... loading ...
ریاض قھوجی
(گزشتہ سے پیوستہ)
لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور خاص طور پر دریائے لیطانی کے شمال سے حزب اللہ کو پیچھے ہٹانے میں لبنانی فوج کو کئی طرح کی پیچیدگیوں اور مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ حزب اللہ ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔کئی بین الاقوامی کھلاڑیوں کے انتباہ کے ماحول میں یہ معاملہ اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف نئے سرے سے جنگ کا سبب بن سکتا ہے ۔ خصوصا وادی بقاع کے علاقے میں جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ حزب اللہ نے جہاں دور تک مار کرنے والے بیلیسٹک میزائل ذخیرہ کر رکھے ہیں۔ نیز وادی بقاع میں ہی حزب اللہ کے پاس ڈرون طیاروں کا ذخیرہ ہے ۔ علاوہ ازیں لبنان کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فورس ‘یونیفل’کی مدت کار 2026کے اواخر پر اختتام پذیر ہو رہی ہے ۔ ‘یونیفل’کی مدت کار ختم ہونے کے بعد سرحدی علاقوں کا تحفظ کیونکر ہوگا اور اسرائیل کے ساتھ اسے کیسے منظم کیا جائے گا۔ یہ قابل غور ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی امن فورس ‘یونیفل’ایک ‘بفر فورس’کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔یہ اس لیے بھی ضروری ہو گا کہ حزب اللہ نے اپنے ہتھیاروں کو برقرار رکھا ہوا ہے اور وہ اس میں کوئی تبدیلی کرنے کو تیار نہیں ہے ۔
مستقبل میں اگر کوئی جنگ چھڑتی ہے تو اس کے نتیجے میں لازم ہو گا کہ موجودہ میکنزم کو برقرار رکھا جائے ۔ نیز اسرائیل اور لبنان کے درمیان بات چیت کی کوششیں کی جائیں۔ اگرچہ دونوں اطراف سے بڑے بڑے مطالبات موجود ہیں۔اسرائیل اگر لبنان کی وادی بقاع میں زمینی فوجی کارروائی کرنے کو ضروری سمجھتا ہے تو بھی اسے موسم بہار تک انتظار کرنا پڑے گا کہ اس سے پہلے برفباری اس کی فوجی کارروائی میں حائل رہے گی۔جہاں تک عراق سے جڑے اسرائیلی محاذ کی قسمت کا تعلق ہے اس کا انحصار عراقی حکومت کی پوزیشن اور عراق میں ایرانی پراکسیز کے پاس ہتھیاروں کی موجودگی پر ہے ۔ اگر ایران کا اثر ورسوخ عراق میں اگلی حکومت میں بڑھ جاتا ہے تو یہ اغلب ہے کہ اسرائیل عراقی محاذ کو گرم کر دے گا۔امریکہ عراق میں ایرانی حمایت یافتہ حکومت کے قیام کو روکنے کے لیے پورا دباؤ استعمال کر رہا ہے اور عراقی حکام کو اس سلسلے میں بھی مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہے کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرے ۔ عراق کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائی ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ سے جڑا ہوا ایک واقعہ بھی ہو سکتی ہے ۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان جغرافیائی روابط بھی اس سلسلے میں اہم ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے خطے میں حالیہ دنوں میں کئی ڈرامائی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہیں۔ یہ صورتحال یمن میں بھی دیکھی جا رہی ہے اور صومالی لینڈ کو اسرائیل کی طرف سے ایک ریاست تسلیم کیے جانے کے حوالے سے بھی اہم ہے ۔ بہت سے تجزیہ کار یہ یقین رکھتے ہیں کہ اسرائیل کی طرف سے یہ پیش رفت باب المندب کے علاقے میں اپنا فوجی اڈہ بنانے کی غرض سے ہے ۔ جو کہ بحیرہ احمر کا جنوبی دروازہ ہے اور یمنی ساحل کے مقابل سمت میں ہے ۔اس علاقے میں اسرائیلی فوجی اڈے کے قیام سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ یمن کے حوثی اسرائیلی نشانے پر براہ راست آ سکتے ہیں۔ اسرائیل ایرانی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے اور اسرائیل کو یمن کی طرف ایک توسیعی موقع اور کردار مل سکتا ہے ۔ حتیٰ کہ طویل مدتی بنیادوں پر دیکھا جائے تو افریقی بندرگاہ تک اسرائیل کے اثرات بڑھ سکتے ہیں ۔ نیز مصر کو بھی جنوب کی طرف سے اسرائیل اپنے گھیرے میں لے سکتا ہے ۔
اسرائیل و مصر کے درمیان امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی حکام تسلسل کے ساتھ اپنی جنگی و فوجی صلاحیتوں کو بڑھاوا دینے کی بات کرتے ہیں کیونکہ وہ مصر کو امن معاہدے کے باوجود اپنے لیے تشویش کا ایک بڑا سبب سمجھتا ہے ۔ایسے میں غزہ اور شام کے محاذوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ غزہ اس وقت اس امن منصوبے سے جڑا ہوا ہے جو صدر ٹرمپ کے منصوبے کے طور پر مشہور ہے اور اس پر ان کے دستخط بھی ہیں۔ مطلب یہ کہ اس سلسلے میں نیتن یاہو پر بھی امریکی دباؤ رہے گا اور علاقے کے بارے میں امریکی عزائم بھی موجود رہیں گے ۔ باوجود اس کے کہ اسرائیل کے لیے حماس کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے اور سفارتی محاذ پر جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے کام جاری ہے جو اگلے ہفتوں میں امکانی طور پر مکمل ہو جائے گا۔ اس کے باوجود اسرائیل کی طرف سے حماس کو غیر مسلح کرنے کے نام پر حملے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
اسرائیل کے شامی محاذ پر شام اور اسرائیل کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ سکیورٹی اور سیاسی امور کے علاوہ معاشی میدان میں بھی تعلقات میں بہتری آ رہی ہے امریکہ نے ‘سیزر ایکٹ’کے تحت لگائی گئی پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ نیتن یاہو دروز قبیلے اور کردوں کے حوالے سے کھلے عام اپنی کوششیں کر چکے ہیں اور شام کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔
شامی حکومت پر ایک طرح سے دباؤ ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سلامتی کے معاہدے پر دستخط کرے ۔ امریکہ ترکیہ اور سعودی عرب کے ذریعے شام میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے ۔ شام میں یہ تیز رفتار پیش رفت اگرچہ موجود ہے تاہم آنے والے مہینوں میں معاملات کو فیصلہ کن فوجی نتائج کی طرف دھکیلے جانے کا بھی امکان موجود ہے ۔ جو بالآخر اسرائیل اور شام کے درمیان ایک نئے سکیورٹی معاہدے کا باعث بنے گا اور دمشق میں موجود نئی حکومت کو تقویت دے سکے گا۔ (ختم شد)
٭٭٭