وجود

... loading ...

وجود

ایک شخص قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ،ترجمان پاک فوج

هفته 06 دسمبر 2025 ایک شخص قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ،ترجمان پاک فوج

تم کیا سمجھتے ہو خود کو؟ وہ سمجھتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں،آپ کو جو سیاست کرنی ہے کریں فوج کو اس سے دور رکھیں،پاکستان کے عوام کو فوج کے خلاف بھڑکانے نہیں دیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر
ذہنی مریض کے ٹویٹ کو افغان اور بھارتی میڈیا نے منٹوں میں وائرل کیا،اپنے بیٹوں کو تو تم نے باہر رکھا ہوا ہے ذرا انہیں خوارج کے آگے تو کھڑا کرو، جنرل احمد شریف چوہدری پرہجوم پریس کانفرنس

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ایک شخص قومی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن گیا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں، کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ عوام کو فوج کے خلاف بھڑکائے۔یہ بات انہوں ںے راولپنڈی میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی وجہ سے قومی سلامتی کو خطرات کا سامنا ہے، ایک شخص کی ذات اور خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں اور وہ اتنی زیادہ ہیں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نہیں تو کچھ نہیں، اس کا نظریہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہے، اس کی سیاست ختم ہوچکی اور اس کا بیانیہ ریاست کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک کی کسی سیاسی جماعت، لسانیت، مذہب، فرقہ یا مکتبہ فکر کی نمائندگی نہیں کرتے، ہمارا تعلق کسی ایلیٹ طبقے سے نہیں ہم مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، اگر کوئی اپنی ذات اور اپنی نامناسب سوچ کے لیے فوج اور اس کی لیڈر شپ پر حملے کرتا ہے تو یہ عمل درست نہیں، ہم تمام سیاسی جماعتوں کا احترام کرتے ہیں، آُپ کو جو سیاست کرنی ہے کریں فوج کو اس سے دور رکھیں، فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ برداشت نہیں کیا جائے گا کہ پاکستان کے عوام کو فوج کے خلاف بھڑکایا جائے، یہی فوج ہے جو ملک کی ڈھال ہے، فتنہ الخوارج فتنۃ الہندوستان، بھارت اور عوام کے درمیان یہی فوج کھڑی ہے، اس ایک شخص نے ریاست مخالف بیانات دیے، اس ایک شخص نے بجلی کے بل جمع نہ کرانے، ترسیلات زر پاکستان نہ لانے کی ترغیب دی، عوام کو فوج کے خلاف بھڑکایا۔انہوں نے اس موقع پر کئی ویڈیوز پیش کیں جن میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس افغانستان اور بھارت سے ہینڈل ہورہے ہیں۔ انہوں نے علیمہ خان کا ویڈیو بیان پیش کیا جس میں وہ بھارتی ٹی وی سے بات کررہی تھیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا بھارتی میڈیا کتنی خوشی سے پاکستان کے آرمی چیف کے خلاف بیانات چلاتا ہے اور اسے یہ بیانات کون فراہم کرتا ہے؟ یہی جماعت، یہی لوگ پاکستان کی فوج کے خلاف بات کرتے ہیں، اس جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دیکھیںِ، کہاں سے ٹویٹ ہوتی ہے اور کون اسے اٹھاتا ہے یہ سب اس ویڈیو میں دیکھیں۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ساتھ افغان میڈیا بھی پاکستان کے پیچھے لگا ہوا ہے، آئین میں اظہار رائے کی آزادی کی اجازت ہے مگر قومی سلامتی پر اظہار رائے اور فوج کے خلاف بیانات کی اجازت نہیں ہے، یہ لوگ اپنے بیانیے کو پھیلاتے ہیں اور افغانستان اور بھارت کے لوگ اس بیانات کو بڑھاوا دیتے ہیں، بھارتی میڈیا پاکستانی فوج کے خلاف پی ٹی آئی کی زبان بنا ہوا ہے، خوارج کا سہولت کار افغان میڈیا بھی ان کے بیانات کو اچھالتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ جو شخص فوج میں موجود لوگوں سے تعلق رکھے گا وہ غدار ہے، اگر میں علامہ اقبال یونیورسٹی کے طلبا سے ملا ہوں تو کیا وہ لوگ غدار ہیں؟ تم کیا سمجھتے ہو خود کو؟ تم کون ہو جو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہو، اس کی منطق یہ ہے کہ جو پاک فوج سے تعلق رکھے وہ غدار ہے جو آئی ایس پی آر جائے وہ غدار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کے چیٔرمین عمران خان کو ذہنی مریض قرار دے دیا اور کہا کہ اس ذہنی مریض نے دو دن پہلے ٹویٹ کیا، اس ذہنی مریض کے ٹویٹ کو افغان اور بھارتی میڈیا نے منٹوں میں وائرل کیا، یہ ذہنی مریض پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہا ہے، ان کی پارٹی سے پوچھیں تو کہتے ہیں ہمیں نہیں پتا عمران خان کے ٹویٹ کہاں سے ہوتے ہیں؟ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ ذہنی مریض کہتا ہے فوج کی اس قیادت کو ٹارگٹ کریں جس نے معرکہ حق میں پاکستان کو فتح دلائی، اصل بیانیہ یہی ذہنی مریض دیتا ہے اور یہ صرف پاک فوج کے خلاف بیانیہ بناتا ہے، فوج کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، پروپیگنڈا سیل اپنی مرضی سے کسی کے بھی خلاف نوٹی فکیشن بنالیتا ہے، اس جماعت کے پیروکار بھارتی میڈیا کو مسلسل مواد فراہم کررہے ہیں، ذہنی مریض کی منطق کے مطابق بھارت چھ اور سات مئی کو پاکستان کو فتح کرچکا تھا، یہ تو پشاور میں خارجیوں کا آفس کھلوانا چاہتے تھے، یہ دہشت گردوں کو فوج کے خلاف راستے بتاتا ہے، اپنی ذات کے اس قیدی کا بیانیہ قومی سلامتی کے خلاف ہے، یہ آئی ایم ایف سے کہتا ہے پاکستان کو قرض نہ دیں، اب یہ بیانیہ نہیں چلے گا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاک فوج کے افسران کا تعلق ایلیٹ طبقے سے نہیں، خود آرمی چیف ایک اسکول ماسٹر کے بیٹے ہیں، ہم عوام میں سے آٗئے ہیں، ہمارے افسران میں کوئی کلرک کا بیٹا ہے کوئی کسی غریب آدمی کا بیٹا ہے، ہمارے افسران اور نوجوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہورہے ہیں، تم فوج پر تنقید کرتے ہو، ذرا دہشت گردوں کے آگے تو آؤ، اپنے بیٹوں کو تو تم نے باہر رکھا ہوا ہے ذرا کھڑا تو کرو انہیں خوارج کے آگے، بھیجو اپنی اولاد کو فوج میں، مسلح افواج کے خلاف نفرت کا بیج بویا جارہا ہے حالاں کہ پاک فوج کا جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں جاتا ہے، خوارج کے سامنے کون کھڑا ہوتا ہے؟ کون اپنی جانیں دیتا ہے؟ ہم نے جانیں دینی اور لینی ہوتی ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ تمہاری جس صوبے میں حکومت ہے ذرا اس کے بارے میں تو بات کرو، کے پی میں دہشت گردی چل رہی ہے، یہ کہتے ہیں آپریشن نہیں کرو، یہ کہتا ہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کرو، کیڈٹ کالج وانا پر حملے کرنے والوں سے ہم کیا بات کریں؟ یہ ایک ٹولہ ہمارے کے پی والے بھائیوں پر مسلط ہوگیا ہے، بیمار ذہنوں کے بارے میں قوم واضح طور پر جان چکی ہے، منفی بیانیہ ختم کرنے کی ضرورت ہے، یہ شخص بار بار شیخ مجیب الرحمان کی بات کرتا ہے، آپ کی سیاسی شعبدے بازی کا وقت ختم ہوگیا۔انہوں ںے پاکستانی میڈیا پر تنقید کی کہ ریٹنگ کے لیے میڈیا نان ایشوز پر بات کرتا ہے انہیں چاہیے ایشوز پر بات کریں، ملک کو بچانے کا ہم نے ٹھیکہ نہیں لیا ہوا ہر شخص ملک بچانے کا ذمہ دار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اُس شخص کا باپ بھی پاک فوج اور عوام کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتا، ریاست فوج نہیں ہوتی، ریاست حکومت ہوتی ہے اور فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے، ہم کہیں نہیں جارہے، جب تک پاکستان ہے فوج رہے گی۔صحافی کے سوال پر انہوں ںے کہا کہ گورنر راج کا فیصلہ حکومت کرے گی فوج کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گردی ایک دن میں ختم نہیں ہوسکتی اس کے لیے سیاسی مرضی درکار ہے، ہم نے یک زبان ہوکر بیانیہ بنایا آپ اس کے برعکس کام کررہے ہیں، آپ نے ہر چیز پر سیاست کو حاوی کردیا، یہ کہتے تھے فوج سیاست کررہی ہے لڑ نہیں سکتی مگر ہم نے لڑکر دکھایا، ہم نے اس ریاست کے تحفظ کی قسم کھائی ہے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پاک فوج نے کسی شخص کے بارے میں ایسی بات نہیں کی کیوں کہ ماضی میں کسی سیاست دان نے ایسا کام نہیں کیا، ان کی سیاست صرف پاک فوج کے گرد گھومتی ہے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے مگر ایسا نہیں ہے، اب وقت ہے کہ ہمیں بتانا پڑے گا کہ یہ بیانیہ کون چلارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت سب سے زیادہ دہشت گردی خیبرپختونخوا میں ہورہی ہے، مجھے بتادیں گزشتہ پانچ برس میں کے پی میں کس دہشت گرد کو پھانسی پر لٹکایا گیا؟ترجمان پاک فوج نے کہا کہ انہوں نے عوام کو بتایا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے گا، کرگیا؟ یہ بھی بتایا تھا کہ فوج لڑ نہیں سکتی صرف سیاست کرتی ہے، تو فوج لڑی یا نہیں لڑی اور لڑ کر دکھایا، پوری دنیا میں اُس کی آواز گئی یا نہیں گئی؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایسی باتیں جو کرتے ہیں ان کے بارے میں بس اتنا کہوں گا کہ کتا جب بھونک رہا ہوتا ہے تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر