... loading ...
چوپال /عظمیٰ نقوی
دنیا کی معاشی ناہمواری کی تصویر کچھ اس طرح ہے کہ دنیا میں عالمگیریت اور عدم مساوات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ 1960ء کی دہائی
میں دنیا کے 20 فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس، دنیا کے 20 فیصد غریب عوام کی آمدنی سے 30 فیصد زیادہ دولت مرتکز تھی، مگر دولت کا یہ
فرق 1990ء کی شروع دہائی میں بڑھ کر 78 گنا زیادہ ہو گیا۔اور اب یہ فرق 100فیصد سے تجاوز کر چکا ہے اسی طرح1980ء میں
امیر ترین ممالک کے ذرائع ابلاغ کی آمدنی کا 10، غریب ممالک کی کل آمدنی سے 77 فیصد زیادہ رہی۔ مگر 1999ء تک یہ فرق بڑھ کر 122 گنا اور اب تین سو گنا سے بھی تجاوز کر گیا۔ ماہر معاشیات کی رپورٹ کے مطابق BRANKO Milanonio دنیا بھر کے صرف ایک فیصد امیر ترین شہریوں کی آمدنی دنیا بھر کے 87 فیصد غریب ترین شہریوں کے برابر ہے اور 50 ملین امیر لوگوں کی آمدنی 2.7 بلین غریب عوام کے برابر ہے۔
ادھر ہم امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں تو جب صدر بش کا دور تھا، وہاں بے روزگاری 4.1 فی صد کے قریب تھی جواب بڑھ کے 20 فی صد ہوگئی ہے۔ ملازمتوں کی صورت حال بھی امید افزا نہیں۔ 2001ء میں Manufacturing jobs کی امریکہ میں تعداد 18291000 تھیں جو اب گھٹ کر 12251000 رہ گئیں۔ اسی طرح پانچ ملین سے زیادہ نوکریاں اب تک غائب ہو چکی ہیں۔ اس ہی دور میں بہت بڑی حد تک ٹیکس کی مراعات صرف ایک فی صد ان امیر لوگوں کو دی گئیں جو کہ 80 فی صد سے زیادہ نیچی آمدنی والوں سے زیادہ بنتی ہے جو کہ ان لوگوں کو ملیں گی۔ اسی طرز عمل سے امیر امیر تر ہو رہا ہے اور غریب کو کچھ نہیں مل رہا ہے۔
اس معاشی پس منظر اور امریکہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال میں صدرٹرمپ کی یہ کوشش ہوگی کی وینزویلا کے ایشو اور امریکہ اپنے ملکی مسائل سے امریکی عوام کی توجہ ہٹا سکے۔ 20 مارچ 2003 کو امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اور اس کے لئے یہ جواز پیش کیا کہ عراق میں موجود بھاری تعداد میں ایٹمی ہتھیار اُس کے لئے خطرہ ہیں مگر اس تصادم کے دوران اور جنگ جیتنے کے بعد، تمام کوششوں کے باوجود کوئی ہتھیار وہاں دستیاب نہیں ہو سکا۔اب منشیات کی اسمگلنگ کے نام پر تیل کے کنوئوں پر قبضہ کرنے کیلئے وینزویلا کے صدر اوراس کی بیوی کو جس طرح گرفتار کیا گیا وہ بھی سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کیونکہ وینزویلا کے حکمران ایسے ہے ہی نہیں ،دوسری جانب ٹرمپ بھی کوئی معصوم اور بے گناہ نہیں ہے۔ اس نے ایک سوچے سمجھے طریقے سے یہ ڈرامہ رچایا اور پوری قوم کو جنگی سحر میں مبتلا کر دیا۔قارئین کو یاد ہو تو اسی امریکہ نے طیارہ بردار جنگی جہاز USS Abraham Lincoln پر اترتے ہوئے اپنے باز و لہرا کر عراق میں امریکہ کی فتح کا اعلان کیا۔ اس ہی دن امریکہ کے لیبر بیورو کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 11 فی صد ملازمتیں ختم ہو گئیں۔ یہ صدر بش کے پہلے دور صدارت کے نصف عرصے میں ہوا اور امریکی صدر جس نے ایک مضبوط امریکی معیشت کا وعدہ کیا تھا وہ عراق کو دوبارہ تعمیر کرنے کا وعدہ کر رہا تھا ۔ مگر ایسا نہ ہوسکا ۔کیا امریکہ، وینزویلا کی شکل میں ایک اور دلدل میں جاپھنسا ہے ؟
ماضی کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ امریکہ نے اپنی سامراجی پالیسیوں کی وجہ سے ہمیشہ منہ کی کھائی ہے حالانکہ اتنی بڑی طاقت ہونے کی وجہ سے ہر قسم کے ذرائع اس کو حاصل ہیں۔ اس کے باوجود دنیا کے لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں کیوں؟اس کی سب سے بڑی وجہ امریکہ کی پالیسی ہے۔ امریکہ نے کتنے ہی ممالک میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ مقبول عام منتخب حکومتوں کو گرا کر وہاں کٹھ پتلی فوجی آمروں کی حکومتیں قائم کیں۔ ایران میں صدر مصدق کو سی آئی اے نے اس لیے نہیں ہٹایا تھا کہ وہ تیل کی صنعت کو قومیانا چاہتا تھا، بلکہ امریکہ نے صرف تیل کی کمپنیوں کے مفاد میں اس کو ہٹایا۔ اگر ایرانی عوام، امریکہ سے نفرت کرتے ہیں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔ یہی کام امریکہ نے چلی اور ویت نام دونوں جگہوں پر کیا۔ یہی کردار نکا را گوا میں کئی مرتبہ ادا کیا۔ لاطینی امریکہ کے کئی حکمرانوں، جب کہ وہ اپنے عوام کے لیے خیر خواہ تھے، معزول کر کے وہاں بدترین آمر مسلط کر دیے۔ امریکہ نے ہر جگہ یکے بعد دیگر ے مختلف ممالک میں جمہوریت تباہ کی، آزادی کا گلا گھونٹا اور انسانی حقوق پامال کیے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اعداد و شمار پیش کرتے ہیں کہ جہاں دوسری عالمگیر جنگ کے بعد امریکہ نے 23 ممالک میں فوجی طاقت استعمال کی۔
46ـ1945 چین ،،:53 1950 کوریا اور چین,1954 گوئٹے مالا،1958میں انڈونیشیا ،1962دوبارہ گوئٹے مالا ,1964 کانگو،1965پیرو،1964سے 1973تک لائوس ،1961سے 1973تک ویت نام ،1969سے1970تک کمبوڈیا ،1967سے1969تک تیسری بار گوئٹے مالا ،1983میں گرینڈا ،1984میں لبنان ،1986میں لیبیا ،1989میں پانامہ ، 1980 اوسلواڈور اور نکارا گوا ،1997میں عراق ،1998میں سوڈان ،1979میں افغانستان ،1999میں یوگوسلاویہ ،2000میں افغانستان اور عراق ،اس کے علاوہ امریکہ نے دنیا بھر کے مختلف حصوں میں حکومتوں کا تختہ الٹا اور حکومتیں تبدیل کروائیں،عمران خان کی حکومت کو اپنے اندرونی ایجنٹوں کے ذریعے تبدیل کرانا اسی کا شاخسانہ ہے ۔اب ایران کے اندر وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جبکہ سی آئی اے نے چھ سربراہان مملکت کو قتل کروایا۔ امریکہ کی ان کا روائیوں کی وجہ سے ان ممالک میں لاکھوں انسانوں کا خون بہایا گیا۔ کیا اس سے بڑی دہشت گردی کوئی اور ہو سکتی ہے جس کا مرتکب امریکہ اور صرف امریکہ ہے یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کے لوگ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں اور اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ اپنے عوام کو دہشت گردی کی کاروائیوں اور خوف سے نجات نہیں دلا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان گنت ایٹمی ہتھیار، کھربوں ڈالر کا اسٹار پروگرام اور دیگر رفاعی منصوبے بھی امریکی عوام کو امن اور سکون کا تحفہ دینے سے قاصر ہیں ۔ امریکہ نے افغانستان، سوڈان اور عراق پر حملے کئے تو دعویٰ یہ کیا کہ وہ جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کے لئے ایسا کر رہا ہے۔کیا یہ سب جھوٹ نہیں ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ خود دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے کیونکہ دنیا کے زیادہ حصوں میں امریکی حکومت کی آمریت، جبر اور انسانی حقوق کی پامالی شامل رہی ہے۔
کہنے کو تو امریکہ جمہوریت اور انسانی حقوق کا راگ الاپتا ہے مگر ترقی پذیر ممالک میں اس نے جمہوریت اور انسانی حقوق پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ امریکہ کی کثیر الاقوامی کمپنیاں ان ممالک کو کھا رہی ہیں۔ نفرت کا جو بیچ امریکہ نے بویا ہے وہی دنیا میں اس کے خلاف ابھر کرسا منے آرہا ہے اور امریکہ ہر جگہ حتیٰ کہ اپنے عوام کی زد میں ہے۔ امریکہ کو دوسرے ممالک پر حملہ کر کے اس سلسلے کو ختم کرنا ہوگا۔ اسے اپنی روش بدلنی ہوگی۔ اسے اپنے ایٹمی ہتھیار ختم کرنے ہونگے اور تمام دنیا میں مہلک ہتھیار ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تمام فوجی اڈے ختم کرنے ہونگے اور دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں فوجیوں کو واپس بلانا ہوگا۔ دنیا میں امریکہ اور دوسرے ممالک کو ہتھیاروں کی سوداگری ختم کرنا ہوگی اور اسلحہ سازی کی فیکٹریاں تباہ کرنی ہونگیںاور دنیا کو امن کا گہوراہ بنانا ہوگاکیونکہ امریکہ کے زوال کے بچائو کا واحد رستہ یہی رہ گیا ہے ۔
٭٭٭