وجود

... loading ...

وجود

قصر سفید۔۔۔ اگلا مکین کون؟

اتوار 06 نومبر 2016 قصر سفید۔۔۔ اگلا مکین کون؟

امریکامیں انتخابات لیپ کے سال میں نومبر کے دوسرے منگل کو ہوتے ہیں ،پہلے صدر جارج واشنگٹن تھے
امریکاکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی خاتون امیدوار انتخابی ڈور کے اس آخری مرحلے میں شامل ہے
white-houseقصر سفید دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھنے والوں کا مسکن اس کا اگلا مکین کون ہو گا؟ اس کا فیصلہ 8 نومبر کو ہو گا۔اس وقت بظاہر ہیلری کلنٹن کی پوزیشن مضبوط ہے لیکن 1980 سے ہونے والے انتخابات کے ایگزٹ پول کے نتائج اور انتخابی نتائج عموماً مختلف ہوتے ہیں اور ہیلری کلنٹن کو ایگزٹ پول میں بھی بہت زیادہ واضح برتری حاصل نہیں ہے۔جس وقت تک انتخابات کے نتائج سامنے آئیں گے پاکستان میں 9 نومبر کا سورج غروب ہو رہا ہو گا۔ 9 نومبر بھی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ قصر سفید کے مکینوں کی طرح دنیا پر حکمرانی کی سوچ کے برخلاف اللہ کی زمین پر اللہ کے نازل کردہ نظام کا خواب دیکھنے والے ۔۔ڈاکٹر علامہ اقبال کا یوم پیدائش۔
امریکاکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی خاتون امیدوار انتخابی ڈور کے اس آخری مرحلے میں شامل ہے ۔2008 میں ہیلری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ کے لیے مقابلے میں حصہ لیا تھا لیکن پارٹی کے ممبران کی اکثریت نے بارک ایچ اوباما کو اس منصب کے لیے نامزد کیا یوں ہیلری کلنٹن صدارتی امیدوار بننے میں کامیاب نہ ہو سکی تھیں اور بارک اوبامہ نے اپنے پہلے ٹرم میں ہیلری کلنٹن کو وزیر خارجہ بنا کر اور پورے 4 سال وزیر خارجہ رکھ کر پارٹی ممبران کو پیغام دے دیا تھا کہ آئندہ صدارتی امیدوار کے لیے ہیلری کلنٹن ہی موزوں امیدوار ہو ں گی۔
ہیلری کلنٹن ،بل کلنٹن کی اہلیہ کے طور پر خاتون اول رہ چکی ہے اب اگر وہ صدر منتخب ہو جاتی ہے تو کیا بل کلنٹن کو مرد اول کہا جائے گا؟
1776 کی جنگ کے بعد امریکامیں موجودہ دستور بنا اور صدارتی طرز حکومت طے ہوئی۔ پہلے صدر جارج واشنگٹن تھے جو 1789-97 تک برسراقتدار رہے۔ امریکامیں انتخابات لیپ کے سال میں نومبر کے دوسرے منگل کو ہوتے ہیں جو کہ 8 سے 14 نومبر کا درمیانی عرصہ ہو سکتا ہے۔ اور اقتدارواختیار کی منتقلی اگلے سال 20 جنوری کو عمل میں آتی ہے، یوں1788 میں پہلے انتخابات ہوئے اور 1789 کی 20 جنوری کو جارج واشنگٹن نے اقتدار سنبھالا اور 2 ٹرم(8 سال) کا عرصہ مکمل کر کے رخصت ہوئے۔1790 میں کانگریس کی منظوری سے 1792 میں قصر سفید(وہائٹ ہاؤس) کی تعمیر کا آغاز ہوا جو کہ تقریباً 12 سال کے عرصہ میں مکمل ہوا۔ جان ایڈمس امریکاکے دوسرے صدر تھے جو 1996 کے انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ جارج واشنگٹن کے نائب تھامس جیفرسن اس مدت صدارت(1792-1801) میں ان کے بھی نائب صدر منتخب ہوئے۔1812-14 کی جنگ کے دوران قصر سفید کو برطانوی فوج نے آگ لگا کر خاک کر دیا تھا جس کی دوبارہ تعمیر کا آغاز جنگ کے خاتمے پر 1817 میں ہو ا اور 1829 میں مکمل ہوئی۔
امریکامیں صدارتی انتخاب جوڑی کا انتخاب ہوتا ہے۔ صدر اصل امیدوار ہوتا ہے اور جو بھی امیدوار کامیاب ہو اس کے ساتھ نامزد نائب صدر ازخود منتخب قرار پاتا ہے۔ جان ایڈمس کو ان کی پارٹی نے دوسری مدت کے لیے ٹکٹ جاری نہیں کیا بلکہ ان کے نائب تھامس جیفرسن پارٹی ٹکٹ کے حق دار قرار پائے اور انتخابات میں کامیاب ہو کر تیسرے امریکی صدر بننے۔ تھامس جیفرسن کے عہد صدارت میں قصر سفید کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی اور اس کو ایوان صدر کا مقام دے دیا گیا تھا ۔یوں تھامس جیفرسن اس عمارت کے پہلے مکین قرار پائے۔
قصر سفید میں کسی بھی صدر کی رہائش کا عرصہ 8 سال پر میحط ہوتا ہے۔ لیکن فرنیکلین ڈی روز ویلٹ (1933-45) 12 سال تک اس کے مکین رہے۔(1940 کے انتخابات دوسری جنگ عظیم کے باعث منعقد نہیں ہو سکے تھے)
اب ہم قصر سفیدکے بابت دلچسپ حقائق بیان کرتے ہیں۔
قصر سفید یوں تو دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھنے والوں کا مسکن ہے لیکن اس کے مکینوں کے حال بہت نرالے ہیں ، یہاں صدر جارج واشنگٹن جن کے نام واشنگٹن شہر کا نام ہے 2 مدت تک صدر رہے۔ جارج واشنگٹن واحد امریکی صدر ہیں جن کے مد مقابل کوئی نہ تھا یعنی بلا مقابلہ صدر منتخب ہوئے دوسرے بلا مقابلہ صدر جمیز مونرے ہیں جو کہ پہلی ٹرم میں تو انتخابی عمل کے ذریعہ قصر سفید میں پہنچے(1817-21) لیکن دوسری مدت(1821-25) کے لیے ان کے مد مقابل کوئی امیدوار بھی نہ تھا۔
بارک اوباما امریکاکے 44 ویں صدر ہیں۔ امریکی صدور میں سے 30 کا تعلق فوج سے رہا ہے۔24 صدر، صدارت کے منصب پر فائز ہونے سے قبل اس عرصے میں فوجی ملازمت میں رہے جس عرصہ میں جنگ جاری تھی جبکہ6 صدور نے منصب صدارت پر فائز ہونے سے قبل فوجی ملازمت تو کی لیکن ان کے عرصہ ملازمت کے دوران جنگ نہیں ہوئی ۔23 صدور نے یا تو جنگ کا آغاز کیا یا ان کے دور اقتدار میں جنگ جاری رہی اب تک کے 44 صدور میں سے صرف 14 ایسے ہیں جو صدارت پر فائز ہونے سے قبل کسی بھی طور پر فوج سے وابستہ نہیں رہے۔شاید ہی کوئی ایسا پیشہ ہو گا جس سے وابستہ فرد قصر صدارت میں نہ پہنچا ہو۔
اگر رونالڈ ریگن قبل از صدارت سرکس کے مسخرا ، فلمی اداکار، مرد ماڈل اوربرتن دھونے والے رہے۔ تو لنڈن بی جانسن نے صدارت سے قبل پھیری لگا کر(ہاکرکے طور پر) اشیاء فروخت کی ، جوتے پالش کیے، باغات میں پھل چنے، بعدازاں کانگریس ممبر منتخب ہوئے پھر سینیٹر اور پھر صدر بھی بن گئے۔رونالڈ ریگن صدارت سے قبل 13 مختلف پیشوں سے وابستہ رہے جبکہ لنڈن بی جانسن نے صدارت سے قبل روزی روٹی کمانے کے لیے 16 پیشے اختیار کیے۔رونالڈ ریگن امریکاکے واحد طلاق یافتہ صدر تھے۔
اگر ریاستی بنیادوں پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ صدور کا تعلق ریاست ورجینیاسے رہا ہے، اس ریاست سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔جن میں امریکاکے پہلے 10 صدور میں سے 6 کا تعلق اس ریاست سے تھا۔ ریاست او ہائیو سے تعلق رکھنے والے 7 افراد قصر سفید کے مکین بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ریاست نیویارک اور ریاست متسوبشی سے تعلق رکھنے والے 4-4 افراد اس قصر سفید کے مکین رہے۔ ریاست کیرولینا سے تعلق رکھنے والے 3 افراد امریکی صدر بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جس ریاست میں یہ عظیم الشان عمارت موجود ہے اس ریاست سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص اب تک اس محل کا مکین بننے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔
1789 سے 2012 تک امریکی صدارتی انتخابی معرکے کا اکھاڑا 57 بار سجایا گیا ہے۔جس میں 44 صدور منتخب ہوئے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ عرصہ فرینکلین ڈی روزویلٹ کا ہے جو 12 سال پر محیط ہے جب کہ سب سے کم عرصہ ویلم ہنری ہیری سن کا ہے جو صدر مارٹن وین برن کے نائب تھے۔
امریکاکے انتخابات کا عمل خاصہ پیچیدہ ہے۔ اس میں امیدوار زائد ووٹ لیکر ناکام اور کم ووٹ لیکر کامیاب ہو سکتا ہے۔ انتخابی طریقہ کار کے مطابق امید واروں کو ہر ریاست میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں اور ان کی اس حیثیت میں گنتی بھی ہوتی ہے لیکن نتائج کا انحصار اس گنتی پر نہیں ہوتا دراصل عام (پاپولر) ووٹ اہم تو ہیں لیکن الیکٹورل ووٹ ناگریز ہیں۔ امریکی انتخابات میں صدارت کا فیصلہ دراصل الیکٹورل ووٹ کرتے ہیں، یہ الیکٹورل ووٹ ریاستوں میں آبادی کے تناسب سے تقسیم ہیں ۔ان کی کل تعداد 539 ہے اور کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک ریاست (الف) جس کے ووٹر کی تعداد 20 لاکھ ہے اس کے الیکٹورل ووٹ کی تعداد 8 ہے اور دوسری ریاست (ب) جس کے ووٹرز کی تعداد 30 لاکھ ہے اور اس کے 12 الیکٹورل ووٹ ہیں۔ اب ریاست (الف) کے 20 لاکھ میں سے15 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال اور امیدوار (A) نے ان میں12 لاکھ ووٹ لیکر واضح برتری حاصل کی اور مخالف امیدوار (B)کو صرف 3 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے لیکن ریاست (ب) میں کل 30 لاکھ ووٹرز میں سے24 لاکھ نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اورامیدوار (B) یہاں سے ساڑھے 12 لاکھ ووٹ لینے اور امیدار (A) ساڑھے 11 لاکھ ووٹ لینے میں کامیاب رہا اس مجموعی طور پر امیدوار (A) نے دونوں ریاستوں میں ساڑھے23 لاکھ اور امیدوار (B) نے ساڑھے15 لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں یوں امیدوار (A) کو امیدوار(B) پر 8 لاکھ ووٹ کی واضح برتری حاصل ہے۔ لیکن الیکٹورل کالج میں امیدوار (B) امیدوار(A) سے 4 ووٹ آگے ہے امیدوار (A) کے الیکٹورل ووٹ کی تعداد 8 اور امیدوار (B) کے الیکٹورل ووٹ کی تعداد 12 ہے۔ ایسی ہی صورتحال2000 کے انتخابات میں سامنے آئی تھی جب الگور کو جارج بش پر پاپولر ووٹس کی واضح برتری حاصل تھی لیکن الگور نے بڑی برتری سے جارج ڈبلیو بش کو ان ریاستوں میں شکست دی تھی جہاں الیکٹورل ووٹ کی تعداد کم تھی اور جارج ڈبلیو بش کی خوش قسمتی یہ تھی کہ زیادہ الیکٹورل ووٹ کی تعداد والی ریاستوں میں وہ کم برتری کے باوجود کامیاب رہا تھا۔ اور معاملہ سپریم کورٹ تک گیا تھاجہاں الیکٹورل کالج ووٹ کو پاپولر ووٹ پر اہمیت دیتے ہوئے جارج ڈبلیو بش کو صدر قرار دیا گیا۔ امریکی انتخابات کا سب سے حیرت انگیز نتیجہ 1876 کے انتخابات میں سامنے آیا۔ جب امیدواراینڈریوجیکسن نے پاپولر اور الیکٹورل کالج دونوں طرح کے ووٹوں میں برتری حاصل کی لیکن صدارتی محل کاقبضہ راتھ فورڈ کو ملا۔
یوں تو جس صدر نے بھی ایک سے زائد ٹرم قصر سفید میں گزار ے ہیں اس نے دوران صدارت پارٹی تبدیل نہیں کی لیکن امریکاکے 23 اور 24 ویں صدر بنجمن ہیری سن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنا پہلا ٹرم ایک پارٹی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑ کر گزارا اور دوسرا ٹرم مخالف پارٹی کے ٹکٹ پر اس پارٹی کے امیدوار کو شکست دی۔ بنجمن ہیری سن پہلے ٹرم میں ڈیموکریٹ اور دوسری ٹرم میں ری پبلکین پارٹی کے امیدوار تھے۔
6 امریکی صدور ایسے ہیں جنہوں نے پہلے ٹرم میں جس امیدوار کو شکست دی دوسرے ٹرم کے انتخابات کے موقع پر اُسی امیدوار کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔جان کیونی نے 1824 کے انتخابات میں اینڈریو جیکسن کو اور 1828 میں اینڈریو جیکسن نے جان کیونی کو شکست دی ۔1836 کے انتخابات میں مارٹن وین برن نے ویلم ہنری ہریسن کو اور1840 میں ویلم ہنری ہریسن نے مارٹن وین برن کو 1888 میں بینجمن ہریسن نے گوروکیلوی لینڈ کو اور1892 میں گوروکیلوی لینڈ نے بینجمن ہریسن کو شکست سے دوچار کیا۔ امریکاکے پہلے صدر جارج واشگٹن اپنے معالج کی غلط تشخیص کے نتیجہ میں موت کا شکار ہوئے۔ ابراہام لنکن، جیمز گار فیلڈ،ویلیم میک کینلی اور جان ایف کینیڈی دوران صدارت قتل ہوئے، اینڈریو جیکسن، ہیری ٹرومین، جیرالڈ فورڈ اور رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ افریقی امریکن صدور میں تھامس جیفرسن،اینڈریو جیکسن، ابراہام لنکن،ورن ہارڈینگ اور ڈی ویٹ ائزن اوور شامل ہیں۔رچرڈ نکسن نے واٹر گیٹ اسکینڈل کے نتیجہ میں استعفیٰ دیا جبکہ اینڈ ریو جانسن اور بل کلنٹن کو احتساب کے نتیجہ میں صدارت سے محروم ہونا پڑا۔اس طرح قصر سفید نے طرح طرح کے سیاسی رنگ ڈھنگ دیکھے ہیں اب ہیلری کلنٹن یا ڈونلڈ ٹرمپ اس قصر کی شان کو کس طرح بڑھاتے یا مٹی میں ملاتے ہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

مضامین
مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر