... loading ...
منظر نامہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
جے شنکر کی سفارتی سیاست پر یہ مصرعہ ”کفر ٹوٹا خداخدا کرکے” پورا اترتا ہے ، جہاں برسوں کی سخت گیری، تکبر اور پاکستان و خطے کے لیے جارحانہ لب و لہجے کے بعد بالآخر حقیقت کی دیوار سے ٹکرانا پڑا۔ وہی جے شنکر جو عالمی فورمز پر اخلاقیات کے وعظ دیتے نہیں تھکتا تھا ، جب زمینی حقائق، علاقائی تنہائی اور سفارتی دباؤ نے گھیرا تو نرم مسکراہٹ، رسمی مصافحے اور محتاط جملے زبان پر آ گئے ۔ یہ تبدیلی کسی اصولی ارتقا کا نتیجہ نہیں بلکہ مجبوری کی کوکھ سے جنم لینے والی حکمتِ عملی ہے ، جہاں کفر جیسی ضد ٹوٹتی ہے تو خدا خدا کر کے راستہ ڈھونڈا جاتا ہے ۔ جے شنکر کی سیاست ہمیں یہی بتاتی ہے کہ طاقت کے نشے میں کہی گئی باتیں وقت کے کٹہرے میں کھڑی ہو کر خود اپنی نفی بن جاتی ہیں، اور آخرکار سفارت کاری کو اسی حقیقت کے آگے سر جھکانا پڑتا ہے جسے کل تک نظر انداز کیا جا رہا تھا۔
گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی آخری رسومات کے موقع پر پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا آمنا سامنا، مصافحہ اور چند خوشگوار جملوں کا تبادلہ محض ایک سماجی آداب کی ادائی نہ تھا بلکہ ایک ایسے خطے میں علامت بن گیا جہاں ہاتھ ملانا بھی نظریے ، بیانیے اور طاقت کی سیاست سے جدا نہیں رہتا۔ رواں سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح رہنماؤں نے ایک دوسرے کو قریب سے دیکھا، مسکرائے اور خیریت دریافت کی، اور یہی لمحہ بنیادی سوال بن جاتا ہے کہ آیا یہ مصافحہ مستقبل میں کسی سفارتی موڑ کی نوید ہے یا پھر صرف ایک رسمی تصویر جسے وقت جلد بھلا دے گا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی کی مختصر مگر شدید جنگ کے بعد تعلقات جس سطح کی کشیدگی تک پہنچے ، اس نے سفارتی رابطوں کو تقریباً منجمد کر دیا۔ سیاسی سطح پر بات چیت کا کوئی چینل فعال نہ رہا، بیانات سخت تر ہوتے گئے اور نفرت کا بیانیہ مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ بھارت میں بی جے پی حکومت کا ہندوتوا پر مبنی نظریہ پہلے ہی پاکستان مخالف سیاست کو اپنی طاقت کا بنیادی ستون بنا چکا تھا، چنانچہ جنگ کے بعد اس بیانیے کو مزید شدت کے ساتھ عوام میں پھیلایا گیا۔ یہاں تک کہ کھیل کے میدان بھی اس نفرت سے محفوظ نہ رہ سکے ۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے روکنا، ایشیا کرکٹ کونسل کے چیئرمین محسن نقوی سے ایشیا کپ کی ٹرافی نہ لینا صرف اس لیے کہ وہ پاکستانی ہیں، یہ سب فیصلے اس بات کی علامت تھے کہ بھارت میں ریاستی سطح پر نفرت کو ایک منظم حکمت عملی کے طور پر اپنایا جا چکا ہے ۔ کرکٹ جیسا مقبول جینٹلمین کھیل سیاسی تعصب کی نذر ہو گیا۔ایسے ماحول میں ڈھاکہ میں ہونے والا یہ مصافحہ غیر معمولی اس لیے بھی ہے کہ یہ کسی باقاعدہ اجلاس، مذاکراتی میز یا سفارتی دورے کا حصہ نہیں تھا بلکہ ایک جنازے کی رسم کے دوران پیش آیا۔ بھارتی وزیر خارجہ کا خود چل کر ایاز صادق کی نشست پر آنا اور ہاتھ ملانا بظاہر ایک تہذیبی اور انسانی رویہ ہے ، مگر جنوبی ایشیا کی سیاست میں علامتیں ہمیشہ اپنے اندر کئی پرتیں رکھتی ہیں۔
جے شنکر کی سفارتی زبان میں شائستگی، مسکراہٹ اور امن کے دعوے کچھ اس انداز سے سجے نظر آتے ہیں جیسے وہ خطے کے خیر خواہ ہوں، مگر عملی سیاست میں تصویر بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے ۔ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کا محاورہ ان کی خارجہ حکمتِ عملی پر پورا اترتا ہے ، جہاں ایک طرف مذاکرات، مصافحے اور خوشگوار جملوں کا تاثر دیا جاتا ہے اور دوسری طرف پاکستان، کشمیر اور مسلم دنیا کے خلاف سخت گیر پالیسیوں، اشتعال انگیز بیانات اور جارحانہ اقدامات کی دھار مسلسل چلتی رہتی ہے ۔ یہی دوہرا پن اس سفارتی رویے کو بے نقاب کرتا ہے جو امن کی بات کرتے ہوئے عدم استحکام کو ہوا دیتا ہے اور شرافت کے پردے میں سیاسی وار کرنے کو ہی کامیابی سمجھتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدام بھارت کی پالیسی میں کسی نرم گوشے کی عکاسی کرتا ہے یا پھر یہ محض عالمی اور علاقائی سفارتی آداب کے تقاضے پورے کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ بھارت مکمل طور پر تنہا اور سخت گیر نہیں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بھارت نے ماضی میں سفارتی تصاویر کو اپنے حق میں بیانیہ بنانے کے لیے بھرپور استعمال کیا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں جے شنکر کی پاکستان آمد اور اسحاق ڈار سے ملاقات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا گیا تھا، جہاں رسمی مسکراہٹیں اور مختصر بات چیت تو ہوئی مگر عملی سطح پر تعلقات میں کوئی بہتری نہ آ سکی۔ڈھاکہ کا مصافحہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی محسوس ہوتا ہے ، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ بی جے پی کی سیاست پاکستان دشمنی پر کھڑی ہے اور داخلی سیاست میں اس بیانیے سے پیچھے ہٹنا مودی سرکار کے لیے آسان نہیں۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
جے شنکر کی سفارتی شخصیت کا دوہرا معیار ، جہاں الفاظ کی چمک اور مسکراہٹوں کی روشنی میں اصل نیت کے کئی سائے چھپے رہتے ہیں۔ بظاہر وہ مکالمے ، امن اور علاقائی استحکام کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں، مگر پسِ پردہ بیانیے میں طاقت کی سیاست، دوہرے معیارات اور منتخب سچ کی کاریگری صاف جھلکتی ہے ۔ ایک ہاتھ میں سفارت کاری کا چراغ اور دوسرے ہاتھ میں سیاسی مفاد کی چھری، یہ وہ توازن ہے جسے جے شنکر مہارت سے نبھاتے ہیں؛ کہیں تاریخ کو اپنی سہولت کے مطابق موڑ دیا جاتا ہے ، کہیں اصولوں کو حالات کے نام پر قربان کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ بازی گری ہے جس میں کواکب تو بہت نظر آتے ہیں، مگر اصل آسمان دھندلا رہتا ہے ، اور سامع کو دیر سے احساس ہوتا ہے کہ جو روشنی دکھائی جا رہی تھی وہ رہنمائی نہیں، محض دھوکا تھی۔بھارتی عوام میں برسوں سے پاکستان مخالف زہر اس حد تک گھولا جا چکا ہے کہ کسی بھی نرم رویے کو کمزوری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ایک اور اہم پہلو بنگلہ دیش کا ہے ، جہاں اس ملاقات نے اضافی حساسیت اختیار کر لی۔ حالیہ برسوں میں بھارتی انتہا پسند حلقوں میں بنگلہ دیش کے خلاف بھی نفرت انگیز بیانات سامنے آئے ہیں اور بی جے پی کے بعض رہنما کھلے عام ایسے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں جو علاقائی استحکام کے لیے خطرناک ہیں۔ ایسے میں ڈھاکہ میں ہونے والا یہ مصافحہ محض پاکستان اور بھارت کے تعلقات تک محدود نہیں رہتا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن، سفارتی پیغامات اور ممکنہ دباؤ کی سیاست سے بھی جڑ جاتا ہے ۔ یہ حیرت انگیز نہیں کہ بعض حلقے اسے بھارت کی نئی سفارتی چال یا علامتی اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کا مقصد بیک وقت پاکستان، بنگلہ دیش اور عالمی برادری کو ایک مخصوص پیغام دینا ہو سکتا ہے ۔اصل سوال یہی ہے کہ کیا اس ملاقات کے بعد بھارت واقعی ڈائیلاگ اور مذاکرات پر آمادہ ہو گا، یا یہ سب کچھ فوٹو سیشن تک ہی محدود رہے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں علامتی حرکات اکثر عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ مذاکرات کی بحالی کے لیے صرف مصافحہ کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے بیانیے میں تبدیلی، نفرت کی سیاست سے پیچھے ہٹنا اور تنازعات کو سیاسی حل کی جانب لے جانا ضروری ہوتا ہے ۔ جب تک بھارت اپنی داخلی سیاست میں پاکستان دشمنی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہے گا، اس وقت تک کسی بھی مثبت پیش رفت کی توقع رکھنا خود فریبی کے مترادف ہو گا۔اسی تناظر میں آپریشن سندور جیسے سوالات بھی جنم لیتے ہیں کہ آیا جنگی ماحول واقعی ختم ہو چکا ہے یا صرف وقتی خاموشی ہے ۔ کھیل کے میدان میں کھلاڑیوں کا کردار بھی اسی بحث کا حصہ ہے ۔ کھیل ہمیشہ امن، رابطے اور انسانیت کا پیغام دیتا آیا ہے ، مگر جب کھلاڑیوں کو ہاتھ ملانے سے روکا جائے تو یہ پیغام کمزور پڑ جاتا ہے ۔ یہ تصور کہ مستقبل میں کھلاڑی نفرت کے بجائے امن کے سفیر بنیں گے ، موجودہ حالات میں ایک خوبصورت مگر مشکل خواب محسوس ہوتا ہے ، کیونکہ ریاستی پالیسی جب نفرت کو ترجیح دے تو کھیل بھی اس سے محفوظ نہیں رہتا۔ڈھاکہ کا یہ مصافحہ بلاشبہ ایک علامت ہے ، مگر علامتیں تب ہی معنی خیز بنتی ہیں جب ان کے پیچھے نیت اور عمل موجود ہو۔ اگر یہ محض ایک رسمی لمحہ تھا تو تاریخ اسے ایک تصویر کے طور پر محفوظ کر لے گی، مگر اگر واقعی اس کے پیچھے کسی سنجیدہ سوچ کی جھلک ہے تو پھر آنے والے دنوں میں اس کا عکس سفارتی بیانات، مذاکراتی کوششوں اور رویوں کی تبدیلی میں نظر آنا چاہیے ۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ یہ مصافحہ برف پگھلنے سے زیادہ ایک آزمائشی لمس تھا، جس سے بھارت نے خود کو مکمل طور پر سخت گیر دکھانے سے وقتی طور پر بچا لیا۔ خطے میں امن کی حقیقی راہ اب بھی مشکل، طویل اور کٹھن ہے ، اور صرف ایک مصافحہ اس راستے کی ضمانت نہیں بن سکتا۔بھارت مقبوضہ کشمیر پر ثالثی کے لیے کبھی بھی تیار نہیں ہو گا۔ یہ بیل منڈ چڑھتے نظر نہیں آتی۔بھارت کا جنگی جنون، نفرت کی سیاست، بھارتی مذہبی ہندوتوا جنون کبھی بھی کامیاب مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو سکتی۔ اس مصافحہ سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا خام خیالی ہے ۔
٭٭٭