... loading ...
محمد آصف
قرآنِ مجید ایک الہامی دستورِ حیات ہے جو فرد، معاشرہ اور ریاست تینوں کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ یہ محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ سیاسی، معاشی، سماجی اور قانونی اصولوں کا بھی احاطہ کرتا ہے ۔ قرآنِ کریم نے عدل، مساوات، انسانی وقار، امانت، مشاورت، قانون کی بالادستی اور اخلاقی اقدار کو ریاستی نظام کی بنیاد قرار دیا ہے ۔ یہی وہ اصول ہیں جو کسی بھی مثالی ریاست کی روح ہوتے ہیں۔ جب ہم آئینِ پاکستان کا مطالعہ کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ اس کی فکری اور اخلاقی بنیادیں قرآن و سنت کے انہی اصولوں سے اخذ کی گئی ہیں، جن کی عملی تعبیر ہمیں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے افکار و فرامین میں نظر آتی ہے ۔
پاکستان کا قیام محض جغرافیائی یا نسلی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک نظریے کے تحت عمل میں آیا۔ یہ نظریہ اسلام تھا، جس کا بنیادی ماخذ قرآنِ مجید ہے ۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے بارہا اس حقیقت کو واضح کیا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں کیونکہ ان کا دین، تہذیب، ثقافت، تاریخ اور
قانون سب جداگانہ ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام محض چند مذہبی رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے آئینی، قانونی اور سماجی ڈھانچے کو اسلامی اصولوں کے مطابق استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ آئینِ پاکستان کی تمہید، جسے قراردادِ مقاصد کہا جاتا ہے ، اس حقیقت کا واضح اعلان ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور ریاست پاکستان عوام کے ذریعے اس مقدس امانت کو استعمال کرے گی۔ یہ تصور براہِ راست قرآنِ کریم کے اس اصول سے ماخوذ ہے کہ کائنات کی اصل حاکمیت اللہ کے پاس ہے اور انسان محض اس کا نائب ہے ۔ قرآن انسان کو امانت دار، جواب دہ اور اخلاقی حدود کا پابند قرار دیتا ہے ، اور یہی تصور آئینِ پاکستان میں جمہوری اور آئینی انداز میں شامل کیا گیا ہے ۔
١٩٤٦ء کا واقعہ ہے ، قائداعظم الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کے سلسلے میں نواب سر محمد یوسف کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے کہ وکلا کا ایک وفد ملاقات کے لیے آیا۔ وہاں یہ مکالمہ ہوا:
ارکانِ وفد: پاکستان کا دستور کیسا ہوگا؟ … کیا پاکستان کا دستور آپ بنائیں گے ؟
قائداعظم: پاکستان کا دستور بنانے والا میں کون ہوں؟ پاکستان کا دستور تو تیرہ سو سال پہلے ہی بن گیا تھا۔
٢٧جولائی ١٩٤٤ء کی بات ہے ۔ کھانے کی میز پر راولپنڈی مسلم لیگ کے صدر محمد جان بیرسٹر نے پوچھا:سر! آپ جو پاکستان بنانا چاہتے ہیں، اس کا دستور کیا ہوگا؟
قائداعظم:یہ تو اس وقت کی دستور ساز اسمبلی کا کام ہے ۔ میں کیا بتا سکتا ہوں؟
محمد جان:اگر ہم فرض کرلیں کہ آپ کی موجودگی میں پاکستان بنتا ہے اور آپ اس ملک کے سربراہ ہیں تو پھر دستور کی حیثیت کیا ہوگی؟
قائداعظم:”اس کے متعلق پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کے پاس تیرہ سوسال سے دستور موجود ہے ”۔
ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:
”مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرزِ حکومت کیسا ہوگا؟ پاکستان کا طرزِ حکومت متعین کرنے والا میں کون؟
یہ کام پاکستان کے رہنے والوں کا ہے اور میرے خیال میں مسلمانوں کے طرزِ حکومت کا آج سے ساڑھے تیرہ سوسال
قبل قرآنِ حکیم نے فیصلہ کر دیا تھا”۔
١٩٤٥ء میں ممبئی میں عیدالفطر کے موقع پر آپ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
”مسلمانو! ہمارا پروگرام قرآنِ پاک میں موجود ہے ۔ ہم مسلمانوں کو لازم ہے کہ قرآنِ پاک غور سے پڑھیں۔
قرآنی پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کرسکتی”۔
قائداعظم نے فرمایا:
”میں نے قرآنِ مجید اور قوانینِ اسلامیہ کے مطالعے کی اپنے طور پر کوشش کی ہے ۔ اس عظیم الشان کتاب کی تعلیمات
میں انسانی زندگی کے ہر باب کے متعلق ہدایات موجود ہیں۔ زندگی کارُوحانی پہلو ہو یا معاشرتی، سیاسی پہلو ہو یا معاشی،
غرض یہ کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قرآنی تعلیمات کے اِحاطہ سے باہر ہو۔ قرآنِ کریم کی اُصولی ہدایت اور طریقِ کار نہ
صرف مسلمانوں کے لیے بہترین ہے بلکہ اسلامی حکومت، غیرمسلموں کے لیے حسنِ سلوک اور آئینی حقوق کا جو حصہ
دیتی ہے ، اس سے بہتر تصور ناممکن ہے ”۔
مسلمانانِ پشاور کے عظیم اجتماع میں ٢٦نومبر ١٩٤٥ء کو قائداعظم نے جو بیان دیا، وہ بے حد جامع اور ہمارے لیے راہنمائی کے اُصول فراہم کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا:
”اسلامی حکومت کا یہ امتیاز پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور فرمائش کا مرجع اللہ کی ذات ہے
جس کے لیے تعمیل کا مرکز”قرآنِ مجید” کے اَحکام اور اُصول ہیں۔ اسلام میں نہ اصلاً کسی بادشاہ کی
اطاعت ہے نہ کسی پارلیمان کی، نہ کسی اور شخص یا ادارے کی، قرآنِ کریم کے احکام ہی سیاست ومعاشرت
میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرتے ہیں۔”اسلامی حکومت”دوسرے الفاظ میں ”قرآنی
اُصول اور احکام کی حکمرانی ہے ”۔
قائداعظم کے یہ اور دیگر اس طرح کے بیانات”حیاتِ قائداعظم”،”قائداعظم کا مذہب و عقیدہ”،”قائداعظم کی تقاریر و بیانات” جیسی مستند کتابوں میں موجود ہیں۔ یہ بیانات اس قدر واضح اور صریح ہیں کہ ان کی مزید وضاحت اور تعبیر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ قائداعظم نے اپنے بیانات میں تواتر سے قرآنِ مجید اور شریعت اسلامیہ کو تیرہ سوسال پہلے کا آئین قرار دیتے اور اِسے دیگر اقوام کے سامنے نہایت فخر سے بیان کرتے تھے ۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کی تاریخی تقریر میں ریاست کی ذمہ داریوں،شہری آزادیوں اور قانون کی بالادستی پر زور دیا۔ اگرچہ بعض حلقے اس تقریر کو سیکولر تعبیر دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ تقریر قرآن کے اس اصول کی عملی تشریح ہے کہ
دین میں جبر نہیں اور ہر فرد کو مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ قرآن اقلیتوں کے حقوق، جان و مال کے تحفظ اور عدل و انصاف کی ضمانت دیتا ہے ، اور قائدِ اعظم نے اسی اسلامی تصورِ عدل کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنانے کی بات کی۔
آئینِ پاکستان میں اسلامی دفعات، جیسے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام، قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی ممانعت، اور مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا، اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ آئین کسی مغربی یا لادینی فلسفے کا عکس نہیں بلکہ اسلامی فکر سے ہم آہنگ ہے ۔ قائدِ اعظم نے خود فرمایا تھا کہ پاکستان کا آئین قرآنِ مجید ہوگا، کیونکہ یہی وہ واحد کتاب ہے جو ہمیں مکمل رہنمائی فراہم کر سکتی ہے ۔ قرآنِ کریم میں عدل کو ریاستی نظام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے ۔” اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ”کا قرآنی حکم
محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ اجتماعی نظام کے لیے واضح ہدایت ہے ۔ آئینِ پاکستان بھی عدل، مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، چاہے وہ حاکم ہو یا عام شہری۔ قائدِ اعظم کی زندگی اس اصول کی عملی مثال تھی؛ انہوں نے قانون کی بالادستی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور ہمیشہ آئینی راستے کو ترجیح دی۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح اسلام کے معاشی اصولوں سے بھی بخوبی واقف تھے ۔ انہوں نے سودی نظام کو انسانیت کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور ایک ایسے معاشی نظام کی بات کی جو سماجی انصاف، دولت کی منصفانہ تقسیم اور کمزور طبقات کے تحفظ پر مبنی ہو۔ قرآنِ مجید میں سود کی سخت ممانعت اور زکوٰة، صدقات اور فلاحی اصولوں پر زور دیا گیا ہے ۔ آئینِ پاکستان میں بھی معاشی انصاف اور استحصال کے خاتمے کا عزم نمایاں طور پر موجود ہے ۔
قرآنِ کریم مشاورت کو حکمرانی کا بنیادی اصول قرار دیتا ہے ۔ وَأَمْرُہُمْ شُورَیٰ بَیْنَہُمْ کے تحت اجتماعی فیصلے باہمی مشورے سے کیے جانے چاہئیں۔ یہی اصول جمہوریت کی روح ہے ، اور قائدِ اعظم نے جمہوری طرزِ حکومت کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ قرار دیا۔ ان کے نزدیک جمہوریت اسلام کی روح سے قریب تر ہے کیونکہ اس میں عوام کی رائے ، جواب دہی اور انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ آئینِ پاکستان بھی اسی اصول پر پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد رکھتا ہے ۔
اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے قرآنِ کریم کا تصور نہایت واضح ہے ۔ اسلام غیر مسلم شہریوں کے جان و مال، عبادت گاہوں اور مذہبی آزادی کا ضامن ہے ۔ قائدِ اعظم نے بھی بارہا اس بات کو دہرایا کہ پاکستان میں اقلیتیں برابر کے شہری ہوں گی اور انہیں مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔ آئینِ پاکستان میں بھی مذہبی آزادی، عبادت، تعلیم اور ثقافتی سرگرمیوں کی ضمانت دی گئی ہے ، جو قرآنی تعلیمات کی آئینی صورت ہے ۔ درحقیقت قرآن، آئینِ پاکستان اور قائدِ اعظم محمد علی جناح تینوں ایک ہی فکری دھارے کے نمائندہ ہیں۔ قرآن اس دھارے کا سرچشمہ ہے ، قائدِ اعظم اس کے فکری و عملی ترجمان ہیں، اور آئینِ پاکستان اس کا دستوری اظہار ہے ۔ اگر ہم بطور قوم ان تینوں کے باہمی ربط کو سمجھ لیں اور ان پر خلوصِ نیت سے عمل کریں تو پاکستان حقیقی معنوں میں ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی اور انصاف پسند ریاست بن سکتا ہے ۔
آج پاکستان کو جن سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحرانوں کا سامنا ہے ، ان کا حل کسی نئے نظریے یا بیرونی ماڈل میں نہیں بلکہ قرآن کی ابدی تعلیمات، آئینِ پاکستان کی روح اور قائدِ اعظم کے افکار میں پوشیدہ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان اصولوں کو محض نعروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں عملی زندگی، قانون سازی اور حکمرانی میں نافذ کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو استحکام، ترقی اور عالمی وقار کی طرف لے جا سکتا ہے ۔
٭٭٭