وجود

... loading ...

وجود

عالمی سیاست میں مفاد کی اہمیت

جمعرات 22 اکتوبر 2026 عالمی سیاست میں مفاد کی اہمیت

عالمی سیاست میں مستقل دوست اور مستقل دشمن کی اصطلاحیں اکثر قومی مفادات کے سامنے بے معنی ہوجاتی ہیں، جو ممالک ایک محاذ پر مخالف ہوتے ہیں وہ کسی دوسرے معاملے میں مفاہمت کاراستہ بھی تلاش کرلیتے ہیں۔ آج روس و چین کی بڑھتی قربت، ایران ، افغانستان اور بھارت کے تزویراتی روابط،اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا تعاون اور غیر اہم ہوتا یوکرین بدلتی عالمی سیاست اورمفادکی مثالیں ہیں ۔

یوکرین کو روس کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے والے امریکہ جیسے ممالک اب دوری اختیار کرنے لگے ہیں۔ عالمی سیاست کا ایک اہم پہلو طاقتور کو ہمرکاب اور کمزور سے فاصلہ رکھناہے، اصول اور امن کی باتیں محض ڈھکوسلا ہیں۔

بیس اکتوبر کے بعد امریکہ کی بائیس ریاستوں میں پری پولنگ کا آغاز ہونا ہے ،اِس وقت کانگریس کی 435 نشستوں میں سے صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کے پاس 218جبکہ حریف ڈیموکریٹس کی 214نشستیں ہیں۔ ڈیموکریٹس کو کانگریس پربرتری کے لیے صرف تین مزیدنشستیں درکارہیں دوآزاد ارکان پہلے ہی ریپبلکن کو خیرباد کہہ کر ڈیموکریٹس کی حمایت کرچکے۔ اِس کا مطلب ہے کہ تکنیکی اعتبار سے
ریپبلکن کو سینیٹ میں صرف ایک ووٹ کی برتری حاصل ہے۔ مڈٹرم الیکشن میں 35 نشستوں پر انتخاب ہونا ہے جن میں بائیس ریپبلکن اور13ڈیموکریٹس کی ہیں۔ عوامی رائے عامہ کے مطابق 33فیصدامریکی سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی جبکہ 23 فیصد کے خیال میں روزگارکے نئے مواقع نہ ملنا بڑاایشو ہے۔ یہ تمام مسائل صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کانتیجہ ہیں۔ ایران سے جنگ،اسرائیل کی بے جا حمایت ، تارکینِ وطن پر بڑھتی پابندیاں اور ڈیمو کریٹس سیاستدانوں کے خلاف مقدمات و ہراساں کرنے سے مقبولیت کمی آئی ہے، اسی بناپر امکان ہے کہ رپبلکن کی کانگریس میں عددی برتری کا خاتمہ ہو جائے گا۔

مہنگائی کا ایشو کم کرنے کے لیے صدرٹرمپ ہنگامی اقدامات میں مصروف ہیں ،الیکشن جیتنے کی صورت میں ہر امریکی شہری کو پانچ ہزار ڈالردینے کی نوید بھی فائدہ مندثابت نہیں ہوئی ۔صدر ٹرمپ کو بھی ادارک ہوچکا کہ وہ سیاسی بازی ہارنے والے ہیں۔ اسی لیے الاسکا، اوہائیو، نیبراسکا اور اوکلاہوما جیسی ریاستوں کا دورہ کرنے پر مجبور ہیں، مگر سروے بتاتے ہیں کہ مڈٹرم الیکشن میں ریپبلکن کی شکست نوشتہ دیوار ہے ،عالمی بساط پر نئی چالیں چل کرٹرمپ حالات کو دوبارہ سازگاربنانے کی کوشش میں ہیں۔

یوکرین جنگ کی وجہ سے امریکہ اور مغربی ممالک نے روس کو چین سے تجارت،توانائی اور دفاعی تعاون کی طرف دھکیلا۔ اب روس کے لیے چین ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے ۔جنگ میں روس اور چین کا ایران کو سیاسی تعاون حاصل رہا، اِس وقت امریکہ کی چین سے تجارتی مقابلہ بازی ہے۔ ایران سے جنگ کا نتیجہ تیل کی قیمتیں بڑھنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یوکرین سے معدنی معاہدوں کے باوجود امریکہ کا روس سے ڈیزل درآمد کرنے کا معاہدہ مفادپرستی ہے۔ ممکن ہے ٹرمپ کا خیال ہو کہ معاہدے سے تیل کی قیمتیں کم ہو اور مہنگائی کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور ریپبلکن کو ووٹ لینے میں آسانی ہوگی ۔نیز چین سے روس کو فاصلے پر رکھنے کا مقصد بھی پورا ہوجائے گا مگر حالات ایسے ہیں کہ شاید ہی مقاصد پورے ہوں، کیونکہ روس اور چین کے مفاد یکساں ہیں۔ لہٰذا تعاون نہ کرنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ دوم امریکہ کی طرف سے بھارت کو قریب رکھنے کے لیے جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی سے نہ صرف چین بدگمان ہوا ہے، بلکہ روس بھی ہتھیاروں کے بڑے گاہک سے محروم ہواہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ روس سے ڈیزل کی فراہمی سے امریکیوں کو مہنگے تیل سے ممکن ہے نجات مل جائے لیکن روس کو چین سے دور کرنے کی کاوشیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

ایران پر اسرائیل نے تباہ کن فضائی حملے کیے اور نہ صرف عسکری قیادت اور کئی سائنسدان ماردیے بلکہ سیاسی قیادت کے بڑے نام بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ایک ایسانقصان تھا جس سے ایرانی صلاحیتوں کی خامیاں اُجاگر ہوئیں ۔ایران و اسرائیل جنگ سے قبل بھارتی وزیرِ اعظم مودی تل ابیب گئے اورپارلیمنٹ سے خطاب میں بھارت کو ماں جبکہ اسرائیل کو باپ کے کردار سے مشابہ قراردیا جودونوں کے ایک دوسرے پر انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔ بحری مشقوں کے لیے بھارت جانے والے ایرانی جہاز کی بھارت نے نہ صرف نشاندہی کی بلکہ امریکہ کو حملہ کرنے میں سہولیات دیں ۔اِس حملے کی مذمت کرنا تو درکنا ر بھارت نے آج تک ایران سے افسوس تک نہیں کیا۔امریکی پابندیاں لگنے پر چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر ادھوری چھوڑ دی پھر بھی ایرانی قیادت بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے کیونکہ یہ مفاد کی مجبوری ہے ۔

چین و امریکہ کی تجارتی جنگ کوئی راز نہیں، لیکن دونوں ہی ایک دوسرے سے تعاون کی راہیں بھی تلاش کرتے ہیں۔ اسرائیل کا مشن خطے سے عرب مسلمانوں کا خاتمہ ہے ۔غزہ میں وہ نسل کشی کرچکا لیکن متحدہ عرب امارات اور اسرائیل دونوں یک جان دوقالب ہیں کیونکہ خطے میں دونوں ہی سعودی عرب کوکمزور کرناچاہتے ہیں ۔اِس حوالے سے حوثیوں کے ذریعے ایران بھی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سے تعاون کررہا ہے ،مفاد پرستی کوانسانی جانوں پر ترجیح دینے کی ایسی مثالیں عالمی سیاست کا گھناؤنا کھیل ہے۔

بھارت خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کا موجب ہے ،حالانکہ ہتھیاروں کی دوڑ پر خرچ ہونے والے وسائل تعمیر وترقی اور صحت و تعلیم پرصرف کرنے سے کروڑوں نفوس کا بھلا ہوسکتا ہے، صرف بھارتی بالادستی کا خواب پورانہیں ہوسکتا، خطے میں جوہری ہتھیار بھی سب سے پہلے اسی نے بنائے، اب نہ صرف سارک تنظیم کوغیر فعال کر چکا بلکہ تمام ہمسایہ ممالک سے بھی تعلقات خراب ہیں۔ چین اور بھارت کے شدید سرحدی تنازعات ہیں لیکن بھارت نے اِن تنازعات کو چین سے تجارت پرکبھی اثر انداز نہیں ہونے دیا، کیونکہ اسی میں مفاد ہے۔ جس طرح افغانستان میں انتہا پسند طالبان کے پاس اقتدار ہے، اُسی طرح بھارت میں انتہا پسند ہندو اقتدار میں ہیں، دونوں ہی مذہبی تفریق کے قائل ہیں۔

بھارتی قیادت بھارت کو غیر ہندوؤں سے پاک چاہتی ہے تو طالبان بھی افغانستان کو غیر مسلموں سے صاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف بھارتی اور افغان قیادت دونوں ایک دوسرے پر واری صدقے ہیں۔ متضاد ایجنڈا بھی دونوں کے تعاون میں رکاوٹ نہیں کیونکہ مفاد اُنھیں ایسا کرنے پر مجبورکرتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں! وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں!

جین زی انقلاب کی دستک، مودی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
جین زی انقلاب کی دستک، مودی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی

عالمی سیاست میں مفاد کی اہمیت وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
عالمی سیاست میں مفاد کی اہمیت

افغانستان، عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
افغانستان، عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ

مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر