وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ

منگل 06 جنوری 2026 مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ

ریاض احمدچودھری

معروف کشمیر وکیل رہنما اور سماجی کارکن کشمیری خاتون پنڈت دیپیکا پشکرناتھ نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1990 میں مقبوضہ کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کو ایک سازش کے تحت نکالا گیا ہے تاکہ وادی میں موجود مسلمانوں اور ہندوں کا آپس میں لڑایا جاسکے۔ دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ مسلمانوں نے کشمیری پنڈتوں کو نکالا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوا مسلمانوں نے انہیں نہیں نکالا۔ بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 ختم کرکے کشمیریوں سے ان کی پہچان چھین لی ہے۔ اگر آپ کو 370 ختم کرنا تھی تو کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی روکنے کا اختیار بھی آپ کے پاس تھا لیکن بھارتی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔
دو سال قبل بھی بعض کشمیری پنڈتوں کی ہلاکتوں کے بعد ایک بار پھر سے کشمیر میں آباد پنڈت برادری کے بہت سے لوگ وادی کشمیر کو چھوڑ کر جموں کی جانب نقل مکانی کر گئے۔ نوے کے عشرے میں کشمیری پنڈتوں کے خلاف مبینہ تشدد کے سبب کئی لاکھ پنڈت کشمیر چھوڑ کر جموں میں پناہ لی تھی۔ ہلاکتوں کے بعد وادی میں اقلیتوں میں پریشانی اور خوف کا ماحول ہے اور ایک بار پھر سے کشمیری پنڈت اور سکھ برادریوں سے تعلق رکھنے والے کئی سرکاری ملازم اور اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ انہیں کسی اور جگہ منتقل کر دیا جائے۔حکومت نے وادی کشمیر میں پنڈتوں کی دوبارہ آبادکاری کے بہت سے منصوبوں کا اعلان تو کر دیا تاہم انتظامیہ انہیں سکیورٹی فراہم کرنے میں بری طرح سے ناکام رہی ہے۔مودی حکومت نے کشمیر میں ہندوؤں کی واپسی کے لیے ایک خصوصی پیکج کا اعلان کیا تھا جس کے تحت وہاں ایسے لوگوں کو دوبارہ بسایا جا رہا ہے۔ ادھر جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے وادی میں تعینات اقلیتی برادری کے ملازمین کی واپسی کی خبروں سے انکار کیا۔حکومتی اسکیم ‘جے کے ریلیف اینڈ ریہیبیلیشن’ کے کمشنر اشوک پنڈتا کا کہنا ہے،”ہم نے یہ معاملہ کشمیر کے ڈویژنل کمشنروں کے ساتھ اٹھایا ہے تاکہ وادی کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات دی جا سکیں کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں سرکاری رہائش گاہوں میں رہنے والے ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔”
اس وقت کشمیر میں تقریبا آٹھ سو ہندو خاندان آباد ہیں اور ایسے بیشتر ہندو کشمیریوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ڈر کا ماحول تو ہے تاہم انہیں حکومت کی مدد کے بجائے مقامی لوگوں کا تعاون درکار ہے جو انہیں مل رہا ہے۔ اس وقت کشمیر میں زبردست خوف و ہراس کا ماحول ہے، ”لیکن خوف کا ماحول سبھی برادریوں کے لیے ہے، مسلمان بھی اس وقت اپنے بچوں کو شام چھ بجے کے بعد گھر سے نکلنے نہیں دیتے ہیں۔ دکانیں بھی جو آٹھ بجے بند ہوتی تھیں وہ بھی اب چھ بجے ہی بند ہونے لگی ہیں۔”ہندو کشمیر میں اتنے برسوں سے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ رہتے آئے ہیں اورانہیں انہی کا ساتھ چاہیے، ہم اپنے ہم بھائیوں کے تعاون سے کشمیر میں امن و محبت سے رہتے آئے ہیں۔ ان کی آوازیں اور ان کا تعاون ہمیں چاہیے” ۔
ہم سب کشمیریوں کو مل کر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آج جب کشمیری پنڈت مر رہا ہے تو سب پریشان ہیں اور ہر جانب سے فون آ رہے ہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے، جب کوئی مسلمان بھی ہلاک ہو تو بھی اسی طرح کی فکر ہونی چاہیے۔ وہ آوازیں کم ہو گئی تھیں تاہم حالیہ واقعات کے بعد مسلمانوں نے ہمارے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہیں۔”
مودی حکومت نے کشمیر سے متعلق خصوصی آئینی اختیارات کو ختم کرتے ہوئے یہ دعوی کیا تھا کہ اس سے کشمیر میں علیحدگی پسندی کی تحریک پر قابو پا یا جا سکے گا اور حالات کو بہتر کرنے میں مدد ملے گے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کشمیری بھارت سے مزید دور ہو گئے ہیں۔ بھارتی حکومت نے کشمیری پنڈتوں کے وادی سے انخلا پرپابندی لگاتے ہوئے پنڈتوں کی رہائش کے لیے آٹھ سے زائد انتہائی محفوظ زون قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارتی حکومت پنڈتوں کو سرائیلی طرز پر مقبوضہ علاقے میں الگ کالونیوں میں بسانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ کشمیری مسلمان پنڈتوں کی وادی میں واپسی کے متمنی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پنڈت الگ کالونیوںمیں رہنے کے بجائے پہلے کی طرح انکے ساتھ بھائی چارے اور ہم آہنگی کے ساتھ رہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
خواہش وجود بدھ 07 جنوری 2026
خواہش

گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار وجود بدھ 07 جنوری 2026
گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار

امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟ وجود بدھ 07 جنوری 2026
امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟

قرآن،آئین ِپاکستان اور قائد اعظم وجود منگل 06 جنوری 2026
قرآن،آئین ِپاکستان اور قائد اعظم

مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ وجود منگل 06 جنوری 2026
مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر