... loading ...
ریاض احمدچودھری
معروف کشمیر وکیل رہنما اور سماجی کارکن کشمیری خاتون پنڈت دیپیکا پشکرناتھ نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1990 میں مقبوضہ کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کو ایک سازش کے تحت نکالا گیا ہے تاکہ وادی میں موجود مسلمانوں اور ہندوں کا آپس میں لڑایا جاسکے۔ دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ مسلمانوں نے کشمیری پنڈتوں کو نکالا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوا مسلمانوں نے انہیں نہیں نکالا۔ بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 ختم کرکے کشمیریوں سے ان کی پہچان چھین لی ہے۔ اگر آپ کو 370 ختم کرنا تھی تو کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی روکنے کا اختیار بھی آپ کے پاس تھا لیکن بھارتی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔
دو سال قبل بھی بعض کشمیری پنڈتوں کی ہلاکتوں کے بعد ایک بار پھر سے کشمیر میں آباد پنڈت برادری کے بہت سے لوگ وادی کشمیر کو چھوڑ کر جموں کی جانب نقل مکانی کر گئے۔ نوے کے عشرے میں کشمیری پنڈتوں کے خلاف مبینہ تشدد کے سبب کئی لاکھ پنڈت کشمیر چھوڑ کر جموں میں پناہ لی تھی۔ ہلاکتوں کے بعد وادی میں اقلیتوں میں پریشانی اور خوف کا ماحول ہے اور ایک بار پھر سے کشمیری پنڈت اور سکھ برادریوں سے تعلق رکھنے والے کئی سرکاری ملازم اور اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ انہیں کسی اور جگہ منتقل کر دیا جائے۔حکومت نے وادی کشمیر میں پنڈتوں کی دوبارہ آبادکاری کے بہت سے منصوبوں کا اعلان تو کر دیا تاہم انتظامیہ انہیں سکیورٹی فراہم کرنے میں بری طرح سے ناکام رہی ہے۔مودی حکومت نے کشمیر میں ہندوؤں کی واپسی کے لیے ایک خصوصی پیکج کا اعلان کیا تھا جس کے تحت وہاں ایسے لوگوں کو دوبارہ بسایا جا رہا ہے۔ ادھر جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے وادی میں تعینات اقلیتی برادری کے ملازمین کی واپسی کی خبروں سے انکار کیا۔حکومتی اسکیم ‘جے کے ریلیف اینڈ ریہیبیلیشن’ کے کمشنر اشوک پنڈتا کا کہنا ہے،”ہم نے یہ معاملہ کشمیر کے ڈویژنل کمشنروں کے ساتھ اٹھایا ہے تاکہ وادی کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات دی جا سکیں کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں سرکاری رہائش گاہوں میں رہنے والے ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔”
اس وقت کشمیر میں تقریبا آٹھ سو ہندو خاندان آباد ہیں اور ایسے بیشتر ہندو کشمیریوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ڈر کا ماحول تو ہے تاہم انہیں حکومت کی مدد کے بجائے مقامی لوگوں کا تعاون درکار ہے جو انہیں مل رہا ہے۔ اس وقت کشمیر میں زبردست خوف و ہراس کا ماحول ہے، ”لیکن خوف کا ماحول سبھی برادریوں کے لیے ہے، مسلمان بھی اس وقت اپنے بچوں کو شام چھ بجے کے بعد گھر سے نکلنے نہیں دیتے ہیں۔ دکانیں بھی جو آٹھ بجے بند ہوتی تھیں وہ بھی اب چھ بجے ہی بند ہونے لگی ہیں۔”ہندو کشمیر میں اتنے برسوں سے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ رہتے آئے ہیں اورانہیں انہی کا ساتھ چاہیے، ہم اپنے ہم بھائیوں کے تعاون سے کشمیر میں امن و محبت سے رہتے آئے ہیں۔ ان کی آوازیں اور ان کا تعاون ہمیں چاہیے” ۔
ہم سب کشمیریوں کو مل کر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آج جب کشمیری پنڈت مر رہا ہے تو سب پریشان ہیں اور ہر جانب سے فون آ رہے ہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے، جب کوئی مسلمان بھی ہلاک ہو تو بھی اسی طرح کی فکر ہونی چاہیے۔ وہ آوازیں کم ہو گئی تھیں تاہم حالیہ واقعات کے بعد مسلمانوں نے ہمارے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہیں۔”
مودی حکومت نے کشمیر سے متعلق خصوصی آئینی اختیارات کو ختم کرتے ہوئے یہ دعوی کیا تھا کہ اس سے کشمیر میں علیحدگی پسندی کی تحریک پر قابو پا یا جا سکے گا اور حالات کو بہتر کرنے میں مدد ملے گے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کشمیری بھارت سے مزید دور ہو گئے ہیں۔ بھارتی حکومت نے کشمیری پنڈتوں کے وادی سے انخلا پرپابندی لگاتے ہوئے پنڈتوں کی رہائش کے لیے آٹھ سے زائد انتہائی محفوظ زون قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارتی حکومت پنڈتوں کو سرائیلی طرز پر مقبوضہ علاقے میں الگ کالونیوں میں بسانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ کشمیری مسلمان پنڈتوں کی وادی میں واپسی کے متمنی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پنڈت الگ کالونیوںمیں رہنے کے بجائے پہلے کی طرح انکے ساتھ بھائی چارے اور ہم آہنگی کے ساتھ رہے۔
٭٭٭