وجود

... loading ...

وجود

وینزویلا،اسکرین کا پس منظر

پیر 05 جنوری 2026 وینزویلا،اسکرین کا پس منظر

بے نقاب /ایم آر ملک
نکولس مادورو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مزاحمت کی ایک توانا آواز! اس آواز کو طاقت کے ذریعے خاموش کر دیا گیا،کیا ہم اس وقت وینزویلا کی شکل میں عالمی سطح پر رجیم چینج کے ایک تسلسل کو پوری وضاحت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں؟اندھی طاقت کے بل بوتے پر ایک منتخب حکمران پر شب خون چہ معنی دارد ؟کیایہ وہی صدر نہیں تھے جنہوں نے اپنے ملک کے قدرتی وسائل بالخصوص تیل پر قبضہ کرنے والی امریکی کمپنیوں کو وینزویلا سے نکال باہر کیا ،کیا خود مختاری اور قومی مفاد ان کا جرم ٹھہرا ؟
ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دے دیا ہے کہ جو ملک امریکی مفادات کے سامنے سر اٹھائے گا اس کے ساتھ یہی سلوک ہوگا۔ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تودنیا ایک مسلسل اور لرزہ خیز پیٹرن کی زد میں رہی ہے ۔ وہ خطے جو قدرتی وسائل۔ ۔ تیل، گیس، سونا اور دیگر معدنیات۔۔ سے مالا مال تھے، وہی سب سے زیادہ جنگوں، بغاوتوں اور بیرونی مداخلت کا شکار ہوئے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ طاقت، معیشت اور جغرافیائی سیاست کے اس کھیل کی تلخ حقیقت ہے جس میں انسانی جان کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ خود کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار کہنے والا امریکہ اس کھیل میں ایک مرکزی کردار کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں اصول اس وقت بدل جاتے ہیں جب کسی سرزمین سے وسائل کی خوشبو آنے لگتی ہے۔وینزویلا اس کی ایک تازہ اور واضح مثال ہے۔ دنیا کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر میں سرفہرست ہونے کے باوجود یہ ملک مسلسل معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔ وجہ یہ نہیں کہ وہاں تیل نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کی قیادت نے اپنے وسائل پر خود مختاری کا دعویٰ کیا۔ نتیجتاًبراہِ راست فوجی حملے کے بجائے معاشی پابندیوں کا ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ان پابندیوں نے تیل کی صنعت، بینکنگ نظام اور درآمدات کو مفلوج کر دیا۔ آزاد معاشی مطالعات کے مطابق ان پابندیوں کے بعد چند ہی برسوں میں وینزویلا میں مہنگائی لاکھوں فیصد تک جا پہنچی، ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہوئی، اور لاکھوں شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ جدید دور کی وہ معاشی جنگ ہے جس میں گولیاں نہیں چلتی، مگر ہلاکتیں خاموشی سے ہوتی ہیں۔
اگر پیچھے مڑ کر عراق کو دیکھا جائے تو 2003 میں”تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں”کے جھوٹے دعوے پر کی گئی یلغار آج بھی عالمی ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ خود مغربی تحقیقی اداروں اور آزاد رپورٹس کے مطابق اس جنگ اور اس کے بعد کے حالات میں کم از کم دو سے تین لاکھ براہِ راست شہری ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ بالواسطہ اموات۔۔بیماری، بدامنی اور تباہ شدہ نظامِ صحت کے باعث۔۔ اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہیں۔ آج دو دہائیاں گزرنے کے باوجود عراق فرقہ واریت، کمزور معیشت اور عدم استحکام سے باہر نہیں آ سکا، البتہ اس کے تیل کے کنویں عالمی کمپنیوں کے لیے ضرورکھلے ہو گئے۔
لیبیا کا حال اس سے مختلف نہیں۔ معمر قذافی کے دور میں لیبیا افریقہ کے نسبتاً خوشحال ممالک میں شمار ہوتا تھا، جہاں فی کس آمدن خطے کے کئی ممالک سے بہتر تھی اور ریاست شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی تھی۔ 2011 میں نیٹو کی مداخلت کے بعد قذافی حکومت تو ختم ہو گئی، مگر اس کے ساتھ ہی ریاستی ڈھانچہ بھی بکھر گیا۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس مداخلت کے بعد ہزاروں جانیں گئیں، ملک آج بھی مسلح ملیشیاؤں میں بٹا ہوا ہے، اور تیل کی دولت عوام کے بجائے بندوق بردار گروہوں اور بیرونی مفادات کے ہاتھ میں ہے۔افغانستان میں بیس سالہ جنگ ایک اور المناک باب ہے۔”دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نام پر لڑی گئی۔ اس طویل مہم میں مختلف معتبر عالمی رپورٹس کے مطابق تقریباً دو لاکھ افغان جانیں ضائع ہوئیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں، عورتوں اور بچوں کی تھی۔ کھربوں ڈالر خرچ ہوئے، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ جاتے جاتے افغان عوام کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے چھوڑ دیے گئے اور ملک کو شدید انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا کر دیا گیا۔
شام اور یمن جیسے ممالک میں براہِ راست فوجی مداخلت کے بجائے پراکسی جنگوں کا طریقہ اپنایا گیا۔ شام میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں اندازاً پانچ لاکھ افراد مارے گئے اور نصف سے زیادہ آبادی بے گھر ہوئی۔ یمن میں امریکی ساختہ اسلحے سے لیس جنگ نے اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا کا بدترین انسانی بحران جنم دیا، جہاں لاکھوں بچے غذائی قلت اور قابلِ علاج بیماریوں کا شکار ہوئے۔یہ جنگیں محض عسکری کارروائیاں نہیں تھیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک معاشی منطق بھی کارفرما رہی۔ اسلحہ ساز صنعت، جنگی معاہدے، اور وسائل پر بالواسطہ یا بلاواسطہ کنٹرول۔۔یہ سب ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جس میں جنگ معیشت کو سہارا دیتی ہے اور معیشت جنگ کو جواز فراہم کرتی ہے۔ اس عمل میں جمہوریت ایک نعرہ بن جاتی ہے اور انسانی حقوق ایک انتخابی ہتھیار۔اس عالمی منظرنامے کے بعد یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی رجیم چینج کوئی داخلی یا جمہوری عمل نہیں تھی،بلکہ وہ بھی اسی عالمی رجیم چینج پراجیکٹ کا حصہ تھی جس کا نشانہ عمران خان بنے۔
پاکستان میں ایک خوددار وزیراعظم کو محض اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ اس نے غلامی ماننے سے انکار کیا،امپورٹڈ حکومت کا نعرہ محض سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ آج کے حالات اس کی سچائی پر مہر ثبت کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی کا موقف آج وینزویلا کے واقعات کے بعد مزید مضبوط ہو چکا ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستان میں ٹینک نہیں آئے،بم نہیں گرے،لیکن دباؤ سازش اور اندرونی مہرے استعمال کیے گئے۔یہ صرف وینزویلا یا پاکستان کی بات نہیں،یہ ہر اس ملک کے لیے وارننگ ہے جو اپنی خارجہ پالیسی اپنے عوام کے مفاد میں بنانے کی جرأت کرتا ہے ، ایران میں اُٹھنے والی لہر کا پشتیبان بھی امریکہ ہے ،وینزویلا میں بدمعاشی کے زور پر ہونے والی تبدیلی پر اصل سوال یہ ہے کہ کیا سنگینوں کے سائے میں لائی گئی تبدیلی کبھی پائیدار امن دے سکی؟ تاریخ کا جواب نفی میں ہے۔ جہاں جہاں یہ مداخلتیں ہوئیں، وہاں ریاستیں کمزور، معاشرے تقسیم اور نسلیں برباد ہوئیں۔ تیل، گیس اور معدنیات کسی عالمی چوہدری کی ملکیت نہیں بلکہ ان قوموں کی امانت ہیں جو اس سرزمین پر صدیوں سے بستی آئی ہیں۔جب تک بین الاقوامی نظام میں”طاقت ہی حق ہے” کا اصول غالب رہے گا، انسانیت اسی طرح سسکتی رہے گی۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا محض نعروں کے بجائے اس حقیقت کا سامنا کرے کہ جمہوریت بموں سے نہیں آتی، اور امن وسائل کی لوٹ مار سے نہیں بلکہ خود مختاری کے احترام سے جنم لیتا ہے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو انجام کار اپنے ہی ملبے تلے دب جاتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
2025 ۔۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا سال وجود پیر 05 جنوری 2026
2025 ۔۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا سال

بھارت کی خوفناک آبی دہشت گردی وجود پیر 05 جنوری 2026
بھارت کی خوفناک آبی دہشت گردی

وینزویلا،اسکرین کا پس منظر وجود پیر 05 جنوری 2026
وینزویلا،اسکرین کا پس منظر

جے شنکرمصافحہ یا بھارتی نئی چال وجود اتوار 04 جنوری 2026
جے شنکرمصافحہ یا بھارتی نئی چال

ہیمنتابسوا سرما نے قومی وقار کو پامال کردیا وجود اتوار 04 جنوری 2026
ہیمنتابسوا سرما نے قومی وقار کو پامال کردیا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر