وجود

... loading ...

وجود

یمن میں ہیضے کی وبا سے5 لاکھ افراد متاثر

جمعه 18 اگست 2017 یمن میں ہیضے کی وبا سے5 لاکھ افراد متاثر

یمن میں گزشتہ دو سال سے زائد عرصہ سے حکومتی فوجوں اور حکومت مخالف حوثی باغیوں کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے صحت کی سہولتیں شدید متاثر ہوئی ہیں اور یمن کے محکمہ صحت کو ہیضے کی وبا سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ ملک یمن میں ہیضے کی وبا سے اندازاً پانچ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں ۔اپریل سے پھیلنے والی اس وبائی مرض سے کم از کم 1975 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر جولائی سے اس میں کمی آئی ہے لیکن اب بھی کم از کم 5 ہزارافراد روزانہ اس سے متاثر ہو رہے ہیں ۔ہیضے کا مرض عام طور پر آلودہ پانی اور نامناسب سینیٹری حالات سے پھیلتا ہے۔یمن میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد صاف پانی اور صحت و صفائی کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ بڑے شہروں میں کوڑا کرکٹ جمع کرنے کا کام رکا ہوا ہے۔ہیضہ آلودہ پانی یا خوراک میں موجود بیکٹیریم وائبرو کولرا سے پھیلتا ہے۔عام طور پر اس مرض کی علامات بہت کم ظاہر ہوتی ہیں لیکن شدید نوعیت کے معاملات میں اگر مریض کا علاج معالجہ نہ کیا جائے تو اس کی چند گھنٹوں میں موت واقع ہوسکتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ادویات اور دیگر اشیا کی رسد میں تعطل خاصا طویل ہے اور تقریبا 30 ہزار طبی عملے کو تقریبا ایک سال سے تنخواہیں بھی نہیں ملیں ۔‘ہزاروں افراد بیمار ہیں ، لیکن ہسپتالوں کی کمی ہے، ادویات کی کمی ہے، صاف پانی نہیں ہے‘عالمی ادارہ صحت کیڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھنوغیبریسس کا کہنا ہے کہ ‘یمن میں طبی عملہ ناممکن حالات میں کام کر رہا ہے۔‘ہزاروں افراد بیمار ہیں ، لیکن ہسپتالوں کی کمی ہے، ادویات کی کمی ہے، صاف پانی نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ‘ڈاکٹرز اور نرسیں صحت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے بغیر ہم یمن میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔انھیں تنخواہیں ضرور ملنی چاہئیں تاکہ وہ زندگیاں بچانے کا کام جاری رکھ سکیں ۔عالمی ادارہ صحت اپنے پارٹنرز کے ہمراہ ہیضے کے علاج کے لیے کلینکس، طبی سہولیات اورادویات کی فراہمی کے علاوہ یمن کے صحت کے شعبے کی مدد کر رہا ہے۔99 فیصد سے زائد افراد جن کا علاج معالجہ ہوا وہ اب بھی زندہ ہیں ۔ڈاکٹر ٹریڈروس کا کہنا ہے کہ یمن کے تنازع میں مارچ 2015 سے اب تک 8160 افراد ہلاک اور 46330 زخمی ہوئے ہیں ، اس تنازع کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ ‘یمن کے افراد اس کو زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کر سکیں تھے، انھیں امن کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی زندگیوں اور اپنے ملک کی ازسرنو تعمیر کر سکیں ۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ ملک یمن کو اس وقت دنیا کی بدترین ہیضے کی وبا کا سامنا ہے۔ ادارے کے مطابق اب تک اس بیماری کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1300 تک پہنچ چکی ہے۔یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کی جانب جاری ہونے والے بیان کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ ہیضے سے متاثرہ افراد کی کی تعداد دو لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔اب تک اس بیماری کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1300 تک پہنچ چکی ہے جن میں سے زیادہ تر بچے ہیں ۔ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے ان دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر ممکنہ کام کر رہے ہیں ۔بیان کے مطابق : ’اس وقت میں دنیا بھر میں یمن میں پھیلنے والی یہ وبا سب سے بدترین ہے۔’صرف دو ماہ کے عرصے میں ہیضہ اس ملک کے ہر علاقے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ہر روز اندازے کے مطابق 5000 نئے کیسیز رپورٹ ہو رہے ہیں ۔خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمن میں مارچ 2015 میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا آعاز کیا تھا جس میں اب تک آٹھ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں ۔اس جنگ کے باعث ایک کروڑ 70 لاکھ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے جبکہ تقریباً 70 لاکھ افراد قحط کے دہانی پر کھڑے ہیں ۔
اس جنگ کے باعث یمن میں صحت، پانی اور نکاسی کا نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی تعداد کے باعث اب مزید جگہ نہیں رہی، اور کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے، جس کے باعث افراد متاثر ہو رہے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔قوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن مکمل طور تباہ ہو رہا ہے، عوام کو جنگ، قحط اور ہیضے کا سامنا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ برائے امداد ا سٹیفن او برائن نے سکیورٹی کونسل میں خطاب کے دوران کہ ‘وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے خوراک کے بحران کو ختم کیا جائے اور یمن کو واپس بقا کے راستے پر لایا جائے۔‘بحران آ نہیں رہا اور نہ ہی بحران کا خطرہ منڈلا رہا ہے بلکہ بحران ہمارے ہوتے ہوئے موجود ہے۔ یمن کی عوام کو محرومی، وبا اور موت کا سامنا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے۔ اسٹیفن او برائن نے کہا کہ غریب عرب ملک کا بحران مکمل سماجی، معاشی اور ادارتی تباہی کی جانب جا رہا ہے۔خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمن میں مارچ 2015 میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا جس میں اب تک آٹھ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں ۔اس جنگ کے باعث ایک کروڑ 70 لاکھ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے جبکہ تقریباً 70 لاکھ افراد قحط کے دہانی پر کھڑے ہیں ۔رواں سال اپریل سے اب تک ہیضے کے باعث 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 55 ہزار یمنی بیمار ہیں ۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 55 ہزار بیمار افراد میں سے ایک تہائی بچے ہیں ۔اقوام متحدہ کے مطابق مزید ڈیڑھ لاکھ افراد اگلے چھ ماہ میں ہیضے کا شکار ہو سکتے ہیں ۔اسٹیفن او برائن نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اقوام متحدہ کے ایلچی اسماعیل شیخ احمد نے یمن سے واپسی پر اقوام متحدہ کو مطلع کیا کہ مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام رہیں ۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے خبردار کیا ہے کہ یمن ‘خاتمے‘ کے قریب ہے اور اس وقت وہاں 90 لاکھ افراد فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں ۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق یمن میں خوراک کی کمی کی وجہ سے دنیا میں بھوک کے بدترین بحران سے نمٹنے کے لیے امدادی
سامان کی ترسیل میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں اس وقت 21 لاکھ بچوں سمیت میں 33 لاکھ افراد غذائیت کی کمی کا شکار ہیں اور صورتحال مکمل تباہی کے دھانے پر ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یمن میں ڈبلیو ایف پی کے سربراہ سٹیفن اینڈرسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں خوراک کی کمی اور بھوک کی غیر معمولی سطح کی وجہ سے صورتحال خاتمے کے مقام کے قریب ہے۔یمن میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور بعض علاقوں میں خوراک کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ زندگیوں کو بچانے کے لیے وقت کم ہے جبکہ ملک بھر میں قحط سالی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔عالمی خوراک پروگرام نے عالمی برادری سے امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں ایک سال کے لیے شروع کیے جانے والی ہنگامی امدادی پروگرام کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے۔ادارے کے مطابق اگلے دو ماہ میں یمن کے ان سات علاقوں میں بھوک کا سامنا کرنے والے دس لاکھ افراد تک امداد پہنچانے کا ہدف ہے اور ان علاقوں میں بہت تیزی سے قحط سالی جیسی صورتحال میں پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ادارے کے مطابق ملک کی 90 فیصد خوراک الحدیدہ بندرگارہ کے ذریعے درآمد کی جاتی تھی تاہم بمباری کے نتیجے میں بندرگاہ کی کرینیں تباہ ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے بحری جہازوں سے سامان اتارنا ممکن نہیں ہو رہا ہے۔یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی اتحادیوں کے درمیان تقریباً پونے دو سال سے جنگ جاری ہے۔اقوام متحدہ کے حقوق انسانی اور بین الاقوامی پابندیوں سے متعلق خصوصی نمائندے ادریس جزیری نے سعودی اتحاد پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے 2015 سے جاری بحری اور فضائی ناکہ بندی کا خاتمہ کریں کیونکہ اس کی وجہ سے ملک میں انسانی المیہ پیدا ہو رہا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ یمن پر بظاہر اس وقت تجارتی اور امدادی سامان کی ترسیل پر پابندیاں ہیں جس کی وجہ سے ملک مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں اس وقت دو کروڑ دس لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہے اور یہ ملک کی مجموعی آبادی کا 80 فیصد بنتا ہے۔

تحریر؛۔تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

مضامین
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر