... loading ...
حمیداللہ بھٹی
پاک بنگلہ دیش روابط کی رفتاراطمنان بخش ہے۔ عشروں بعد دونوں ممالک کے درمیان بنی نفرت کی جو دیوارگری ہے، اِس کا سہراطلبا تحریک کے سر ہے جو گزشتہ برس غیر منصفانہ کوٹہ سسٹم کے خلاف نکلے جنھیںوزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے سختی سے کچل دینے کاحکم صادرکیا مگر برستی گولیوں سے بھی کوئی خوفزدہ نہ ہوا۔ بلکہ ماورائے عدالت قتل ،گرفتاریاں اور تشدد ایک وسیع ترتحریک کی بنیاد ثابت ہوئے۔ شیخ حسینہ نے مزید حماقت یہ کی کہ مظاہرین کو رضا کارکہہ دیا(بنگلہ دیش میں رضا کارکالفظ پاکستان کے حمایتیوں کے لیے وقف ہے، جسے غدار ی سمجھاجاتا ہے) جس نے جلتی پر تیل کاکام کیا ۔کوٹہ سسٹم اور شیخ حسینہ کے مظالم سے نفرت تک محدودتحریک کے مظاہرین نے سرِ عام خود کو رضا کار کہنا شروع کردیا۔ شیخ حسینہ کی فسطائیت کاخاتمہ ہونے سے پاکستان سے ہمدردی کی لہرنے جنم لیا،یہ ایسی تبدیلی تھی جس نے ملک توڑنے کے مرکزی کردار شیخ مجیب الرحمن کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اُس سے وابستہ ہر نشانی مٹائی جانے لگی ۔اِس انقلاب نے خطے کا منظرنامہ ہی بدل دیاہے ۔ وہی شیخ حسینہ جو بھارتی ایما پر سارک اجلاس میں حصہ تک نہیں لیتی تھیں ،آج بھارت جلا وطن ہے اور اُس کے اقتدار کے صرف ایک برس بعد پاکستان اور بنگلہ دیش میں دوستی کا نیا سفرایسے شروع ہے جیسے بچھڑے بھائی ملتے ہیں ۔ تعاون واشتراک کے مراحل طے ہورہے ہیں ۔وزیر اعظم شہباز شریف کی بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزرڈاکٹر محمد یونس سے ملاقاتیں ہو چکیں ۔دونوں ممالک میں نہ صرف بحری تجارت کا آغاز ہوگیاہے ، بلکہ دفاعی تعاون بھی جاری ہے۔ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے جس سے بھارت کے سیاسی ،سفارتی اور دفاعی رسوخ کودھچکالگا ہے۔ بنگلہ دیش کا پاکستان سے دفاعی سازوسامان لینے کا فیصلہ دونوں ممالک میں دفاعی معاہدے کی راہ ہموارکر سکتاہے ۔
بنگلہ دیشی عوام سیاسی حوالے سے بہت باشعور ہے ۔انگریز دور میں مسلم لیگ کا احیا ڈھاکہ میں ہواجو آج بنگلہ دیش کا دارالحکومت ہے۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ بنگلہ دیشی عوام بہت حساس ہیں اور حالات خواہ کیسے بھی ہوں اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ بہتر یہ ہے کہ اُن کے مزاج کے برخلاف نہ چلاجائے۔ سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ کے حامل افرادکو بغیر ویزہ سفرکی اجازت جیسا فیصلہ دوستانہ تعلقات کا عکاس ہے جوآزادانہ نقل وحمل کے لیے اہم ہے۔ وزیر تجارت جام کمال کے دورے سے تجارتی تعلقات بڑھانے ، محصولات کم کرنے اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے کُھلے دل سے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی رواں ہفتے ڈھاکہ گئے جہاں انھوں نے چیف ایڈوائزرڈاکٹرمحمد یونس سمیت اہم سیاستدانوں بی این پی کی سربراہ محترمہ خالدہ ضیا ،جماعت ِ اسلامی کے امیرڈاکٹر شفیق الرحمن ، طلبا پر مشتمل سیاسی جماعت سٹیزن پارٹی(این سی پی) ودیگر سے ملاقاتیں کیں جس سے پاکستان کے عوامی سطح پر روابط مضبوط ہوں گے۔ بدقسمتی سے پاکستانی اشرافیہ کا رویہ حاکمانہ اور متکبرانہ ہوتا ہے، اِس میں نرمی کی خو کم ہے مگر بنگلہ دیش کا مزاج بہت مختلف ہے لہٰذا جو بھی ڈھاکہ جائے اُسے چاہیے کہ طرزِ تکلم ،نشست برخواست اور چال ڈھال سے بالاترہونے کاتاثر نہ دے۔ گزرے پچپن برس میں بنگلہ دیش نے ثابت کیاہے کہ وہ ہمارے بغیر نہ صرف جی سکتے ہیں بلکہ ترقی بھی کر سکتے ہیں۔ اُس کے زرِ مبادلہ کے بہتر ذخائر اور مستحکم معیشت واضح ثبوت ہے، لہٰذا ڈھاکہ جانے والوں کو معروضی حالات سے شناسائی ہونی چاہیے، وگرنہ حاصل منزل دوبارہ کھو سکتی ہے۔ طلبا تحریک کے مرکزی کردار ناہیدالاسلام اِس وقت وزیر ہیں جنھوں نے سیاسی جماعت بنائی جسے عوامی پزیرائی حاصل نہیں ہوسکی اور نہ ہی وہ خود عوام میں جگہ بنا سکے ہیں جس سے ظاہرہوتاہے کہ بنگلہ دیشی لوگ آزادانی کے حوالے سے حساس ہیں اور اِس حوالے سے کسی سمجھوتے کے خلاف ہیں۔
تیرہ برس کے طویل عرصے بعد پاکستانی وزیرِ خارجہ نے بنگلہ دیش کاسرکاری دورہ کیا جہاں اُن کی خوب آئو بھگت ہوئی۔ ڈھاکہ حکومت کے کسی اقدام سے ایسا تاثر نہیں ملا کہ وہ پاکستان سے خفا ہے یا 1971 کی بے بنیاد تلخیوں کوذہن میں رکھتی ہے مگر عوام میں پھیلائی گئی۔ بے بنیاد اور من گھڑت کہانیوں کے اثرات موجود ہیں جس کااظہار اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس میں بھی ہوا حالانکہ 1974 میں تحریری طورپر 1971 کے معاملات حل کرلیے گئے بعد میں جنرل مشرف نے ڈھاکہ جاکر معذرت تک کردی ،پھر بھی بہتر ہے کہ پاکستان کوئی ایسا موقع نہ دے کہ بھارت دوبارہ غلط فہمیاں بڑھاسکے ۔ بھارت ایک مکاروعیار دشمن ہے ۔وہ ہمیشہ غلط فہمیاں بڑھانے کی تگ ودومیں رہتا ہے ،اُسے سات ناراض ریاستوں تک رسائی کے لیے بنگلہ دیش راہداری کی ضرورت ہے جو شیخ حسینہ کی اقتدار سے رخصتی سے غیرمحفوظ ہوگئی ہے، اپنا مقصدحاصل کرنے کے لیے پانی اور بجلی روک کر ڈھاکہ حکومت پر دبائو ڈال رہا ہے۔ 1971کے واقعات کو بنیاد بنا کر اُسی نے دونوں ممالک میں نفرت کی ایسی دیوار بنائی جو شیخ حسینہ کے اقتدارکاباعث بنی پھراُس نے تعصب کوہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ۔کبھی اقوامِ متحدہ میں دس لاکھ بنگلہ دیشیوں کو مارنے کی قراردادپیش کرنے کی جسارت کی اور پاکستان سے معافی کا مطالبہ کیا۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ بھارتی ایما پربنگلہ دیش میں لاکھوں غیر بنگالیوں کا قتلِ عام کیا گیا۔اگرایسٹ رائفلز اور مکتی باہنی جیسی دہشت گرد تنظیمیں یکم مارچ کو قتل ِ عام شروع نہ کرتیں تو 26مارچ کو مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ کی نوبت ہر گز نہ آتی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی بند ہونے کے باوجود اقبال ہال اور جگن ناتھ ہال میں طلبا کے بھیس میں اسلحے کے ڈپو بھارتی حمایت یافتہ لوگوں نے بنائے غیر جانبدار صحافیوں کی بڑی تعداد شواہدسے ثابت کر چکی کہ لاکھوں بہاریوں کا بیس فیصد حصہ مُکتی باہنی نے بھارتی فوج کی مدووتعان سے مار دیا۔اجتماعی عصمت دری کے بعدخواتین کے اعضاکاٹ کر ہلاک کردیا گیا۔چٹا کانگ ،کھلنااور جیسورمیں دو لاکھ کے قریب غیر بنگالی مار ے گئے۔ دیناج پور میں دریافت ایک اجتماعی قبر میں سینکڑوںایسی لاشیںملیں جن کی شناخت غیر بنگالی ہوئی۔ ایسا بھی ہوا کہ پہلے قبریں کھدوائی گئیں اور پھرپاکستان کی حمایت کرنے والوں کو قتل کیا گیا۔ مکتی باہنی کے خونی کھیل کو روکنے کے لیے ہی فوجی آپریشن شروع ہو۔امُکتی باہنی کے جرائم کی پردہ پوشی کے لیے ہی تو علیحدگی کے بعد ایسے قوانین بنائے گئے جن کی رو سے ملوث لوگوں کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ ملا۔ قاتلوں کوتحفظ دینے کے قوانین سے تصدیق ہوتی ہے کہ قتل عام میں پاک فوج نہیں بلکہ مُکتی باہنی کے درندے ملوث تھے۔ پھربھی پاکستان نے کبھی 1971کے تلخ ایام کی تشہیر نہیں کی بلکہ جب بنگلہ دیش بن گیا توواپس آنے والے زخمی اور معذور لوگوں کو بھی مظالم بارے بتانے سے روک دیا۔
اب جنرل نالج کوریڈور کا آغاز پاکستان کی فراخ دلی ہے جس کے تحت آئندہ پانچ برس کے دوران بنگلہ دیشی طلبا کو پانچ سو اسکالرشپ دی جائیں گی جن کا چوتھائی حصہ طب کے شعبے کے لیے مخصوص کیا گیاہے جبکہ سوکے قریب سول سرونٹس کو تربیت کامعاہدہ طے پایا ہے۔ ٹیکنیکل پروگرام کے تحت اسکالرشپس کی تعداد بھی پانچ سے پچیس کردی گئی ہے۔ یہ اِشارہ ہے کہ پاکستان دوستی کے عمل کوجاری رکھنے میں سنجیدہ ہے لیکن حاکمانہ اور متکبر رویہ رخنہ کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذاحالیہ منزل کودیرپا رکھنا ہے تو احتیاط کادامن تھامے رکھنا ہوگا۔عزت،نرمی اورخلوص کاتاثر دیناہوگا۔
٭٭٭