... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
سمندر نقشے نہیں مانتے
مگر طاقتور
ان پر لکیریں کھینچتے ہیں
جہاں جہاز رکیں
وہاں امن ٹوٹتا ہے
ایک راستہ سانس لے
تو بازار زندہ
ایک راستہ رکے
تو دنیا کانپے
یہ جنگیں پانی کی نہیں
گزرنے کے حق کی ہیں
کل قافلہ تھا
آج کنٹینر ہیں
نام بدل گئے
مگر لڑائی وہی ہے !
حالات واقعات سے لگتا ہے شاید تیسری عالمی جنگ شروع ہوجائے ،لاکھوں انسان لقمہ اجل بن جائیں،ان جنگوں کا اصل میں وجہ تنازع کیاہے ۔۔۔؟ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ، بس راستے بدل جاتے ہیں، بدرکی لڑائی بھی تجارتی راستے کی وجہ سے ہوئی، فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت اونٹوں کے قدموں کی آواز تھی اورآج سمندروں میں انجنوں کا شور،مگر حقیقت ایک ہی ہے ،جب طاقت کو اپنے راستے خطرے میں نظر آئیں تو جنگ نقشے پر لکھی جانے لگتی ہے ۔ دنیا نظریات پر کم اور راستوں پر زیادہ لڑ رہی ہے ۔ سمندری گزرگاہیں اب
پانی کے راستے نہیں رہیں، بلکہ اقتدار کے فیصلے وہاں ہوتے ہیں۔ ایک راستہ بند ہوتا ہے تو صرف جہاز نہیں رکتے ، قومیں لرزتی ہیں، حکومتیں
ہلتی ہیں، اور دنیا مہنگائی و بحران کی لپیٹ میں آ جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج کی جنگیں نقشوں میں لڑی جا رہی ہیں، اور کل کی تاریخ شاید یہ
لکھے کہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی لڑائیاں سمندر نے کروائیں۔
دنیا کی تقریباً نوے فیصد تجارت سمندروں کے ذریعے ہوتی ہے ، اس لیے ہر وہ سمندری گزرگاہ جہاں سے عالمی معیشت سانس لیتی ہے ،
طاقتور ریاستوں کے لیے میدان جنگ بن چکی ہے ۔بحیرۂ جنوبی چین اس وقت دنیا کا سب سے خطرناک معاشی اور عسکری چوراہا ہے ۔ یہاں چین ایک طرف کھڑا ہے ، اور اس کے مقابل فلپائن، ویتنام، ملائشیا، برونائی اور تائیوان ہیں، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی پس پردہ موجود ہیں۔ اس سمندر سے دنیا کی لگ بھگ تیس فیصد عالمی تجارت گزرتی ہے ۔ اگر یہاں چین اور امریکا یا علاقائی ممالک کے درمیان کھلا تصادم ہو جائے تو الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز اور گاڑیوں کی عالمی سپلائی متاثر ہوگی، اور ان اشیاء کی قیمتیں بیس سے پینتیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں یمن، ایران، سعودی عرب، اسرائیل، امریکا اور یورپی طاقتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ آمنے سامنے ہیں۔ یہ راستہ دنیا کی بارہ سے پندرہ فیصد تجارت اور یورپ و ایشیا کے درمیان بڑے حصے کو جوڑتا ہے ۔ جب یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو جہاز افریقہ کا طویل چکر لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو تیل کی قیمتیں دس سے بیس فیصد، جبکہ خوراک اور صارف اشیاء پندرہ سے پچیس فیصد تک مہنگی ہو سکتی ہیں۔آبنائے ہرمز ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان مستقل تناؤ کی علامت ہے ۔ دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل اور پچیس فیصد مائع قدرتی گیس اسی تنگ راستے سے گزرتی ہے ۔ اگر ایران اور امریکا یا ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تصادم شدت اختیار کرے اور یہ راستہ بند ہو جائے تو تیل کی قیمتیں تیس سے پچاس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کا بحران جنم لے سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک گولی بھی پوری دنیا کو ہلا دیتی ہے ۔
بحیرۂ اسود روس، یوکرین، نیٹو ممالک اور بالخصوص ترکی کے درمیان کشمکش کا مرکز بن چکا ہے ۔ اس راستے سے دنیا کا تقریباً دس فیصد اناج، خاص طور پر گندم اور مکئی، عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے ۔ روس اور یوکرین کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر یہ سمندری راستہ متاثر ہو تو افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں غذائی بحران پیدا ہو جاتا ہے ، اور گندم کی قیمتیں پچیس سے چالیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ یہاں جنگ زمین پر ہے ، مگر اس کا اثر سمندر کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلتا ہے ۔
مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی ایک طرف ہے ، جبکہ یونان، قبرص، اسرائیل اور مصر دوسری طرف۔ تنازع سمندری حدود، گیس کے ذخائر اور توانائی کے نئے راستوں پر ہے ۔ اگرچہ یہاں سے عالمی تجارت کا حصہ تقریباً پانچ فیصد ہے ، مگر یورپ کی توانائی سلامتی اسی خطے سے جڑی ہوئی ہے ۔ کسی بڑے تصادم کی صورت میں یورپ میں گیس اور بجلی کی قیمتیں پندرہ سے تیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، اور سرد ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ۔بحیرۂ عرب اور بحرہند میں پاکستان، بھارت، چین اور امریکا خاموش مگر گہری اسٹریٹجک کشمکش میں مصروف ہیں۔ یہاں سے دنیا کی تقریباً چالیس فیصد تیل بردار شپنگ گزرتی ہے ۔ گوادر، چابہار، ممبئی اور سری لنکا کی بندرگاہیں محض تجارتی مراکز نہیں بلکہ طاقت کے ستون ہیں۔ اگر اس خطے میں کسی بڑی جنگ یا ناکہ بندی کا آغاز ہو جائے تو عالمی منڈی میں ایندھن اور درآمدی اشیاء کی قیمتیں دس سے بیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، اور ایشیا کی معیشتیں شدید دباؤ میں آ سکتی ہیں۔
یہ سمندر اب صرف پانی نہیں رہے ، یہ انسانی طمع، قومی فخر، معاشی بقا اور عالمی طاقت کی کہانیوں کا آئینہ ہیں۔ ان کی گہرائیوں میں لہریں اب صرف موج نہیں اٹھاتیں، جنگیں اٹھاتی ہیں۔ دنیا کی معیشت کا نوے فیصد سمندر سے گزرتا ہے اور یہ راستے اگر رک گئے تو وقت رک جائے گا، تجارت تھم جائے گی اور امن کی امید کمزور پڑ جائے گی۔آخر میں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا انسانیت ان سمندروں کو امن کی جگہ بنا پائے گی، یا یہ نیلے میدان ایک دن سرخ خون سے رنگ جائیں گے ؟ وقت بتائے گا، مگر سمندر خاموشی سے دیکھ رہے ہیں، اور ان کی لہریں اب بھی بتا رہی ہیں کہ دنیا کا مستقبل ان کی گود میں ہے ۔ کل کی تاریخ شاید یہ لکھے کہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی لڑائیاں سمندر نے کروائیں۔
٭٭٭