... loading ...
قومیں کبھی اچانک نہیں گرتیں۔ وہ آہستہ آہستہ اندرسے کھوکھلی ہوتی جاتی ہیں۔ باہر سے دیواریں مضبوط نظرآتی ہیں، محلات چمکتے ہیں، فوجیں قطارمیں کھڑی ہوتی ہیں، اورحکمران دعوے کرتے رہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے ۔ مگراندراندروہ بیماری پروان چڑھ رہی ہوتی ہے جو بالآخرسلطنت کو نگل جاتی ہے ۔ یہ بیماری جغرافیہ کی نہیں، موسم کی نہیں۔اورنہ ہی لوگوں کی ذہانت کی کمی کی ہوتی ہے ۔ یہ بیماری ان اداروں کی ہوتی ہے جو صرف چند ہاتھوں کوطاقت اوردولت سونپتے ہیں اورباقی سب کو محض تماشائی بنا دیتے ہیں۔
جب ادارے استحصالی بن جائیں، جب اقتدارچند خاندانوں، چند گروہوں یا چند شخصیات کا ذاتی مال بن جائے ، جب قانون سب کے لیے ایک جیسا نہ رہے ، جب تخلیقی تباہی کی بجائے پرانی طاقتوں کا تحفظ ہی سب سے بڑا مقصد بن جائے ، تب قوم کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ قومیں جو اپنے اداروں کو سب کے لیے کھلا رکھتی ہیں، ترقی کرتی ہیں، اوروہ جوانہیں چند لوگوں کی جیب میں بند کردیتی ہیں، آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہیں۔
شمالی اورجنوبی کوریا کی مثال دیکھیے ۔ ایک ہی قوم، ایک ہی زبان، ایک ہی نسل، ایک ہی پہاڑ اور ایک ہی سمندر۔ مگرآج جنوبی کوریا دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمارہوتا ہے جبکہ شمالی کوریا بھوک اورتاریکی میں ڈوبا ہوا ہے ۔ فرق صرف اداروں کا ہے ۔ ایک طرف وہ نظام جہاں اقتدارچند خاندانوں کے ہاتھ میں قید ہے ، جہاں خیالات پرپابندی ہے ،جہاں کسی کو لکھنے اور بولنے کی اجازت نہیں، جہاں دولت صرف حکمران طبقے تک محدود ہے ، اور دوسری طرف وہ نظام جہاں سیاسی اور اقتصادی ادارے نسبتاً کھلے ہیں، جہاں نئے خیالات کو موقع ملتا ہے ، جہاں عام آدمی بھی کچھ بنا سکتا ہے ۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔
زیمبابوے کی کہانی بھی کچھ کم سبق آموزنہیں۔ ایک وقت تھا جب یہ ملک افریقہ کا اناج کا گودام کہلاتا تھا۔ زرخیززمینیں، پڑھے لکھے لوگ، او رمکانات۔ مگرجب اقتدار چند لوگوں کے ہاتھ میں مرتکز ہوگیا، جب زمینیں سیاستدانوں اوران کے قریبی حلقوں میں بانٹ دی گئیں، جب ادارے ذاتی مفاد کے اوزار بن گئے ، تو وہی ملک بھوک، افلاس اور ہجرت کا نشانہ بن گیا۔ حکمران طبقہ اپنے محل اور بیرون ملک بینک اکاؤنٹس میں محفوظ رہا، مگر قوم پوری طرح کھوکھلی ہوگئی۔
عثمانی سلطنت کی مثال بھی سامنے ہے ۔ صدیوں تک یہ سلطنت تین براعظموں پرپھیلی رہی۔ مگر جب اس کے ادارے استحصالی ہو گئے ، جب سلطنت کے وسائل صرف دربار، فوجی اشرافیہ اورچند خاندانوں کی عیاشی پرصرف ہونے لگے ، جب نئے خیالات کو دبانے کی کوشش کی گئی، جب تجارت اورایجادات کی بجائے پرانی طاقتوں کے تحفظ کو ترجیح دی گئی، تو زوال شروع ہو گیا۔ سلطنت باہر سے عظیم نظرآتی رہی، مگراندرسے سڑچکی تھی۔ آخرکار وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔مغل سلطنت بھی اسی راستے پرچلی۔ عروج کے دورمیں اس نے اداروں کو نسبتاً کھلا رکھا، تجارت کو فروغ دیا، اورمختلف گروہوں کو موقع دیا۔ مگرجب اقتدار چند افراد کے ذاتی کھیل میں تبدیل ہو گیا، جب دربارعیاشی کا مرکز بن گیا، جب زمین اور وسائل صرف وفاداروں میں بانٹے جانے لگے ، اور جب تخلیقی قوتوں کوکچل دیا گیا، توسلطنت اندر سے کمزور پڑ گئی۔ باہر سے حملہ آور آئے تو وہ دیوارپہلے ہی گرچکی تھی۔
ان سب مثالوں میں ایک بات مشترک ہے ۔ قومیں اس وقت ناکام ہوتی ہیں جب سیاسی ادارے استحصالی ہو جائیں اور اقتصادی ادارے چند لوگوں کی دولت بڑھانے کے لیے کام کریں۔ جب اقتدار حاصل کرنے کا واحد مقصد مزید اقتداراوردولت اکٹھا کرنا بن جائے، جب قانون صرف کمزوروں پر نافذ ہو اور طاقتور اس سے بالاتر ہو جائیں، جب نئی سوچ، نئی ایجاد اور نئے کاروبار کو پرانی طاقتوں کے مفاد میں دبا دیا جائے ، تب قوم کا زوال شروع ہوجاتا ہے ۔اس کے برعکس وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جہاں ادارے شامل کرنے والے ہوتے ہیں۔ جہاں اقتدار محدود ہوتا ہے ، جہاں جائیداد کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں، جہاں کوئی بھی شخص محنت اور ذہانت سے آگے بڑھ سکتا ہے ، جہاں تخلیقی تباہی کو روکا نہیں جاتا۔ وہاں دولت پیدا ہوتی ہے ، خیالات پنپتے ہیں، اور قوم آگے بڑھتی ہے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ قوموں کا زوال کبھی باہر سے نہیں آتا۔
وہ ہمیشہ اندر سے آتا ہے ۔ جب حکمران طبقہ خود کو قوم سے الگ سمجھنے لگتا ہے ، جب ادارے صرف ان کی خدمت کرنے لگتے ہیں، جب عام آدمی کے پاس نہ موقع ہوتا ہے نہ امید، تب سلطنت باہر سے جتنی بھی مضبوط نظرآئے ، اندرسے مرچکی ہوتی ہے ۔
ڈیرون عجم اوغلو اور جیمز اے رابنسن کے ‘وائی نیشنز فیل’(Why Nations Fail)میں لکھے گئے الفاظ تاریخ کا حصہ ہیں۔
Nations fail when they have extractive economic institutions, supported by extractive political institutions that impede and even block economic growth.
جب ادارے استحصالی بن جائیں، جب اقتدارچند خاندانوں، چند گروہوں یا چند شخصیات کا ذاتی مال بن جائے ، جب قانون سب کے لیے ایک جیسا نہ رہے ، جب تخلیقی تباہی کی بجائے پرانی طاقتوں کا تحفظ ہی سب سے بڑا مقصد بن جائے ، تب قوم کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔
قومیں کبھی اچانک نہیں گرتیں۔ وہ آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلی ہوتی جاتی ہیں۔ باہر سے دیواریں مضبوط نظر آتی ہیں، محلات چمکتے ہیں، فوجیں قطار میں کھڑی ہوتی ہیں، اور حکمران دعوے کرتے رہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے ۔ مگراندراندروہ بیماری پروان چڑھ رہی ہوتی ہے جو بالآخرسلطنت کو نگل جاتی ہے ۔
٭٭٭