... loading ...
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا اپنے رہنماؤں کی حراست کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاج کا اعلان، حامی احتجاج کے لیے کراچی پریس کلب پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے تو فوارہ چوک پر پولیس نے روک لیا
حکومت سندھ نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پانچ روز کے لیے دفعہ 144نافذ کر دی ، جلسے جلوسوں، دھرنوں اور پانچ افراد سے زیادہ کے اجتماع پر پابندی ہوگی
کراچی پولیس نے بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کے احتجاجی اراکین کو منتشر کرتے ہوئے سمی دین بلوچ سمیت 6 کارکنان کو گرفتار کرلیا۔ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کے مطابق کمشنر کراچی نے کسی بھی نوعیت کے عوامی اجتماعات یا احتجاج پر پابندی کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا تاہم بی وائی سی سمیت مختلف گروہوں نے ریڈ زون میں احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے اجتماع کو منتشر کر دیا اور سمی دین بلوچ سمیت تقریباً 6 مظاہرین کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کر کے ویمن پولیس اسٹیشن میں بند کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔خواتین سمیت سول سوسائٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد آرٹلری میدان میں واقع پولیس اسٹیشن کے باہر کھڑی دیکھی گئی جہاں مرد اور خاتون دونوں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔قبل ازیں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے کلیدی رہنماؤں کی ’غیر قانونی حراست‘ کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاج کا اعلان کیا تھا، جن میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں جنہیں ہفتے کے روز 16دیگر کارکنوں کے ساتھ کوئٹہ میں ان کے احتجاجی کیمپ سے گرفتار کیا گیا تھا۔کراچی پریس کلب پر بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کے احتجاج کے اعلان کے بعد کلب کے اطراف کی سڑکیں بند کردی گئیں، شہر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جبکہ پریس کلب پر بی وائی سی کے خلاف بھی مظاہرہ کیا گیا۔بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) کی جانب سے کراچی پریس کلب ( کے پی سی ) پر احتجاج کے اعلان کے پیش نظر پیر کے روز پریس کلب کے اطراف سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کردی گئیں۔اس سے ایک دن قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس کے ایکشن کی وجہ سے تین مظاہرین ہلاک ہو گئے ہیں۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کے حامی احتجاج کے لیے کراچی پریس کلب پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے تو انہیں فوارہ چوک پر پولیس نے روک لیا، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی مزاحمت کی اور پولیس نے سمی دین بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے حامیوں کو حراست میں لے لیا۔ٹریفک پولیس کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس ‘ پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق دین محمد وفائی روڈ سے ایم آر کیانی چورنگی سے فوارہ چوک تک دونوں سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں، بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مقامی پولیس نے سکیورٹی کی وجہ سے سڑک بند کر دی ہے ۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایم آر کیانی چورنگی سے کورٹ روڈ، تھانہ گلی سے سرور شہید روڈ اور فوارہ چوک سے زینب مارکیٹ تک متبادل ٹریفک راستے بنائے گئے ہیں۔عوام سے درخواست کی گئی کہ کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کے لیے ٹریفک ہیلپ لائن 1915 پر کال کریں۔ایکس پر ایک پوسٹ کے مطابق، کراچی میں بی وائی سی کا احتجاج شام 4 بجے شیڈول تھا اور اسے سول سوسائٹی کے ممبران کے تعاون سے منظم کیا جا رہا تھا، جبکہ کوئٹہ میں احتجاج دوپہر 12 بجے شیڈول تھا۔دوسری طرف، کے پی سی کے باہر ایک جوابی احتجاج کیا گیا جس میں شرکاء ایسے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر ‘را سے تعلق: بی ایل اے اور بی وائی سی’ درج تھا، جس میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ اور کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) کا حوالہ دیا گیا تھا۔کراچی صدر کے علاقے زینب مارکیٹ کے قریب فوارہ چوک پر مسلح افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک اور مظاہرہ بھی کیا گیا، احتجاج کی ویڈیوز میں مظاہرین کو بی وائی سی قیادت کے ساتھ ساتھ بی ایل اے کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا۔دریں اثنا بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی زون کے ترجمان نے کہا تھا کہ چند لمحوں میں ہمارا احتجاج ہونے والا ہے اور اس وقت سندھ پولیس کی ایک بہت بڑی نفری کراچی پریس کلب کے سامنے موجود ہے اور ہمارے جو دوست آ رہے ہیں ان کو گرفتار کر رہی ہے ۔ترجمان کے مطابق اس حوالے سے ہم دوستوں کو کہنا چاہ رہے ہیں کہ وہ اکیلے یا دو تین ہوکر پریس کلب نہ جائیں ، ہم پہنچ کر اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔دریں اثناء حکومت سندھ نے کراچی ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ، اس دوران جلسے جلوسوں، دھرنوں اور پانچ افراد سے زیادہ کے اجتماع پر پابندی ہوگی۔تفصیلات کے مطابق کمشنر کراچی ڈویژن کے دستخط سے 24 مارچ کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے ، جس کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی رینج کی درخواست پر کمشنر نے کراچی ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر 5 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہے ۔اس دوران ہر قسم کے احتجاج، مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں اور پانچ افراد سے زیادہ کے اجتماع پر پابندی ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق 24 مارچ سے ہوگیا ہے اور یہ پابندی 28 مارچ تک نافذ رہے گی، نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اختیار متعلقہ تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر ( ایس ایچ او ) کو ہوگا۔
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...