... loading ...
منظر نامہ
۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
بھارت کے لیے2025 رسوائی کا سال ثابت ہوا، جہاں جنگی جنون، نفرت کی سیاست، غرور، تکبر اور انا نے اس کی معیشت اور خارجہ پالیسی کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ خطے میں طاقت کے زعم میں مبتلا بھارتی قیادت نے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان مخالف بیانیے ، سازشوں اور جھوٹے الزامات کا سہارا لیا، مگر یہ حربے عالمی سطح پر کوئی وزن نہ پا سکے ۔ نتیجتاً بھارت سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار ہوا، جبکہ ملک کے اندر بیروزگاری اور غربت میں نمایاں اضافہ ہوا اور متوسط طبقہ شدید دباؤ میں آ گیا۔ عالمی برادری، خصوصاً امریکہ، نے بھی پاکستان کے خلاف اس مصنوعی بیانیے کو یکسر نظر انداز کر دیا، جس سے بھارت کی سفارتی ساکھ مزید کمزور ہوئی۔ یوں 2025 نے ثابت کر دیا کہ نفرت اور انا پر کھڑی سیاست نہ قومیں مضبوط کرتی ہے اور نہ ہی ریاستوں کو عزت دلاتی ہے ۔
2025ء بھارت کے لیے بحرانوں کا سال ثابت ہوا۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنے تازہ تجزیے میں واضح کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی میں پاکستان نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور اسے ‘وِنر’ قرار دیا گیا، جبکہ بھارت کو واضح طور پر ‘لوزر’ بتایا گیا۔ دنیا کا یہ معتبر ترین جریدہ بھی پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا معترف بن گیا ہے ۔فارن پالیسی کے مطابق، واشنگٹن میں طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں پلٹ گیا ہے ۔ ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان نے اسٹریٹجک سطح پر نمایاں واپسی کی، جو بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔ واشنگٹن میں پاکستان کی واپسی کو خاموش مگر فیصلہ کن کامیابی قرار دیا گیا، اور وہ کامیابیاں حاصل کی گئیں جو بعض اتحادی بھی نہ کر سکے ۔جریدے میں لکھا گیا کہ امریکہ کے نقطۂ نظر سے پاکستان ایک بار پھر ایک قابل اعتماد اور مؤثر شراکت دار بن چکا ہے ۔ پاکستان کی ہوشیار اور ذہین حکمت عملی نے واشنگٹن میں طاقت کے توازن کو اسلام آباد کے حق میں موڑ دیا اور پاکستان نے نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ اثرورسوخ بھی قائم کیا۔ واشنگٹن میں اب پاکستان کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جانے لگا ہے ۔
فارن پالیسی نے مزید کہا کہ دہشت گرد حملوں کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں پاکستان کے کردار نے ٹرمپ کی پالیسی کو کامیابی دلائی۔ پاکستان نے ٹرمپ کے لین دین پر مبنی فریم ورک کے تحت سفارت کاری میں نتیجہ خیز کردار ادا کیا، اور کرپٹو کرنسی جیسے معاملات بھی پاک امریکا مذاکرات اور ڈیلز کا حصہ بنے ۔
جریدے میں اہم معدنی وسائل پر تعاون کا ذکر بھی آیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ٹرمپ کی ذاتی قربت پاک امریکہ تعلقات کی پیشرفت کی اہم وجہ بنی، اور یہ پاکستان کی واشنگٹن واپسی کا مرکزی ستون قرار پایا۔ واشنگٹن میں پاکستان کی آواز دوبارہ وزن دار بنی، اوول آفس میں فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کا پرتپاک استقبال ہوا، اور ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپنی ذاتی رغبت کو اہم عنصر قرار دیا۔ فارن پالیسی کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے سفارت کاری میں اسٹریٹجک برتری حاصل کی ہے ۔
دوسری جانب پاکستانی سفیر کے مطابق پاک امریکہ تعلقات دوبارہ بہت خوشگوار ہو گئے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کے بھارت سے تعلقات کمزور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے دور میں پاکستان آگے رہا، جبکہ بھارت دفاعی اور سرد مہری کی پوزیشن میں محدود رہا۔ بھارت تجارتی دباؤ میں رہا اور امریکہ بھارت تعلقات دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ۔ روسی تیل کی خریداری بھی بھارت کی واشنگٹن میں ناراضی کا باعث بنی۔ سال 2025 بھارت کے لیے ایسا ہی ایک برس ثابت ہوا جس میں علاقائی بالادستی کے دعوے ، عالمی سفارت کاری کی خود مختاری کے نعرے اور معاشی استحکام کے وعدے وفا نہیں ہوئے ۔
بین الاقوامی جریدے فنانشل ٹائمز کے سالانہ جائزہ تجزیے نے اسی تلخ حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کیا کہ 2025 بھارت کے لیے مضبوط پیشرفت یا پائیدار استحکام کا نہیں بلکہ مسلسل دباؤ، پالیسی تضادات اور اسٹریٹجک الجھنوں کا سال رہا، جہاں اندرونی کمزوریاں اور بیرونی چیلنجز ایک دوسرے میں گھل کر ایک ہمہ گیر بحران کی صورت اختیار کر گئے ۔فنانشل ٹائمز کے تجزیے کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا دعویٰ یعنی اسٹریٹجک خود مختاری 2025 میں عملی طور پر ایک نعرہ ثابت ہوئی۔ بھارت بیک وقت امریکا، چین اور روس کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں نہ صرف واضح سمت سے محروم دکھائی دیا بلکہ اسے ہر محاذ پر سمجھوتوں اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کے ساتھ تعلقات، چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور امریکا کے ساتھ تجارتی و دفاعی مفادات نے بھارت کو ایسے دائرے میں قید رکھا جہاں آزاد فیصلوں کی گنجائش محدود ہوتی چلی گئی۔ فنانشل ٹائمز نے نشاندہی کی کہ نئی دہلی کی یہ حکمت عملی طاقت کے مظاہرے کے بجائے مجبوری کی علامت بن گئی، جس نے بھارت کے عالمی کردار کو غیر واضح اور متذبذب بنا دیا۔
پاک بھارت فوجی کشیدگی 2025 میں محض سرحدی تناؤ تک محدود نہ رہی بلکہ اس کے اثرات سفارتی سطح پر بھی نمایاں ہوئے ۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق اس تصادم کا دیرپا نتیجہ بھارت کی عسکری برتری کے تصور کو تقویت دینے کے بجائے واشنگٹن کی پالیسی میں باریک مگر واضح تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا، جہاں امریکہ نے جنوبی ایشیا میں واضح طور پر کسی ایک فریق کی عسکری حمایت سے گریز کو ترجیح دی۔ یہ تبدیلی بھارت کے اس تاثر کے لیے دھچکا تھی کہ وہ خطے میں امریکہ کا قدرتی اسٹریٹجک شراکت دار ہے ۔ اس صورتحال نے بھارت کے دفاعی اور سفارتی حلقوں میں بے چینی کو جنم دیا اور خطے میں طاقت کے توازن کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ۔معاشی محاذ پر 2025 بھارت کے لیے کم مشکل نہ تھا۔ فنانشل ٹائمز کے جائزے کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ سال بھر غیر یقینی کا شکار رہا اور متعدد مواقع پر التوا کا شکار ہوا۔ امریکی ٹیرف پالیسیوں نے بھارتی برآمدات پر دباؤ بڑھایا جس کے نتیجے میں صنعتی شعبے اور سرمایہ کار اعتماد کو نقصان پہنچا۔ بھارت جس تیزی سے خود کو عالمی سپلائی چین کا متبادل مرکز بنانے کے خواب دیکھ رہا تھا، وہ خواب عملی رکاوٹوں اور پالیسی تضادات کے باعث دھندلا پڑتا دکھائی دیا۔ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھارت کی مارکیٹ اگرچہ بڑی تھی، مگر پالیسی
کے عدم تسلسل اور تجارتی تنازعات نے اس کشش کو محدود کر دیا۔داخلی معاشی اصلاحات بھی 2025 میں فیصلہ کن ثابت نہ ہو سکیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق جی ایس ٹی اصلاحات محدود شعبوں تک سمٹ کر رہ گئیں، جس کے باعث وسیع البنیاد معاشی نمو حاصل نہ ہو سکی۔ ٹیکس نظام کی پیچیدگیاں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پر بڑھتا بوجھ اور روزگار کے مواقع میں سست روی نے عام شہری کی معاشی بے چینی میں اضافہ کیا۔ سرکاری بیانات میں ترقی کے دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقیقت یہ تھی کہ معاشی فوائد یکساں طور پر عوام تک منتقل نہ ہو سکے ، جس نے سماجی عدم اطمینان کو مزید گہرا کر دیا۔کرنسی کے محاذ پر بھی 2025 بھارت کے لیے تشویش کا سال رہا۔ فنانشل ٹائمز کے تجزیے میں واضح کیا گیا کہ بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں کمزوری کا شکار رہا، جس نے درآمدی لاگت بڑھائی اور افراطِ زر کے دباؤ میں اضافہ کیا۔ اگرچہ حکومت نے اس کمزوری کو عالمی رجحانات سے جوڑنے کی کوشش کی، مگر مسلسل دباؤ نے معیشت کی ساختی کمزوریوں کو بے نقاب
کر دیا۔ روپیہ کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے نہ صرف عام صارف بلکہ صنعتی شعبے کو بھی غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھا۔
سال 2025 میں پیش آنے والے مختلف بحرانوں نے بھارت کے داخلی نظم و نسق پر بھی سوالات اٹھائے ۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق حادثات، انتظامی ناکامیاں اور بحرانوں سے نمٹنے میں ریاستی ردعمل نے گورننس کے معیار پر بحث کو جنم دیا۔ ایسے واقعات نے اس بیانیے کو کمزور کیا کہ بھارت ایک مضبوط اور مؤثر ریاستی ڈھانچے کی مثال بن چکا ہے ۔ عالمی میڈیا میں ان مسائل کی بازگشت نے بھارت کے سافٹ امیج کو بھی متاثر کیا، جو گزشتہ برسوں میں بڑی محنت سے تشکیل دیا گیا تھا۔فنانشل ٹائمز کا یہ تجزیہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ کسی علاقائی یا مخالف ریاست کا موقف نہیں بلکہ ایک عالمی معاشی و سیاسی جریدے کا غیر جانبدارانہ جائزہ ہے ۔ اس رپورٹ میں بھارت کو مکمل ناکام ریاست قرار نہیں دیا گیا، مگر یہ ضرور واضح کیا گیا کہ 2025 وہ سال تھا جس نے بھارتی طاقت، خود مختاری اور ترقی کے دعوؤں کو سخت سوالات کی زد میں لا کھڑا کیا۔ یہ ایک ایسا برس تھا جس میں امکانات کے بجائے کمزوریاں زیادہ نمایاں رہیں اور مستقبل کے لیے کئی انتباہی اشارے سامنے آئے ۔اس تمام صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ بھارت طاقت کے مظاہرے اور بڑے دعوؤں کے بجائے حقیقت پسندانہ پالیسی اپنائے ، ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے ، خارجہ پالیسی میں واضح ترجیحات طے کرے اور معاشی اصلاحات کو محدود تجربات کے بجائے جامع اور شفاف بنیادوں پر استوار کرے ۔ داخلی طور پر گورننس، احتساب اور سماجی انصاف کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ معاشی نمو کے ثمرات عام شہری تک پہنچ سکیں۔ عالمی سطح پر اعتماد اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب بیانیے اور زمینی حقائق میں فاصلہ کم کیا جائے ، کیونکہ 2025 نے یہ ثابت کر دیا کہ محض دعوے کسی ریاست کو مضبوط نہیں بناتے ، بلکہ حقیقت سے ہم آہنگ فیصلے ہی اقوام کو بحرانوں سے نکالتے ہیں۔
٭٭٭