کرنی ہے حکومت سے کرے، ہمارا کام سیاسی جماعتوں سے بات کرنا نہیں، ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشونہیں ہے، سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے وہ کوئی حل نکالیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ سوشل میڈیا کودہشت گردی کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، ریاست نے سوشل میڈیا کیخلاف کچھ اچھے قوانین بنائے ہیں، خیبرپختونخوا میں غربت کا بھی مسئلہ ہے، بلوچستان حکومت نے ضلعی، تحصیل لیول پر پیسیکو منتقل کیا۔ترجمان پاک فوج کا خیبرپختونخوا سے متعلق سوال کے جواب میں مزید کہنا تھا کہ پیسے کی کمی نہیں ہے، اللہ تھوڑے پیسے میں بھی برکت ڈال دیتا ہے، پیسہ عوام پر لگایا جائے تو مسائل حل ہو جائیں گے، عوام کوبیانیہ میں الجھانے اور کنفوژن میں ڈالنے کے بجائے مسائل حل کریں،ایک سوال کے جواب میںآئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور سیکیورٹی فورسز ایک مشترکہ موقف رکھتی ہیں، اور اس قومی بیانیے سے ہمیں کوئی بھی ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، وزیراعلی خیبرپختونخوا کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، اگر دہشتگردوں کے خلاف آپریشن نہیں کرنا تو کیا ان کے پیروں میں بیٹھنا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چین کے خلاف ای ٹی آئی ایم اور وسطی ایشیا کے خلاف آئی ایم یو بھی افغانستان میں سرگرم ہیں، جبکہ مختلف نسلوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد عناصر افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ریجنل سطح پر متعدد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں اور مختلف مسلم پراکسیز کو مختلف ممالک سے فنڈنگ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق قریبا 7.2 ملین ڈالر کی فنڈنگ دہشتگردوں تک پہنچائی گئی، جبکہ بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر حفاظتی آلات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اندرونی سیاسی دھڑے بندی اور حکومتی کمزوری نے دہشتگردوں کی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا۔ افغان طالبان نے مختلف سطحوں پر مکمل عملداری کے ساتھ گریڈ گیم کھیلا، جس کے نتیجے میں دہشتگرد نیٹ ورکس مضبوط ہوئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ 2021 کے بعد افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو منظم کرنا شروع کیا اور بطور مدر آرگنائزیشن ٹی ٹی پی کی تنظیمِ نو کی جاتی رہی۔ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان طرز کا تنظیمی ڈھانچہ دیا گیا، جس میں تربیت، ڈائریکشن اور اسٹریٹیجک گائیڈنس شامل تھی۔انہوں نے کہا کہ افغان طالبان نے امریکا اور اتحادی افواج کے خلاف کامیابی کا ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا، حالانکہ اس کامیابی کے پسِ پردہ اصل عوامل مختلف تھے، جنہیں دانستہ طور پر چھپایا گیا۔ اسی دوران افغانستان میں وار اکانومی دہشتگردی کے لیے ایک اہم ایندھن بن گئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بین الاقوامی فنڈنگ رکنے کے بعد دہشتگردی کو آمدن کے مستقل ذریعے کے طور پر اپنایا گیا اور وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشتگردی پورے خطے میں پھیلائی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا ہدف اور سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کے پیچھے واضح سیاسی محرکات، سہولت کاری اور منظم حکمت عملی موجود ہے اور افغانستان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کے براہ راست اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر مرتب ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جو حکومت ہوتی وہی ریاست ہوتی ہے، حکومت کو ہم سے بہتر پتا ہے معلومات لینے کے لیے ان کے پاس اور بھی ذرائع ہوتے ہیں، گورنرراج لگانا یا نہ لگانا ان کا فیصلہ ہے،آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستانی عوام، پولیس، فوج اور ایف سی کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہدا ملک کے تحفظ اور مستقبل کے لیے جانیں قربان کر گئے۔ قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کا مقف غیر متزلزل، قانونی اور دفاعی ہے۔ بھارت کی جانب سے ایک بار پھر ممکنہ حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں احمد شریف چوہدری نے کہاکہ ہماری قیادت مکمل کلیٔر ہے کہ آپ نے دائیں سے آنا ہے یا بائیں سے، کسی کے ساتھ آنا ہے یا اکیلے آنا ہے۔ ایک بار مزہ نہ کرا دیا تو پیسے واپس۔
صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائ...
زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے ...
ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکم...
سلمان اکرم راجاکا بیرسٹر گوہر سے متعلق بیان، واٹس ایپ گروپس میں شدید تنقید،ذرائع سیکریٹری جنرل نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا وہ پارٹی میں گروپنگ کر رہے ہیں، اراکین پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیرسٹر گوہر کے بیان کے بعد پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے، پ...
منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے،غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے،حکومتی ذرائع حکومتی وفد تیار ،ابھی تک مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا، ذرائع اسپیکر آفس وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگ...
اب تک کہیں سے اشارہ نہیں ملا ، بانی پی ٹی آئی سے ہم ملے گے ان سے مکالمہ ہو گا،ہدایت لیں گے پھر ان سے بات ہوسکتی ہے،سلمان اکرم راجا کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار سندھ حکومت احسان نہیں کر رہی، سہیل آفریدی کو پروٹوکول دینا آئینی حق ،رانا ثنا 5 بڑوں وال...
مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا 9 سے 11 جنوری تک سندھ کا تاریخی دورہ کریں گے،پی ٹی آئی آٹھ فروری یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ...
ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے ،امریکی صدرکی نائب صدر وینزویلا کو دھمکی واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کر دے ...
روشنیوں کا شہر مختلف مسائل کا شکار، ٹوٹی سڑکیں، کھلے نالوں نے شہر کی شکل بگاڑ دی،ماہرین نے صحت کیلئے ہولناک قرار دیدیا ان فوڈ اسٹریٹس اور غذائی اسٹالز میں پہلے ہی حفظان صحت کے اصولوں کا فقدان ہے رہی سہی کسر اڑتی دھول مٹی نے پوری کردی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی مختلف مسا...
15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا،صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن...
پنجاب میں احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا میں شاہد خٹک کریں گے جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے رہیں احتجاج ہر صورت ہوگا، پارٹی ذرائع پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لی...