... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارت نے موبائل تیار کرنے والی کمپنیوں کو ہر فون پر ایک سیفٹی ایپ انسٹال کرنے کا حکم دیا ہے، جس سے سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں حکومتی جاسوسی کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔اس حکم نامے پر مقامی پرائم ٹائم ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ پرائیویسی کے حامیوں اور اپوزیشن جماعتوں نے سخت تنقید کی ہے۔ بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس حکم کو ”آئینی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے موبائل فون اپلی کیشن ”سنچار ساتھی” کو جاسوسی اپلی کیشن قرار دیا ہے۔ بھارتی محکمہ ٹیلی کام نے موبائل فون بنانے والوں سے کہا ہے کہ وہ نئے ہینڈ سٹس میں سنچار ساتھی پہلے سے انسٹال کردیں۔ پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ملک کو آمریت میں تبدیل کر رہی ہے۔ محکمہ ٹیلی کام نے موبائل ہینڈ سٹس بنانے والوں اور باہر سے منگوانے والوں سے کہا ہے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ دھوکہ دہی کی اطلاع دینے والا اپلی کیشن سنچار ساتھی تمام نئے ہینڈ سیٹس میں 90یوم میں پری انسٹال کر دیا جائے۔ یہ مضحکہ خیز ہے ، شہریوںکو پرائیوسی کا حق ہے ، حکومت اس ملک کو ہر طرح سے ڈکٹیٹر شپ والے ملک میں بدل رہی ہے ۔ آپ لوگ روز مجھ سے پوچھتے ہیں پارلیمنٹ کیوں نہیں چل رہی ہے ، یہ اس لیے نہیں چل رہی ہے کہ حکوت کسی بھی مسئلے پر بات چیت کرنے سے انکار کر رہی ہے۔اپوزیشن کو مورد الزام ٹھہرانا بڑا آسان ہے لیکن حکومت کسی بھی مسئلے پر بحث نہیں ہونے دے رہی ہے ، یہ جمہوریت نہیں ہے۔ سائبر سیکورٹی ضروری ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہرشہری کے ٹیلی فون میں گھس جائیں ، میرے خیال میں کوئی بھی شہری اس سے خوش نہیں ہوگا۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ”سنچار ساتھی” اپلی کیشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے ہر فرد کی رازداری کے حق کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ ایپ ممکنہ طور پر صارفین کے حقیقی وقت کے جیو لوکیشن کو ٹریک کر سکتی ہے، سرچ ہسٹری، مالیاتی لین دین اور یہاں تک کہ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ کے ذریعے ہونے والی بات چیت کو مانیٹر کر سکتی ہے۔ وزارت مواصلات نے مبینہ طور پر ایک حکم جاری کیا ہے جس کے تحت تمام سیل فون مینوفیکچررز اور سیل فونز کے درآمد کنندگان لازمی طور پر سنچار ساتھی ایپ کو اپ لوڈ کرنے کے پابند ہیں۔ یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ اس ایپ کو ہر سیل فون اور اسمارٹ فون میں دھکیل دیا جائے۔ کیا یہ ہر فرد کے پرائیویسی کے حق کی مکمل طور پر نفی نہیں کرے گا۔ایپ کا نام ‘سنچار ساتھی’ یعنی مواصلاتی ساتھی ہے، جو اس وقت ایپل، سام سنگ اور شیاؤمی سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تنازعے کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ کمپنیوں کو حکم کی تعمیل کے لیے 90 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ایپل ایپ اسٹور اور گوگل پلے اسٹور پر پہلے سے موجود یہ ایپ شہریوں کے لیے ایک سیفٹی ٹول کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ اس کے ذریعے صارف اپنا گم شدہ یا چوری شدہ موبائل فون اس کی ‘انٹرنیشنل موبائل ایکوئپمنٹ آئیڈینٹی’ (آئی ایم ای آئی) نمبر کے ذریعے بلاک اور ٹریک کر سکتے ہیں۔ آئی ایم ای آئی ہر ہینڈ سیٹ کا منفرد کوڈ ہوتا ہے۔ ایپ سے یہ بھی پتا چلایا جا سکتا ہے کہ کسی شخص کے نام پر کتنے موبائل کنکشن رجسٹرڈ ہیں، جس سے دھوکہ دہی کے لیے استعمال ہونے والے جعلی نمبروں کی نشاندہی کر کے انہیں بند کروایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مشتبہ دھوکہ دہی کی کالوں کو رپورٹ کرنے اور استعمال شدہ فون خریدنے سے پہلے اس کی صداقت چیک کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
28 نومبر کو بھارت کی وزارتِ ٹیلی کمیونیکیشن نے تمام اسمارٹ فون مینوفیکچررز کو نجی طور پر ہدایت کی کہ وہ اپنے نئے آلات پر ‘سنچار ساتھی’ ایپ پہلے سے انسٹال کریں اور یہ ایپ پہلی بار سیٹ اپ کے وقت ”نظر آنے والی اور فعال حالت” میں ہو۔ہدایت میں یہ بھی کہا گیا کہ مینوفیکچررز یقینی بنائیں کہ صارف ایپ کی کوئی خصوصیت غیر فعال یا محدود نہ کر سکیں۔ پہلے سے تیار شدہ آلات کے لیے کمپنیوں کو سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے ایپ انسٹال کرنا ہو گی۔ اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک صنعتی ذریعے نے بتایا کہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ذریعے بالآخر یہ ایپ موجودہ فون صارفین تک بھی پہنچ جائے گی، یعنی یہ 73 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ای آئی میں ردوبدل سے ٹیلی کام سائبر سکیورٹی کو ”شدید خطرہ” لاحق ہے، اس لیے یہ حکم نامہ ناگزیر ہے۔حکومت کے مطابق ایپ کو اب تک ایک کروڑ سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ اس کے نظام کی مدد سے 42 لاکھ سے زائد چوری یا گم شدہ فونز بلاک اور تین کروڑ سے زیادہ جعلی موبائل کنکشنز ختم کیے گئے۔ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ یہ ایپ ”ایپلی کیشن پر اطلاع دیے بغیر آپ سے کوئی مخصوص ذاتی معلومات خودکار طور پر حاصل نہیں کرتی۔”
ایپل کو اس ایپ کے پرائیویسی اور سکیورٹی خطرات کی فکر ہے۔ کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے مطابق بھارت میں 95 فیصد سے زائد اسمارٹ فونز گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم پر چلتے ہیں اور باقی ایپل کے آئی او ایس پر۔حکومت کا کہنا ہے کہ مجرم اکثر چوری شدہ آلات پر جائز ‘آئی ایم ای آئی’ نمبرز کو کلون کرتے یا جعلی بناتے ہیں، جس سے مجرموں کو پکڑنا یا ہارڈویئر بلاک کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ بھارت میں استعمال شدہ فونز کی بہت بڑی مارکیٹ ہے، اس لیے حکومت نہیں چاہتی کہ لوگ چوری شدہ یا بلیک لسٹڈ آلات خرید لیں۔
٭٭٭