وجود

... loading ...

وجود

گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار

بدھ 07 جنوری 2026 گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار

ریاض احمدچودھری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت حق خود ارادیت کے مطالبے کی پاداش میں کشمیریوں کو بے انتہا مظالم کا نشانہ بنارہا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے 5 جنوری 1949 کوکشمیریوں کے حق خود ارادیت کے بارے میں پاس کی گئی قرار دا د پر عملد رآمد میں واحد رکاوٹ بھارت کی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے مسئلہ کشمیرکا اقوام متحدہ کی قرار ادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ناگزیر ہے۔
سال 2025 میں بھی بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر رہی اور قابض بھارتی فورسز نے تین خواتین اور سات کم عمر لڑکوں سمیت 84 کشمیری شہید کیے۔ کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ان میں سے 34 افراد کو فرضی مقابلوں اور دوران حراست شہید کیا گیا۔ ان شہادتوں کے نتیجے میں 11 خواتین بیوہ اور 33 بچے یتیم ہوئے۔ بھارتی فورسز نے گزشتہ برس 41 املاک کو تباہ کیا جن میں زیادہ تر رہائشی مکانات ہیں حریت کارکنان، نوجوانوں، ڈاکٹروں، علمائے کرام، خواتین اور صحافیوں سمیت 7ہزار 4سو 88 افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان میں سے بیسیوں کے خلاف” پبلک سیفٹی ایکٹ اوریو اے پی اے” جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
حکام نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور عیدگاہ میں عیدیں کی نماز ادانہیں کرنے دی جبکہ جامع مسجد کو کئی مرتبہ سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو یہاں جمعہ کی نماز ادا نہیں کرنے دی۔ دسمبر 2025 میں بھارتی فورسز نے علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی 480 کارروائیوں کے دوران 263 کشمیریوں کو گرفتار کیا۔2025 میں 213 جائیدادوں پر قبضہ کیا گیا۔ کئی کشمیری سرکاری ملازمین برطرف کر کے انہیں معاشی مشکلات کی طرف دھکیلا گیا۔ اعداد وشمار کے مطابق نومبر 2025 تک مقبوضہ علاقے میں رجسٹرڈ بیروزگار نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر 357,328 ہو گئی ہے۔رپورٹ میںکہا گیا کہ حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد اسلام، فاروق احمد ڈار، مولوی بشیر احمد، بلال صدیقی، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر حمید فیاض، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، محمد رفیق گنائی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، غلام قادر بٹ، ڈاکٹر شفیع شریعتی ، انسانی حقوق کے محافظ خرم پرویز دہلی کے تہاڑ جیل اور دیگر جیلوں سیاسی مقدمات میں نظر بند ہیں۔ 5 اگست 2019 سے، جب بھارتی ہندو قوم پرست بی جے پی حکومت نے غیر قانونی پر مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کی بھارتی فوجیوں، پیراملٹری اور پولیس اہلکاروں نے اب تک 1ہزار 48 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ گزشتہ 37 سالوں میں 96ہزار4سو 81 کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔
بھارتی فورسز نے ضلع پونچھ میں کنٹرول لائن کے قریب دیہات اور جنگلاتی علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آپریشن کے باعث مقامی آبادی کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ضلع اسلام آباد کے رہائشیوں نے علاقے سے نکالی جانے والی ریلوے لائن کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے انکی روزی روٹی کا واحد ذریعہ باغات اور کھیت تباہ ہو جائیں گے۔انہوں نے خبر دار کیا اگر منصوبے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو وہ اپنے احتجاج میں شدت لائیں گے۔بھارتی شہروں میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے کشمیری طلباء ، تاجروں کو ہراساں کیے جانے اور ڈرانے دھمکانے کی کارروائیوں کاسلسلہ جاری ہے۔ تازہ واقعہ ریاست ہریانہ کے ضلع فتح آباد میں پیش آیا ہے جہاں ایک کشمیری شال فروش پر تشدد کیا گیا اور اسے ہندو نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ان حملوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں کچھ لوگ نازی ازم سے مشابہ نظریے کو فروغ دے رہے ہیں۔ سینئر کشمیری حریت رہنما محمد عبداللہ ملک مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔وہ بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی شہید کی سربراہی میں قائم” تحریک حریت جموں وکشمیر ”کی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ میں نمائندگی بھی کرتے رہے۔مقبوضہ کشمیرمیں کشمیر ی خواتین بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فوجیوں نے ایک ہزارسے زائد خواتین سمیت 95459افرادکو شہید کیا،بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم670خواتین کو شہید کیا۔1989 میں علیحدگی پسندجدوجہد شروع ہونے کے بعد سے کشمیر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے،خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، معذور اور قتل کیا گیا، کشمیری خواتین دنیا میں بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 1989 سے اب تک 22,905 خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے 11,140خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والے خواتین بھی شامل ہیں۔بھارتی فوج کی چوتھی اجپوتانہ رائفلز کے جوانوں نے 23 فروری 1991 کو جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ایک گاں کنن پوش پورہ میں سرچ آپریشن شروع کیا۔جس کے بعد 23 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خواتین کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ شوپیاں میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی دو خواتین بھی اس میں شامل ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود جمعرات 08 جنوری 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام! وجود جمعرات 08 جنوری 2026
وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا پیغام!

خواہش وجود بدھ 07 جنوری 2026
خواہش

گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار وجود بدھ 07 جنوری 2026
گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار

امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟ وجود بدھ 07 جنوری 2026
امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر