... loading ...
بے نقاب /ایم آر ملک
نکولس مادورو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مزاحمت کی ایک توانا آواز! اس آواز کو طاقت کے ذریعے خاموش کر دیا گیا،کیا ہم اس وقت وینزویلا کی شکل میں عالمی سطح پر رجیم چینج کے ایک تسلسل کو پوری وضاحت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں؟اندھی طاقت کے بل بوتے پر ایک منتخب حکمران پر شب خون چہ معنی دارد ؟کیایہ وہی صدر نہیں تھے جنہوں نے اپنے ملک کے قدرتی وسائل بالخصوص تیل پر قبضہ کرنے والی امریکی کمپنیوں کو وینزویلا سے نکال باہر کیا ،کیا خود مختاری اور قومی مفاد ان کا جرم ٹھہرا ؟
ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دے دیا ہے کہ جو ملک امریکی مفادات کے سامنے سر اٹھائے گا اس کے ساتھ یہی سلوک ہوگا۔ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تودنیا ایک مسلسل اور لرزہ خیز پیٹرن کی زد میں رہی ہے ۔ وہ خطے جو قدرتی وسائل۔ ۔ تیل، گیس، سونا اور دیگر معدنیات۔۔ سے مالا مال تھے، وہی سب سے زیادہ جنگوں، بغاوتوں اور بیرونی مداخلت کا شکار ہوئے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ طاقت، معیشت اور جغرافیائی سیاست کے اس کھیل کی تلخ حقیقت ہے جس میں انسانی جان کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ خود کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار کہنے والا امریکہ اس کھیل میں ایک مرکزی کردار کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں اصول اس وقت بدل جاتے ہیں جب کسی سرزمین سے وسائل کی خوشبو آنے لگتی ہے۔وینزویلا اس کی ایک تازہ اور واضح مثال ہے۔ دنیا کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر میں سرفہرست ہونے کے باوجود یہ ملک مسلسل معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔ وجہ یہ نہیں کہ وہاں تیل نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کی قیادت نے اپنے وسائل پر خود مختاری کا دعویٰ کیا۔ نتیجتاًبراہِ راست فوجی حملے کے بجائے معاشی پابندیوں کا ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ان پابندیوں نے تیل کی صنعت، بینکنگ نظام اور درآمدات کو مفلوج کر دیا۔ آزاد معاشی مطالعات کے مطابق ان پابندیوں کے بعد چند ہی برسوں میں وینزویلا میں مہنگائی لاکھوں فیصد تک جا پہنچی، ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہوئی، اور لاکھوں شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ جدید دور کی وہ معاشی جنگ ہے جس میں گولیاں نہیں چلتی، مگر ہلاکتیں خاموشی سے ہوتی ہیں۔
اگر پیچھے مڑ کر عراق کو دیکھا جائے تو 2003 میں”تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں”کے جھوٹے دعوے پر کی گئی یلغار آج بھی عالمی ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ خود مغربی تحقیقی اداروں اور آزاد رپورٹس کے مطابق اس جنگ اور اس کے بعد کے حالات میں کم از کم دو سے تین لاکھ براہِ راست شہری ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ بالواسطہ اموات۔۔بیماری، بدامنی اور تباہ شدہ نظامِ صحت کے باعث۔۔ اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہیں۔ آج دو دہائیاں گزرنے کے باوجود عراق فرقہ واریت، کمزور معیشت اور عدم استحکام سے باہر نہیں آ سکا، البتہ اس کے تیل کے کنویں عالمی کمپنیوں کے لیے ضرورکھلے ہو گئے۔
لیبیا کا حال اس سے مختلف نہیں۔ معمر قذافی کے دور میں لیبیا افریقہ کے نسبتاً خوشحال ممالک میں شمار ہوتا تھا، جہاں فی کس آمدن خطے کے کئی ممالک سے بہتر تھی اور ریاست شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی تھی۔ 2011 میں نیٹو کی مداخلت کے بعد قذافی حکومت تو ختم ہو گئی، مگر اس کے ساتھ ہی ریاستی ڈھانچہ بھی بکھر گیا۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس مداخلت کے بعد ہزاروں جانیں گئیں، ملک آج بھی مسلح ملیشیاؤں میں بٹا ہوا ہے، اور تیل کی دولت عوام کے بجائے بندوق بردار گروہوں اور بیرونی مفادات کے ہاتھ میں ہے۔افغانستان میں بیس سالہ جنگ ایک اور المناک باب ہے۔”دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نام پر لڑی گئی۔ اس طویل مہم میں مختلف معتبر عالمی رپورٹس کے مطابق تقریباً دو لاکھ افغان جانیں ضائع ہوئیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں، عورتوں اور بچوں کی تھی۔ کھربوں ڈالر خرچ ہوئے، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ جاتے جاتے افغان عوام کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے چھوڑ دیے گئے اور ملک کو شدید انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا کر دیا گیا۔
شام اور یمن جیسے ممالک میں براہِ راست فوجی مداخلت کے بجائے پراکسی جنگوں کا طریقہ اپنایا گیا۔ شام میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں اندازاً پانچ لاکھ افراد مارے گئے اور نصف سے زیادہ آبادی بے گھر ہوئی۔ یمن میں امریکی ساختہ اسلحے سے لیس جنگ نے اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا کا بدترین انسانی بحران جنم دیا، جہاں لاکھوں بچے غذائی قلت اور قابلِ علاج بیماریوں کا شکار ہوئے۔یہ جنگیں محض عسکری کارروائیاں نہیں تھیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک معاشی منطق بھی کارفرما رہی۔ اسلحہ ساز صنعت، جنگی معاہدے، اور وسائل پر بالواسطہ یا بلاواسطہ کنٹرول۔۔یہ سب ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جس میں جنگ معیشت کو سہارا دیتی ہے اور معیشت جنگ کو جواز فراہم کرتی ہے۔ اس عمل میں جمہوریت ایک نعرہ بن جاتی ہے اور انسانی حقوق ایک انتخابی ہتھیار۔اس عالمی منظرنامے کے بعد یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی رجیم چینج کوئی داخلی یا جمہوری عمل نہیں تھی،بلکہ وہ بھی اسی عالمی رجیم چینج پراجیکٹ کا حصہ تھی جس کا نشانہ عمران خان بنے۔
پاکستان میں ایک خوددار وزیراعظم کو محض اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ اس نے غلامی ماننے سے انکار کیا،امپورٹڈ حکومت کا نعرہ محض سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ آج کے حالات اس کی سچائی پر مہر ثبت کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی کا موقف آج وینزویلا کے واقعات کے بعد مزید مضبوط ہو چکا ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستان میں ٹینک نہیں آئے،بم نہیں گرے،لیکن دباؤ سازش اور اندرونی مہرے استعمال کیے گئے۔یہ صرف وینزویلا یا پاکستان کی بات نہیں،یہ ہر اس ملک کے لیے وارننگ ہے جو اپنی خارجہ پالیسی اپنے عوام کے مفاد میں بنانے کی جرأت کرتا ہے ، ایران میں اُٹھنے والی لہر کا پشتیبان بھی امریکہ ہے ،وینزویلا میں بدمعاشی کے زور پر ہونے والی تبدیلی پر اصل سوال یہ ہے کہ کیا سنگینوں کے سائے میں لائی گئی تبدیلی کبھی پائیدار امن دے سکی؟ تاریخ کا جواب نفی میں ہے۔ جہاں جہاں یہ مداخلتیں ہوئیں، وہاں ریاستیں کمزور، معاشرے تقسیم اور نسلیں برباد ہوئیں۔ تیل، گیس اور معدنیات کسی عالمی چوہدری کی ملکیت نہیں بلکہ ان قوموں کی امانت ہیں جو اس سرزمین پر صدیوں سے بستی آئی ہیں۔جب تک بین الاقوامی نظام میں”طاقت ہی حق ہے” کا اصول غالب رہے گا، انسانیت اسی طرح سسکتی رہے گی۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا محض نعروں کے بجائے اس حقیقت کا سامنا کرے کہ جمہوریت بموں سے نہیں آتی، اور امن وسائل کی لوٹ مار سے نہیں بلکہ خود مختاری کے احترام سے جنم لیتا ہے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو انجام کار اپنے ہی ملبے تلے دب جاتا ہے۔
٭٭٭