... loading ...
ٹرمپ امن عالم کو تباہ کرنے کے راستہ پر گامزن ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وہائٹ ہاؤس میں قدم رنجہ کیے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے منصب صدارت 20 جنوری 2017 کو سنبھالا تھا۔ 14 ماہ کے اس مختصر عرصے میں ٹرمپ کی ابتدائی ٹیم تقریبا تبدیل ہوچکی ہے۔ ٹرمپ کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع، اٹارنی جنرل، میڈیا ٹیم کی انچارج، ایف بی آئی کے سربراہ، چیف اسٹرا ٹیجسٹ سمیت 28 سے زاید اعلیٰ ترین مناصب پر فائز افراد نہ صرف تبدیل ہوچکے ہیں بلکہ بار بار تبدیل ہورہے ہیں۔ ان میں سے کئی افراد محض چند ہی دن ٹرمپ کے ساتھ رہ پائے جب کہ کچھ نے زیادہ عرصہ بھی گزارا۔ سب سے کم مدت سیلی یاٹس اٹارنی جنرل کے عہدے پر رہیں۔ وہ صرف 11 دن اپنے عہدے پر رہیں اور ٹرمپ کی جانب سے عرب ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے کی پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے 30 جون 2017 کو مستعفی ہوگئیں۔ سب سے زیادہ برا سلوک ایف بی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈریو میک کابے کے ساتھ ہوا۔ میک کابے کی ریٹائرمنٹ سے صرف 28 گھنٹے قبل انہیں برطرف کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والے فوائد سے بھی محروم کردیے گئے۔ کئی عہدے مثلاً میڈیا ٹیم کے انچارج مسلسل تبدیل ہوتے رہے۔ اسی طرح سیکورٹی سے متعلق ٹرمپ کے مشیر بھی مستقل طور پر تبدیل ہوتے رہے۔ 14 ماہ کے مختصر عرصے میں اتنے اہم عہدے پر تین افراد کی تبدیلی کوئی نظر انداز کرنے والی بات نہیں ہے۔ اسی طرح وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیر دفاع میٹس کی تبدیلی بھی ہضم کرنے والی چیز نہیں ہے۔ ایک اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اہم ترین عہدوں پر تقرریاں یا تو فوج سے ہورہی ہیں یا پھر سی آئی اے سے۔ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی جگہ لینے والے مائک پومپیو بھی سی آئی اے کے ڈائریکٹر رہے ہیں۔ سب سے اہم تقرر ہے سیکورٹی کے مشیر کے منصب پر جان بولٹن کی۔
گو کہ جان بولٹن کے پیش رو میک ماسٹر تھری اسٹار جنرل تھے تاہم ٹرمپ کو ان سے شکایت ہی یہ تھی کہ وہ شدت پسند نہیں تھے۔ جان بولٹن دو وجوہ کی بناء پر مشہور ہیں۔ ایک ان کی اسرائیل کے ساتھ محبت اور دوسری مسلم دشمنی۔ بولٹن کا واضح ایجنڈا امریکا کی بالادستی کے نام پر اسلامی ممالک کو دنیا کے نقشے ہی سے مٹا دینا ہے۔ نائن الیون کے خالق ڈک چینی اور جان بولٹن کے تعلقات کبھی بھی ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ Preemptive war doctroine کے پرزور حامی جان بولٹن کے ایران اور شمالی کوریا پر حملے کی بابت خیالات اور بیانات بھی خفیہ نہیں ہیں۔ 2003 میں جب ٹرمپ عراق پر فوج کشی پر نکتہ چینی کررہے تھے تو اس وقت جان بولٹن عراق پر حملے کی حمایت میں مہم چلارہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی امریکی فوج عراق میں داخل ہوگی، عراقی عوام ہار پھول لے کر امریکی فوج کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
کیا بات صرف اتنی ہے کہ ٹرمپ انتہائی آشفتہ مزاج ہیں اور ان کی کسی کے ساتھ بن نہیںپارہی۔ اگر ایسا ہوتا تو ان کے کاروباری اداروں میں بھی اتنی ہی تیزی کے ساتھ اعلیٰ مناصب پر تبدیلیاں ہورہی ہوتیں۔ مگر وہاں پر تو ایسا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گراؤنڈ میں مطلوبہ پرفارمنس نہ دینے والے کھلاڑی بار بار تبدیل کیے جارہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مطلوب کارکردگی ہے کیا۔ اس سوال کا جواب بوجھنے سے پہلے یہ بات دیکھیں کہ ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ شدت پسند کھلاڑی میدان میں اتارا جارہا ہے۔ وزیر خارجہ کی اسامی پر عمومی طور پر منجھا ہوا سفارت کار موزوں سمجھا جاتا ہے مگر اس پوسٹ پر سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی تعیناتی کا کوئی تو مطلب ہوگا۔ اسی طرح بولٹن کی تعیناتی انتہائی اہم ترین ہے۔ بولٹن کی تعیناتی کا اعلان تو ہوگیا ہے تاہم ابھی تک انہوں نے چارج نہیں سنبھالا۔ ایک ہفتہ قبل 22 مارچ ہی کو وہ اس منصب پر تعینات کیے گئے ہیں تاہم اپنے عہدے کا چارج وہ 9 اپریل کو سنبھالیں گے۔
بولٹن کے آنے کے بعد کیا کچھ ممکن ہے اس کے بارے میں امریکی خود متفکر ہیں۔ بولٹن کے مزاج کو ان کے طبع شدہ آرٹیکل سے زیادہ بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ ان کے مشہور آرٹیکل 147To Stop Iran146s Bomb, Bomb Iran148 ، 147The Legal Case for Striking North Korea First148 اور 147How to Defund the UN148ہیں۔ امریکا میں تحقیقاتی ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے پولیٹیکل سائنٹسٹ وپن نارنگ کہتے ہیں کہ بولٹن کی تعیناتی کے ساتھ شمالی کوریا پر حملے کے خطرات چار گنا بڑھ گئے ہیں جب کہ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے پروفیسر مائیکل ہورووٹز کا خیال ہے کہ خطرے میں اضافہ پانچ گنا ہے۔ سی آئی اے اور ڈیفنس ڈپارٹمنٹ میں چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز رہنے والے جیریمی باش نے MSNBC Friday morning میں کہا کہ ٹرمپ ایک جنگی کابینہ تشکیل دے رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پچھلی کابینہ فاختاؤں پر مشتمل تھی۔ اسی پچھلی کابینہ کے ساتھ ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی، پیرس کے ماحولی معاہدہ سے دستبرداری اور ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کو توڑنے جیسے جارحانہ فیصلے کیے تھے۔ اس کے علاوہ اسٹیل کی درامد پر بھاری ڈیوٹی جس سے چین اور روس جیسی بڑی طاقتیں برا فروختہ ہیں، اسی پرانی کابینہ کے ساتھ ہی کیے گئے تھے۔ اسی طرح مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے امریکا میں داخلے پر پابندی بھی اسی دور میں لگی۔ قطر ائرویز اور اتحاد ائرویز پر خصوصی پابندیاں بھی پرانی شدت پسند کابینہ ہی نے لگائی۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ پرانے کھلاڑی اتنے زیادہ شدت پسند نہیں تھے جتنے ٹرمپ ہیں اور وہ ٹرمپ کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پارہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ٹرمپ کے فیصلوں کے خلاف دبی دبی زبان میں مخالف بھی تھے خاص طور سے ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کو مکمل توڑنے کے معاملے میں۔ٹرمپ کی جنگی کابینہ کی تشکیل کی تکمیل کے ساتھ عالمی منظر نامے پر کیا ہونے جارہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...
اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...
آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...
ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...