وجود

... loading ...

وجود
جمعه 02 جنوری 2026

کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

جمعه 02 جنوری 2026 کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

افتخار گیلانی

ہندوستان کے ایک سول سوسائٹی گروپ نے حال ہی میں کشمیر کا دورہ کرکے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ خطے میں حالات پریشان کن، غیر مستحکم اور خطرناک رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔سیاسی، سول سروس اور فوج سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر مشتمل اس گروپ نے 28سے 31اکتوبر 2025کے درمیان کشمیر اور جموں کا تفصیلی دورہ کیا، درجنوں ملاقاتیں کیں۔ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقیقت ہندوستانی حکومت کے بیانیے سے بالکل مختلف ہے ۔کنسرنڈ سٹیزنز یعنی فکر مند شہریوں کے گروپ میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، سماجی کارکن سشوبابھا روے ، ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) کپل کاک اور سینئر صحافی بھارت بھوشن شامل تھے ۔یہ گروپ دراصل 2016 میں وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کے بعد قائم کیا گیا تھا۔اراکین نے واضح کیا کہ ان کا کسی سیاسی جماعت یا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، اور ان کے تمام دورے اور سرگرمیاں ذاتی وسائل سے انجام پاتی ہیں۔حال ہی میں کیا گیا ان کا کشمیر کا گیاہواں دورہ تھا، جس کے بعد انہوں نے نئی دہلی میں حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی۔
سول سوسائٹی اراکین کے مطابق، کشمیر بظاہر خاموش ہے ، مگر یہ خاموشی اطمینان یا بہتری کی علامت نہیں بلکہ خوف، دباؤ، نگرانی اور دبے ہوئے غصے کا نتیجہ ہے ۔رپورٹ کے الفاظ میں کشمیر’خاموش اور اُداس’ہے ، اختلافِ رائے خطرناک ہو چکا ہے ، اور 2019کے بعد سے بیگانگی اس حد تک بڑھ چکی ہے جو ماضی کے کسی بھی دور میں دیکھنے میں نہیں آتی ہے ۔ رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ غصہ اب صرف وادی تک محدود نہیں رہا بلکہ جموں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔دورے کے دوران گروپ نے سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، تاجروں، صحافیوں، طلبہ، وکلا اور مذہبی شخصیات سے تفصیلی بات چیت کی۔تقریباً تمام ملاقاتوں میں سب سے نمایاں اور مشترک احساس خوف کا تھا۔ سری نگر میں مقیم ایک سینئر ڈاکٹر نے گروپ کو بتایا کہ
‘ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے ، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے ۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے ۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے ‘۔
اسی ڈاکٹر کے بیان کے فوراً بعد، اور دیگر کئی ملاقاتوں میں بھی، لوگوں نے گروپ کو بار بار یہ احساس دلایا کہ حالات کسی بڑے دھماکے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔متعدد افراد نے ایک ہی جملہ دہرایا کہ ‘کچھ بڑا ہونے والا ہے ، کچھ بڑا ہونے والا ہے ‘۔ایک سینئر ایڈیٹر نے کہا کہ کشمیری معاشرے کی یہ خاموشی غیر فطری اور غیر مستحکم ہے ، اور جب یہ ٹوٹے گی تو اس کے نتائج نہ صرف کشمیر بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہوں گے ۔سب سے چونکا دینے والا انکشاف حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق نے کیا۔ انہوں نے گروپ کو بتایا کہ اکثر اوقات ان کو تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے ۔ جس روز ان کو اجازت ملتی ہے ، اس سے ایک روز قبل ان کو خطبہ اور وعظ کے نکات حکام کے حوالے کرنے پڑتے ہیں۔ان کی اجازت کے بعد ہی ان کو خطاب کرنے کی اجازت ملتی ہے ۔اس کے علاوہ نکاح کی مجالس میں جانے سے قبل ان کو دولہا اور دلہن کے خاندان کے کوائف حکام کو دینے پڑتے ہیں اور جانچ پڑتا ل کے بعد ہی ان کو نکاح کی مجالس میں جانے اور نکاح خوانی کی اجازت ملتی ہے ۔ حال ہی میں میرواعظ فاروق نے اپنے ایکس اکاؤنٹ کے پروفائل پر حریت کانفرنس چیر مین کے عہدے کی شناخت کو ہٹا دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ا ن پر اس شناخت کو ہٹانے کے لیے دباؤ تھا۔ ان کا اکاؤنٹ معطل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ گو کہ حریت کی بیشتراکائیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ، مگر خود حریت پر پابندی نہیں ہے ۔ اس لیے اس کو ہٹانے کے لیے میرواعظ پر دباؤ ڈالنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی ہے ۔
ایک ریٹائرڈ پروفیسر نے اس سول سوسائٹی گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے خدشے کا اظہار کیا کہ 2019 کے بعد سے کشمیری شناخت کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر بندوبست باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی محرومی کے بڑھتے ہوئے احساس کے ساتھ یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ کشمیری ہونے کی کوئی ضمانت یا تحفظ باقی نہیں ہے ۔کئی افراد نے بتایا کہ انہیں ہندوستان کے دیگر حصوں میں گالیوں، نفرت انگیز رویوں اور دقیانوسی تصورات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔سرینگر کی سول سوسائٹی کے ایک رکن نے وفد کو بتایا کہ کشمیر میں منعقد ہونے والے ایک متنازعہ بالی ووڈ گلوکار کے ایونٹ کو’ثقافتی یلغار’قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگ اسے کشمیری تہذیب اور وقار کی دانستہ توہین سمجھتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، مئی 2025 میں آپریشن سیندور اور اس کے بعد نومبر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد انڈیا مخالف جذبات میں واضح اضافہ ہوا ہے ۔ خاص طور پر نوجوان شدید ذہنی اور سماجی بحران کا شکار ہیں۔گروپ کا مشاہدہ ہے کہ نوجوان دو خطرناک راستوں کے درمیان پھنس چکے ہیں:ایک طرف منشیات کی لت، اور دوسری طرف شدت پسندی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہے ۔سیاسی سطح پر رپورٹ کا کہنا ہے کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے باوجود جموں و کشمیر میں جمہوریت محض رسمی حیثیت رکھتی ہے۔
عمر عبداللہ کی قیادت میں منتخب حکومت کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے ، مگر حقیقی اختیار بدستور لیفٹیننٹ گورنر کے پاس مرتکز ہے ۔ عمر عبداللہ نے خود گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو ‘آدھا وزیر اعلیٰ’ محسوس کرتے ہیں۔ان کے مطابق، وادی کی 47 میں سے 41 نشستوں کا واضح مینڈیٹ حاصل ہونے کے باوجود منتخب حکومت بے اختیار ہے جبکہ انتظامیہ پر لیفٹیننٹ گورنر کا کنٹرول برقرار ہے ۔اہم فیصلے ، جن میں سول سرونٹس اور پولیس افسران کی تعیناتیاں شامل ہیں، منتخب حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ اس طرزِ حکمرانی نے عوام میں شدید مایوسی کو جنم دیا ہے ۔شہریوں نے گروپ کو بتایا کہ بہت کم کشمیری افسران کو ضلعی سطح پر ذمہ داریاں دی جاتی ہیں، جبکہ باہر سے آنے والے افسران نہ مقامی زبان سمجھتے ہیں اور نہ زمینی حقیقت، جس سے عدم اعتماد مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے ۔نیشنل کانفرنس کے اندرونی اختلافات، خاص طور پر عمر عبداللہ اور بڈگام سے پارٹی کے رکن پارلیامنٹ آغا روح اللہ کے درمیان تنازعات، نے حکومت کو مزید کمزور کیا۔
حال ہی میں بڈگام کے ضمنی انتخاب میں نیشنل کانفرنس کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف محبوبہ مفتی کی سیاسی سرگرمیوں میں دوبارہ جان آتی دکھائی دے رہی ہے ۔ ان کی طرف سے کشمیری قیدیوں کو مقامی جیلوں میں منتقلی کے مطالبے پر دائر عوامی مفاد کی درخواست اور احتجاجی سیاست نے ان کے لیے ہمدردی پیدا کی ہے ۔رپورٹ یاد دلاتی ہے کہ اکتوبر 2024 میں جموں و کشمیر اسمبلی نے ریاستی درجہ فوری بحال کرنے کی قرارداد منظور کی تھی، مگر ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ریاستی درجہ نہ ہونے کے باعث انسانی حقوق کمیشن، صارفین کے ازالے کے ادارے اور اپیلٹ فورمز مؤثر طور پر کام نہیں کر پا رہے ، جس سے شہری ادارہ جاتی انصاف سے محروم ہیں۔لوگوں نے گروپ کو بتایا کہ اگست 2019 کے بعد آرٹیکل 370 اور 35ـاے کی منسوخی کے نقصانات آج بھی تازہ محسوس ہوتے ہیں۔اس اقدام کو انہوں نے شناخت، عزت اور وقار کے نقصان سے تعبیر کیا۔
رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کو بھی مرکز کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، اور اُس وقت کے جسٹس سنجیو کھنہ نے ایک علیحدہ عدالتی نوٹ میں ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ تاہم، پہلگام حملے اور مبینہ لال قلعہ سازش جیسے واقعات کو فیصلے میں مزید تاخیر کے جواز کے طور پر استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔اس گروپ کے مطابق، نئی ریزرویشن پالیسی کو طلبہ نے ایک ‘ٹائم بم’قرار دیا ہے ۔ ان کے مطابق،گو کہ ہندوستان کے دیگر علاقوں میں ریزرویشن یعنی نوکریوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کیلئے نچلے طبقہ کے لیے نشستیں مخصوص رکھنے کا ایک پس منظرہے ، کشمیر میں اس کو اکثریتی آبادی کو بے اختیار کرنے اور سسٹم سے باہر کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔اس ریزرویشن پالیسی کے تحت ریاست میں 69فیصد کشمیری بولنے والی مسلم آبادی کے لیے نوکریوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 40فیصد سے کم نشستیں رہ گئی ہیں۔
میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کہتی ہے کہ 2024 کے انتخابات کے باوجود صحافتی آزادی بحال نہیں ہوئی۔ سنسرشپ، دھمکی اور نگرانی بدستور جاری ہے ۔کئی ایسے صحافی جو بڑے قومی اداروں سے منسلک ہیں کی ایکریڈیشن منسوخ یا مسترد کی جا چکی ہے ۔ آپریشن سیندور کے دوران مقامی صحافی آزادانہ رپورٹنگ سے قاصر رہے اور کئی کو پولیس نے طلب کیا۔ایک صحافی نے کہا کہ سرکاری تقریبات کی کوریج کی اجازت نہ دینا’جان بوجھ کر ان کے کیریئر کو سبوتاژ کرنے ‘ کے مترادف ہے ۔ پھر ایک نیا سرکاری ہدایت نامہ صحافیوں سے کہتا ہے کہ وہ چھ ماہ کی تنخواہ کی سلپس اور تفصیلی پس منظر کی معلومات جمع کرائیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ ‘حقیقی صحافی’ہیں۔انتظامیہ نقالی اور اسناد کے غلط استعمال کی شکایات کا حوالہ دیتی ہے ، لیکن صحافی اسے دخل اندازی اور خوفزدہ کرنے والا قرار دیتے ہیں۔
رپورٹ میں اس خدشے کو اُجاگر کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر اکثر عسکری گروہوں کے ‘اوور گراونڈ ورکرز’ پر کریک ڈاون کی بات کرتے ہیں، جس سے رپورٹرز کو یہ خوف ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ‘دہشت گرد ماحولیاتی نظام’ کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔انھوں نے صحافی عرفان میراج کی طویل حراست کا حوالہ دیا، جنھیں دہلی کی روہنی جیل میں سوسے زیادہ دنوں سے رکھا گیا ہے ، اور سماعتیں بار بار ملتوی کی جاتی ہیں۔
اقتصادی محاذ پر صورت حال مزید تشویش ناک ہے ۔ پہلگام حملے کے بعد سیاحت تقریباً مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ ہزاروں ہوٹل مالکان، ٹیکسی ڈرائیور اور دکاندار موسمِ سرما سے قبل اپنی بنیادی آمدنی سے محروم ہو گئے ۔ سری نگرجموں ہائی وے کی طویل بندش نے سیب کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، اور صرف پلوامہ منڈی میں نقصانات20 بلین روپے سے تجاوز کر گئے ۔رپورٹ کے مطابق ہندو اکثریتی جموں میں بھی بیگانگی اور غصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔آپریشن سیندور کے بعد گولہ باری کے واقعات جموں شہر کے قریب تک پہنچ گئے ، جس کے باعث کئی خاندان عارضی طور پر ہماچل پردیش اور دہلی منتقل ہوئے ۔بعض علاقوں میں مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔جموں کے ایک دانشور نے گروپ کو بتایا کہ وہ بھی خود کو ایک کالونی کی طرح محسوس کرتے ہیں کیونکہ منصوبہ بندی میں جموں کا کوئی واضح مقام نظر نہیں آتا۔چار دن کے سفر اور درجنوں ملاقاتوں کے بعد کنسرنڈ سٹیزنز گروپ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال غیر مستحکم، پریشان کن اور منظم انداز میں غلط طور پر پیش کی جا رہی ہے ۔
رپورٹ ایک واضح انتباہ کے ساتھ ختم ہوتی ہے کہ اگر سیاسی مکالمہ، ریاستی درجہ کی بحالی، انتظامی اصلاحات اور اقتصادی تحفظات پر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ، جموں و کشمیر پر چھائی خاموشی زیادہ دیر تک نہیں رہے گی۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف وجود جمعه 02 جنوری 2026
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

بھارت کی ریاستی دہشت گردی وجود جمعه 02 جنوری 2026
بھارت کی ریاستی دہشت گردی

شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے ! وجود جمعه 02 جنوری 2026
شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے !

مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر