وجود

... loading ...

وجود

اکیسویں صدی کی لڑائیاں

منگل 06 جنوری 2026 اکیسویں صدی کی لڑائیاں

بے لگام / ستار چوہدری

 

سمندر نقشے نہیں مانتے
مگر طاقتور
ان پر لکیریں کھینچتے ہیں
جہاں جہاز رکیں
وہاں امن ٹوٹتا ہے
ایک راستہ سانس لے
تو بازار زندہ
ایک راستہ رکے
تو دنیا کانپے
یہ جنگیں پانی کی نہیں
گزرنے کے حق کی ہیں
کل قافلہ تھا
آج کنٹینر ہیں
نام بدل گئے
مگر لڑائی وہی ہے !
حالات واقعات سے لگتا ہے شاید تیسری عالمی جنگ شروع ہوجائے ،لاکھوں انسان لقمہ اجل بن جائیں،ان جنگوں کا اصل میں وجہ تنازع کیاہے ۔۔۔؟ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ، بس راستے بدل جاتے ہیں، بدرکی لڑائی بھی تجارتی راستے کی وجہ سے ہوئی، فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت اونٹوں کے قدموں کی آواز تھی اورآج سمندروں میں انجنوں کا شور،مگر حقیقت ایک ہی ہے ،جب طاقت کو اپنے راستے خطرے میں نظر آئیں تو جنگ نقشے پر لکھی جانے لگتی ہے ۔ دنیا نظریات پر کم اور راستوں پر زیادہ لڑ رہی ہے ۔ سمندری گزرگاہیں اب
پانی کے راستے نہیں رہیں، بلکہ اقتدار کے فیصلے وہاں ہوتے ہیں۔ ایک راستہ بند ہوتا ہے تو صرف جہاز نہیں رکتے ، قومیں لرزتی ہیں، حکومتیں
ہلتی ہیں، اور دنیا مہنگائی و بحران کی لپیٹ میں آ جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج کی جنگیں نقشوں میں لڑی جا رہی ہیں، اور کل کی تاریخ شاید یہ
لکھے کہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی لڑائیاں سمندر نے کروائیں۔
دنیا کی تقریباً نوے فیصد تجارت سمندروں کے ذریعے ہوتی ہے ، اس لیے ہر وہ سمندری گزرگاہ جہاں سے عالمی معیشت سانس لیتی ہے ،
طاقتور ریاستوں کے لیے میدان جنگ بن چکی ہے ۔بحیرۂ جنوبی چین اس وقت دنیا کا سب سے خطرناک معاشی اور عسکری چوراہا ہے ۔ یہاں چین ایک طرف کھڑا ہے ، اور اس کے مقابل فلپائن، ویتنام، ملائشیا، برونائی اور تائیوان ہیں، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی پس پردہ موجود ہیں۔ اس سمندر سے دنیا کی لگ بھگ تیس فیصد عالمی تجارت گزرتی ہے ۔ اگر یہاں چین اور امریکا یا علاقائی ممالک کے درمیان کھلا تصادم ہو جائے تو الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز اور گاڑیوں کی عالمی سپلائی متاثر ہوگی، اور ان اشیاء کی قیمتیں بیس سے پینتیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں یمن، ایران، سعودی عرب، اسرائیل، امریکا اور یورپی طاقتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ آمنے سامنے ہیں۔ یہ راستہ دنیا کی بارہ سے پندرہ فیصد تجارت اور یورپ و ایشیا کے درمیان بڑے حصے کو جوڑتا ہے ۔ جب یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو جہاز افریقہ کا طویل چکر لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو تیل کی قیمتیں دس سے بیس فیصد، جبکہ خوراک اور صارف اشیاء پندرہ سے پچیس فیصد تک مہنگی ہو سکتی ہیں۔آبنائے ہرمز ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان مستقل تناؤ کی علامت ہے ۔ دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل اور پچیس فیصد مائع قدرتی گیس اسی تنگ راستے سے گزرتی ہے ۔ اگر ایران اور امریکا یا ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تصادم شدت اختیار کرے اور یہ راستہ بند ہو جائے تو تیل کی قیمتیں تیس سے پچاس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کا بحران جنم لے سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک گولی بھی پوری دنیا کو ہلا دیتی ہے ۔
بحیرۂ اسود روس، یوکرین، نیٹو ممالک اور بالخصوص ترکی کے درمیان کشمکش کا مرکز بن چکا ہے ۔ اس راستے سے دنیا کا تقریباً دس فیصد اناج، خاص طور پر گندم اور مکئی، عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے ۔ روس اور یوکرین کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر یہ سمندری راستہ متاثر ہو تو افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں غذائی بحران پیدا ہو جاتا ہے ، اور گندم کی قیمتیں پچیس سے چالیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ یہاں جنگ زمین پر ہے ، مگر اس کا اثر سمندر کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلتا ہے ۔
مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی ایک طرف ہے ، جبکہ یونان، قبرص، اسرائیل اور مصر دوسری طرف۔ تنازع سمندری حدود، گیس کے ذخائر اور توانائی کے نئے راستوں پر ہے ۔ اگرچہ یہاں سے عالمی تجارت کا حصہ تقریباً پانچ فیصد ہے ، مگر یورپ کی توانائی سلامتی اسی خطے سے جڑی ہوئی ہے ۔ کسی بڑے تصادم کی صورت میں یورپ میں گیس اور بجلی کی قیمتیں پندرہ سے تیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، اور سرد ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ۔بحیرۂ عرب اور بحرہند میں پاکستان، بھارت، چین اور امریکا خاموش مگر گہری اسٹریٹجک کشمکش میں مصروف ہیں۔ یہاں سے دنیا کی تقریباً چالیس فیصد تیل بردار شپنگ گزرتی ہے ۔ گوادر، چابہار، ممبئی اور سری لنکا کی بندرگاہیں محض تجارتی مراکز نہیں بلکہ طاقت کے ستون ہیں۔ اگر اس خطے میں کسی بڑی جنگ یا ناکہ بندی کا آغاز ہو جائے تو عالمی منڈی میں ایندھن اور درآمدی اشیاء کی قیمتیں دس سے بیس فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، اور ایشیا کی معیشتیں شدید دباؤ میں آ سکتی ہیں۔
یہ سمندر اب صرف پانی نہیں رہے ، یہ انسانی طمع، قومی فخر، معاشی بقا اور عالمی طاقت کی کہانیوں کا آئینہ ہیں۔ ان کی گہرائیوں میں لہریں اب صرف موج نہیں اٹھاتیں، جنگیں اٹھاتی ہیں۔ دنیا کی معیشت کا نوے فیصد سمندر سے گزرتا ہے اور یہ راستے اگر رک گئے تو وقت رک جائے گا، تجارت تھم جائے گی اور امن کی امید کمزور پڑ جائے گی۔آخر میں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا انسانیت ان سمندروں کو امن کی جگہ بنا پائے گی، یا یہ نیلے میدان ایک دن سرخ خون سے رنگ جائیں گے ؟ وقت بتائے گا، مگر سمندر خاموشی سے دیکھ رہے ہیں، اور ان کی لہریں اب بھی بتا رہی ہیں کہ دنیا کا مستقبل ان کی گود میں ہے ۔ کل کی تاریخ شاید یہ لکھے کہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی لڑائیاں سمندر نے کروائیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
خواہش وجود بدھ 07 جنوری 2026
خواہش

گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار وجود بدھ 07 جنوری 2026
گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار

امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟ وجود بدھ 07 جنوری 2026
امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟

قرآن،آئین ِپاکستان اور قائد اعظم وجود منگل 06 جنوری 2026
قرآن،آئین ِپاکستان اور قائد اعظم

مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ وجود منگل 06 جنوری 2026
مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر