وجود

... loading ...

وجود

خواہش

بدھ 07 جنوری 2026 خواہش

بے نقاب /ایم آر ملک

یہ سال اگر واقعی کسی ایک شناخت، کسی ایک نعرے اور کسی ایک اجتماعی خواہش کا ترجمان ہو سکتا ہے تو بلا مبالغہ اسے بابوں سے نجات کا سال کہا جانا چاہیے۔ یہاں بابوں سے مراد وہ بزرگ نہیں جو عمر کے ساتھ دانائی، شائستگی اور تحمل لے آتے ہیں، بلکہ وہ مخصوص طبقہ ہے جو عمر کو تجربے کا نہیں، اختیار کا ہتھیار بنا لیتا ہے۔ وہ لوگ جو دہائیوں سے اداروں پر قابض ہیں، جن کے لیے کرسی خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ طاقت کا ستون بن چکی ہے، اور جو ہر نئی سوچ، ہر تازہ آواز اور ہر بدلتے تقاضے کو”ہم نے بھی جوانی میں ایسے خواب دیکھے تھے” کہہ کر دفن کر دیتے ہیں۔ یہ بابا کوئی فرد نہیں، ایک ذہنیت ہے، ایک رویہ ہے، ایک ایسا وائرس ہے جو اداروں کے اندر خاموشی سے پھیلتا ہے اور پھر پورے نظام کو مفلوج کر دیتا ہے۔سہیل وڑائچ نے ایک کالم لکھ کر اپنے آپ کو اسی صف میں شامل کیا ہے کہ صحافت کے شعبے پر بھی ایسے بابے قابض ہیں ۔
اصل مسئلہ عمر رسیدہ ہونا نہیں، اصل مسئلہ عہد رسیدہ ہونا ہے۔ عمر اگر سوچ کو وسعت دے تو نعمت ہے، لیکن جب عمر سوچ کو جامد کر دے تو وہی عمر بوجھ بن جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ستر، اسی اور نوّے برس کے لوگ اداروں میں موجود ہیں، مگر وہاں وہ رہنمائی کرتے ہیں، راستہ دیتے ہیں، نئی قیادت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ جو کرسی پر بیٹھ جائے، وہ کرسی کو ہی اپنا کفن بنا لیتا ہے۔ یہاں ریٹائرمنٹ عزت کا مرحلہ نہیں بلکہ خوف کی علامت ہے، اس لیے بابا ہر ممکن طریقے سے رخصت کو مؤخر کرتا ہے۔ کبھی قانون میں سقم ڈھونڈ لیا جاتا ہے، کبھی توسیع کی درخواست دے دی جاتی ہے، کبھی مشیر بن کر واپسی ہوتی ہے اور کبھی کسی کمیٹی، ٹاسک فورس یا بورڈ کے نام پر دوبارہ قبضہ جما لیا جاتا ہے۔کبھی وہ سمجھتا ہے کہ صحافت اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
بابا ہر میٹنگ میں سب سے پہلے بولتا ہے، سب سے آخر میں مانتا ہے اور اکثر مانتا ہی نہیں۔ اس کا سب سے پسندیدہ جملہ یہی ہوتا ہے کہ ”یہ یہاں نہیں چل سکتا”۔ یہ جملہ دراصل کسی دلیل کا جواب نہیں بلکہ خوف کا اظہار ہوتا ہے۔ خوف اس بات کا کہ اگر یہ نیا طریقہ چل گیا تو بابا غیر متعلق ہو جائے گا۔ اگر یہ نوجوان کامیاب ہو گیا تو بابا کی اجارہ داری ٹوٹ جائے گی۔ اگر یہ سسٹم ڈیجیٹل ہو گیا تو بابا کی فائلیں بولنا بند کر دیں گی۔ اس لیے بابا کمپیوٹر سے خائف، ای میل سے بدظن اور سوشل میڈیا سے نالاں رہتا ہے۔ اس کے نزدیک ہر نئی چیز سازش ہوتی ہے اور ہر نوجوان وقتی جوش کا شکار۔
نوجوان بابا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، کیونکہ نوجوان سوال کرتا ہے۔ وہ”کیوں” پوچھ لیتا ہے، اور بابا کو”کیوں”سے ہمیشہ الرجی رہی ہے۔ بابا چاہتا ہے کہ نوجوان خاموش رہے، سر جھکا کر سلام کرے، فائل اٹھائے، حکم مانے اور پچیس سال بعد خود بابا بن جائے۔ یہی وہ تسلسل ہے جس نے ہمارے اداروں کو آگے بڑھنے کے بجائے ایک ہی دائرے میں گھماتے رکھا ہے۔ یہاں تربیت کے نام پر اطاعت سکھائی جاتی ہے اور تجربے کے نام پر جمود منتقل کیا جاتا ہے۔اداروں پر قابض یہ بابا سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ نہ یہ خود چلتے ہیں، نہ کسی اور کو چلنے دیتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی مہارت یہ ہے کہ وہ کام کو کام بننے ہی نہیں دیتے۔ فائل روکی جاتی ہے، سمری لٹکائی جاتی ہے، فیصلے مؤخر کیے جاتے ہیں اور ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ پچھلے پندرہ یا بیس برس میں کون سی اصلاح کی، کون سا نظام بہتر بنایا، کون سا نوجوان تیار کیا تو جواب ملتا ہے کہ ”سسٹم ہی خراب ہے”۔ گویا سسٹم کسی اور سیارے سے آیا تھا اور بابا صرف اس کا مظلوم شکار ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی بابا اس سسٹم کا سب سے بڑا معمار بھی ہے اور سب سے مضبوط محافظ بھی۔
تعلیم میں بابا نصاب سے ایسے چمٹا ہوا ہے جیسے نصاب اس کی ذاتی جاگیر ہو۔ وہ آج بھی رٹے کو علم اور نمبر کو ذہانت سمجھتا ہے۔ سوال کرنے والا طالب علم اسے گستاخ لگتا ہے اور تحقیق کرنے والا طالب علم خطرناک۔ صحافت میں بابا آج بھی خبر کو”اوپر سے فون آیا ہے” کے ترازو میں تولتا ہے۔ اس کے نزدیک خبر وہی ہے جو طاقتور کو خوش کرے اور صحافی وہی ہے جو خاموشی سے لائن پر چلتا رہے۔ بیوروکریسی میں بابا فائل کا دیوتا بن چکا ہے، جہاں فائل کی رفتار کام کی رفتار سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔یہ سب بابا ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ واقعی انہوں نے بہت کچھ دیکھا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ انہوں نے دیکھ کر بھی کچھ سیکھا نہیں۔ انہوں نے تبدیلی کو آتے دیکھا اور دروازہ بند کر لیا، انہوں نے دنیا کو آگے بڑھتے دیکھا اور خود وہیں کھڑے رہے جہاں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ادارے وقت سے پیچھے رہ گئے اور قوم تجربے کے نام پر جمود کا شکار ہو گئی۔
یہ بات بار بار دہرانا ضروری ہے کہ بابوں سے نجات کا مطلب بزرگوں کی بے توقیری نہیں۔ یہ تجربے کی توہین نہیں، یہ عمر کی نفی نہیں۔
نجات کا مطلب یہ ہے کہ تجربہ رہنمائی کرے، قابض نہ بنے؛ عمر مشورہ دے، دیوار نہ بنے؛ اور ادارے شخصیات کے بجائے اصولوں کے
تحت چلیں۔ جو بابا واقعی دانا ہے، وہ خود راستہ دے گا، اور جو ضدی ہے، اسے وقت خود ہٹا دے گا۔یہ سال اگر واقعی نیا سال بننا ہے تو اسے
کرسیوں کی میعاد طے کرنا ہوگی۔ اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ کوئی بھی عہدہ دائمی نہیں، کوئی بھی منصب موروثی نہیں اور کوئی بھی ادارہ کسی ایک فرد
کا محتاج نہیں۔ نوجوان کو شک کی نظر سے نہیں بلکہ اعتماد کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ ریٹائرمنٹ کو ذلت نہیں بلکہ اعزاز کا درجہ دینا ہوگا، تاکہ تجربہ
عزت کے ساتھ الگ ہو اور نئی قیادت ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھے۔اگر ہم نے اس سال بھی وہی پرانے بابا، وہی گھسے پٹے چہرے اور
وہی فرسودہ سوچ کو نجات دہندہ سمجھ لیا، اگر ادارے پھر انہی کے حوالے کیے اور نئی نسل کو پھر”بعد میں”کہہ کر ٹال دیا تو یاد رکھیے، تاریخ ہمیں
معاف نہیں کرے گی۔ آنے والی نسل ہمیں بھی اسی قطار میں کھڑا کر دے گی جسے آج ہم طنزاً بابا کہتے ہیں۔یہ وقت بابوں سے نجات کا ہے،
یہ وقت اداروں کی واپسی کا ہے، یہ وقت نئی سوچ، نئی قیادت اور نئے اعتماد کا ہے۔ اگر یہ سال بھی نہ بدلا تو پھر سال تو بدلتے رہیں گے،
کیلنڈر کے ورق پلٹتے رہیں گے، مگر ہم وہیں کھڑے رہیں گے، باباؤں کی لمبی قطار میں، کسی نئے کالم کا موضوع بننے کے لیے تیار۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام! وجود جمعرات 08 جنوری 2026
وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام!

خواہش وجود بدھ 07 جنوری 2026
خواہش

گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار وجود بدھ 07 جنوری 2026
گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار

امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟ وجود بدھ 07 جنوری 2026
امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر