... loading ...
بے نقاب /ایم آر ملک
یہ سال اگر واقعی کسی ایک شناخت، کسی ایک نعرے اور کسی ایک اجتماعی خواہش کا ترجمان ہو سکتا ہے تو بلا مبالغہ اسے بابوں سے نجات کا سال کہا جانا چاہیے۔ یہاں بابوں سے مراد وہ بزرگ نہیں جو عمر کے ساتھ دانائی، شائستگی اور تحمل لے آتے ہیں، بلکہ وہ مخصوص طبقہ ہے جو عمر کو تجربے کا نہیں، اختیار کا ہتھیار بنا لیتا ہے۔ وہ لوگ جو دہائیوں سے اداروں پر قابض ہیں، جن کے لیے کرسی خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ طاقت کا ستون بن چکی ہے، اور جو ہر نئی سوچ، ہر تازہ آواز اور ہر بدلتے تقاضے کو”ہم نے بھی جوانی میں ایسے خواب دیکھے تھے” کہہ کر دفن کر دیتے ہیں۔ یہ بابا کوئی فرد نہیں، ایک ذہنیت ہے، ایک رویہ ہے، ایک ایسا وائرس ہے جو اداروں کے اندر خاموشی سے پھیلتا ہے اور پھر پورے نظام کو مفلوج کر دیتا ہے۔سہیل وڑائچ نے ایک کالم لکھ کر اپنے آپ کو اسی صف میں شامل کیا ہے کہ صحافت کے شعبے پر بھی ایسے بابے قابض ہیں ۔
اصل مسئلہ عمر رسیدہ ہونا نہیں، اصل مسئلہ عہد رسیدہ ہونا ہے۔ عمر اگر سوچ کو وسعت دے تو نعمت ہے، لیکن جب عمر سوچ کو جامد کر دے تو وہی عمر بوجھ بن جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ستر، اسی اور نوّے برس کے لوگ اداروں میں موجود ہیں، مگر وہاں وہ رہنمائی کرتے ہیں، راستہ دیتے ہیں، نئی قیادت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ جو کرسی پر بیٹھ جائے، وہ کرسی کو ہی اپنا کفن بنا لیتا ہے۔ یہاں ریٹائرمنٹ عزت کا مرحلہ نہیں بلکہ خوف کی علامت ہے، اس لیے بابا ہر ممکن طریقے سے رخصت کو مؤخر کرتا ہے۔ کبھی قانون میں سقم ڈھونڈ لیا جاتا ہے، کبھی توسیع کی درخواست دے دی جاتی ہے، کبھی مشیر بن کر واپسی ہوتی ہے اور کبھی کسی کمیٹی، ٹاسک فورس یا بورڈ کے نام پر دوبارہ قبضہ جما لیا جاتا ہے۔کبھی وہ سمجھتا ہے کہ صحافت اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
بابا ہر میٹنگ میں سب سے پہلے بولتا ہے، سب سے آخر میں مانتا ہے اور اکثر مانتا ہی نہیں۔ اس کا سب سے پسندیدہ جملہ یہی ہوتا ہے کہ ”یہ یہاں نہیں چل سکتا”۔ یہ جملہ دراصل کسی دلیل کا جواب نہیں بلکہ خوف کا اظہار ہوتا ہے۔ خوف اس بات کا کہ اگر یہ نیا طریقہ چل گیا تو بابا غیر متعلق ہو جائے گا۔ اگر یہ نوجوان کامیاب ہو گیا تو بابا کی اجارہ داری ٹوٹ جائے گی۔ اگر یہ سسٹم ڈیجیٹل ہو گیا تو بابا کی فائلیں بولنا بند کر دیں گی۔ اس لیے بابا کمپیوٹر سے خائف، ای میل سے بدظن اور سوشل میڈیا سے نالاں رہتا ہے۔ اس کے نزدیک ہر نئی چیز سازش ہوتی ہے اور ہر نوجوان وقتی جوش کا شکار۔
نوجوان بابا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، کیونکہ نوجوان سوال کرتا ہے۔ وہ”کیوں” پوچھ لیتا ہے، اور بابا کو”کیوں”سے ہمیشہ الرجی رہی ہے۔ بابا چاہتا ہے کہ نوجوان خاموش رہے، سر جھکا کر سلام کرے، فائل اٹھائے، حکم مانے اور پچیس سال بعد خود بابا بن جائے۔ یہی وہ تسلسل ہے جس نے ہمارے اداروں کو آگے بڑھنے کے بجائے ایک ہی دائرے میں گھماتے رکھا ہے۔ یہاں تربیت کے نام پر اطاعت سکھائی جاتی ہے اور تجربے کے نام پر جمود منتقل کیا جاتا ہے۔اداروں پر قابض یہ بابا سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ نہ یہ خود چلتے ہیں، نہ کسی اور کو چلنے دیتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی مہارت یہ ہے کہ وہ کام کو کام بننے ہی نہیں دیتے۔ فائل روکی جاتی ہے، سمری لٹکائی جاتی ہے، فیصلے مؤخر کیے جاتے ہیں اور ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ پچھلے پندرہ یا بیس برس میں کون سی اصلاح کی، کون سا نظام بہتر بنایا، کون سا نوجوان تیار کیا تو جواب ملتا ہے کہ ”سسٹم ہی خراب ہے”۔ گویا سسٹم کسی اور سیارے سے آیا تھا اور بابا صرف اس کا مظلوم شکار ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی بابا اس سسٹم کا سب سے بڑا معمار بھی ہے اور سب سے مضبوط محافظ بھی۔
تعلیم میں بابا نصاب سے ایسے چمٹا ہوا ہے جیسے نصاب اس کی ذاتی جاگیر ہو۔ وہ آج بھی رٹے کو علم اور نمبر کو ذہانت سمجھتا ہے۔ سوال کرنے والا طالب علم اسے گستاخ لگتا ہے اور تحقیق کرنے والا طالب علم خطرناک۔ صحافت میں بابا آج بھی خبر کو”اوپر سے فون آیا ہے” کے ترازو میں تولتا ہے۔ اس کے نزدیک خبر وہی ہے جو طاقتور کو خوش کرے اور صحافی وہی ہے جو خاموشی سے لائن پر چلتا رہے۔ بیوروکریسی میں بابا فائل کا دیوتا بن چکا ہے، جہاں فائل کی رفتار کام کی رفتار سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔یہ سب بابا ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ واقعی انہوں نے بہت کچھ دیکھا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ انہوں نے دیکھ کر بھی کچھ سیکھا نہیں۔ انہوں نے تبدیلی کو آتے دیکھا اور دروازہ بند کر لیا، انہوں نے دنیا کو آگے بڑھتے دیکھا اور خود وہیں کھڑے رہے جہاں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ادارے وقت سے پیچھے رہ گئے اور قوم تجربے کے نام پر جمود کا شکار ہو گئی۔
یہ بات بار بار دہرانا ضروری ہے کہ بابوں سے نجات کا مطلب بزرگوں کی بے توقیری نہیں۔ یہ تجربے کی توہین نہیں، یہ عمر کی نفی نہیں۔
نجات کا مطلب یہ ہے کہ تجربہ رہنمائی کرے، قابض نہ بنے؛ عمر مشورہ دے، دیوار نہ بنے؛ اور ادارے شخصیات کے بجائے اصولوں کے
تحت چلیں۔ جو بابا واقعی دانا ہے، وہ خود راستہ دے گا، اور جو ضدی ہے، اسے وقت خود ہٹا دے گا۔یہ سال اگر واقعی نیا سال بننا ہے تو اسے
کرسیوں کی میعاد طے کرنا ہوگی۔ اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ کوئی بھی عہدہ دائمی نہیں، کوئی بھی منصب موروثی نہیں اور کوئی بھی ادارہ کسی ایک فرد
کا محتاج نہیں۔ نوجوان کو شک کی نظر سے نہیں بلکہ اعتماد کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ ریٹائرمنٹ کو ذلت نہیں بلکہ اعزاز کا درجہ دینا ہوگا، تاکہ تجربہ
عزت کے ساتھ الگ ہو اور نئی قیادت ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھے۔اگر ہم نے اس سال بھی وہی پرانے بابا، وہی گھسے پٹے چہرے اور
وہی فرسودہ سوچ کو نجات دہندہ سمجھ لیا، اگر ادارے پھر انہی کے حوالے کیے اور نئی نسل کو پھر”بعد میں”کہہ کر ٹال دیا تو یاد رکھیے، تاریخ ہمیں
معاف نہیں کرے گی۔ آنے والی نسل ہمیں بھی اسی قطار میں کھڑا کر دے گی جسے آج ہم طنزاً بابا کہتے ہیں۔یہ وقت بابوں سے نجات کا ہے،
یہ وقت اداروں کی واپسی کا ہے، یہ وقت نئی سوچ، نئی قیادت اور نئے اعتماد کا ہے۔ اگر یہ سال بھی نہ بدلا تو پھر سال تو بدلتے رہیں گے،
کیلنڈر کے ورق پلٹتے رہیں گے، مگر ہم وہیں کھڑے رہیں گے، باباؤں کی لمبی قطار میں، کسی نئے کالم کا موضوع بننے کے لیے تیار۔
٭٭٭