وجود

... loading ...

وجود

عام صارفین کے حقوق کاتحفظ کون کرے گا۔۔ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ ڈھائی سال سے نفاذ کامنتظر ہے

جمعه 18 اگست 2017 عام صارفین کے حقوق کاتحفظ کون کرے گا۔۔ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ ڈھائی سال سے نفاذ کامنتظر ہے

پاکستان میں صارفین کو عام طورپر یہ شکایت ہے کہ اشیائے صرف تیار اور مارکیٹ کرنے والے بیشتر ادارے اپنی مصنوعات کی خوبیاں بہت زیادہ بڑھاچڑھاکر پیش کرتے ہیں جبکہ ان کی خامیوں کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے،بعض ادارے کسی اعلان اور وجہ ظاہر کئے بغیر اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں ،جبکہ بعض ادارے اپنی پیکنگ کے وزن میں کسی اعلان کے بغیر کمی کردیتے ہیں اور اس کو پیکٹ کے کسی کونے میں اس طرح درج کیاجاتاہے کہ عام صارفین کی نظر نہ پڑ سکے ، کھانے پینے کی اشیا ’’ریڈی ٹو ایٹ‘‘ اور ’’ریڈی ٹو کک‘‘مارکیٹ کرنے والے ادارے اخبارات اور ٹیلی ویژن پر اپنی اشیا کا حجم اتنا بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہیں کہ صارفین دھوکہ کھاجاتے ہیں اور جب اشتہارات کی بنیا پر ملنے والے ترغیب کے تحت وہ یہ اشیا خریدتے ہیں تو انھیں اندازہ ہوتاہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیاگیا ہے ۔صارفین اس صورت حال پر دل مسوس کر رہ جاتے ہیں کیونکہ ملک میں صارفین کے مفادات کاتحفظ کرنے والانہ تو کوئی فعال ادارہ موجود ہے اورنہ ہی صارفین کی کوئی ایسی فعال تنظیم ہے جو ان کے حقوق کا تحفظ کرسکے۔اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے سندھ کی حکومت نے فروری 2015 میں سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے نام سے ایک قانون کی منظوری دی تھی ، جس کے بعد عام لوگوں میں خیال پیدا ہوچلا تھا کہ اب اس قانون کے تحت صارفین کے حقوق کا بھی کچھ تحفظ ہوسکے گا اوراگر اس قانون کے تحت چند بڑے اداروں کو بھی سزائیں مل گئیں توصارفین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کایہ سلسلہ رک جائے گا۔لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد کے مصداق عام لوگوں کی یہ سوچ ان کے دلوں تک ہی محدود رہی اور اس قانون کے منظور کئے جانے کے کم وبیش ڈھائی سال گزرجانے کے باوجود اب تک اس قانون پر عملدرآمد کیلئے پورے سندھ میں ایک بھی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ قائم نہیں کیاجاسکاہے ۔جس کی وجہ سے یہ قانون کاغذ کاایک ٹکڑا بن کر رہ گیاہے۔
سندھ اسمبلی نے فروری 2015 میں جب سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کی منظوری دی تھی تو یہ کہاگیاتھا کہ اس ایکٹ کے تحت سندھ میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے گا ،اس ایکٹ کے جومقاصد بیان کئے گئے تھے ان کے مطابق اس ایکٹ کا مقصد صارفین کی شکایات کا تیزی کے ساتھ تدارک اور صارفین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے والے اداروں کو قرار واقعی سزا دے کر صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے گا ۔
اس ایکٹ کے تحت ہر ضلع میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے کنزیومر عدالتیں قائم کی جانی تھیں جن کے دائرہ اختیار کو اس ایکٹ میں واضح کردیاگیاتھا۔اس ایکٹ کے تحت صارفین کوئی بھی چیز تیار کرنے یا مارکیٹ کرنے والوں کی جانب سے غیر معیاری اور فراہم کی گئی معلومات کے منافی شے ملنے کی صورت میں متعلقہ ادارے کے خلاف30دن میں عدالت میں شکایت داخل کرسکتاتھا اور عدالت پر یہ لازم تھا کہ وہ شکایت ملنے کے بعدمتعلقہ ادارے کو نوٹس دے کر جواب طلب کرے اور اسے 15دن کے اندر شکایت کاتحریری جواب دینے کا حکم جاری کرے۔اس ایکٹ کے تحت عدالت کو متعلقہ ادارے کی جانب سے فراہم کی جانے والی چیز غیر معیاری ثابت ہونے کی صورت میں مارکیٹ سے وہ اشیا واپس لے کر اس کی جگہ معیاری اشیا فراہم کرنے اور غیر معیاری اشیا فراہم نہ کئے جانے کے سبب صارف کو ہونے والے نقصان کاازالہ کرنے کاحکم دینے کااختیار دیاگیاتھا۔
اس ایکٹ میں کہاگیاتھا کہ اگر کوئی صارف یہ شکایت کرے کہ متعلقہ ادارے کی فراہم کردہ شے عمومی معیار پر پوری نہیں اترتی تو عدالت مسلمہ صنعتی معیار اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہے اورشے غیر معیاری ہونے کی صورت میں متعلقہ ادارے کواپنی فراہم کردہ اشیا مارکیٹ سے تبدیل کرنے کاحکم دینے کے علاوہ عدالت کوجرمانہ کرنے کابھی اختیار دیاگیاہے۔ اس ایکٹ کے تحت کنزیومر عدالت کو ایسی غیر معیاری اشیا ضبط کرکے ضائع کرنے کابھی اختیار دیاگیاہے۔
اس ایکٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ جو ادارے جعلی اشیا تیار کررہے ہوں یا جو دکاندار جعلی مال فروخت کررہے ہوں عدالت ان پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عاید کرنے اور جرم کے مرتکب ادارے یادکاندار کو 2 سال تک قیدبا مشقت کی سزا بھی دینے کااختیار رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت کو غلط شکایت کرنے والے کی شکایت رد کرنے اور اس کومناسب سزا دینے اورغلط شکایت کرنے والوں پر10 ہزارروپے تک جرمانہ عاید کرنے کابھی اختیار دیاگیاہے۔
اس ایکٹ کے تحت متعلقہ فریقوں کو کنزیومر عدالت کے فیصلے سے متفق اور مطمئن نہ ہونے کی صورت میں عدالتی حکم کے 30دن کے اندر سندھ ہائیکورٹ میں اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی اختیار دیاگیاہے تاکہ کسی کو عدالت کی جانب سے اختیارات سے تجاوز اور ناانصانی کی شکایت نہ رہے۔
اس ایکٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ اس قانون کے تحت مختلف اضلاع میں صارفین کے تحفظ کیلئے کونسلیں قائم کی جائیں گی جو اپنے حلقہ اختیار میں فروخت ہونے والی اشیا کے بارے میں معلومات جمع کریں گی تاکہ اس بات کویقینی بنایاجاسکے کہ عوام کی صحت اور مفادات کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکنے والی کوئی چیز تو فروخت نہیں کی جارہی ہے اورایسی اشیا کی فروخت کو روکا جاسکے۔ایکٹ کے تحت ان کونسلوں میں علاقے کے صارفین اور صنعت کاروں اور تاجروں کو مناسب نمائندگی دینے کی پابندی بھی عاید کی گئی ہے تاکہ کسی کو یکطرفہ کارروائی کاشکوہ نہ رہے ۔اس ایکٹ کے تحت اپنی اشیا کی فروخت بڑھانے اور صارفین کو اپنی اشیا کی خریداری کی ترغیب دینے کیلئے کسی طرح کی لاٹری یا قرعہ اندازی کی اسکیمیں چلانے کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔
صارفین کے تحفظ کیلئے اس سے پہلے بھی سندھ کی حکومت کئی قوانین کی منظوری دے چکی ہے لیکن یہ تما م قوانین صرف قانون کی کتابوں اور حکومت کے نوٹی فیکشنز تک ہی محدود ہیں ان پر عملدرآمد کرانے کیلئے حکومت نے اب تک پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا ہے۔اس حوالے سے مختلف تنظیموں کی جانب سے سندھ کے متعلقہ وزرا سے رابطے بھی کئے گئے اور اخبارات کے ذریعہ بھی حکومت کی توجہ ان قوانین پر عملدرآمد کی ضرورت پر مبذول کرانے کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن ارباب حکومت اس حوالے سے کسی پیش رفت پر تیار نظر نہیں آتے۔اگرچہ سندھ کے سینئر وزیر نثار کھوڑو کاکہناہے کہ حکومت اس ایکٹ کی منظوری کے بعد اس حوالے سے متعلق قواعد وضوابط تیار کررہی ہے اور جلد ہی ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کنزیومر عدالتیں قائم کردی جائیں گی جہاں صارفین کی شکایت کی سماعت کیلئے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کاتقرر کیاجائے گا لیکن ابھی تک اس یقین دہانی پر عملدرآمد کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتا۔اس طرح 2015 میں سندھ اسمبلی سے منظور کیاجانے والا یہ عوام دوست ایکٹ بھی ردی کاغذ کا ایک ٹکڑا بن کر رہ گیاہے۔

 


متعلقہ خبریں


خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

مضامین
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر