وجود

... loading ...

وجود

ہیمنتابسوا سرما نے قومی وقار کو پامال کردیا

اتوار 04 جنوری 2026 ہیمنتابسوا سرما نے قومی وقار کو پامال کردیا

ڈاکٹر سلیم خان

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے اپنے سیاسی مفاد کے پیش نظر بلا واسطہ بنگلہ دیشی حزب اختلاف کے الزامات کی بلا واسطہ تائید کر دی ۔ انہوں نے ریاست کی بدلتی آبادی کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست میں بنگلہ دیشی نژاد آبادی 50 فیصد سے تجاوز کر جاتی ہے تو آسام کو بنگلہ دیش کا حصہ بنانے کی کوششیں شروع ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کو موصوف نے آسام کی شناخت اور ثقافت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ سرما اعداد و شمار کا حوالہ دے کر بولے بنگلہ دیشی آبادی اس وقت 40 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ ان کے مطابق ، “آج ہم اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ آبادی 50 فیصد سے تجاوز کر گئی تو آسام کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔”بسوا سرما نے تو اپنے بیان سے حسنات عبداللہ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ۔ انہوں نے نہ صرف آسام کی علٰحیدگی کے خطرے کی تائید کی بلکہ آگے بڑھ کر ریاست میں بنگالی زبان بولنے وا لوں کو بنگلہ دیشی کہہ کر بلا واسطہ مغربی بنگال کو بنگلہ دیش کا حصہ کہہ دیا۔ ایسے احمق لوگوں کے بارے میں ہی غالب نے کہا تھا
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو
ہیمنتا بسوا سرما کے اعدادو شمار کو اگر درست مان لیا جائے تو اس کی روشنی میں ایس آئی آر کو سب سے زیادہ کڑائی کے ساتھ آسام میں ہونا چاہیے کیونکہ اس کامقصد غیر ملکیوں کو رائے دہندگان کی فہرست سے نکالنا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ 27 اکتوبر کو جب الیکشن کمیشن نے ملک کی ایک درجن ریاستوں میں ایس آئی آر کا حکم جاری کیاتو اس میں آسام کا نام غائب تھا جبکہ وہاں انتخابات بالکل سر پر آگئے ہیں۔ آگے چل کر17 نومبر کو آسام کی ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر کا حکم جاری کیا گیاتو توقع کی جارہی تھی کہ آسام میں یہ مشق ملک کے دیگر حصوں کی بہ نسبت زیادہ سخت ہوگی یعنی جہاں دوسرے صوبوں میں 2002ء کی ووٹر لسٹ کو تصدیق شدہ مانا جا رہا ہے ، وہاں آسام میں 1971ء کا ثبوت مانگا جائے گا ۔ این آر سی کے ذریعہ چونکہ یہ عمل مکمل ہوچکا ہے ، اس لئے آسام میں ووٹر لسٹ کی جانچ تباہی مچا دے گی مگر الیکشن کمیشن نے حیرت کا جھٹکا دیتے ہوئے ایس آئی آر یعنی’ خصوصی گہری نظرثانی’ سے ‘گہری’ لفظ کوہی ہذف کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسام میں ہلکی پھلکی یا سطحی ‘نظرثانی’ ہوگی۔ ایس آئی آر کے حوالے سے اس غیر معمولی نرمی کو پر غالب کا یہ شعر(مع ترمیم) یاد آتا ہے
تھی خبر گرم کہ بنگلہ کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ‘بسوا’ گئے پر یہ تماشا نہ ہوا
ہیمنتا بسوا سرما کو یہ بتانا چاہیے کہ اگر آسام میں 40فیصد بنگلہ دیشی ہیں جو بہت جلد کل آبادی کا نصف ہوجائیں گے تو ملک کے دیگر ووٹرس کی مانند ان کو اینیومریشن فارم (گنتی فارم) بھرنے سے مستثنی ٰ کیوں کردیا گیا ؟ وہ لوگ جنھیں دن رات وزیر داخلہ امیت شاہ در انداز (گھس پیٹھیا) کہتے نہیں تھکتے آسام میں فارم بھرے بغیر بی ایل او گھر آکر تصدیق کرنے پر ووٹ دینے کے حقدار کیوں کر بن جائیں گے ؟ آسامیوں کو جن میں 40 فیصد بنگلہ دیشی ہیں 2002 ئکی ووٹر لسٹ میں اپنے یا اپنے رشتہ دار کے نام ہونے کا ثبوت کیوں نہیں دینا ہوگا؟ اور یہ بتانے کی ضرورت کیوں نہیں ہوگی کہ اس وقت وہ خاندان کہاں تھا؟ پورے ملک کو دراندازی کی بیماری سے بچانے کے لیے شہریت ثابت کرنے کی جو کڑوی دوا زبردستی پلائی جا رہی ہے اس سے آسام کو کیوں مستثنیٰ کردیا گیا؟ اس کی وجہ دراصل ہیمنتا بسوا سرما کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتی ہے ۔ آسام میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہر فرد کے کاغذات کی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ کل ١٩ لاکھ اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے اس لیے ان کا نام قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) سے نکال دیا گیا۔ یہ کام بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار کے تحت ہوا تو کیا کل آبادی کا 40 فیصدبنتا ہے ؟ اور ریاست کی جملہ آبادی ہچاس لاکھ سے بھی کم ہے ؟
مذکورہ بالا اعدادو شماروزیر اعلیٰ کے سفید جھوٹ کی تصدیق کرتے ہیں مگر اس کے پیچھے ایک کالا سچ چھپا ہوا ہے جس کے سبب موصوف الیکشن کمیشن سے ان 19 لاکھ غیر شہریوں کا ووٹ کاٹ دینے کا مطالبہ کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر آنے والے ان 19 لاکھ لوگوں میں اکثریت مسلمان نہیں بلکہ ہندو وں کی ہے ۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما خود یہ بیان دے چکے ہیں کہ ان میں صرف ٧ لاکھ مسلمان اور باقی بنگالی ہندو، آسامی ہندو اور گورکھا ہندو ہیں ۔ خیر ہندو ہو یا مسلمان وہ اگر آسامی تہذیب اور ملک کی سالمیت کو خطرہ ہیں تو کم ازکم انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں ہونا چاہیے مگر ستم بالائے ستم یہ بھی ا یک حقیقت ہے کہ آسام میں بی جے پی نے سب سے پہلے بنگالی ہندوؤں کو اپنے جھانسے میں لیا اور وہ اس کے بھروسے مند ووٹرس ہیں ۔ انہیں کا نام کاٹ دیاجائے تو سب سے بڑا نقصان بی جے پی کو ہوجائے گا۔ اس طرح گویا بی جے پی خود اپنے جال میں پھنس گئی ۔ ایسے میں ہیمنتا بسوا سرما پر مومن خاں مومن کا شعر مع ترمیم صادق آتا ہے
الجھا ہے پاؤں ووٹ کے زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا
آسامی وزیر اعلیٰ نے آئندہ اسمبلی انتخابات کو محض سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ تہذیبوں کی لڑائی قرار دیاہے ۔ اگر اسے درست مان لیا جائے تو انہیں بتانا چاہیے کہ دس سالوں تک بی جے پی نے آسام میں ڈبل انجن سرکار چلائی اس دوران جو انتخابات سیاسی مقابلہ آرائی ہوا کرتے تھے وہ اچانک تہذیبی تصادم میں کیونکر بدل گئے اور اس کا کریڈٹ کسے جاتا ہے ؟ بی جے پی نے ہیمنتا بسوا سرما کو جھارکھنڈ انتخابات کا نگرانِ کار بنایا تھا ۔ وہاں پر علاقائی تفاخر اور تشخص کی بنیاد پر ہیمنت سورین نے ہینتا بسوا سرما کو شکست فاش سے دوچار کردیا ۔ سرما نے سورین سے ہار کر جو سبق سیکھا اس کی بنیاد پر آسام کا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں اسی لیے ان کا کہنا ہے کہ انتخابی لڑائی اپنی زمین (مٹی)، شناخت (جٹی) اور بنیاد (بھیٹی) کی حفاظت کے لیے ہوگی ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس کے خطرے سے حفاظت کرنا ہے تو جواب میں وہ کانگریس پارٹی پر کئی دہائیوں سے خوشامد کی سیاست کرنے کا الزام لگا کر کہتے ہیں اس کے سبب ریاست میں ایک “نئی تہذیب کی نشوونما ہوئی ہے ۔
ہیمنتا بسوا سرما کے مطابق کانگریسی ترغیب سے اب تک تقریباً 15 ملین بنگلہ دیشی ( مسلمان) آسام میں آ چکے ہیں ۔19میں 7 لاکھ مسلمانوں کو ڈیڑھ کروڈ بناکر پیش کرنا مبالغہ آرائی کی انتہا ہے ۔ اس پر تو رائی کو پہاڑ بنانے کا محاورہ بھی منطبق نہیں ہوتا ۔ہیمنتا بسوا سرما کو دراندازوں کے مدعا پر جھارکھنڈ میں ہار کا سامنا کرنا پڑا پھر بھی وہ بی جے پی کو آسام میں “امید کی آخری کرن قرار دے کراعلان کرتے ہیں کہ پارٹی ریاست کو دراندازوں کی وجہ سے اندھیرے میں جانے سے بچائے گی۔ سچ تو یہ ہے شمال مشرق میں بی جے پی کے پاس نہ صرف قحط الرجال ہے جس کے سبب سابق بدعنوان کانگریسی کو وزیر اعلیٰ بنانا پڑا بلکہ الیکشن لڑنے کے لیے کوئی طاقتور مدعا کا بھی شدید فقدان ہے ۔ ان لوگوں نے پچھلے دس سالوں میں اگر عوامی فلاح و بہبود کا کام کیا ہوتا تو یہ نوبت ہی نہیں آتی مگر’کریں تو کریں کیا’ ان کو نہ اس میں دلچسپی اور نہ صلاحیت و سنجیدگی ہے ۔
ہیمنتا بسوا سرما کے لیے گھوم پھر کے ہندو مسلم کی کہانی یعنی بنگلہ دیش میں دیپو داس کے حالیہ ہجومی تشدد کا ذکر اور ڈرانا کہ اگر آج وہاں اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں تو آسام کے لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگلے 20 سالوں میں یہاں حالات کیا ہوں گے ؟ بنگلہ دیش میں ہندووں کے مذموم ہجومی تشدد پربسوا سمیت سنگھ پریوار کے کولکاتہ سے لے کر دہلی تک زبردست مظاہرہ کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کے اندر حال میں تین ہجومی تشدد کی وارداتیں ہوچکی ہیں اور بنگلہ دیشی سمجھ کر مارے جانے والے والوں میں دو ہندو نوجوان ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ نے نام نہاد دراندازوں کی وفاداری پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اگر ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو وہ کس کا ساتھ دیں گے ؟ بنگلہ دیشی رہنما حسنات عبداللہ نے تو صرف سفارتکاروں کی مشروط واپسی کا مطالبہ کیا تھا مگر ہیمنتا بسوا سرما تو اسے جنگ تک لے گئے ۔ آج تک کسی بنگلہ دیشی رہنما نے نہ تو جنگ کی بات کی اور نہ وہاں رہنے والے ہندووں کی وفاداری پر اس طرح شکوک و شبہات کا اظہار کیا ۔ سچ تو یہ ان رہنماوں کے سبب ہمارے رہنماوں نے بنگلہ دیش کے اوپر اپنا اخلاقی وقار کھودیا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
2025 ۔۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا سال وجود پیر 05 جنوری 2026
2025 ۔۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا سال

بھارت کی خوفناک آبی دہشت گردی وجود پیر 05 جنوری 2026
بھارت کی خوفناک آبی دہشت گردی

وینزویلا،اسکرین کا پس منظر وجود پیر 05 جنوری 2026
وینزویلا،اسکرین کا پس منظر

جے شنکرمصافحہ یا بھارتی نئی چال وجود اتوار 04 جنوری 2026
جے شنکرمصافحہ یا بھارتی نئی چال

ہیمنتابسوا سرما نے قومی وقار کو پامال کردیا وجود اتوار 04 جنوری 2026
ہیمنتابسوا سرما نے قومی وقار کو پامال کردیا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر