... loading ...

نجی شعبے میں پاکستان کا سب سے بڑا ہاؤسنگ ادارہ ہونے کا دعویدار ، بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے لاہور میں اپنے 30فیصد ملازمین کو اچانک فارغ کر دیا ہے ۔اس فیصلے کے پس منظر میں ادارے کابڑھتا ہوا مالی بحران بتایا جا رہا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کے اندرونی ذرائع نے وجود ڈاٹ کام کو انکشاف کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے اپنے لاہور آفس سے کم و بیش 30فیصد ملازمین کو ملازمت سے فراغت نامے تھما دئیے ہیں جن کی تعداد لگ بھگ 1500بنتی ہے۔تفصیلات کے مطابق ان میں زیادہ تر وہ ملازمین شامل ہیں جن کا تعلق چھوٹے گریڈ سے ہے اور وہ کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ بہت سے ملازمین کو نوکری سے برخاست کرنے کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی جب کہ کچھ کو یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ ادارہ مالی مشکلات سے دوچار ہے۔
بحریہ ٹاؤن لاہور کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ افسران جو بھاری تنخواہوں پر کام کر رہے ہیں وہ نہ صرف بدستور اپنی ملازمتوں پرموجود ہیں بلکہ تنخواہ کیساتھ ساتھ دیگر مراعات سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف بہت سے عہدوں پر اضافی لوگ کام کر رہے ہیں۔ اگر نکالنا ہی مقصود ہے تو ان میں سے صرف چند کو فارغ کر کے ادارے کا مالی بوجھ کم کیا جا سکتا تھا ۔ان کا کہنا ہے کہ ایک ایک عہدے پر دو دو لوگوں کی تقرری کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ مذکورہ ملازم کا کہنا تھا کہ یوں تو بحریہ ٹاؤن فلاحی ادارہ ہونے کا دعوے دار ہیں جو لوگوں کی مدد کرنے میں پیش پیش رہتا ہے مگر دوسری طرف وہ لوگوں کو بے روزگار کرکے غریب ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر رہا ہے۔
بحریہ ٹاؤن پر بُرا وقت اُس وقت شروع ہوا تھا جب جنرل راحیل شریف نے چند حاضر سروس اور حالیہ ریٹائرڈ شدہ جرنیلوں کی رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر گرفت کی اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ، ملک محمد ریاض کو وہ پینتیس ارب روپے واپس کرنے کا حکم دیا تھا جو بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے ترقیانی پارٹنر اور ٹھیکیدار کے طور پر’’ڈی ایچ اے سٹی ‘‘ اور ’’ ڈی ایچ اے ویلی ‘‘ جیسے منصوبوں کے نام پر ایک قیمتی زمین کو نگلنے کی صورت میں ہضم کر گئے تھے۔ اگرچہ اس رقم کوبعد ازاں برطانیا کے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں لگا کر اسے کئی گنا کر لیا گیا تا ہم اصل زر اور منافع کبھی بھی پاکستان واپس نہ آ سکا۔ ان منصوبوں کے متاثرین میں سے اکثریت کا تعلق فوج کے حاضر سروس اور ریٹائر ڈ افسران سے تھا۔ ملک ریاض کو نہ صرف یہ رقم واپس کرنا پڑی بلکہ ٹیکس کی مد میں چوری کئے گئے تقریبا ً انیس ارب روپے بھی واپس لوٹانا پڑے تھے۔ واضح رہے کہ اس کا انکشاف وجود ڈاٹ کام نے ہی رواں برس ۳۰ ؍ اکتوبر کی ایک رپورٹ میں کیا تھا۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بحریہ ٹاؤن لاہور میں گھر بنا کر بیچنے والے چھوٹے چھوٹے ٹھیکیدار بھی اس کی گرتی ساکھ سے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے کاروبار بھی عملی طور پر ٹھپ ہو گئے ہیں۔ تیس فی صد اسٹاف کی کمی اس بات کا اعلان ہے کہ کمپنی واقعی بحران میں جا چکی ہے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...