وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود - جمعرات 08 نومبر 2018

جو گزاری نہ جاسکے ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے، انوکھے مصرعوں اور نت نئی تاویلوں کے شاعر جون ایلیا کی شاعری آج بھی زمانے کی تلخیوں اور بے اعتنائیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔شاعر جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ، اترپردیش کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے، وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشک...

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے

نئی نسل کی د لنشیں لہجے والی معرو ف نما ئندہ شاعرہ شگفتہ شفیق سے ملیے وجود - اتوار 13 مئی 2018

شگفتہ شفیق کی شاعری ہر ایک کو اپنی ہی داستان معلو م ہو تی ہے کہ ان کا شعر ی ا ظہا ر ان کی خو بصورت فکر کو نما یا ں کر تا ہے اور قاری کے د ل میں اتر تا چلا جا تا ہے شگفتہ شفیق کا پسند یدہ مو ضو ع شاعری میں محبت ہے اور محبت میں ہجر و فراق کو اُ نھو ں نے اپنے خو بصورت لہجے سے مجسم کر د یا ہے: خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے راکھ راہوں میں اُڑا دی ہم نے ہنستی مسکراتی ،پیار اور خلوص لٹاتی شگفتہ شفیق کے کیا اپنے کیا پرائے، سب ہی دیوانے ہیں اور ان دیوانوںمیں پاکستان، انڈیا، امریکہ، کی...

نئی نسل کی د لنشیں لہجے والی معرو ف نما ئندہ شاعرہ شگفتہ شفیق سے ملیے

آصف ثاقب وجود - اتوار 22 اپریل 2018

آصف ثاقب بات یہ بھی ہے ایک باتوں میں لوگ اعلیٰ ہیں نیچ ذاتوں میں کوئی مجھ سا غریب کیا ہو گا میں اکیلا ہوں کائناتوں میں میں اکیلا بہت اکیلا ہوں اب تو دینا ہے ہاتھ ہاتھوں میں روشنائی بنائی لکھنے کو چاند گھولا ہے کالی راتوں میں جانے کس کس کی ڈولیاں آئیں سب ستارے گئے براتوں میں کیسے لکھوں میں سرخ تحریریں خون کالا پڑا دواتوں میں جھوٹ اس میں نہیں کوئی ثاقب پیار سچا ملا دیہاتوں میں آصف رضارضوی اظہار میں پہلی سی وہ نفرت تو نہیں ہے یہ اور کوئی شے ہے، محبت تو ...

آصف ثاقب

ایک سلجھی ہوئی شاعرہ کی سلجھی ہوئی شاعری وجود - اتوار 15 اپریل 2018

یہ دسمبر 2008ء کی بات ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت دو روزہ قومی اہل قلم کانفرنس کے اختتام پر ایک مشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرہ قومی سطح کا ہو تو شاعروں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اسی سے زیادہ تھے بہت سے چھوٹے بڑے شہروں کے شعرا طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے اپنے ’’ حلقہ داد رساں‘‘ کے ساتھ شریک بزم تھے۔ ایسے میں کراچی کی ایک منحنی سی نوجوان خاتون کو کسی فیاضانہ تعارف کے بغیر حمیرا راحت کے نام سے اسٹیج پر بلایا گیا۔ خاتون نے بڑی سادگی کے ساتھ دھیمی آواز میں (جوان کی جسام...

ایک سلجھی ہوئی شاعرہ کی سلجھی ہوئی شاعری

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 08 اپریل 2018

اکادمی ادبیات پاکستان، کراچی کے زیراہتمام پاکستانی ادب کے عالمی ادب پر اثرات مذاکرہ اور مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت ملک کے نامور شاعر،ادیب ،ماہر تعلیم، ڈاکٹر شاداب احسانی نے کی۔ مہمان خاص راولپنڈی سے آئے ہوئے ادیب شاعر کرنل سعید آغاتھے۔اعزازی مہمان سید اوسط علی جعفری، ریحانہ احسان تھیں۔ ڈاکٹر شاداب احسانی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ عالمی ادب پر نظر ڈالی جائے تو چاہے بھوٹا ن کی رمز یہ شاعری ہویا بنگلہ دیش کا ادب ہو، نیپال کی لوک شاعری کی روایت سے جڑی ہوئی کوئی کتھا،...

کراچی کی ادبی ڈائری

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 01 اپریل 2018

حلقۂ اربابِ ذوق کراچی کی ہفتہ وار نشست 20 مارچ 2018 بروز منگل ، کانفرنس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز پاکستان سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت معروف شاعر میر احمد نوید صاحب نے کی جب کہ نشست میں شاعر علی شاعر صاحب نے مہمان ادیب کے طور پر شرکت کی۔ سب سے پہلے عباس ممتاز نے اپنی غزل "کوئی تو ایسی بھی گھڑی ہوگی" تنقید کے لیے پیش کی۔ شبیر نازش نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ غزل کے پانچوں اشعار سماعت کو بھلے لگتے ہیں، مصرعوں میں روانی بھی نظر آت...

کراچی کی ادبی ڈائری

انور شعور وجود - اتوار 25 مارچ 2018

بیس ویں صدی کے اُردو ادب میں جن سخن وروں نے اپنی شاعری کی بنیاد عہدِ موجود کے مسائل و افکار پر رکھی، اُن میں عہدِ حاضر کے چند سخن وروں کے بعد انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر، اہم اور سنجیدہ ہے۔ انور شعورؔ کی شاعری تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، شدید جذبات اور نازک احساسات کی آئینہ دار ہے۔ اِن کے شعر عام فہم، سلیس اور سادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ناقدینِ فن و ہنر، ماہرینِ اُردو ادب اور قارئینِ شعر و سخن اِنھیں سہلِ ممتنع کا شاعر ماننے لگے ہیں۔ اِن کے پُرتاثیرا شعارپوری د...

انور شعور

شبِ زندگی سے آگے وجود - اتوار 18 مارچ 2018

غلام حسین ساجد صابر ظفر سے میرے تعلق کو بیالیس برس ہونے کو آئے ہیں۔ شروع کے دوچار برسوں کے بعد ہم کبھی ایک شہر میں نہیں رہے مگر ان سے فکری نسبت کا رشتہ روزبروز مضبوط تر ہورہا ہے اور اس کا سبب ہے ان کی صلاحیت اور اس صلاحیت کی نمود کا ایک مسلسل اور لامختتم ظہور۔ اردو غزل کو موضوعاتی، فکری اور تجربی تنوع کے لیے اسے زرخیز کرنے میں صابر ظفر کا حصہ سب سے زیادہ ہے اور اس قدر تسلسل اور جمالیاتی صباحت کے ساتھ کہ اس پر صرف داد ہی دی جاسکتی ہے۔ ’’ ابتدا‘‘ سے ’’ لہو سے دستخط‘‘ تک کے اڑ...

شبِ زندگی سے آگے

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 18 مارچ 2018

بزمِ جہانِ حمد و نعت کا طرحی حمدیہ مشاعرہ بزمِ جہانِ حمد کے زیرِ اہتمام طرحی حمدیہ سلسلے کا ماہانہ مشاعرہ گزشتہ دنوں مدرسۂ حضرت علیؓ لیاقت آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت خیام العصر محسن اعظم محسن ملیح آبادی نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی آرٹس کونسل گورننگ باڈی کے رکن اور ممتاز افسانہ نگار رضوان صدیقی تھے۔ نظامت کے فرائض جناب طاہر سلطانی نے ادا کیے۔ تلاوت اور نعتِ رسول کی سعادت (وزیر اعظم ایوارڈ یافتہ قاری) حافظ نعمان طاہر نے حاصل کی۔ اس روح پرور حمدیہ مشاعرے کا آغاز طاہر سلطا...

کراچی کی ادبی ڈائری

خواتین کے عالمی دن پر خواتین مشاعرے کا اہتمام وجود - بدھ 14 مارچ 2018

یوم خواتین کے عالمی دن پر بروز جمعہ دو مارچ ریڈیو پاکستان کراچی نے ہمابیگ کے تعاون سے خواتین مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں شہر کی معروف اور مستند شاعرات نے شرکت کی. محترمہ اکرم خاتون اور محترمہ جسٹس ماجدہ رضوی بہ حیثیت مہمان خصوصی شریک ہوئیں ۔ ہمابیگ کی نظامت اور فاطمہ حسن کی صدارت میں جن شاعرات نے کلام پیش کیا ان کے اسم گرامی یہ ہیں عروج زہرہ، یاسمین یاس ، زینت لاکھانی، ناہید اعظمی، شائشتہ مفتی فرخ، ریحانہ احسان، عنبرین حسیب عنبر، ذکیہ غزل، رخسانہ صبا، سعدیہ حریم، شاہدہ حسن، ف...

خواتین کے عالمی دن پر خواتین مشاعرے کا اہتمام

آسمانِ ادب کا درخشاں ستارہارمؔ زہرا وجود - اتوار 11 مارچ 2018

ادب ایک آسمان ہے اس میں ہر ایک ستارہ اپنے حصے کی روشنی سے اس آسمان کی خوبصورتی اور دلکشی میں اضافہ کر رہا ہے۔اس میں ہر روز لاتعدار ستارے ہر شب نمودار ہوتے ہیں اور اپنے محدود وقت تک اپنی روشنی سے اہلِ زمین کو مستفید کرتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ایک ستارے کا وجود چھوٹاسا نظر آتا ہے اس کے باوجود اس کی موجودگی اپنے ہونے کا احساس اجاگر کرتی ہے۔ ستاروں کی روشنی سے ہی آسمان کی جاذبیت برقرار ہے۔ ستاروں کی حرکات سے مسافر اپنے راستے کا تعین کرتے ہیں۔ جس طرح کہا جاتاہے کہ علم ایک سم...

آسمانِ ادب کا درخشاں ستارہارمؔ زہرا

نسل نو کا رشتہ دین کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنا ہوگا، جسٹس (ر) انور ظہیر جمالی وجود - بدھ 07 مارچ 2018

بے ایمانی، بد عنوانی، سفارش، جعلی ڈگریوں قابلیت و ہنرمندی کی ناقدری کے موجودہ کلچر سے نجات ضروری ہے۔ روز مرہ زندگی میں سچائی ، پرہیزگاری، خلوص، امانت، اخلاقیات اور دوسروں کا خیال رکھنے کے اسلامی رجحانات کو فروغ دے کر ہم معاشرتی برائیوں پر قابو پاسکتے ہیں۔ مساجد بہترین تربیت گاہ ہیں۔نسل نو کا رشتہ دین کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) انور ظہیر جمالی نے گذشتہ روز بزم کرن ( سوسائٹی فار دی پریونشن آف وے وارڈ نیس ) کے دسویں یوم ت...

نسل نو کا رشتہ دین کے ساتھ مضبوطی سے جوڑنا ہوگا، جسٹس (ر) انور ظہیر جمالی

لیاقت علی عاصم ایک تازہ کار شاعر وجود - اتوار 04 مارچ 2018

لیاقت علی عاصمؔ کے اَب تک سات شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ وہ ۱۹۸۰ ء کی دہائی میں اُبھرنے والے نوجوان شعراء کی صف سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ لکھا ہے اور تخلیق کا یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ میں اُنھیں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ جامعہ کراچی میں ایم اے(اُردو) کے طالب علم تھے۔ ان کی شاعری کا پورا منظر نامہ میری نگاہ کے سامنے ہے۔ عاصمؔ نے جس زمانے میں غزل اور محض غزل کو تخلیق کا ذریعہ بنایا اُس وقت کراچی اور بعض دیگر شہروں میں بھی شاعری کے ذیل میں نئے نئے تجر...

لیاقت علی عاصم ایک تازہ کار شاعر

صابر ظفر وجود - اتوار 04 مارچ 2018

حصیب دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے رکوں تو منزلیں ہی منزلیں ہیں چلوں تو راستہ کوئی نہیں ہے کھلی ہیں کھڑکیاں ہر گھر کی لیکن گلی میں جھانکتا کوئی نہیں ہے کسی سے آشنا ایسا ہوا ہوں مجھے پہچانتا کوئی نہیں ہے ِ٭ ٭ دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے خواب ہی خواب فقط روح کی جاگیر ہوئے عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ رہا جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے یہ الگ دکھ ہے کہ ہیں تیرے ...

صابر ظفر

باغِ سخن میں نئی بہار ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبرؔ وجود - اتوار 25 فروری 2018

علامہ سید سلیمان ندوی نے لکھا تھا۔ ’’شاعر دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ماں کے پیٹ سے شاعر ہو کر آتا ہے اور دوسرا وہ جو اپنے علم اور تجربے سے شاعر بن جاتا ہے۔ اس میں بہتر وہ ہے جو ماں کے پیٹ سے شاعر ہو کر آتا ہے۔‘‘ ان جملوں کی روشنی میں اگر عنبریں حسیب عنبرؔ کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو باوثوق کہا جاسکتا ہے کہ عنبرؔ ماں کے پیٹ سے شاعرہ ہو کر آئی ہیں۔ کیوں کہ جو شخص اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر شاعری کرتا ہے، اسے آورد سے کام لینا پڑتا ہے اور اس کے فن میں کسی کی مدد شام...

باغِ سخن میں نئی بہار ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبرؔ

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 25 فروری 2018

حلقہ اربابِ ذوق کراچی کی ہفتہ وار نشست گزشتہ روز کانفرنس روم، ڈائیریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیااینڈ پبلی کیشنز پاکستان سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت معروف نقاد،شاعر اور افسانہ نگار عباس رضوی نے کی۔ یہ خصوصی اجلاس اردو کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر شبیرنازش کی پذیرائی کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ شبیرنازش کی شاعری پر سب سے پہلے سلمان ثروت نے ایک دلچسپ تمثیلی مضمون ''شبیرنازش…یہ سخن،یہ ناز یہ انداز آپ کا'' کے عنوان سے پیش کیا۔ اس کے بعد معروف شاعرہ سیماعباسی نے شبیر نازش ...

کراچی کی ادبی ڈائری

امریکا سے آئے ہوئے معروف شاعر کالم نویس ہمدم کے اعزاز میں عشائیہ وجود - بدھ 07 فروری 2018

یوں تو دیار غیر سے بہت سے لوگ آتے اور جاتے ہیں مگر بہت ہی کم لوگ ہیں جنہیں اپنے ملک میں آنے کا انتظار ہوتا ہے اور وہ لوگ بھی اپنی مٹی کی خوشبو کی محبت میں لازمی آتے ہیں ان میں ایک معروف نغمہ نگار یونس ہمدم کا ہے شہر کراچی کی معروف تنظیم سٹی تھنکرز فورم نے خوبصورت محفل سجائی جو کے ڈی اے آفیسرز کلب میں منعقد ہوئی جس میں شہر کراچی کی وہ شخصیات شریک ہوئیں جو بذات خود انجمن کا درجہ رکھتی ہیں جن میں آغا مسعود حسین، دوست محمد فیضی، سید عادل ابراہیم، مختار عاقل ، رضوان صدیقی، مح...

امریکا سے آئے ہوئے معروف شاعر کالم نویس ہمدم کے اعزاز میں عشائیہ

بسیط فکری کینوس کی شاعرہ وجود - اتوار 04 فروری 2018

شعری معیارات کی مقتضیات میں تلون و تنوع کے خصائص کے پہلو بہ پہلو عصری رجحانات و میلانا ت اور دیگر فکری و فنی تلازمات شامل ہیں تاکہ یکسانیت کی مہیب صورتِ حال سے گریز کا التزام کیا جاسکے جن شاعر اور شاعرات کی قوتِ متخیلہ زر خیز نوعیت کی حامل ہوتی ہے جن کے ہاں کہنے کے لیے جذبات و احساسات کی پونجی وافر ہوتی ہے ان کے افکارو تخیلات کا اعادہ معدوم ہوتا ہے آج ہم حمیدہ کششؔ کی سخن سنجی کے حوالے سے رقمطراز ہیں جن کی کتاب بعنوان ’’سحرِ عشق‘‘ ہمارے پیشِ نظر ہے جن میں ان کی پچاس غزلیات جو...

بسیط فکری کینوس کی شاعرہ

کراچی کی ادبی ڈائری وجود - اتوار 04 فروری 2018

٭ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کے لیے ایوارڈ ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی بہ عنوان’’اُردو میں ترقی پسند تنقید کا تحقیقی مطالعہ‘‘لکھاتھا جس پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی تھی،اب اس مقالے کو انجمن ترقی اردو،کراچی نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے،جس پرڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو انجمن ترقی پسند مصنفین نے ایوارڈبرائے ۲۰۱۷ء سے نوازا ہے،ہم ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ٭جناب عقیل دانش کے اعزاز میں شعری نشست سینئر شاعراور عمارت کار کے مدیر...

کراچی کی ادبی ڈائری

نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ… سبیلہ ؔ انعام صدیقی وجود - اتوار 21 جنوری 2018

جب ہم نئی نسل کی شاعری کی بات کرتے ہیں تو اس سے مرادیہ نہیں ہوتا کہ نئی نسل کی شاعری کرنے والے شاعر بھی نئی نسل سے ہوں،بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ نئی نسل کا شاعر نئی نسل کے جذبات کی نمائندگی کرتاہو،نئی نسل کے مسائل کا ترجمان ہو،اب یہ نمائندگی اور ترجمانی کوئی بزرگ شاعر بھی کرسکتاہے اور ادھیڑ عمربھی اور نوجوان بھی۔اگر کوئی شاعر نئی نسل سے تعلق رکھتاہے اور وہ اپنے ہم عمروں اور ہم عصروں کے مسائل کی ترجمانی بھی کر رہاہے اور اُن کی نمائندگی بھی تو اس سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہ...

نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ… سبیلہ  ؔ انعام صدیقی

پروین شاکر نوخیز جذبوں کی شاعرہ وجود - اتوار 07 جنوری 2018

بیسویں صدی میں اقبال اور جوش سے شروع ہونے والی اردونظم کی پرعظمت شاعری کا تسلسل نصف صدی کے بعد تک بغیر تعطل کے جاری رہا اور فیض گویا اس کلاسیکی روایت کے آخری امین ٹھہرے۔ 1950ء کی دہائی سے ذرا پہلے انگریزی شاعری کے براہ راست اثر کے تحت نظم کی نئی ہیئت آزاد نظم کی صورت میں وجود میں آئی جو اردو نظم کا تسلسل ہی تھا مگر ہیئت کی تبدیلی کے سبب سے افکار و خیال میں اور ان کے اظہار میں بھی تبدیلی بہرحال رونما ہوئی۔ آزاد نظم کی اس نئی روایت کا آغاز پاکستان میں ن م راشد اوربھارت میں غلام...

پروین شاکر  نوخیز جذبوں کی شاعرہ

انتخاب غزل وجود - اتوار 24 دسمبر 2017

صابر ظفر صورتِ مرگ فقط راہ کی ٹھوکر نکلی زندگی تُو مرے اندازے سے کم تر نکلی دھوپ نے دکھ دیا لیکن مجھے تنہا نہ کِیا ایک پرچھائیں مرے جسم سے باہر نکلی تیرے چہرے سے کُھلا مجھ سے بچھڑنے کا ملال شکل اک اور تری شکل کے اندر نکلی صرف چکّر ہی نہیں پائوں میں زنجیر بھی ہے میری حالت ، مری قسمت سے بھی ابتر نکلی آتشِ کبر نکلتی ہی نہ تھی دل سے ظفرؔ چوبِ منبر کو جلایا تو یہ کافر نکلی اقبال خاورؔ وحشت ہے اک عجیب سی وحشت ہے اِن دنوں دیکھے تو کوئی دل کی جو حالت ہے اِن دنوں ہر روز...

انتخاب غزل

خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر وجود - جمعرات 24 نومبر 2016

تحریر : شازیہ فاطمہ پروین شاکر اردو ادب کی انتہائی معروف اور معتبر شاعرہ تھیں وہ 24 نومبر 1952 ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں جبکہ 26 دسمبر 1994 ء میں راہی ٔملک ِعدم ہوئیں۔ پروین شاکر کا گھرانہ چونکہ خوشحال تھا لہٰذا اسے مفلسی اور بے زری اور محرومی کے دور سے نہیں گزرنا پڑا لیکن اس کا وژن اس قدر وسیع تھا ،اس میں ادراک کی اس قدر قوت تھی کہ اس نے اپنے ارد گرد کے ماحول میں موجود لڑکیوں اور خواتین کے ہر طرح کے جذبات و احساسات کو پوری طرح سے محسوس کرلیا تھا ۔اسی لیے جب یہ نازک اندام شا...

خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر

مجذوب کا رجز وجود - اتوار 25 اکتوبر 2015

احمد جاوید تنہ نا ھا یا ھو تنہ نا ھا یا ھو گم ستاروں کی لڑی ہے رات ویران پڑی ہے آگ جب دن کو دکھائی راکھ سورج سے جھڑی ہے غیب ہے دل سے زیادہ دید آنکھوں سے بڑی ہے گر نہ جائے کہیں آواز خامشی ساتھ کھڑی ہے لفظ گونگوں نے بنایا آنکھ اندھوں نے گھڑی ہے رائی کا دانہ یہ دنیا کوہ ساری یہ اڑی ہے وقت کے پاؤں میں کب سے پھانس کی طرح گڑی ہے کتنی بدرو ہے یہ ، تھو تھو تنہ نا ھا یا ھو طرفہ دام و رسن ایجاد! میں ہوں سیّاروں کا صیّاد از فلک تا بہ زمیں ہے گرم ہنگامۂ بے داد آتشی...

مجذوب کا رجز
مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار