شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے

جو گزاری نہ جاسکے ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے، انوکھے مصرعوں اور نت نئی تاویلوں کے شاعر جون ایلیا کی شاعری آج بھی زمانے کی تلخیوں اور بے اعتنائیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔شاعر جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ، اترپردیش کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے، وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل بھی انہی خطوط پرکی۔ انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض آٹھ سال کی عمر میں لکھا۔ جون اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں قلم طرازہیں۔میری عمرکا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم اورماجراپرور سال تھا، اس سال میری زندگی کے دو سب سے اہم حادثے، پیش آئے پہلا حادثہ یہ تھا کہ میں اپنی نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا جبکہ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں نے پہلا شعر کہا۔جون ایلیا کو عربی اور فارسی کے علاوہ انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں مہارت حاصل تھی۔

جون ایلیا نے 1957 میں پاکستان ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور پزیرائی نصیب ہوئی۔نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003 میں شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004 میں شائع ہوا۔جون ایلیا کے شعری مجموعوں میں یعنی ، گمان ، لیکن ،گویا شامل ہیں۔ زمانے میں الگ شناخت رکھنے والے جون ایلیا 8 نومبر 2002 کو انتقال کرگئے تھے۔