وجود

... loading ...

وجود

مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

پیر 12 اکتوبر 2026 مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

پاکستان میں آج کا سب سے تلخ اور بھیانک سچ اگر کچھ ہے ، تو وہ روز بروز بڑھتی ہوئی ہوشربا مہنگائی ہے ۔ ملک کی معاشی فضا اتنی تاریک ہو چکی ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک ناممکن خواب بنتا جا رہا ہے ۔ مہنگائی کا یہ طوفان صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے ، بلکہ یہ عام انسان کی روزمرہ زندگی کی وہ اذیت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہے ۔ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے پالیسی ساز شاید اس زمین کی حقیقت سے کوسوں دور ہیں، لیکن گلی محلوں، بازاروں اور چوراہوں پر سسکتی ہوئی انسانیت اس بدترین مہنگائی کے تند و تیز تھپیڑے روزانہ کی بنیاد پر سہہ رہی ہے ۔

مہنگائی کے اس سیلاب میں سب سے پہلا اور کاری ضرب لگانے والا عنصر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والا اضافہ ہے ۔ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں اب آسمان کو چھو رہی ہیں، اور اس کا براہ راست اثر ہر اس شے پر پڑتا ہے جو ایک عام آدمی استعمال کرتا ہے ۔ جب گاڑیوں اور موٹر سائیکل کی ٹینکی فل کروانا کسی غریب یا تنخواہ دار ملازم کی بساط سے باہر ہو جائے ، تو اس کی روزمرہ نقل و حرکت مفلوج ہو جاتی ہے ۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے بے لگام ہو چکے ہیں۔ فیکٹری مزدور، اسکول جانے والے بچے ، اور چھوٹے ملازم روزانہ مہنگے کرایوں کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایک طرف تنخواہیں جمود کا شکار ہیں اور دوسری
طرف فیول ایڈجسٹمنٹ اور پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور ان کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔
کسی بھی معاشرے میں روٹی کا حصول انسان کا بنیادی ترین حق مانا جاتا ہے ، لیکن موجودہ پاکستان میں دو وقت کے آٹے کی روٹی کا حصول بھی ایک کڑا امتحان بن چکا ہے ۔ آٹے کی قیمتیں آج اس سطح پر پہنچ چکی ہیں جہاں غریب آدمی کے لیے بچوں کا پیٹ بھرنا محال ہو گیا ہے ۔ سبسڈی والے آٹے کے حصول کے لیے سڑکوں پر لگنے والی لمبی قطاریں، دھکم پیل اور بعض اوقات بدترین انتظامات کی وجہ سے
ہونے والے حادثات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ریاست اپنے شہریوں کو روٹی جیسی بنیادی نعمت فراہم کرنے میں کس قدر ناکام ہو
کی ہے ۔ چکی کا آٹا ہو یا تھیلے والا آٹا، دونوں کی قیمتیں قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ جو غریب کل تک عزت سے اپنے گھر کا چولہا جلاتا تھا، وہ آج فاقہ کشی یا ادھار کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔
تندور پر نان اور چپاتی کی قیمتوں میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے . اگر پیٹرول اور آٹے نے جینا محال کیا ہے ، تو بجلی کے بھاری بھرکم بلوں نے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے ۔ موسم گرما ہو یا سرما، بجلی کے بل اب کسی بم سے کم معلوم نہیں ہوتے ۔ بنیادی ٹیرف کے ساتھ ساتھ ظالمانہ ٹیکسز، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، اور مختلف قسم کے چارجز نے عام صارف کی کمر توڑ دی ہے ۔ ہزاروں روپے ماہانہ کمانے والے ایک
مزدور یا کلرک کے گھر جب چالیس پچاس ہزار روپے کا بجلی کا بل آتا ہے ، تو اس کے پاس خودکشی کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ کارخانوں، چھوٹے کارپوریشنز اور گھریلو صارفین سب کا ایک ہی رونا ہے ۔ بجلی کی ہوشربا قیمتوں نے نہ صرف گھریلو سکون غارت کیا ہے بلکہ صنعتوں کو بھی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ، جس سے ملک میں پروڈکشن رک چکی ہے ۔اب صرف روٹی اور بجلی کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ کچن کا پورا نظام درہم برہم ہو چکا ہے ۔ سبزیاں، دالیں، مرغی کا گوشت، انڈے ، اور پھل یہ سب اب عام انسان کے دسترخوان سے غائب ہو چکے ہیں۔ بازار میں جائیں تو سبزیوں کے دام سن کر انسان دنگ رہ جاتا ہے ۔ ٹماٹر، پیاز، آلو جو کہ غریب کی ہنڈیا کی بنیادی ضرورت ہیں، اب عیش و آرام کی چیزیں بن چکی ہیں۔ دالیں جو کبھی غریب کی پروٹین کا سب سے بڑا ذریعہ تھیں، اب سونے کے بھاؤ بک رہی ہیں۔ مرغی کا گوشت اور انڈے جو صحت مند غذا کے لیے ضروری ہیں، اب صرف امیر طبقے کی پلیٹوں کی زینت بن سکتے ہیں۔ پھلوں کی خریداری توغریب والدین اپنے بیمار بچوں کے لیے بھی اب سوچ نہیں سکتے ۔ غریب عوام اب صرف زندہ رہنے کے لیے کسی نہ کسی طرح پیٹ بھرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں، غذائیت تو بہت دور کی بات ہے ۔مہنگائی کے اس عفریت کے ساتھ ساتھ بے روزگاری نے بھی تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ملک میں صنعتی پہیہ سست روی کا شکار ہونے اور مہنگائی کی وجہ سے کاروبار بند ہونے کی وجہ سے نوکریوں کے مواقع ختم ہو چکے ہیں۔
لاکھوں نوجوان جو اعلیٰ ڈگریاں لے کر روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں، وہ اب شدید ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہیں۔ جب روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا اور مہنگائی آسمان پر ہوگی، تو جرائم کی شرح میں اضافہ ہونا فطری ہے ۔ چوری، ڈکیتی، چھیننے کی وارداتیں اور خودکشیاں اب روز کا معمول بن چکی ہیں کیونکہ بھوکا انسان کیا کچھ نہیں کرتا۔ ڈگری یافتہ نوجوان سڑکوں پر ریڑھیاں لگانے یا مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، اور یہ ریاست کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا المیہ ہے ۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس تمام تر بحران میں حکومت وقت کی مجرمانہ خاموشی اور عدم توجہی ہے ۔ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے حکمران یا تو زمینی حقائق سے لاتعلق ہیں یا پھر وہ اس سنگین صورتحال کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔ عوام کی آہ و فغاں ان کے کانوں تک نہیں پہنچتی۔ ہر روز ٹیلی ویژن پر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے ، لیکن گلی کوچوں میں بھوک سے بلکتے بچے ان حکومتی دعووں کی قلعی کھول دیتے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام عملی طور پر موجود ہی نہیں۔ سرکاری نرخ نامے صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہیں، اور عملاً دکاندار اور منافع خور اپنی من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوز اور مڈل مین آزادانہ طور پر عوام کا خون چوس رہے ہیں، اور ضلعی انتظامیہ یا پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اس ظلم پر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔

مختصر یہ کہ پاکستان کا غریب اور محنت کش طبقہ اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے ۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کو روٹی، کپڑا، مکان، صحت، اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہوتی ہے ، لیکن یہاں عوام کو زندہ رہنے کے بنیادی حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے ۔ اگر فوری طور پر ملک میں ایک مؤثر پرائس کنٹرول میکانزم فعال نہ کیا گیا، پیٹرول، بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں ہنگامی بنیادوں پر کمی نہ لائی گئی، اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی جامع معاشی پیکج کا اعلان نہ کیا گیا، تو یہ بے بسی کا عالم بغاوت اور انارکی میں بدل سکتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب پیٹ پر پتھر بندھ جائیں اور حکمران بے حس ہو جائیں، تو عوام کا صبر کا پیمانہ ٹوٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں اور عوام کی چیخ و پکار کو سن کر فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر