وجود

... loading ...

وجود

بھارتی فوج میں بدعنوانی

اتوار 25 اکتوبر 2026 بھارتی فوج میں بدعنوانی

بھارتی کے دفاعی خریداری کے معاملات بھی جانچ پڑتال کی زد میں آ گئے۔ سی بی آئی نے اکتوبر 2026 میں منیشنز انڈیا لمیٹڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انیل کمار اور ایس ایم پی پی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آشیش کنسال کو گرفتار کیا۔ یہ کیس گولہ بارود کی فراہمی کے تقریباً 500 کروڑ روپے کے ایک معاہدے میں رشوت ستانی اور حساس معلومات افشا کرنے سے متعلق تھا۔ رپورٹس کے مطابق تفتیش کاروں نے تقریباً 2.23 کروڑ روپے نقد بھی برآمد کیے۔ اس معاملے نے دفاعی معاہدوں میں دیانت داری اور خفیہ معلومات کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔مجموعی طور پر یہ تمام واقعات ایک تشویش ناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارت کی فوجی طاقت کے بارے میں بڑے بڑے دعوے بھرتیوں میں تصدیق کے نظام کی ناکامیوں، اندرونی نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں اور دفاعی خریداری کی نگرانی میں خامیوں سے متصادم ہیں۔نئی دہلی کو وضاحت کرنی چاہیے کہ جعل سازی کرنے والے گروہ بار بار فوج میں بھرتی کے خواہش مند امیدواروں کا استحصال کیسے کرتے ہیں۔ اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ حاضر سروس اہلکاروں کو سنگین بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے اور گولہ بارود کی حساس خریداری کے معاہدے رشوت ستانی کی تحقیقات کی زد میں کیسے آتے ہیں۔

فراڈ میں ملوث بی ایس ایف اہلکاروں کی برطرفی اور اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف الزامات سے احتساب کے دوہرے معیار اور ادارہ جاتی تحفظ کے مؤثر ہونے پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔بھارت اس وقت تک خود کو پیشہ ورانہ فوجی مہارت کا ماڈل قرار نہیں دے سکتا جب تک فوجی بھرتیوں میں فراڈ، رشوت ستانی، جعلی اسناد اور دفاعی خریداری کے اسکینڈلز سامنے آتے رہیں۔بھارتی سیکیورٹی فورسرز میں جعلی دستاویزات پر حساس عہدوں پر بھرتی نے مودی حکومت کی نالائقی اورناقص انتظامی نظام کو آشکار کر دیاہے۔ بھارتی جریدے دی پرنٹ کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ بھارت میں ناقص تصدیق کے باعث برسوں سے بھرتی بی ایس ایف کے 400 اہلکاروں کی اہلیت مشکوک قرار دے دی گئی ہے۔متعلقہ اداروں سے تصدیق کے بعدوزیراعظم نریندر مودی نے خود امیدواروں میں تقرری نامے تقسیم کیے تھے۔ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے مطابق ادارے نے تقریبا 8 سال تک تصدیقی سرٹیفکیٹس جاری ہی نہیں کیے۔8 سال سے عدم دستیاب سرٹیفکیٹس کو لازمی قرار دینے نے بھارتی نظام کی نااہلی اور شفافیت کے دعووں کا پول کھول دیا۔

بھارت میں بھرتیوں کے دوران بار بار سامنے آنے والے فراڈ، جعلی اسناد، رشوت ستانی کے اسکینڈلز اور دفاعی خریداری سے متعلق تنازعات سنگین ادارہ جاتی کمزوریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ اسکینڈلز پیشہ ورانہ فوجی مہارت، شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر انتخاب کے حوالے سے نئی دہلی کے دعوؤں کو نفی کرتے ہیں۔بھارتی پیراملٹری بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے تقریباً 400 ٹریڈز مین اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا۔ ان میں باورچی، پانی لانے والے اور ویٹر شامل تھے۔ ان کے نیشنل اسکلز کوالیفیکیشنز فریم ورک (این ایس کیو ایف) لیول ون کے سرٹیفکیٹس جعلی یا غیر معتبر پائے گئے۔ان اہلکاروں کو 2023-24 کے دوران روزگار میلے کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا۔ برطرفی سے قبل وہ ایک سے دو سال تک خدمات انجام دے چکے تھے۔ان میں سے بعض اہلکاروں نے مئی 2025 میں آپریشن سندور کے دوران بھی فرائض انجام دیے تھے۔ جموں کے آر ایس پورہ سے تعلق رکھنے والے کانسٹیبل گوپی ناتھ گھوش بھی ان میں شامل تھے۔

برطرف اہلکاروں کا دعویٰ تھا کہ وہ سائبر فراڈ کا شکار ہوئے ہیں۔ حقِ معلومات (آر ٹی آئی) کے تحت موصول ہونے والے ایک جواب میں انکشاف کیا گیا کہ 2015 سے 2023 کے درمیان اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) کے کوئی سرٹیفکیٹس جاری نہیں کیے گئے تھے۔

اس سلسلے میں جھارکھنڈ کے ضلع کوڈرما میں ایک گرفتاری کی اطلاع بھی سامنے آئی۔متاثرہ اہلکاروں نے نئی دہلی کے سی جی او کمپلیکس میں احتجاج کیا۔ انہوں نے بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل پروین کمار، انسپکٹر جنرل مکرند دیوسکر اور وزیرِ اعظم نریندر مودی سے انصاف کا مطالبہ کیا۔اکتوبر 2026 تک ان کے معاملے کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔یہ معاملہ اسناد کی تصدیق کے طریقہ کار اور انتظامی ذمہ داری کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتا ہے۔بھارتی فوج نے 2025-26 کے دوران بھرتی کے امیدواروں کو فراڈ کے مختلف طریقوں سے خبردار کیا۔ ان میں جعلی بھرتی ریلیاں، فٹنس ٹیسٹ کی جعلی پرچیاں، فوجی اہلکاروں کا روپ دھارنے والے افراد اور انتخاب کی یقینی ضمانت دینے کے جھوٹے وعدے شامل ہیں۔اتر پردیش کے شہر بریلی میں ستمبر 2026 کے دوران پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کی شناخت پردیپ کمار شرما، وشال یادو، راج ویر عرف کیلاش، دھرمیندر سنگھ اور نور احمد کے ناموں سے ہوئی۔ ان پر اگنی ویر بھرتی کے لیے مبینہ طور پر سہولت کاری کا الزام تھا۔ ان کے قبضے سے جعلی دستاویزات برآمد کی گئیں۔

مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں اکتوبر 2026 کے دوران اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے عمر کی مقررہ حد سے تجاوز کر جانے والے 13 امیدوار پکڑے گئے۔ ان پر جعلی مارک شیٹس اور آدھار دستاویزات استعمال کرنے کا الزام تھا۔مغربی بنگال میں مرشدآباد کے رہائشی ترون داس کو اکتوبر 2026 میں گرفتار کیا گیا۔ اس پر پیرا اسپیشل فورسز اور ملٹری انٹیلی جنس کے لیفٹیننٹ کرنل کا روپ دھارنے کا الزام تھا۔ اس کے قبضے سے فوجی وردی، جعلی شناختی کارڈز اور واکی ٹاکیز برآمد کیے گئے۔اتراکھنڈ میں بھی 2024 سے 2026 کے درمیان ایسے متعدد واقعات سامنے آئے۔بنگلورو میں ایک مبینہ گروہ نے فوج میں بھرتی کے جعلی کال آرڈرز کے ذریعے ایک سابق فوجی اور ملازمت کے 10 امیدواروں سے 55.7 لاکھ روپے ہتھیا لیے۔

ایک علیحدہ معاملے میں 2020 سے 2022 کے دوران سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے ایک کیس درج کیا تھا جس میں سپاہی ببلو چوہان، کاریگر آکاش اور دیگر افرادملوث تھے۔ یہ 1.43 کروڑ روپے کے ایک مبینہ فراڈ کا معاملہ تھا، جس میں بھارتی فوج، ٹیریٹوریل آرمی، آسام رائفلز اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا میں ملازمتیں دلانے کا وعدہ کیا جاتا تھا۔زیادہ تشویش ناک معاملہ بھارتی فوج کے اپنے افسران اور اہلکاروں کے خلاف سامنے آنے والے الزامات ہیں۔کپور تھلہ کے سروس سلیکشن سینٹر میں 2021 میں تحقیقات شروع ہوئی۔ 2026 میں ایک میجر جنرل اور تقریباً 20 دیگر افسران کے خلاف کورٹ مارشل کے لیے کارروائی کی گئی۔ اس کیس میں 50 ہزار سے

10 لاکھ روپے تک رشوت لینے کے الزامات شامل تھے۔الزام تھا کہ طبی معائنے میں نااہل قرار دیے گئے امیدواروں کو ریویو میڈیکل بورڈز کے ذریعے اہل قرار دلانے کے لیے رشوت دی اور لی گئی۔سی بی آئی کی ایف آئی آر میں 23 افراد کو نامزد کیا گیا، جبکہ 30 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔2026 کے ایک اور کیس میں الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرز (ای ایم ای) کے ایک صوبیدار کو جنرل کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پر شہریوں سے تقریباً 51.44 لاکھ روپے کا فراڈ کرنے کا الزام تھا۔2025 میں آرمی میڈیکل کور کے ایک صوبیدار کو آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں سات سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی اور ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔2026 میں آرمی میڈیکل کور کے ایک میجر جنرل کو بھی قصوروار قرار دیا گیا۔ اس مقدمے کا تعلق 2018 سے 2020 کے درمیان طبی سامان کی خریداری اور ترسیل میں تقریباً 11 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں سے تھا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
قیمتی یا ضروری؟ وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
قیمتی یا ضروری؟

عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام

تعلیمی اداروں کی ناقص عمارتیں ،دو سانحات وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
تعلیمی اداروں کی ناقص عمارتیں ،دو سانحات

بھارتی فوج میں بدعنوانی وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
بھارتی فوج میں بدعنوانی

قوموں کا زوال وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
قوموں کا زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر