وجود

... loading ...

وجود

اڈیالہ جیل سے گرفتار عمران خان کی بہنوں سمیت تمام خواتین رہا، دھرنا ختم

بدھ 09 اپریل 2025 اڈیالہ جیل سے گرفتار عمران خان کی بہنوں سمیت تمام خواتین رہا، دھرنا ختم

پی ٹی آئی کارکنوں کا جیل کے قریب احتجاج اور پتھراؤ ،عمران خان کی تینوں بہنوں، عالیہ حمزہ، ایم این اے شفقت اعوان سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، خواتین کو کچھ دور لے جاکر پولیس نے رہا کردیا
بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور ظہیر عباس چودھری کی گاڑی کو جیل سے کچھ دور لگے ناکے پر روک دیا گیا ، عمران خان سے رہنماؤں و اہل خانہ کی ملاقات روکنے پر کارکنان کا احتجاج، پولیس اہلکاروں کی واپسی کے لیے منتیں

عمران خان سے اہل خانہ اور رہنماؤں کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کارکنوں نے جیل کے قریب احتجاج اور پتھراؤ کیا، پولیس نے عمران خان کی تینوں بہنوں، عالیہ حمزہ، ایم این اے شفقت اعوان سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا جبکہ صاحبزادہ حامد رضا نے رضاکارانہ گرفتاری دی تاہم خواتین کو کچھ دور لے جاکر پولیس نے رہا کردیا۔تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کا دن تھا ، بشریٰ بی بی سے ملاقات کیلئے ان کے فیملی ممبران اڈیالہ جیل پہنچے ان میں فیملی ممبران مہرالنساء اور مبشرہ شیخ شامل ہیں، فیملی ممبران جیل حکام کی اجازت کے بعد اڈیالہ جیل کے اندر روانہ ہوئے ۔عمران خان سے ملنے کے لیے بیرسٹر علی ظفر، عالیہ حمزہ، نادیہ خٹک، وکیل ڈاکٹر علی عمران، پی ٹی آئی خاتون ورکر رضیہ سلطانہ، وکیل ظفر عباس، وکیل حسنین سنبل، وکیل راجہ متین، عمران خان کے فوکل پرسن نیاز اللہ نیازی بھی اڈیالہ جیل پہنچے ۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور ظہیر عباس چودھری کی گاڑی کو جیل سے کچھ دور لگے ناکے پر روک دیا گیا بعد ازاں ان تینوں کو پیدل بھی جیل جانے نہیں دیا گیا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہا کیوں ناکے لگائے گئے ہیں، ہماری آج ملاقات طے تھی نام بھی بھیجے گئے اس کے باوجود ناکے لگانا اور وکلاء کو ملاقات سے روکنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔دریں اثنا پولیس نے اڈیالہ جیل کے قریب جمع ہوئے پی ٹی آئی کارکنوں پر دھاوا بول دیا، میڈیا ڈی اسی این جیز کے قریب جمع ہونے والے چار کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔اسی طرح بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو اڈیالہ جیل سے پہلے روک لیا گیا، علیمہ خان، عظمی خان اور کزن قاسم خان نیازی کو نجی فارماسیوٹیکل کمپنی کے قریب روکا گیا۔ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ پتا نہیں گھبرا کیوں رہے ہیں؟ یہاں تو فیملی کے سوا اور کوئی بھی نہیں ہے ، پولیس نے کہا ہے جیل نہیں جانے دیں گے ، بھئی کیوں نہیں جانے دیں گے ؟ ہمیں تین ہفتے سے ملاقات نہیں کرنے دے رہے ، آج بھی پولیس تعینات کر دی ہے تاکہ ہم ملاقات نہ کرسکیں ایسی صورتحال میں ہم پریشان نہیں ہوں گے تو کیا ہوں گے ؟انہوں نے کہا کہ اگر ملاقات نہیں کرنے دیں گے تو ہم یہیں بیٹھیں گے ، ہم کب سے پریشان ہیں تیسرا ہفتہ ہوگیا ہے ، بانی سے ملاقات نہیں ہو رہی، ہم لاہور سے سفر کرکے یہاں آرہے ہیں یہ ان سے ڈر رہے ہیں یہ جو تھوڑے سے لوگ یہاں کھڑے ہیں۔علیمہ خانم کا کہنا تھا کہ اصلی قید میں ہمارے ججز ہیں، ہم انھیں آزاد کرائیں گے تو وہ انصاف دیں گے ، جب ہم پولیس کو آزاد کرائیں گے تو پولیس ہمیں تحفظ دے گی، اس وقت جس سے بات کریں وہ کہتا ہے ہم مجبور ہیں، پتہ نہیں کون آرڈر دے رہا ہے ، شہباز شریف دے رہا ہے یا مریم نواز دے رہی ہیں، مجبور یہی دونوں کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بتا دیں اگر ہماری فیملی نہیں مل سکتی؟ بچے ملنے آرہے تھے تین ہفتے سے نہیں ملنے دیا، ہماری آج ملاقات کا دن تھا، آج وکلاء کی بھی ملاقات کا دن تھا۔بعدازاں 6 وکلاء رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت مل گئی ان میں بیرسٹر گوہر، بیرسٹر علی ظفر، مبشر مقصود اعوان، ظہیر عباس چوہدری، علی عمران اور خاتون رہنماء رضیہ سلطانہ شامل ہیں۔بشریٰ بی بی سے فیملی ممبران کی اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات کرکے بھابھی مہرالنساء اور بیٹی مبشرہ شیخ اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئیں، بشریٰ بی بی سے بھابھی اور بیٹی کی ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی۔بعدازاں پولیس نے دوبہنوں اور کزن قاسم نیازی کو ملاقات کرانے کی پیشکش کردی۔ پولیس نے کہا کہ علیمہ خان کو ملاقات کی اجازت نہیں، باقی تینوں فیملی ممبران کی ملاقات کروا دیتے ہیں تاہم اہل خانہ نے علیمہ خان کے بغیر ملاقات سے انکار کردیا۔بانی پی ٹی آئی کی بہنیں جیل انتظامیہ کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر گورکھپور ناکہ پر موجود رہیں، پولیس، خواتین اہلکار اور ایلیٹ فورس کی نفری بھی گھورکپور ناکے پر موجود رہی، جیل انتظامیہ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی دو بہنوں اور کزن کو ملاقات کی اجازت مل گئی، جیل انتظامیہ نے عظمی خان، نورین خان اور قاسم نیازی کو ملاقات کی اجازت دی۔نجی فارماسیوٹیکل کمپنی کے قریب پولیس نے دو وکلاء سمیت 3 افراد کو حراست میں لے لیا، وکیل نعیم حیدر پنجھوتہ سے مذاکرات کے بعد پولیس نے زیر حراست تینوں افراد کو چھوڑ دیا۔راولپنڈی پولیس کا نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر شبیر ڈار کے ساتھ جھگڑا ہوا، شبیر ڈار اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر معمول کی کوریج کررہے تھے ۔ پولیس اہلکاروں نے ایک نیوز چینل کے رپورٹر سجاد چودھری کو بھی دھکے مارے ، شبیر ڈار کو دھکے دیتے ہوئے حراست میں لینے کی کوشش کی۔موقع پر موجود صحافیوں کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی جس پر پولیس اہلکاروں نے صحافیوں کے ساتھ انتہائی نامناسب زبان استعمال کی۔سب انسپکٹر طیبہ راجہ اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے صحافیوں کو دھمکیاں دیں جب کہ ایس پی صدر نبیل کھوکھر کی کمانڈ میں پولیس اہلکار مسلسل نامناسب زبان استعمال کرتے رہے ۔اڈیالہ روڈ پر صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک پر سی پی او سید خالد ہمدانی نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز کو واقعہ کی مکمل انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا جب کہ پولیس اہلکار زاہد کو فوری طور پر معطل کرنے کی ہدایت کردی۔سی پی او خالد ہمدانی نے ناروا سلوک کرنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کر کے سخت سزا کا حکم دیا اور کہا کہ پولیس صحافی برادری کا احترام کرتی ہے ، پولیس کے صحافی برادری سے مثالی تعلقات ہیں، واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔اسی طرح پی ٹی آئی کی خاتون رہنماء عالیہ حمزہ کو گورکھپور ناکے پر روک لیا گیا، عالیہ حمزہ عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کرنا چاہتی تھیں۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان بھچر کو اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا، ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی بھی ہمراہ موجود تھے ۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، ملک عامر ڈوگر، زرتاج گل، میاں اظہر گورکھ پور کے قریب پہنچ گئے انہیں بھی ملنے سے روک دیا گیا۔کارکنوں نے اڈیالہ جیل کی جانب مارچ کرنے پر اصرار کیا تاہم عمر ایوب نے کارکنوں کو روک دیا، پولیس نے پوزیشنیں سنبھال لیں اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا، مظاہرین نے پتھراؤ کیا جس پر پولیس نے کارکنوں کو حراست میں لینا شروع کردیا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی یقین دہانی پر پولیس نے گرفتار کارکنوں کو رہا کردیا اس دوران صاحبزادہ حامد رضا بھی پہنچ گئے ۔بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں تاحال پولیس ناکے کے قریب موجود ہیں، پی ٹی آئی مظاہرین اور عمر ایوب بھی اڈیالہ روڈ پر موجود ہیں، جنید اکبر خان بھی گورکھپور پولیس ناکے پر پہنچ گئے ۔پولیس نے گورکھپور ناکہ کے قریب مزید چار مزید افراد کو تحویل میں لے لیا، ایم این اے شفقت اعوان کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔بعدازاں بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں اور عالیہ حمزہ کو حراست میں لے لیا گیا اس پر صاحبزادہ حامد رضا نے رضاکارانہ گرفتاری دے دی، علیمہ خان، عظمی خان، نورین خان اور قاسم نیازی کو پولیس وین میں گورکھ پور روانہ کردیا گیا۔حماد اظہر کے والد میاں اظہر پولیس پر پتھراؤ کے دوران پتھر لگنے سے زخمی ہوگئے ، میاں اظہر کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ پولیس پر پتھراؤ کے دوران میاں اظہر کے سر پر پتھر لگا۔ گورکھپور ناکے پر پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا۔بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ یہ فرمائشی گرفتاریاں نہیں ہے انہوں نے عمران خان کی بہنوں کو فی الحال حراست میں لیا ہے باقاعدہ گرفتار نہیں کیا لیکن حراست میں لینا بھی بالکل غیرآئینی و غیرقانونی ہے ، اپنے بھائی سے ملنا ان کا حق ہے اور عدالتی حکم ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ کا آرڈر ہے کہ آپ کو ملاقات کرانی ہے ہر منگل کو اور ہر جمعرات کو، مگر 20 مارچ کے بعد سے اب تک ملاقات نہیں ہوئی اس پر بہنوں نے کہا تھا کہ اگر ملاقات نہیں ہوئی تو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے ۔راولپنڈی پولیس نے علیمہ خان سمیت تمام خواتین کو مقامی شادی ہال میں گاڑی سے اتار دیا۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی ذاتی گاڑی بھی مقامی شادی ہال میں موجود تھی۔پولیس وین سے اترنے کے بعد تمام خواتین رہنما شادی ہال کے لان میں بیٹھ گئیں جبکہ پولیس اہلکار علیمہ خان سمیت تمام خواتین رہنماؤں کو منارہی ہے کہ وہ گھر چلے جائیں مگر پولیس سے رہائی کے باوجود بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا شادی ہال میں دھرنا جاری رہا جو بعد میں ختم کردیا۔ایس ایچ او صدر بیرونی اعزاز عظیم نے علیمہ خان اور دیگر بہنوں کو گھر جانے کی پیشکش کی ہے مگر علیمہ خان بضد ہیں کہ ہماری بھائی سے ملاقات کرائی جائے نہیں تو ادھر ہی رہیں گے ۔ پولیس افسران کوشش کررہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں مان جائیں مگر وہ جانے پر راضی نہیں۔پارٹی کارکنان شادی ہال کے باہر جمع گئے اور نعرے بازی شروع کردی۔ پولیس نے شادی ہال کے باہر ایکشن لیتے ہوئے موقع پر موجود پی ٹی آئی کارکنوں کو منتشر کروادیا۔ کارکنان پولیس کے آنے پر موقع سے بھاگ گئے ۔ موقع سے چند پی ٹی آئی کارکنان کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔پولیس نے علیمہ خان، عظمی خان، نورین خان سمیت تمام خواتین کارکنان کو چھوڑ دیا گیا، پولیس نے صاحبزادہ حامد رضا، وکیل عمران علی کو بھی رہا کردیا گیا جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں اور کزن گھر روانہ ہوگئے ۔بہنیں اور کزن کافی دیر سے پولس کے ساتھ شادی ہال کے لان میں موجود تھیں۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر