... loading ...
ریاض احمدچودھری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت حق خود ارادیت کے مطالبے کی پاداش میں کشمیریوں کو بے انتہا مظالم کا نشانہ بنارہا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے 5 جنوری 1949 کوکشمیریوں کے حق خود ارادیت کے بارے میں پاس کی گئی قرار دا د پر عملد رآمد میں واحد رکاوٹ بھارت کی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے مسئلہ کشمیرکا اقوام متحدہ کی قرار ادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ناگزیر ہے۔
سال 2025 میں بھی بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر رہی اور قابض بھارتی فورسز نے تین خواتین اور سات کم عمر لڑکوں سمیت 84 کشمیری شہید کیے۔ کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ان میں سے 34 افراد کو فرضی مقابلوں اور دوران حراست شہید کیا گیا۔ ان شہادتوں کے نتیجے میں 11 خواتین بیوہ اور 33 بچے یتیم ہوئے۔ بھارتی فورسز نے گزشتہ برس 41 املاک کو تباہ کیا جن میں زیادہ تر رہائشی مکانات ہیں حریت کارکنان، نوجوانوں، ڈاکٹروں، علمائے کرام، خواتین اور صحافیوں سمیت 7ہزار 4سو 88 افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان میں سے بیسیوں کے خلاف” پبلک سیفٹی ایکٹ اوریو اے پی اے” جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
حکام نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور عیدگاہ میں عیدیں کی نماز ادانہیں کرنے دی جبکہ جامع مسجد کو کئی مرتبہ سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو یہاں جمعہ کی نماز ادا نہیں کرنے دی۔ دسمبر 2025 میں بھارتی فورسز نے علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی 480 کارروائیوں کے دوران 263 کشمیریوں کو گرفتار کیا۔2025 میں 213 جائیدادوں پر قبضہ کیا گیا۔ کئی کشمیری سرکاری ملازمین برطرف کر کے انہیں معاشی مشکلات کی طرف دھکیلا گیا۔ اعداد وشمار کے مطابق نومبر 2025 تک مقبوضہ علاقے میں رجسٹرڈ بیروزگار نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر 357,328 ہو گئی ہے۔رپورٹ میںکہا گیا کہ حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد اسلام، فاروق احمد ڈار، مولوی بشیر احمد، بلال صدیقی، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر حمید فیاض، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، محمد رفیق گنائی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، غلام قادر بٹ، ڈاکٹر شفیع شریعتی ، انسانی حقوق کے محافظ خرم پرویز دہلی کے تہاڑ جیل اور دیگر جیلوں سیاسی مقدمات میں نظر بند ہیں۔ 5 اگست 2019 سے، جب بھارتی ہندو قوم پرست بی جے پی حکومت نے غیر قانونی پر مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کی بھارتی فوجیوں، پیراملٹری اور پولیس اہلکاروں نے اب تک 1ہزار 48 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ گزشتہ 37 سالوں میں 96ہزار4سو 81 کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔
بھارتی فورسز نے ضلع پونچھ میں کنٹرول لائن کے قریب دیہات اور جنگلاتی علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آپریشن کے باعث مقامی آبادی کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ضلع اسلام آباد کے رہائشیوں نے علاقے سے نکالی جانے والی ریلوے لائن کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے انکی روزی روٹی کا واحد ذریعہ باغات اور کھیت تباہ ہو جائیں گے۔انہوں نے خبر دار کیا اگر منصوبے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو وہ اپنے احتجاج میں شدت لائیں گے۔بھارتی شہروں میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے کشمیری طلباء ، تاجروں کو ہراساں کیے جانے اور ڈرانے دھمکانے کی کارروائیوں کاسلسلہ جاری ہے۔ تازہ واقعہ ریاست ہریانہ کے ضلع فتح آباد میں پیش آیا ہے جہاں ایک کشمیری شال فروش پر تشدد کیا گیا اور اسے ہندو نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ان حملوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں کچھ لوگ نازی ازم سے مشابہ نظریے کو فروغ دے رہے ہیں۔ سینئر کشمیری حریت رہنما محمد عبداللہ ملک مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔وہ بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی شہید کی سربراہی میں قائم” تحریک حریت جموں وکشمیر ”کی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ میں نمائندگی بھی کرتے رہے۔مقبوضہ کشمیرمیں کشمیر ی خواتین بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فوجیوں نے ایک ہزارسے زائد خواتین سمیت 95459افرادکو شہید کیا،بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم670خواتین کو شہید کیا۔1989 میں علیحدگی پسندجدوجہد شروع ہونے کے بعد سے کشمیر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے،خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، معذور اور قتل کیا گیا، کشمیری خواتین دنیا میں بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 1989 سے اب تک 22,905 خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے 11,140خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والے خواتین بھی شامل ہیں۔بھارتی فوج کی چوتھی اجپوتانہ رائفلز کے جوانوں نے 23 فروری 1991 کو جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ایک گاں کنن پوش پورہ میں سرچ آپریشن شروع کیا۔جس کے بعد 23 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خواتین کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ شوپیاں میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی دو خواتین بھی اس میں شامل ہیں۔
٭٭٭