... loading ...
ڈاکٹر سلیم خان
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے اپنے سیاسی مفاد کے پیش نظر بلا واسطہ بنگلہ دیشی حزب اختلاف کے الزامات کی بلا واسطہ تائید کر دی ۔ انہوں نے ریاست کی بدلتی آبادی کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست میں بنگلہ دیشی نژاد آبادی 50 فیصد سے تجاوز کر جاتی ہے تو آسام کو بنگلہ دیش کا حصہ بنانے کی کوششیں شروع ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کو موصوف نے آسام کی شناخت اور ثقافت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ سرما اعداد و شمار کا حوالہ دے کر بولے بنگلہ دیشی آبادی اس وقت 40 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ ان کے مطابق ، “آج ہم اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ آبادی 50 فیصد سے تجاوز کر گئی تو آسام کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔”بسوا سرما نے تو اپنے بیان سے حسنات عبداللہ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ۔ انہوں نے نہ صرف آسام کی علٰحیدگی کے خطرے کی تائید کی بلکہ آگے بڑھ کر ریاست میں بنگالی زبان بولنے وا لوں کو بنگلہ دیشی کہہ کر بلا واسطہ مغربی بنگال کو بنگلہ دیش کا حصہ کہہ دیا۔ ایسے احمق لوگوں کے بارے میں ہی غالب نے کہا تھا
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو
ہیمنتا بسوا سرما کے اعدادو شمار کو اگر درست مان لیا جائے تو اس کی روشنی میں ایس آئی آر کو سب سے زیادہ کڑائی کے ساتھ آسام میں ہونا چاہیے کیونکہ اس کامقصد غیر ملکیوں کو رائے دہندگان کی فہرست سے نکالنا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ 27 اکتوبر کو جب الیکشن کمیشن نے ملک کی ایک درجن ریاستوں میں ایس آئی آر کا حکم جاری کیاتو اس میں آسام کا نام غائب تھا جبکہ وہاں انتخابات بالکل سر پر آگئے ہیں۔ آگے چل کر17 نومبر کو آسام کی ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر کا حکم جاری کیا گیاتو توقع کی جارہی تھی کہ آسام میں یہ مشق ملک کے دیگر حصوں کی بہ نسبت زیادہ سخت ہوگی یعنی جہاں دوسرے صوبوں میں 2002ء کی ووٹر لسٹ کو تصدیق شدہ مانا جا رہا ہے ، وہاں آسام میں 1971ء کا ثبوت مانگا جائے گا ۔ این آر سی کے ذریعہ چونکہ یہ عمل مکمل ہوچکا ہے ، اس لئے آسام میں ووٹر لسٹ کی جانچ تباہی مچا دے گی مگر الیکشن کمیشن نے حیرت کا جھٹکا دیتے ہوئے ایس آئی آر یعنی’ خصوصی گہری نظرثانی’ سے ‘گہری’ لفظ کوہی ہذف کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسام میں ہلکی پھلکی یا سطحی ‘نظرثانی’ ہوگی۔ ایس آئی آر کے حوالے سے اس غیر معمولی نرمی کو پر غالب کا یہ شعر(مع ترمیم) یاد آتا ہے
تھی خبر گرم کہ بنگلہ کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ‘بسوا’ گئے پر یہ تماشا نہ ہوا
ہیمنتا بسوا سرما کو یہ بتانا چاہیے کہ اگر آسام میں 40فیصد بنگلہ دیشی ہیں جو بہت جلد کل آبادی کا نصف ہوجائیں گے تو ملک کے دیگر ووٹرس کی مانند ان کو اینیومریشن فارم (گنتی فارم) بھرنے سے مستثنی ٰ کیوں کردیا گیا ؟ وہ لوگ جنھیں دن رات وزیر داخلہ امیت شاہ در انداز (گھس پیٹھیا) کہتے نہیں تھکتے آسام میں فارم بھرے بغیر بی ایل او گھر آکر تصدیق کرنے پر ووٹ دینے کے حقدار کیوں کر بن جائیں گے ؟ آسامیوں کو جن میں 40 فیصد بنگلہ دیشی ہیں 2002 ئکی ووٹر لسٹ میں اپنے یا اپنے رشتہ دار کے نام ہونے کا ثبوت کیوں نہیں دینا ہوگا؟ اور یہ بتانے کی ضرورت کیوں نہیں ہوگی کہ اس وقت وہ خاندان کہاں تھا؟ پورے ملک کو دراندازی کی بیماری سے بچانے کے لیے شہریت ثابت کرنے کی جو کڑوی دوا زبردستی پلائی جا رہی ہے اس سے آسام کو کیوں مستثنیٰ کردیا گیا؟ اس کی وجہ دراصل ہیمنتا بسوا سرما کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتی ہے ۔ آسام میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہر فرد کے کاغذات کی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ کل ١٩ لاکھ اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے اس لیے ان کا نام قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) سے نکال دیا گیا۔ یہ کام بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار کے تحت ہوا تو کیا کل آبادی کا 40 فیصدبنتا ہے ؟ اور ریاست کی جملہ آبادی ہچاس لاکھ سے بھی کم ہے ؟
مذکورہ بالا اعدادو شماروزیر اعلیٰ کے سفید جھوٹ کی تصدیق کرتے ہیں مگر اس کے پیچھے ایک کالا سچ چھپا ہوا ہے جس کے سبب موصوف الیکشن کمیشن سے ان 19 لاکھ غیر شہریوں کا ووٹ کاٹ دینے کا مطالبہ کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر آنے والے ان 19 لاکھ لوگوں میں اکثریت مسلمان نہیں بلکہ ہندو وں کی ہے ۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما خود یہ بیان دے چکے ہیں کہ ان میں صرف ٧ لاکھ مسلمان اور باقی بنگالی ہندو، آسامی ہندو اور گورکھا ہندو ہیں ۔ خیر ہندو ہو یا مسلمان وہ اگر آسامی تہذیب اور ملک کی سالمیت کو خطرہ ہیں تو کم ازکم انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں ہونا چاہیے مگر ستم بالائے ستم یہ بھی ا یک حقیقت ہے کہ آسام میں بی جے پی نے سب سے پہلے بنگالی ہندوؤں کو اپنے جھانسے میں لیا اور وہ اس کے بھروسے مند ووٹرس ہیں ۔ انہیں کا نام کاٹ دیاجائے تو سب سے بڑا نقصان بی جے پی کو ہوجائے گا۔ اس طرح گویا بی جے پی خود اپنے جال میں پھنس گئی ۔ ایسے میں ہیمنتا بسوا سرما پر مومن خاں مومن کا شعر مع ترمیم صادق آتا ہے
الجھا ہے پاؤں ووٹ کے زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا
آسامی وزیر اعلیٰ نے آئندہ اسمبلی انتخابات کو محض سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ تہذیبوں کی لڑائی قرار دیاہے ۔ اگر اسے درست مان لیا جائے تو انہیں بتانا چاہیے کہ دس سالوں تک بی جے پی نے آسام میں ڈبل انجن سرکار چلائی اس دوران جو انتخابات سیاسی مقابلہ آرائی ہوا کرتے تھے وہ اچانک تہذیبی تصادم میں کیونکر بدل گئے اور اس کا کریڈٹ کسے جاتا ہے ؟ بی جے پی نے ہیمنتا بسوا سرما کو جھارکھنڈ انتخابات کا نگرانِ کار بنایا تھا ۔ وہاں پر علاقائی تفاخر اور تشخص کی بنیاد پر ہیمنت سورین نے ہینتا بسوا سرما کو شکست فاش سے دوچار کردیا ۔ سرما نے سورین سے ہار کر جو سبق سیکھا اس کی بنیاد پر آسام کا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں اسی لیے ان کا کہنا ہے کہ انتخابی لڑائی اپنی زمین (مٹی)، شناخت (جٹی) اور بنیاد (بھیٹی) کی حفاظت کے لیے ہوگی ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس کے خطرے سے حفاظت کرنا ہے تو جواب میں وہ کانگریس پارٹی پر کئی دہائیوں سے خوشامد کی سیاست کرنے کا الزام لگا کر کہتے ہیں اس کے سبب ریاست میں ایک “نئی تہذیب کی نشوونما ہوئی ہے ۔
ہیمنتا بسوا سرما کے مطابق کانگریسی ترغیب سے اب تک تقریباً 15 ملین بنگلہ دیشی ( مسلمان) آسام میں آ چکے ہیں ۔19میں 7 لاکھ مسلمانوں کو ڈیڑھ کروڈ بناکر پیش کرنا مبالغہ آرائی کی انتہا ہے ۔ اس پر تو رائی کو پہاڑ بنانے کا محاورہ بھی منطبق نہیں ہوتا ۔ہیمنتا بسوا سرما کو دراندازوں کے مدعا پر جھارکھنڈ میں ہار کا سامنا کرنا پڑا پھر بھی وہ بی جے پی کو آسام میں “امید کی آخری کرن قرار دے کراعلان کرتے ہیں کہ پارٹی ریاست کو دراندازوں کی وجہ سے اندھیرے میں جانے سے بچائے گی۔ سچ تو یہ ہے شمال مشرق میں بی جے پی کے پاس نہ صرف قحط الرجال ہے جس کے سبب سابق بدعنوان کانگریسی کو وزیر اعلیٰ بنانا پڑا بلکہ الیکشن لڑنے کے لیے کوئی طاقتور مدعا کا بھی شدید فقدان ہے ۔ ان لوگوں نے پچھلے دس سالوں میں اگر عوامی فلاح و بہبود کا کام کیا ہوتا تو یہ نوبت ہی نہیں آتی مگر’کریں تو کریں کیا’ ان کو نہ اس میں دلچسپی اور نہ صلاحیت و سنجیدگی ہے ۔
ہیمنتا بسوا سرما کے لیے گھوم پھر کے ہندو مسلم کی کہانی یعنی بنگلہ دیش میں دیپو داس کے حالیہ ہجومی تشدد کا ذکر اور ڈرانا کہ اگر آج وہاں اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں تو آسام کے لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگلے 20 سالوں میں یہاں حالات کیا ہوں گے ؟ بنگلہ دیش میں ہندووں کے مذموم ہجومی تشدد پربسوا سمیت سنگھ پریوار کے کولکاتہ سے لے کر دہلی تک زبردست مظاہرہ کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کے اندر حال میں تین ہجومی تشدد کی وارداتیں ہوچکی ہیں اور بنگلہ دیشی سمجھ کر مارے جانے والے والوں میں دو ہندو نوجوان ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ نے نام نہاد دراندازوں کی وفاداری پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اگر ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو وہ کس کا ساتھ دیں گے ؟ بنگلہ دیشی رہنما حسنات عبداللہ نے تو صرف سفارتکاروں کی مشروط واپسی کا مطالبہ کیا تھا مگر ہیمنتا بسوا سرما تو اسے جنگ تک لے گئے ۔ آج تک کسی بنگلہ دیشی رہنما نے نہ تو جنگ کی بات کی اور نہ وہاں رہنے والے ہندووں کی وفاداری پر اس طرح شکوک و شبہات کا اظہار کیا ۔ سچ تو یہ ان رہنماوں کے سبب ہمارے رہنماوں نے بنگلہ دیش کے اوپر اپنا اخلاقی وقار کھودیا ہے ۔
٭٭٭