وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
سیاستدان کو روسی ایجنٹ کہنے پر یوکرینی پارلیمنٹ میں ہنگامہ وجود - جمعه    21    دسمبر    2018

یوکرین کے سیاستدان کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا ایجنٹ کہنے پر یوکرین کی پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوگیا۔حکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے ایک دوسرے پر مکوں کی بارش کر دی، ایوان باکسنگ رنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب اپوزیشن کے ایک رکن نیسٹرشفریچ نے یوکرینی سیاستدان کو روسی صدرپیوٹن کا ایجنٹ بنا کر پیش کیے جانے والا پوسٹر پھاڑ ڈالا۔جس کے بعد پیپلزفرنٹ کے رکن یورپی بیریزا نے شفریچ پر حملہ کر دیا، دونوں جانب سے مکوں کی بارش کئی منٹ تک جاری رہی۔

سیاستدان کو روسی ایجنٹ کہنے پر یوکرینی پارلیمنٹ میں ہنگامہ

ازبکستان کے صدر کا 25سال پر محیط اقتدار موت نے نگل لیا! وجود - هفته    03    ستمبر    2016

وسط ایشیائی ملک ازبکستان کے صدر اسلام کریموف دماغ کی شریان پھٹنے کی خبروں کے دوران میں چھ روز زیرعلاج رہنے کے بعد جمعہ کی شب مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے انتقال کرگئے۔ اس طرح 78 سالہ اسلام کریموف کے 25 برسوں پر محیط سخت گیر اقتدار کو موت نے نگل لیا۔ وہ اپنے پیچھے کوئی واضح جانشین بھی نہیں چھوڑ سکے۔ سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ازبکستان کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑاہے۔ اسلام کریموف کے انتقال کے بعد قانونی طور پر ازبک سینیٹ کے سربراہ نگماتولا ی...

ازبکستان کے صدر کا 25سال پر محیط اقتدار موت نے نگل لیا!

تاجکستان، 13 ہزار افراد کی داڑھیاں مونڈھ دی گئیں، 1700 خواتین بے حجاب وجود - جمعه    22    جنوری    2016

مغرب میں لادینیت (سیکولر ازم) کی تعریف یہ بیان کی جاتی ہے کہ ملک کا کوئی مذہب نہیں ہوگا اور عوام کے اپنے مذہبی عقائد پر عملدرآمد کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی اور حکومت اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔ لیکن جیسے ہی مسلمان ممالک میں سیکولر ازم آتا ہے، اس کی تعریف بالکل بدل جاتی ہے۔ یہ سیدھا اسلام پر حملہ کرتا ہے اور داڑھی، حجاب اور لباس جیسی معمولی چیزوں پر سب سے پہلا حملہ آور ہوتا ہے یعنی کہ اسے داڑھی کے بال اور سر پر کپڑے کے ایک ٹکڑے کے برابر کا اسلام بھی برداشت نہیں ہے۔ اس کی مثال...

تاجکستان، 13 ہزار افراد کی داڑھیاں مونڈھ دی گئیں، 1700 خواتین بے حجاب

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سیکولر چہرہ: تاجکستان میں داڑھی، حج اور حجاب کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ وجود - منگل    12    جنوری    2016

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اصلی مقاصد تاجکستان میں بے نقاب ہورہے ہیں ۔ جہاں بتدریج شعائر اسلام کے پر عمل درآمد کو مشکل سے مشکل تر بنایا جا رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ سیکولر ازم کے نام پر وہاں کی سیکولر حکومتیں کر رہی ہیں۔ عرب ذرائع سے ہونے والے اس سنسنی خیز انکشاف سے پتہ چلا ہے کہ تاجکستان میں داڑھی ، حج اور حجاب کے خلاف وہاں کی حکومت نے ایک غیر اعلانیہ جنگ برپا کردی ہے۔ پولیس نےگزشتہ دنوں ایک 23 سالہ نوجوان عمر بوبوگونوف کو محض اس لیے اذیتیں دے کر قتل کر دیا کہ اس نے چہرے پر ...

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سیکولر چہرہ: تاجکستان میں داڑھی، حج اور حجاب کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ