وجود

... loading ...

وجود

روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزوں کا انکشاف

جمعه 29 اگست 2025 روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزوں کا انکشاف

ریاض احمدچودھری

یوکرینی صدر کے دفتر نے ایسے خطرناک شواہد کا انکشاف کیا ہے کہ یوکرین میں شہری علاقوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزے پائے گئے ہیں جس سے ماسکو کی جنگی مشین کو ایندھن دینے کے حوالے سے بھارت کا مکروہ چہرہ مزید بے نقاب ہو گیا ہے۔یوکرائنی حکام نے کہا کہ ڈرونز جو کہ رہائشی محلوں، نقل و حمل کے مراکز اور توانائی کی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، نے بڑے پیمانے پر تباہی، شہری ہلاکتوں اور انسانی المیوں کو جنم دیا ہے۔ ان مہلک ہتھیاروں میں بھارتی ساختہ پرزوں کی دریافت نے روسـیوکرین تنازعہ میں نئی دہلی کے غیرجانبداری کے دعووں کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے۔
مودی حکومت روس یوکرین لڑائی میں خود کو غیر جانبدار ظاہر کر رہی ہے تاہم روس کیساتھ اسکی اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری یوکرائن جیسے ایک خودمختار ملک کے خلاف جارحیت کو بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ ڈرون طیاروںمیں بھارتی ساختہ پرزوں کے انکشاف نے مودی حکومت کی ساکھ مزید خراب کر دی ہے ،بھارتی حکومت نے مذکورہ انکشاف پر چپ سادھ رکھی ہے جو اسکے اخلاقی دیوالیہ پن کا عکاس ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ انکشاف بھارت کی خارجہ پالیسی میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارت کے نزدیک انسانی حقوق اور عالمی اصولوں کی کوئی قدر وقیمت نہیں وہ صرف اور صرف تجارت اور اسٹریٹجک شراکت داری کو ترجیح دیتا ہے۔ ایک سیاسی مبصر کا کہنا ہے کہ روس یوکرین لڑائی بربادی کو جنم دے رہی ہے ، بے گناہ لوگ مر رہے ہیں لیکن بھارت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔اسے تباہی و بربادری اور بے گناہ لوگوں کے مرنے کی کوئی فکر نہیں ، اگر فکر ہے تو صرف اور صرف اپنے حقیر مفادات کی۔
جولائی میں، روسی افواج نے خارکیو پر 103 فضائی حملے کیے تھے، جن میں سے 81 حملے شاہد قسم کے ڈرونز کے ذریعے کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں 164 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں 20 بچے بھی شامل تھے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وشے انٹرٹیکنالوجی اور آورا سیمی کنڈکٹر کے الیکٹرانک پرزے بھارت میں اسمبل یا تیار کیے جاتے ہیں، جنہیں روس شاہد 136 (Shahed 136) حملہ آور ڈرونز کی تیاری میں استعمال کرتا ہے۔گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کے بانی اجے سریواستو نے بتایا کہ یہ پرزے غیر ملکی خریداروں کے ذریعے ایران کو دوسرے ممالک کے راستے منتقل ہو سکتے ہیں، جہاں انہیں ڈرونز میں اسمبل کیا جاتا ہے۔ بھارت کی حکومت دوہری استعمال کی اشیا کی ممنوعہ مقامات پر برآمد کو سختی سے روکتی ہے۔ تاہم جب ایسی اشیا قانونی تیسرے ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں، تو ان کے استعمال کا پتہ لگانا تقریبا ناممکن ہو جاتا ہے۔
یوکرینی انٹیلی جنس نے اپریل میں پہلی بار روسی ہتھیاروں میں بھارتی ساختہ پرزوں کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ روس نے امریکی پرزوں پر اپنی انحصاری کو تقریبا ختم کر دیا ہے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر بھارت سے درآمدی مال پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا کیونکہ بھارت روسی تیل کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے۔بھارت اور روس کے وزرائے خارجہ نے ماسکو میں ملاقات کے دوران باہمی تجارتی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں جانب سے اس بات کے بہت کم اشارے ملے کہ بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد بھاری ٹیرف سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہوں گے۔مغربی ممالک روسی خام تیل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری ماسکو کی یوکرین میں جاری جنگ کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ تاہم نئی دہلی کا کہنا ہے کہ تیل کی یہ خریداری خالصتاً تجارتی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔ بھارت نے امریکا اور یورپی یونین پر دہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ وہ خود بھی روس کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کے ساتھ ماسکو میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہائیڈرو کاربن کے شعبے میں، خصوصاً بھارتی مارکیٹ کو روسی تیل کی فراہمی کے حوالے سے تعاون کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہمیں توانائی کے وسائل کی تلاش اور نکالنے سے متعلق مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں باہمی دلچسپی ہے، جن میں روس کے مشرق بعید اور آرکٹک شیلف جیسے خطے بھی شامل ہیں۔بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس موقع پر کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بھارت اور روس کے تعلقات دنیا کی بڑی طاقتوں میں سب سے زیادہ مستحکم رہے ہیں۔ انہوں نے سوویت یونین کے دور سے چلی آنے والی قریبی دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تاریخی رشتے کو اجاگر کیا۔ فارماسیوٹیکلز، زراعت اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں بھارت کی برآمدات میں اضافہ موجودہ تجارتی عدم توازن کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روس نے یورپ کو تیل کی فراہمی محدود کر کے اپنی برآمدات کا رخ چین اور بھارت کی جانب موڑ دیا ہے، جو اس وقت روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ روس کے لیے خام تیل کی فروخت ریاستی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزوں کا انکشاف وجود جمعه 29 اگست 2025
روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزوں کا انکشاف

طاقت کا زعم وجود جمعه 29 اگست 2025
طاقت کا زعم

سوشل میڈیا کا مفید استعمال، ریاستی ذمہ داریاں، سیرت النبی ۖکی روشنی میں وجود جمعه 29 اگست 2025
سوشل میڈیا کا مفید استعمال، ریاستی ذمہ داریاں، سیرت النبی ۖکی روشنی میں

کیا کھچڑی پک رہی ہے؟ وجود جمعرات 28 اگست 2025
کیا کھچڑی پک رہی ہے؟

جب زوال آتا ہے تو۔۔۔۔ وجود جمعرات 28 اگست 2025
جب زوال آتا ہے تو۔۔۔۔

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر